Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 14/03/23 in all areas

  1. آج پہلی بار یہ کہانی شروع سے آخری اپ ڈیٹ تک پڑھی ہے ۔ کمنٹس سے اندازہ ہوا کہ کچھ ممبران اسے فری کرنا چاہتے تھے۔ میرے خیال سے یہ مناسب نہیں ۔ اسے پیڈ سیکشن میں ہی رکھا جائے۔ ۔ڈاکٹر صاحب کو اتنی عمدہ کہانی شروع کرنے پر مبارک ہو۔ ابھی تو کہانی کی شروعات ہے۔ آگے بہت سے ٹوئسٹ آئیں گے جو چونکانے والے ہوں گے ڈاکٹر صاحب مجھے یہ سمجھ نہیں آئی کہ اس کہانی کا ہیرو کون ہے ؟ یا ابھی اس کی اینٹری ہو گی ؟
  2. سر جلدی سے اٹھیں اور آپ کی وائف کو میں اٹھا لیتا ہوں گھر میں کوئی اور بیڈ روم ہے تو اس میں فوری شفٹ ہو جائیں۔۔۔کیونکہ کلاشنکوف کی تڑتڑاہٹ گاؤں میں سنی گئی ہو گی لازمی کوئی نہ کوئی نکلے گا اس سے پہلے کہ لوگوں کو اس چیز کا ادراک ہو کہ گڑبڑ کہاں ہے ہمیں اس کمرے کو سیٹ کرنا ہو گا اور ان لاشوں کو غائب کرنا ہو گا۔ اتنا کہہ کر اس نے شمسہ کو اٹھایا۔میں آگے بڑھ کر سیڑھیاں چڑھتا ہوا اوپر نادر کے کمرے کی طرف گیا۔۔۔کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا مجھے تشویش ہوئی میں تیزی سے اندر داخل ہوا تو دیکھا کہ نادر بیڈ پر ہی آڑا ترچھا انٹا غفیل پڑا ہوا تھا اس کے سر پر ایک گھومڑ بھی موجود تھا لازماً گن سے اس کے سر پر ضرب لگائی گئی تھی۔ میں نے آگے بڑھ کر نادر کو جھنجھوڑا تو میرے کاندھے میں درد کی ٹھیسیں اٹھنے لگیں۔۔اسی وقت حنیف خان شمسہ کو اٹھائے اندر داخل ہوا اس نے شمسہ کو بیڈ پر لٹانے کے بعد ایک چادر اس پر ڈال کر نادر کو دیکھا اور بولا سر پریشانی کی کوئی بات نہیں نادر بھائی کو سر پر ضرب لگا کر بیہوش کیا گیا ہے اور میڈم تھوڑی دیر بعد خود بخود ہوش میں آ جائیں گی۔۔۔پھر اس نے نادر کی ناک کو چٹکی میں پکڑا اور اس کے منہ کو دباتے ہوئے اس کا سانس روک دیا چند ہی لمحوں میں نادر کے جسم میں حرکت محسوس ہوئی تو وہ اس کو جھنجھوڑنے لگا۔۔۔اس کے جھنجھوڑنے پر نادر کو ہوش آ گئی اور وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔سانس رکنے کی وجہ سے اس کا چہرہ سرخ ٹماٹر ہو رہا تھا۔ نادر نے میری طرف دیکھا تو فوراً تشویش سے بولا کمالے کیا ہوا یہ خون؟ حنیف نے مختصراً اسے سارے حالات بتائے تو وہ فوراً اٹھ کر اس کے ساتھ چل پڑا مجھے وہیں رہنے کی تاکید کرتے ہوئے وہ نیچے چلے گئے۔۔۔تقریباً پندرہ منٹ بعد نادر اوپر آیا تو اس کے ہاتھ میں اسپرٹ کی بوتل اور کاٹن پکڑی ہوئی تھی۔۔۔اس نے کپڑا ہٹا کر میرا زخم دیکھا تو اس کے منہ سے سیٹی سی نکل گئی۔۔۔کمالے یار!!! تیرے تو کاندھے کا بیڑہ غرق ہو گیا۔۔۔