Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 24/05/23 in all areas

  1. بڑا درد ہوتا جب اندر جاتا ہے کانوں میں اک اک لفظ جناب کا
  2. پاک محبت صاف محبت وچ نہ پایا تے خاک محبت
  3. جو ملا صرف لڑکی کو ملا ،ہونٹ ملے چسوانے کو ،ممے ملے دبوانے کو ،پھدی ملی چدوانے کو ،گانڈ ملی مروانے کو اور ہمیں کیا ملا؟ !صرف لنڈ وہ بھی صرف ہلانے کو
  4. میں حیراں ہوں بہت ، ناجانے کس طرح___ زندہ ہے دل ترا ، تیرے پستانوں تلے___
  5. دال مونگی دی پھدی گونگی دی چوت نرس دی دنیا ترس دی لوڑا سردار دا بڑکاں مار دا ممہ جٹی دا پیار نال پٹی دا گل پیار دی بنڈ دیدار دی سُوٹا چرس دا کُوسا نرس دا کلفی کھویے دی بنڈ لوئے دی لن قصائی دا تے نو وی چائی دا
  6. تیری ماں کی چودوں یہ کیا ہورہا ہے کہ لونڈے پہ لونڈا فدا ہورہا ہے
  7. اس نے نظر نظر میں ہی ایسے بھلے سخن کیے میں نے بھی اس کی گانڈ میں اک بے زبان رکھ دیا
  8. جو چپ رہے گی زبان کنجر لہو پکارے گا بھونسڑی کا
  9. گڈبائی کہنے کا بھی تو آتا نہیں تھا ڈھب باہر نکل کے چل دیا لوڑا تھا بے ادب چیخی پلٹ کے چوت، نہ جا چھوڑ کے مجھے مجھ کو کہاں ملے گا ترے جیسا لنڈ اب
  10. بہت خوب - کیا بات ہے - بڑی مزیدار شاعری شئیر کی ہے آپ نے بہت شکریہ مائل سٹون صاحب - اس تھڑید کو اور شاعری کو ان الفاظ میں پسند کرنے کا ابھی بہت کچھ شئیر ہونا باقی ہے اس تھڑیڈ میں اسلیے وزٹ کرتے رہیے گا اور مزید مزیدار قسم کے فحش اشعار بھی شئیر کرتے رہیے گا جو آپ نے بچپن یا لڑکپن میں سنے ہوں
  11. بہت ہی بہترین اور کمال نظم ہے فحش الفاظ میں حقائق بیان ہوئے ہیں اسی کا ایک ورژن میرے پاس بھی ہے یہ عالم بہ زور علم چودتے ہیں یہ حاکم بہ زور حکم چودتے ہیں یہ تاجر بہ زور رقم چودتے ہیں مصیبت ہماری تمہاری ہے بھائی نہ تم چودتے ہو نہ ہم چودتے ہیں
  12. دھوپ جس کو کہ ہم ترستے ہیں یہی گرمی میں گانڈ مارے گی
  13. لڑکی تھی لکھنؤ کی تو لڑکا پشور کا ماری یہاں کے لوڑے نے جا کر کہاں کی چوت دیتا ہے دھونس مجھ کو گورنر کے نام کی اٹھ تیری اور تیرے گورنر کی ماں کی چوت
  14. تعریف کراں کی لنڈ دی جیرا پھدیاں دا سردار اے پھدی مار کے انج سو جاندا اے جینویں صدیاں دا بیمار اے ---------- شعر سناواں شعر سناواں شعر نوں لگی گُلی نائی بڑا پین چود وڈ کے لے گیا لُلی شعر سناواں شعر سناواں شعر نوں لگیا پھل نائی بڑا پین چود وڈ کے لے گیا لُل شعر سناواں شعر سناواں شعر نوں لگا وٹّا نائی بڑا پین چود وڈ کے لے گیا ٹٹا شعر سناواں شعر سناواں شعر نوں لگی تھالی بُبے تیرے رنگ برنگے پھدی تیری کالی ----------------- کُکڑا کُکڑا بانگ دے حاجی نوں سلام دے حاجی بیٹھا پھل تے مار غلیلا لُل تے کُکڑا کُکڑا بانگ دے حاجی نوں سلام دے حاجی بیٹھا کھوئی تے مار غلیلا ٹوئی تے کُکڑا کُکڑا بانگ دے حاجی نوں سلام دے حاجی بیٹھا پھٹے تے مار غلیلا ٹٹے تے آڈیوملاحظہ ہو
  15. خدا جانے حسیں سارے یہ چشمہ کیوں لگاتے ہیں مرائی گانڈ بچپن میں اور اب آنکهیں چراتے ہیں
  16. کیا بات ہے جناب۔۔ کیا عمدہ نظم ہے جو لوڑے اور چوت کے باہم معاملات کو بڑی صفائی سے بیان کر رہی ہے۔ زبردست۔
  17. شوخیاں ان کی کیا کہوں جیسے اب غرارہ اٹھا کے جھانکی چوت غیر آیا ہے لے کے سوکھا منہ جیسے بیمار نیم جاں کی چوت کیوں نہ اغیار ہی کو دے ڈالی ہائے کیوں نے رائگاں کی چوت میرے عاشق مزاج لوڑے سے یاد کرتی ہے اک جہاں کی چوت ہائے اس خوش ادا کے تیکھے کچ ہائے اس نازنیں کی بانکی چوت تنگ کرتی ہے مجھ کو خلوت میں اک معشوق بے نشاں کی چوت خود کشی کرکے چین پاتی ہے پردہ داران بے زباں کی چوت جب بھی لوڑا بپھر گیا،اس نے صلح جوئی کو درمیاں کی چوت
