Leaderboard
Popular Content
Showing most liked content on 15/06/22 in all areas
-
لڑکی لڑکے اور ہیجڑے کی محبت
1 likeقسط نمبر 2 میں نے راحت سے کہا اب تم سے کیا چھپانا تم سب کچھ دیکھ بھی چکے ہو اور جان بھی چکے ہو مگر یہ بات بس اپنے تک رکھنا بتانا کسی کو نہیں سمجھ گئے راحت نے کہا مجھے پاگل سمجھا ہے کیا میں کسی کو نہیں بتاتا ۔ مجھے بھی بہت مزہ آتا ہے تم دونوں کو یہ سب کرتے دیکھ کر ۔اچھا جی بڑے مزے لے رہے ہو چھپ چھپ کر ۔راحت نے کہا ایک بات کہوں برا تو نہیں مانو گے میں نے کہا ہاں ہاں کہو اس نے کہا مجھے بھی تمہارے ساتھ وہ سب کرنا ہے میں حیران رہ گیا کیونکہ مجھے توقع نہیں تھی کہ راحت مجھ سے یہ بات کہےگا میں ہنسنے لگا کہا تمہارا کیا مطلب ہے تم میری گانڈ مارنا چاہتے ہو ؟راحت بھی شرماتے ہوئے ہنسنے لگا اور کہنے لگا نہیں بلکہ میں تو تم سے مروانا چاہتا ہوں۔ میں حیران ہوا کہ یہ اچانک اسے کیا ہو گیا ہے میں نے کہا میرے ساتھ ایسا مذاق نہیں کرو اس نے کہا میں مذاق نہیں کر رہا میرا بھی دل کرتا ہے مزہ لینے کا عروسہ کی طرح پھر ایک آنکھ دبا کر کہنے لگا اگر مارنے بھی دو گے تو مزہ ہی آجائے گا میں نے کہا تو تو جان ہے اپنی تیرے لیے تو یہ قربانی بھی دینے کیلئے تیار ہوں مگر مجھے نہیں لگتا عروسہ کے ہوتے ہوئے مجھے یہ قربانی دینی پڑے گی میری بات سن کر خوشی سے چہکتے ہوئے کہنے لگا کیا سچ میں عروسہ مجھے بھی کرنے دے گی میں نے کہا کیوں نہیں وہ تم سے تو مجھ سے بھی زیادہ پیار کرتی ہےاگر مجھے کرنے دے سکتی ہے تو تمہیں کیوں نہیں اچھا وہ بھی دیکھ لیں گے مگر ہمارا پروگرام کب ہے پھر ؟ میں نے کہا جب کہو میری جان اس نے کہا ٹھیک ہے آج میں سٹڈی روم میں عروسہ سے جلدی آجاؤں گا تو ہم کر لیں گے میں نے کہا ٹھیک ہے ۔یہ باتیں کرتے ہوئے میرا لن کھڑا ہونے لگا تھا اور میری شلوار میں تمبو بننے لگا تھا کہ میں نے جلدی سے واشروم کا رخ کیا اور جا کر پیشاب کیا تو لن کا تناؤ ختم ہوا( یہاں اس بات کی وضاحت کر دوں کہ پیشاب کرنے سے لن کا تناؤ ختم ہو جاتا ہے) اب مجھے سٹڈی ٹائم کا انتظار تھا۔ آخر کار وقت ہوا اور راحت میرے گھر آگیا اور کہنے لگا چلو اوپر سٹڈی روم میں چلتے ہیں ہم دونوں اوپر آگئے عروسہ کے آنے میں ابھی آدھا گھنٹہ باقی تھاہم روم میں آگئے اور آتے ہی اندر سے دروازہ بند کر لیا اور میں راحت کے پاس چلا گیا ہم بیڈ پر بیٹھ گئے مگر راحت کچھ نہیں کر رہا تھا شرما رہا تھا میں نے کہا اب کیوں شرما رہے ہو پہلے کہتے ہوئے تو ایسے نہیں شرمائے اس نے کہا وہ بات نہیں ہے دراصل مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ کیسے شروع کریں میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے لن پر رکھتے ہوئے کہا ایسے۔ اسے اور مجھے بھی ایک کرنٹ سا لگا کیونکہ وہ پہلی بار کوئی لن ہاتھ میں پکڑ رہا تھا اور میرے لن کو بھی پہلی بار پکڑ رہا تھا مجھے بھی عجیب سا مزہ آیا تھا وہ میرے لن کی لمبائی موٹائی چیک کر رہا تھا ہاتھ میں لیکر اور کہنے لگا یہ تو کافی بڑا ہے مجھے تو بہت درد دے گامیں نے اس کے لن کو پکڑ لیا اور کہا یہ کونسا چھوٹا ہے یہ بھی میرے جتنا تو ہے اور کہا شروع میں تو کچھ درد ہوتا ہی ہے مزے کیلئے کچھ درد تکلیف تو برداشت کرنی ہی پڑتی ہے فکر مت کرو کچھ نہیں ہوگا اگر عروسہ برداشت کر سکتی ہے تو تم بھی کر لو گے راحت کے بارے بتا دوں اسکے ہاتھوں میں بہت ملائمت تھی جیسے کسی لڑکی کے ہاتھ ہوں گورا رنگ تھا گلابی درمیانے ہونٹ تھے اس کے قد میرے برابر تھا یعنی پانچ فٹ کے لگ بھگ اور سمارٹ جسم تھا میں نے کہا دیر نہیں کرتے چلو کپڑے اتارو اس نےکہا سارے میں نے کہا ہاں اس نے کہا نہیں سارے نہیں کوئی آسکتا ہے مجھے اسکی بات ٹھیک لگی میں نے کہا چلو ٹھیک ہے صرف شلوار نیچے کر لو اتنے میں میں اپنی پینٹ کی زپ کھول کر لن باہر نکال چکا تھا انڈرویئر تو پہنتے نہیں تھے ابھی تک ہم لوگ جیسے ہی اس نے شلوار نیچے کی میں نے کہا بیڈ کی طرف منہ کرو جیسے ہی اس نے بیڈ کی طرف منہ کیا میں نے اسے کھڑے کھڑے ہی بیڈ پر جھکا دیا اب اسکا اگلا دھڑ بیڈ پر لیٹا تھا اور ٹانگیں نیچے تھیں اور اسکی گاند میرے لن کے سامنے ۔ دوستو آپ یقین نہیں کریں گے بالکل سفید اور ملائم سی گانڈ تھی سوراخ کے گرد تھوڑی گلابی نظر آرہی تھی بالکل جیسے گلابی ہونٹ تھے اس کے آج بھی وہ منظر یاد آتا ہے تو دنیا جہان بھول جاتا ہوں کیونکہ ایسی گانڈ تو ہر کسی کا ڈریم ہوتی ہے اگر اسے ڈریم گانڈ کہا جائے تو بے جا نا ہوگا اس حوالے سے میں بہت لکی تھا ایک لڑکی کی اتنی پیاری گانڈ مل رہی تھی اور اب یہ گانڈ جس نے لڑکیوں لڑکوں سب کو پیچھے چھوڑ دیا تھا مجھ سے رہا نا گیا اور میں اپنا انگوٹھاآرام سے اس کے ملائم سوراخ پر پھیرنے لگا میں تو پاگل ہو نے لگا تھا ساتھ راحت کو بھی مزہ آرہا تھا کیونکہ وہ جھٹکے لینے لگتا اور ساتھ سی سی کی آوازیں بھی نکالنے لگتا خیر میں نے ہوش سنبھالا اور اصل کام کی طرف بڑھنے لگا۔ میں نے تھوک ہاتھ پر ڈال کر سوراخ پر ملا اور پھر اور تھوک اپنے ٹوپے سے لے کر لن کے اینڈ تک سارے لن پر لگایا اور ٹھوپا سوراخ پر رکھ کر آہستہ آہستہ مساج کرنے لگا اور کچھ دیر ایسے کرنے کے بعد دباؤ بڑھانے لگا ٹائیٹ سوراخ کھلنے لگا اور میرے ٹوپے کو اندر آنے کی جگہ دینے لگا ٹوپے سے کچھ آگے تک اندر جا چکا تھا جب راحت کی بس ہو گئی اور مجھے روکنے لگا کہ بس درد بہت ہو رہا ہے میں ایک لمحہ وہیں رکا اور پھر لن تنگ گانڈ سے کھینچ کر نکال لیااور پھر بہت سارا تھوک سوراخ میں ڈالا اور ایک بار پھر گانڈ کا سفر شروع کیا اس بار کچھ زیادہ کامیابی ملی اور آدھا اند پہنچانے میں کامیاب رہا اور وہیں رک کر راحت کا لن ہاتھ میں لیا اور دبانے لگا اور پھر باہر نکال لیا اور ایک بار پھر تھوک گانڈ اور لن کو لگا کر چکنا کیا اور لن کع اپنی منزل کی طرف روانہ کیا اور اس بار راحت کی تکلیف کی پروا کیے بغیر پورا اندر پہنچا کر دم لیا اور پھر سے اس کے لن کو پکر کر اسکے اوپر لیٹ گیا ۔ انسان اپنا پہلا مزہ نہیں بھولتا کیونکہ اس جیسا مزہ انسان کو پھر کبھی نہیں ملتا جو مجھے عروسہ سے ملا تھا مگر راحت والا مزہ تنگ نرم سوراخ اور اتنی خوبصورت گانڈ یہ بھی کوئی بھولنے والی چیز نہیں تھی۔ کچھ دیر ایسے راحت کے لن کو ہاتھ میں دبانے اور اوپر لیٹے رہنے کے بعد میں پیچھے ہٹا اور لن ایک بار پھر کھینچ کر باہر نکال لیا اور گانڈ اور لن تھوک سے اچھی طرح تر کرنے کے بعد ایک بار پھر لن کو اندر کا راستہ دکھایا جو کہ اب کسی حد تک آرام سے اندر چلا گیا مگر میں اب رکنے کے موڈ میں نہیں تھا ایک تو وقت بہت ہو گیا تھا اور دوسرااب مجھ سے اور برداشت کرنا مشکل ہو رہا تھا اور میں اندر باہر کرنے لگا مگر آرام سے دومنٹ تک ایسے کرنے کے بعد راحت کی گانڈ کی پہلی آبپاشی ہونے کا وقت ہوا اور اس بنجر زمین کو میں کے سیراب کر دیا میرا لن جھٹکے کھاتے ہوئے مجھے مزے کی وادیوں میں لے جا رہا تھا اور میری چنگھاڑ کے ساتھ ساتھ میری آنکھیں بند ہونے لگیں تھیں۔اور میں اس کے اوپر گر گیا اور ایک منٹ بعد پیچھے ہٹ گیا اور اپنا مرجھایا ہوا لن کاغذ سے صاف کیا اور اسے زپ سے اندر کر کے زپ بند کر لی اور راحت نے بھی اپنے کپڑے ٹھیک کر لیے۔اب عروسہ کے آنے کا ٹائم ہونے والا تھا اس لیے ہم نے جلدی سے دروازہ کھولا اور پڑھنے والا ماحول بنا لیا ۔ اب مجھے عروسہ کے بجائے راحت کا انتظار ہوتااور میرا دل کرتا میں روز اسکی پیاری گانڈ ماروں یہ بات نہیں تھی کہ عروسہ کی گانڈ میں کوئی کمی تھی نہیں بلکہ نئی چیر انسان کو کچھ دن زیادہ بھاتی ہے اس سے اگلے دن بھی راحت جلدی آگیا تھا اور ہم بیڈ پر برابر میں بیٹھ گئے تھے اور ایک دوسرے کے لن سے کھیل رہے تھے راحت کا لن بھی جسامت میں میرے لن جتنا تھا اور بہت زیادہ خوبصورت تھا بالکل سفید رنگ کا اور اسکا ٹوپا گلابی تھا اور اس کے لن کے ارد گرد بالوں کا نشان تک نہ تھا جبکہ میرے لن پر اب ہلکے سے بال آنے لگے تھے لن سے کھیلتے کھیلتے میں نے راحت کو کہا کیا تمہیں اس میں مزہ آرہا ہےاس نے کہا ہاں تھوڑا آرہا ہے میں نے اپنے ہاتھ کی حرکت تیز کر دی کیونکہ مجھے پتا تھا اس طرح کرنے سے مزہ بڑھ جاتا ہے کیونکہ میں مٹھ مارنے کا تجربہ بھی کر چکا تھا۔ اور پھر ویسے ہی ہوا کچھ ہی دیر میں راحت آپے سے باہر ہونے لگا اور میرا ہاتھ پکڑنے لگا اور مجھے روکنے لگا اور کہنے لگا رک جاؤ مجھے کچھ ہو رہا ہےمگر میں رکا نہیں ، راحت نے میرا ہاتھ پکڑ کر ہٹا دیا میں نے کہا یہ کیا راحت اصل مزہ تو اب شروع ہی ہوا تھا اور تم نے مجھے روک دیا اس نے کہا یہ کیسا مزہ ہے پاگل مجھے کچھ ہو رہا تھا میری جان نکلنے لگی تھی ۔میں نے کہا ایک دن سمجھ جاؤ گے خیر اب جلدی سے کپڑے اتارو میں نے جلدی سے اپنی شلوار اتار کر پھینک دی تھی اس نے بھی اتار دی اور بیڈ پر لیٹتے ہوئے گانڈ میری طرف کر دی کل والی پوزیشن میں مجھے اس پر بہت پیار آرہا تھا میں اسکی گانڈ کو چومنے لگا اسکی کمر پر پیار کیا اسکے چوتڑوں پر پیار کیا اس نے بعد تھوک اسکی گانڈ کے سوراخ پر ڈالی اور پھر اپنے لن کو تھوک سے تر کرنے لگا پھر ٹوپا سوراخ پر رکھا تنگ سوراخ پر اور جھٹکا دیا راحت کی ہلکی چیخ نے میری کامیابی کا علان کیا اور آدھا لن تنگ گانڈ میں جا چکا تھا جو کہ بری طرح سے تنگ سوراخ میں