اس چمار کی اولاد نے استرا مار کر اچھا خاصا ٹک لگا دیا ہے۔ ************************ (70) خون بہنے کی وجہ سے میرا رنگ زرد ہو چکا تھا اور کافی کمزوری محسوس ہو رہی تھی۔۔۔بہرحال نادر نے میرا زخم اسپرٹ سے دھونے کے ساتھ ساتھ مجھے بتایا کہ حنیف اور نادر نے ملکر کمرے سے دو لاشیں غائب کر کے پیچھے سٹور روم میں ڈال دی ہیں۔۔اور حنیف خان بظاہر چلا گیا ہے۔۔۔ابھی سب لوگ باہر اکٹھے ہو رہے ہیں تو ہمیں اٹھ کر باہر نکلنا چاہیے اور کمرہِ واردات میں چلنا چاہیے۔ میرے زخم کو دھو کر نادر نے کاٹن رکھ کر پھر سے کپڑا باندھ دیا اور ہم دونوں اٹھ کر نیچے چل دیے۔۔۔نیچے اس استرے والے بدمعاش کی لاش موجود تھی ساتھ ہی کلاشنکوف بھی پڑی ہوئی تھی اور اس کا استرا لاش سے چند قدم کے فاصلے پر المارے کے ساتھ کھلی حالت میں زمین پر پڑا ہوا تھا۔۔۔پیسے موجود نہ دیکھ کر میں نے نادر سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ پیسے ہٹا دیے ہیں۔ چند منٹوں بعد گاؤں کے چند لوگ گھر میں داخل ہوئے اور نادر ان کو سیدھا کمرے میں لے آیا۔۔۔کیونکہ رات کا وقت اور گاؤں کا ماحول تھا تو کلاشنکوف کی تڑتڑاہٹ صورِ اسرافیل کی طرح گونجی تھی اس لیے آس پاس کے لوگوں کو اندازہ تو ہو ہی گیا تھا کہ کہاں فائرنگ ہوئی ہے اس لیے چند منٹ انہیں لگے لوگوں کو اکٹھا کرنے میں اس کے بعد وہ ہمارے گھر پہنچ گئے۔۔۔نادر نے انہیں مختصراً حالات بتائے کہ یہ دو ڈاکو تھے اور جمیل یعنی مجھے لوٹنے کی غرض سے آئے تھے جمیل اوپر والے کمرے میں اپنی بیوی کے ساتھ سو رہا تھا مگر نادر کی آنکھ کھلنے پر اس نے ڈاکوؤں کو للکارا تو اسی وقت انہوں نے فائرنگ کر دی جوابی فائرنگ میں نادر نے کلاشنکوف والے ڈاکو اپنے پستول سے مار گرایا جبکہ دوسرا ڈاکو نادر سے گتھم گتھا ہو گیا۔ اسی وقت شور سن کر جمیل بھی نیچے آیا اور نادر کی مدد کرنے کی کوشش کی تو اس ڈاکو نے پتہ نہیں کہاں سے استرا نکالا اور گھما دیا جس سے جمیل کو زخم آیا اور وہ گر گیا۔۔۔نادر نے ٹانگ مار کر ڈاکو کو پرے دھکیلا تو وہ اٹھ کر فوراً بھاگ نکلا۔۔۔چونکہ جمیل کو زخم بھی آیا تھا اور شمسہ کی بھی فکر تھی اس لیے ہم ڈاکو کا پیچھا نہیں کر پائے۔۔۔لوگ ہم سے اظہارِ افسوس کرنے لگے اور ایک نے تو واضح کہا کہ چونکہ جمیل باہر کے ملک سے آیا ہے تو لازمی ڈاکو اس کی کمائی لوٹنے آئے ہوں گے۔نادر نے کسی کو ڈاکٹر امتیاز کی طرف بھیج دیا حالات بتا کر کہ وہ آتے ہوئے ضروری سامان لے آئے۔۔۔اسی وقت باہر کہیں فائرنگ کی آواز سنائی دی۔۔۔تو سب لوگ ایک دم چوکنا ہو گئے میں نے نادر کی طرف دیکھا تو اس نے مجھے آنکھ دبا کر اشارہ کیا میں کچھ کچھ سمجھ گیا۔ ابھی سب لوگ باہر نکل کر جائزہ لینے کی سوچ ہی رہے تھے کہ حنیف خان باہر سے اندر آیا اور کسانوں کی طرح پھولی ہوئی سانسوں میں بولا۔۔۔بھایا جی وہ باہر گلی میں بھی دو لاشیں پڑی ہیں۔سب لوگ باہر کی طرف بھاگے تو نادر نے مجھے آہستہ سے بتایا یہ سب طے شدہ ہے چونکہ ہمارے پاس تمہیں بتانے کا ٹائم نہیں تھا اور لاشیں غائب کرنے کا اس سے اچھا اور کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ سارا گاؤں جاگ چکا تھا کچھ ہی دیر میں امتیاز بھی اپنے بریف کیس کے ساتھ آ گیا۔۔۔گاؤں میں رہنے والے لوگ جانتے ہوں گے کہ گاؤں کے ڈاکٹر ہمیشہ اپنے پاس ایک اٹیچی نما بریف کیس رکھتے ہیں جس میں ایمرجنسی ضرورت کی اہم اشیاء موجود ہوتی ہیں۔۔۔امتیاز نے میرا زخم چیک کیا اور ٹانکے لگانے شروع کر دیے۔ میں نے نادر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔نادر!!! بھائی اب اس مصیبت کا کیا کریں جو سامنے پڑی ہے یہ کہہ کر میں نے لاش کی طرف اشارہ کیا تو نادر چپ چاپ میری طرف دیکھتے ہوئے کچھ سوچنے لگا۔۔۔پھر جیسے اس کے دماغ میں کوئی اچھوتا خیال آیا ہو وہ بولا کرنا کیا ہے جمیل بھائی میں ابھی وڈے چوہدری صاحب کو اطلاع کرواتا ہوں ان کا بہت اثر و رسوخ ہے وہ اس معاملے کو اچھی طرح سے دیکھ لیں گے۔ ************************ (71) میں چپ ہی رہا کیونکہ نادر سارے حالات جانتے ہوئے بھی یہ کر رہا تھا تو اس میں کوئی تو خاص بات ہو گی۔۔۔نادر نے کسی ذریعے حویلی اطلاع کرواتا دی تھی۔۔۔تبھی آدھے گھنٹے بعد باہر دو گاڑیاں رکنے کی آواز سنائی دی۔۔۔آواز سن کر نادر باہر نکل گیا چند لمحوں بعد نور سیال اور وڈے چوہدری کا خاص ٹٹو شاہنواز اور نادر پولیس کے لوگوں کے ساتھ اندر داخل ہوئے۔۔۔ان کو دیکھتے ہی میرا خون کھول اٹھا پر حالات کا تقاضہ یہی تھا کہ میں فلحال وقت کی چال دیکھوں۔ نادر نے انہیں ساری کہانی بلا جھجک بتائی اور اس لاش کو اپنے کھاتے میں ڈالتے ہوئے بتایا کہ کیسے اس نے ایک ڈاکو کو مار گرایا۔۔۔پھر لوگوں سے باہر والی لاشوں کا سنا تو سارے سپاہی لوگوں کے ساتھ باہر نکل گئے جبکہ نور سیال اور انسپکٹر میرے پاس کھڑے رہے۔۔۔نور سیال نے سگریٹ سلگاتے ہوئے کہا کہ انسپکٹر تم جانتے ہو تمہیں کیا کرنا ہے بس اتنا یاد رکھنا کہ نادر چوہدری صاحب کا خاص آدمی ہے اس کو اس معاملے میں ذیادہ نہیں گھسیٹنا۔۔۔اب جاؤ باہر جا کر اپنی ضروری کاروائی کرو اور اس لاش اور ڈکیتوں کا اسلحہ کو بھی یہاں سے اٹھواؤ۔ پھر وہ میری طرف متوجہ ہوا۔۔۔جمیل باؤ تم بے فکر رہو تم نادر کے بھائی ہو تو مطلب اپنے خاص آدمی ہو۔۔۔