اپڈیٹ
توبا کو میں
نے پیار سے اپنے نیچے لے کر انا ھے۔
یہ بات سوچتے ھوے میں نے توبا کو گلے سے لگا لیا۔
سارے منہ پر کس کی لیکن اب میری کوشسش کچھ اور تھی ۔
کچھ وقت گزرا تو میں نے کچھ کام کا بہانا بنا کر اپنے گھر واپس أ گیا۔
رات کو جب میں سونے لگا تو تب میں نے أگے کیا کرنا ھے اس بات کہ مطلق سچتا رھا۔
پھر کچھ ٹائم کے بعد میں اک بات پر
راضی ھوا کہ اب کھیر ٹھنڈی کر کہ کھانی ھے۔
پھر کچھ دن تک میں توبا کہ گھر نہئ گیا۔
اور یہ ہی میر ا پلان تھا کہ اب توبا کہ دل میں اتنی تڑپا ڈالو گا کہ وہ اپنے أپ پھدی دے گی۔
پھر کچھ ٹامٔ کہ لیے مئں نے توبا کو اپنی ہٹ لسٹ سے نکال دیا۔
کیوں کہ میں اپی پڑھائی میں مصروف ہو گیا۔
کیؤں کہ انسان جب کس کام کو کرنے کا سوچتا ھے تو پھر اس کام کر ہی رہتا ھے ۔
امتحان کی تیاری میں اس طرح بزی ھوا کہ پھر کچھ بی یاد نا رھا۔
بہت ہی مشکل سے امتحان دیا اور پھر اس امید پر کہ اب توبا پر دل سے ٹرایٔ کرو گا۔
لیکن قسمت میں تو کچھ اور ہی لکھ تھا۔
میرے گھر کی بیک سایٔڈ پر جو گھر تھا ۔
اس میں نیو کرایا دار رہنے کہ لیے أۓ۔
اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر وہ ھوا۔ جو میں نے کبھی سوچا نا تھا۔
ایک نیو میرڈ کپل کراۓ پر رہنے کہ لیے أۓ۔
شادی کو ابھی کچھ ہی ماہ ھوۓ تھے۔
لڑکی کا نام پتا نہیں کیا تھا پر سب بانی کے نام سے پکارتے ھوۓ سنا ۔
لڑکی بہت پیاری تھی۔
قد کی نرامل تھی پر جسم بر ھوا تھا۔
اب میں توبا کو بھول گیا تھا اب میرا مشن تھا اس لڑکی کو لن کہ نیچے لے کر أنے کی۔
میری شروعات کچھ اس طر ح ھویٔ کہ میں چھت پر تھا اچناک ایک بہت ہی پیاری أواز میرے کونوں کو سنئ دی۔
میں نے پلٹ کر دیکھا تو دیکھتا ہی رھا گیا۔
تیرے حسن کی کیا کرو میں تعریف۔
جب دیکھا تو کچھ بھی یاد نا رھا۔
*****######****
(جاری ھے)