  18. بس کہ دشمن ہوئی ہے جاں کی چوت دھت تری عاشقی کی ماں کی چوت میں نے جھانکا جو غسل خانے میں کیا ہتھیلی سے اس نے ڈھانکی چوت اسد خاں کا حصہ جھانٹ اور تجمل خاں کی چوت آج کل جمع ہے کراچی میں کیا بتاؤں کہاں کہاں کی چوت مت کرو ذکر فرج بنگالہ پہلے دیکھو یہاں وہاں کی چوت بعد میں دیجے راز دل اس کو لیجیے پہلے راز داں کی چوت حکمتیں اس کی دیکھ اے غافل ہے ہر اک شاخ گل پہ ٹانکی چوت
  19. ایک لڑکی تھی سترہ سال کی - بہت خوبصورت تھی اور سامنے ایک لڑکا رہتا تھا پچیس سال کا جس نے بڑی کوشش کی کہ دے دے، دے دے لیکن نہیں دی - زمانہ گذرتا گیا جب لڑکا اسی سال کا ہوگیا اور لڑکی تہتّر کی ہوگئی تو ایک دن آگئی کہ بھئی لے لو تو لڑکے نے اپنی طرف دیکھا اور لڑکی کی طرف دیکھا پھر اس پر ایک نظم کہی - ملاحظہ ہو اب جو تم مرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو میں نے مانا کہ تم اک پیکرِ رعنائی تھیں چوچیاں بارھویں سال ہی ابھر آئیں تھیں ہر نظر باز کی تفریح تھیں ہرجائی تھیں اپنے جوبن کے خریداروں پر اترائی تھیں اس وقت نہ پوچھا تو اب کیوں آئی ہو یہ چدی اور پٹی چوتیاں لائی ہو اب جو تم میرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو مجھ کو یاد ہیں وہ تمہارے نشیلے جوبن رس بھرے رس داررسیلے جوبن جن کی نوکیں چبھیں دل میں وہ نوکیلے جوبن اب کیا رہا اب تو ہوگئے ڈھیلے جوبن ہاتھ کتنے حرامیوں نے گرمائے ہیں اتنے کھینچے ہیں کہ پیٹ پہ لٹک آئے ہیں اب جو تم میرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو چوتوں نے مرے لوڑے کی یوں ماری ہے اک مدت سے بے چارے پر بے ہوشی طاری ہے اب نہ سدھ ہے نہ احساس ہے نہ ہوشیاری ہے یہ اک ہیرو ہے جو معذور اداکاری ہے اب تو لہنگے کی ہوا سے بھی نہ ہوش آئے گا کھول کے لیٹ بھی جاؤ تو نہ جوش آئے گا اور اے دوست !!! اب تو اس کام سے بھی گھن آتی ہے صرف سوچنے سے مری گانڈ پھٹی جاتی ہے اب جو تم مرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو اک زمانہ تھا جب مجھے کام مزہ دیتا تھا رنگ اپنا میں ہر چوت پہ جما دیتا تھا ایک اک کونے میں چوتوں کے ہلا دیتا تھا اچھے اچھے لوڑوں کو میں نظروں سے گرا دیتا تھا ایک ہی موقع میں وہ چبھنے کا مزہ پاتی تھی چدھ کہ ہر چوت دعا دیتی چلی جاتی تھی لیکن اے دوست اب نہ وہ میں ہوں نہ لوڑے میں دم باقی ہے پھٹ چکی گانڈ اب صرف بھرم باقی ہے اب جو تم مرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو یہ کہانی ہے حرف بہ حرف مرے لوڑے کی سر نیچے رہتا ہے نیچی ہے نظر لوڑے کی گانڈ میں گھس گئی سب اینٹھ مرے لوڑے کی اپنی حالت پر افسوس کیا کرتا ہے چوت کو دیکھ کے منہ موڑ لیا کرتا ہے اب جو تم مرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو تم ایک سفلس ہو سوزاک ہو کوئی کیا جانے خشک ہوں چوت کے کونے کوئی کیا جانے اب تو لوڑے کو نہ آفت میں پھنساؤں گا میں اس گڑھیا میں تو غوطہ نہ لگاؤں گا میں جھک کے دیکھو تو ذرا بھوسڑے کی حالت زار یہ وہ تلیّا ہے جس پہ چھائی ہوئی ہے سوار نام باقی نہ رہا صرف نشان باقی ہے اب تو جھانٹیں ہی جھانٹیں ہیں چوت کہاں باقی ہے اب جو تم مرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو دیکھتی رہتی تھیں نظریں مرے لوڑے کی بہار چوبیسوں گھنٹوں کھرا رہتا تھا میرا ہتھیار موتتا تھا تو جاتی تھی گزوں دور پیشاب کی دھار مرے لوڑے کا ہوتا تھا حسینوں میں شمار لیکن اے دوست اب تو ایک بالشت کی بھی نہیں جا پاتی ہے دھار پیشاب کی ٹٹوں پہ ٹپک جاتی ہے اب جو تم مرے پاس آئی ہو تو کیوں آئی ہو آڈیو ملاحظہ ہو

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.