کوئی تم لوگوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گا یہ میرا یعنی نور سیال کا وعدہ ہے تم سے۔۔۔پھر وہ نادر کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔نادر کل اپنے بھائی کو ساتھ لیکر حویلی آ جانا بیٹھیں گے کچھ بات چیت کریں گے۔ ابھی میں چلتا ہوں۔۔۔اگلے ایک گھنٹے میں پولیس کے لوگ ہمارے بیانات لینے کے بعد لاشوں کو اٹھا کر جا چکے تھے۔۔۔گاؤں کے لوگ بھی اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔۔۔تب حنیف خان اور نادر میرے سامنے بیٹھ گئے اور حنیف خان نے بتانا شروع کیا کہ کیسے اس نے لاشیں گھر کی پچھلی دیوار سے باہر گرائیں اور اٹھا کر گلی میں ڈال کر چند ہوائی فائر کر دیے اور اسی طرح لاشوں کو بھی ٹھکانے لگا دیا۔۔۔اسی وقت اوپر سے کسی کے تیز تیز قدموں سے سیڑھیاں اترنے کی آواز سنائی دی تو نادر تیزی سے اٹھ کر باہر نکلا چند لمحوں بعد شمسہ کو لیے ہوئے اندر داخل ہوا۔ شمسہ کے گلے میں دوپٹہ نہیں تھا اور اس کے بھرپور اٹھان کے ممے اس کی سسکیوں کے سبب اوپر نیچے ہو رہے تھے شمسہ کمرے میں داخل ہوتے ہی تیر کی طرح میری طرف آئی جبکہ حنیف خان منہ پھیر کر کھڑا ہو گیا۔۔۔نادر نے فوراً الماری سے چادر نکال کر شمسہ کو دی شمسہ نے چادر سے اپنا آپ کور کیا اور میرے پاس بیٹھ کر رونے لگی میں نے اور نادر نے ملکر اسے تسلی دی اور بتایا کہ وہ لوگ ڈاکو تھے ہمیں لوٹنے آئے تھے مگر خود لاشوں میں تبدیل ہو گئے۔۔۔اب سب ٹھیک ہے پولیس آ کر جا چکی ہے۔۔۔تمہیں فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہماری باتیں سن کر شمسہ کی ڈھارس بندھی مگر میرے کاندھے پر بندھی ہوئی پٹی دیکھ کر اسے تشویش ہوئی تو میں نے فوراً اسے تسلی دی کہ صرف تھوڑی سی چوٹ لگی ہے باقی سب ٹھیک ہے۔۔۔مجھے تجسس تو تھا کہ حنیف خان سے سارے حالات جان لوں کہ وہ کیسے یہاں پہنچ گیا لیکن شمسہ بری طرح سے سہمی ہوئی تھی اس لیے میں حنیف خان کو کہ صبح ملاقات کا کہہ کے شمسہ کو لیکر دوسرے کمرے میں چلا آیا۔۔۔پھر کافی دیر تک شمسہ کو تھپک تھپک کر سلانے کی کوشش کرتا رہا اور آخرکار وہ سو ہی گئی۔۔۔میں نے رات کا بقیہ حصہ سوتے جاگتے نکال دیا۔ ************************* (72) اگلے دن صبح نادر نے ناشتے کے بعد ساری بات بتائی کہ کیوں اس نے اس معاملے میں سیالوں کی مدد لی ہے۔۔۔پہلی بات تو یہ کہ ہم اس وقت فلحال اس پوزیشن میں نہیں تھے کہ اکیلے اس مسئلے سے نجات حاصل کر سکتے۔۔۔اس لیے وڈے چوہدری کا پولیس میں اثر ورسوخ کام آیا اور ہم باآسانی اسے مسئلے سے نکل آئے۔ دوسری بات کمالے میں چاہتا ہوں کہ ہم لوگ اسی بہانے تھوڑا سیالوں کے نزدیک ہو جائیں اور ان کے اندر رہ کر سرنگ لگاتے ہوئے اپنا کام کریں۔۔۔