کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ
"عاشق بن کر اپنی زندگی برباد مت کرنا . . . . . . "
لیکن وقت كے ساتھ ساتھ بربادی تو طے ہے ، جو میں نے خود اپنے لئے چنی . . . .
میں نے وہ سب کچھ کیا ،
جس کے ذریعے میں خود کو برباد کر سکتا تھا ،
اور رہی سہی کسر میرے غرور نے پوری کر دی تھی . . .
اپنی زندگی كے سب سے اہم چار سال برباد کرنے كے بَعْد میں آج اِس مقام پر تھا کہ اب کوئی بھی مقام حاصل نہیں کیا جا سکتا ،
بابا چاھتے تھے کہ میں بھی اپنے بڑے بھائی کی طرح پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بن جاوں . . .
لیکن میں نے اپنی زندگی كے ان اہم عرصے میں جب میں کچھ کر سکتا تھا ،
میں نے یوں ہی برباد کر دیا ،
گھر والے ناراض ہوئے ،
تو میں نے سوچا کی تھوڑے دن ناراض رہیں گیں بَعْد میں سب ٹھیک ہو جائیگا . . . .
لیکن کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوا ،
سب کے تانے دن بہ دن بڑھنے لگے . . .
برباد ،
ناکارہ کہہ کر بلاتے تھے سب مجھے گھر میں . . .
اور ایک دن تنگ آکر میں گھر سے نکل گیا اور کراچی آ گیا اپنے ایک دوست كے پاس ،
کراچی آنے سے پہلے سننے میں آیا تھا کی میرا بڑا بھائی سرور امریکہ جانے والا ہے ،
اور اس کے ساتھ شاید امی اور بابا بھی جائے . . . .
لیکن مجھے کسی نے نہیں پوچھا . . .
شاید وہ مجھے یہی چھوڑ کر جانے كے پروگرام میں تھے . . .
خیر مجھے خود فرق نہیں پڑتا اِس بات سے ، اور آج مجھے کراچی آئے ہوئے تقریباً دو مہینے سے اوپر ہو چکے ہے ،
میرا بھائی امریکہ گیا کہ نہیں ،
میرے بابا اور امی امریکہ گئے کہ نہیں ،
مجھے کچھ نہیں پتہ اور نہ ہی میں نے ان دو مہینوں میں کبھی جاننے کی کوشش کی اور جہاں تک میرا اندازہ تھا وہ لوگ مجھے ناکارہ سمجھ کر شاید ہمیشہ كے لیے میرے بڑے بھائی كے ساتھ امریکہ چلے گئے ہوںگے . . . .
کوئی مجھ سے پوچھے کہ دُنیا کا سب سے بیکار ،
سب سے بڑا بے وقوف ،
اور سب سے بڑا چوتیا کون ہے ،
تو میں بنا ایک پل گنوائیں اپنا ہاتھ اوپر کھڑا کر دوں گا اور بولوں گا
" میں ہوں "
کسی کو اپنی زندگی کی جڑے خود برباد کرنی ہو تو وہ بے شک میرے پاس آ سکتا تھا ،
اور بے شک میں اس کی مدد بھی کرتا . . . . .
کراچی آئے ہوئے مجھے دو ماہ سے اوپر ہو گیا تھا ،
جہاں میں رہتا تھا ،
وہاں سے تقریباً بیس کلو میٹر کے فاصلے پڑ پورٹ قاسم تھا
وہاں ایک نئی نئی سٹیل انڈسٹری شروع ہوئی تھی . . .
کافی بھاگ دور کے بعد کسی بھی طرح
میں نے وہاں اپنی نوکری پکّی کر لی ،
بہت ہی بدذات قسم کی نوکری تھی ،
بارہ گھنٹے تک اپنے جسم کو آگ میں سیکنے كے بَعْد بس گزارا ہو جائے اتنا ہی پیسہ ملتا تھا . . . .
خیر مجھے کوئی شکایت بھی نہیں
تھی . . . .
جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا ،
میں اس فیکٹری کی آگ میں جل رہا تھا ، جینے كے سارے ارمان ختم ہو رہے تھے ،
اور جب کبھی آسمان کو دیکھتا تو صرف دو فقرے میرے منہ سے نکل پڑتے . . .
آسمانوں كے فلک پر کچھ رنگ آج بھی باقی ہے . . . . . . . . . ! ! !
جانے ایسا کیوں لگتا ہے کی زندگی میں کچھ ارمان آج بھی باقی ہے . . . . . . . . . ! ! !
اور میری سب سے بڑی بدقسمتی یہ تھی کہ میرا نام بھی ارمان تھا ،
جس کے ارمان پورے نہیں ہوئے ،
یا پھر یوں کہے کہ میرے ارمان پورے ہونے كے لیے کبھی بنے ہی نہیں تھے . . . . .
جاری ہے . . . .