ہم دونوں نہیں جانتے کہ سیال فیملی کہاں تک پھیلی ہوئی ہے اور ہمیں ان سے کیسے نبٹنا ہے۔۔۔تو اپنا کام آسان کرنے کیلئے ہمیں ان کے اندر گھس کر ان کے ساتھ رہتے ہوئے ان کی آنکھوں میں دھول جھونک کر وہیں سے ابتدا کرنی ہو گی اگر صرف سیالوں کو مار ڈالنا ہو تو وہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں آج ہی کرائے کے بندوں کا انتظام کرتے ہیں اور دو چار دن میں ان پر متواتر حملے کرنے شروع کر دیتے ہیں آخر کب تک جئیں گے مر ہی جائیں گے لیکن میرے بھائی کیا اس سے ہمارا بدلہ پورا ہو جائے گا نہیں کمالے نہیں۔۔۔ہم سیالوں کے اندر گھس کر انہیں ایسے نقصان پہنچائیں گے کہ ان کی آنے والی نسلیں بھی کسی سے پنگا لیتے وقت دس ہزار بار سوچیں۔۔۔اسی لیے تم سے بنا پوچھے میں اس معاملے میں سیالوں کو لے آیا۔ میں نے کچھ سوچتے ہوئے کہا!!! نادر یار وہ بات تو ٹھیک ہے لیکن ایک چیز مجھے تشویش میں مبتلا کیے ہوئے ہے کہ یہ رات کو کنجر کے پتر ڈاکو کہاں سے آ گئے اور مانا کہ چلو آ ہی گئے تو وہ رقم لوٹنے کے بعد ہمیں مارنا کیوں چاہتے تھے اور عین وقت پر حنیف خان کہاں سے ٹپک پڑا۔۔۔نادر میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا کہ یار توں ٹھنڈ رکھ سارے حالات میں جان گیا واں تے تینوں سب کچھ دس دیواں گا فلحال فٹافٹ نکل اور وڈی حویلی چل میرے نال۔۔۔میں نے کندھے اچکائے اور کپڑے بدل کر اس کے ساتھ جانے کیلئے تیار ہو گیا۔۔۔میرے کاندھے کی سوجن اب رات کی نسبت کافی کم تھی۔۔۔ڈاکٹر امتیاز کی دی ہوئی دوائیں اور انجکشن اپنا اثر دکھا رہے تھے۔ شمسہ کو ساتھ والی ماسی کے گھر چھوڑ کر میں اور نادر باہر نکلے اور لوگوں سے ملتے ملاتے سیدھا وڈی حویلی پہنچ گئے۔۔۔حویلی میں داخل ہوتے وقت میرے دل میں کھد بد ہو رہی تھی پر میں سمجھتا تھا کہ مجھے اب ہوش سے کام لینا ہو گا۔۔۔حویلی کے مہمان خانے میں ہمیں بٹھایا گیا اور نادر اٹھ کر باہر چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد نادر اندر داخل ہوا اور مجھے مخاطب کیا! چلو جمیل بھائی چوہدری صاحب ہمارے منتظر ہیں۔۔۔میں سمجھتا تھا کہ نادر مجھے جمیل کہہ کر کیوں بلا رہا ہے وجہ صرف یہی تھی کہ ہم دشمنوں کی کچھار میں موجود تھے۔۔۔ہم لوگ وہاں سے نکلے اور مختلف راہداریوں سے گزرتے ہوئے ایک کمرے کے دروازے پر جا پہنچے۔۔۔نادر نے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہو گیا۔۔۔میں بھی اس کی پیروی میں اندر داخل ہو گیا۔ یہ ایک شاندار کمرہ تھا اعلیٰ بیش قیمت فرنیچر کے ساتھ مزین۔۔۔بہترین صوفے، سامنے موجود ٹی وی اور وی سی آر دیکھ کر دماغ میں ایک مشعل سی جل اٹھی اور مجھے چھیمو کی داستان یاد آ گئی۔۔۔یہی وہ کمرہ تھا جہاں چوہدری نے چھیمو اور راجی کی پھدی ماری تھی۔۔۔میں دل ہی دل میں بولا۔۔۔چوہدری کب تک آخر میرے ہاتھ سے بچے گا۔۔۔ایک دن تو آئے گا ناں جب تو میرے سامنے زمین پر پڑا کتوں کی طرح گھگھیا رہا ہو گا۔ کمرے میں دونوں بھائی ظفر سیال اور مظفر سیال موجود تھے جبکہ نور سیال بھی ایک طرف بیٹھا ہوا تھا۔۔۔ان کے سامنے میز پر شراب اور دیگر لوازمات موجود تھے۔ دعا سلام کے بعد نادر نے میرا تعارف کروایا اور کل کے سارے واقعات دوبارہ چوہدری کے سامنے دہرانے شروع کر دیے۔۔۔سارے واقعات سننے کے بعد چوہدری نے ہممم کیا اور اپنی مادری زبان (گالی گلوچ کرنے) کے انداز میں بولا۔۔۔ان ڈاکوؤں کی بہن کو لن یہ ہمارے گاؤں میں کہاں سے آ گئے کتی کے پتر۔۔۔تبھی نور سیال بولا! پاپا آپ بے فکر رہیں میں نے پولیس کو بول دیا ہے وہ تفتیش کر رہی ہے۔۔۔جلد ہی نتائج سامنے آ جائیں گے۔۔۔چوہدری دھاڑتے ہوئے بولا ویسے ہی جیسے کراچی سے نتائج آ رہے ہیں۔۔پھر میری موجودگی کا خیال کرتے ہوئے چوہدری چند لمحے خاموش رہا پھر مجھ سے بولا۔۔جمیل تم نادر کے بھائی ہو اور نادر میرا خاص آدمی ہے۔اس لیے میں چاہتا ہوں کہ تم بھی اس کے ساتھ ہی ہمارے پاس کام کرو۔ ************************ (73) اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ سب کو پتہ چل جائے گا کہ تم ہمارے آدمی ہو پھر کوئی تمہاری طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھے گا۔۔۔میں نے اثبات میں سر ہلا دیا تو اچانک جیسے اس کے بھائی ظفر سیال کو کچھ یاد آیا تو وہ مجھے مخاطب کرتے ہوئے بولا جمیل کیا تم ڈرائیونگ کرنا جانتے ہو تو اس سے پہلے کہ میں بولتا نادر نے جواب دیا کہ چوہدری صاحب جمیل بھائی سعودیہ میں کمپنی کی گاڑیاں ہی تو چلاتے تھے۔۔۔تو بس ٹھیک ہے پھر طے ہوا کہ آج سے تم میری بیٹی شبینہ کے محافظ ہو گے بظاہر تم اس کیلئے گاڑی چلاؤ گے۔۔۔لیکن اصل میں تم اس کی حفاظت کرو گے۔۔۔دراصل اس نے اندر باہر آنا جانا ہوتا ہے تو اس کیلئے ایک محافظ کم ڈرائیور کی ضرورت ہے۔ میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔۔کچھ دیر وہاں بیٹھنے کے بعد ہم لوگ وہاں سے اٹھ کر گھر کی طرف چل پڑے۔۔۔راستے میں نادر مجھے موڑ کر ڈیرے کی طرف لے گیا۔۔۔ڈیرے پر حنیف خان سے ملاقات ہوئی تو حنیف نے دعا سلام کے بعد ہمیں بیٹھنے کی جگہ دی۔۔۔میں نے پوچھا ہاں بھئی حنیف خان کیسے ہو۔؟تو وہ نظریں جھکائے بولا!!! میں ٹھیک ہوں سر لیکن میں کل رات والے واقعے پر بہت شرمندہ ہوں اس سب میں میری اپنی غفلت ہے جو میں وقت پر آگاہ نہیں ہو سکا تو میں حیرانگی سے اس کی طرف دیکھ کر بولا۔۔۔میں سمجھا نہیں تو کس غفلت کی بات کر رہے ہو۔۔۔بھائی میں تو تمہارا شکریہ ادا کرنے آیا ہوں اور تم ہو کہ مجھے عجیب ہی کہانی سنا رہے ہو۔ حنیف نے الجھن زدہ نظر سے نادر کی طرف دیکھا تو نادر نے کہا نہیں حنیف ابھی تک اس کو کسی بات کی خبر نہیں۔۔۔میں سوالیہ نظروں سے دونوں کو دیکھتے ہوئے اکتاہٹ سے بولا ارے یار کیا پہلیاں بجھا رہے ہو صاف اور سیدھی بات کرو ناں کہ مسئلہ کیا ہے تو نادر نے کہا حنیف تم خود ہی بتاؤ۔۔۔حنیف ایک ٹھنڈی سانس لیکر بولنا شروع ہوا۔۔۔سر رات کو جو ڈاکو آپ کے گھر آئے تھے وہ دراصل کراچی سے ہی آپ لوگوں کا پیچھا کرتے ہوئے یہاں پہنچے تھے۔۔۔بے شک ان کا مقصد آپ کو لوٹنا ہی تھا۔۔۔مگر وہ کوئی نئے بندے نہیں اپنے ہی بھیدی تھے۔ میں خاموشی سے نظریں سکوڑے اس کی طرف دیکھتا رہا۔۔۔کل شام آپ لوگوں کے جانے کے بعد سردار علی تھوڑی دیر کیلئے غائب ہو گیا۔۔۔میں سمجھا یہیں کہیں ہو گا آ جائے گا۔۔۔کیونکہ پہلے بھی دو چار دفعہ وہ چہل قدمی کا کہہ کر آگے پیچھے نکل جاتا تھا۔۔۔اس لیے میں نے ذیادہ تردد نہیں کیا۔۔۔کافی دیر بعد وہ لوٹا تو کچھ بے چین سا لگ رہا تھا میرے پوچھنے پر اس نے ٹال دیا۔۔۔پھر ہم لوگ سونے کیلئے چارپائیوں پر لیٹ گئے۔۔۔تھوڑی دیر بعد سردار علی چپکے سے اٹھا اور دبے پاؤں اندر کمرے میں چلا گیا۔۔۔میں چونکہ ابھی سویا نہیں تھا لیکن اس کی یہ حرکت مشکوک سی لگی اس لیے نیم وا آنکھوں سے اسے دیکھتا رہا۔ دو منٹ بعد ہی وہ کمرے سے برآمد ہوا تو مجھے اس کے ہاتھ میں سائلنسر لگا ریوالور نظر آیا۔۔۔اس نے میرے پاس آ کر ریوالور کا رخ میری طرف کر دیا۔۔۔اس کی آنکھوں میں ایک اجنبیت بھری چمک تھی میں نے فوراً حرکت میں آنے کا فیصلہ کیا اور لیٹے ہی لیٹے اپنی داہنی ٹانگ اٹھا کر زور سے ریوالور والے ہاتھ پر ماری تو ریوالور اس کے ہاتھ سے نکل کر کہیں دوسری طرف جا گرا اور میں اس سے گتھم گتھا ہو گیا۔۔۔چند منٹ کی مشقت کے بعد میں نے اس پر قابو پا لیا اور اس کو باندھنے کے بعد تفتیش شروع کی۔۔۔پہلے پہل تو وہ اڑی کرتا رہا پھر اپنے ہاتھ کی چار انگلیاں کٹوانے اور تھوبڑا سجھوانے کے بعد وہ بول پڑا۔۔۔کل آپ پر حملہ اسی خبیث نے کروایا تھا۔۔۔حالانکہ کراچی میں اسے اس کا حصہ مل چکا تھا لیکن پھر بھی اس کی نظر ان روپوں پر تھی جو آپ کراچی سے لائے تھے۔ظاہری سی بات ہے کہ اس بارے انہیں سردار علی نے ہی بتایا تھا۔
  3. Javidbond saab bohat bahtreen jaa rahu hain isi tara lagy rahain. thanks

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.