جکڑا ہوا تھا جیسے میرے لن کو درمیان سے کاٹ دے گامیں نے اسے واپس کھینچا پھنس کر باہر آرہا تھا میں اور بہت سارا تھوک اسکے سوراخ اور اپنے لن پر لگایا اور تنگ سوراخ پر رکھ کر ایک دھکا لگایا اب آدھے سے زیادہ اندر جا چکا تھا راحت نے کہا آرام سے درد ہوتا ہے میں نے اسکی نہیں سنی اور ایک اور دھکا لگایا اور سارا لن اسکے تنگ سوراخ میں غائب کر دیا مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے میرا لن کسی گرم شکنجے میں جکڑا گیا ہو مجھ سے برداشت کرنا مشکل ہو رہا تھا ایک منٹ ایسے ہی رکا رہا اس کے لن کی مٹھ مارتا رہا اس کے بعد اندر باہر کرنا شروع کیا میرا لن مشکل سے آجا رہا تھا ابھی مجھے ایک منٹ ہی ہوا تھا میرے لیے برداشت کرنا مشکل ہو رہا تھا ۔ دوستو جب بندہ نیا نیا جوان ہوتا ہے اور اس کام میں پڑتا ہے تو اسے کوئی تجربہ نہیں ہوتا نیا نیا مزے سے آشنا ہوتا ہے تو اس منزل کو بھی جلد پہنچنا چاہتا ہے ٹائمنگ کی اسے کوئی پرواہ نہیں ہوتی بس جلد سے جلد وہ منی نکال کر مزے کی انتہا کو پہنچنا چاہتا ہے اسی طرح مجھے بھی جب لگا میں اور برداشت نہیں کر پاؤں گا تو اپنی سپیڈ بڑھا دی اور تیز تیز کرنے لگا اور پھر آخر کار میں مزے کی اس انتہا کو پہنچ گیا جس کا خواہاں تھااور میرا لن راحت کی گاند کو راحت پہنچانے لگا اور تین چار پچکاریوں میں اپنی ساری منی اسکی تنگ اور خوبصورت گانڈ میں انڈیل دی اور میں راحت کے اوپر گر کر چنگھاڑتے ہوئے ہانپنے لگا کچھ دیر ایسے ہی پڑا رہا جب حواس بحال ہوئے تو اٹھا اور لن باہر کھینچا اور نکال کر صاف کیا اور اپنی شلوار اٹھائی اور پہن لی اور اسکے ساتھ ہی راحت نے بھی اپنی شلوار پہن لی اور ہم سٹڈی کرنے لگے راحت نے پوچھا مزہ آیا میں نے کہا ہاں بہت زیادہ اور تمہیں ؟ اس نے کہا پہلے تو درد ہوتا تھا مگر اب درد نہیں ہوا تھوڑا مزہ آیا ہے۔ پھر عروسہ بھی آگئی اور ہم سٹڈی کرنے لگے سٹڈی کرنے کے بعد راحت تو چلا گیا مگر عروسہ بیٹھی رہی راحت کے جانے کے بعد کہنے لگی یہ راحت آجکل کچھ جلدی نہیں آنے لگ گیا کتنے دن سے ہمیں موقع بھی نہیں مل رہا ،کیا خیال ہے مزہ کریں یہ کہہ کر اسنے میرا لن پکڑ لیا اور دبانے لگی میرا لن بھی اسکے ہاتھ کا لمس پاتے ہی آدھ کھڑا ہوچکا تھا مگر میں نے کہا آج نہیں یار کافی ٹائم ہوگیا ہے کوئی آبھی سکتا ہے عروسہ نے کہا تو پھر کب میں نے کہا کل دیکھتے ہیں۔ اگلے دن میں سکول چلا گیا اور آدھی چھٹی کے ٹائم میں فیاض کے پاس چلا گیا جو میرے ان چند دوستوں میں سے تھا جن سے مجھے سیکس کے بارے جاننے اور سیکھنے کو ملتا تھا ہم آٹھویں جماعت میں تھے وہ ہم سے ایک جماعت آگے یعنی نہویں یا جماعت نہم میں تھا اسکا قد میرے جتنا تھا مگر وہ کافی عمر کا لگتا تھا کیونکہ اسکی داڑھی اور مونچھ بہت حد تک آچکی تھی اور وہ سیکس کے معاملے میں کافی تجربہ کار تھا۔ میں نے اس سے کہا کیسے ہو دوست سناؤ آج کل کس لڑکی کی گانڈ مار رہے ہو وہ ہنسنے لگا اور کہنے لگا تم پاگل ہو کیا لڑکیوں کی تو چوت مارتے ہیں گانڈ تیرے جیسے لونڈوں کی ماری جاتی ہے مجھے برا لگا کہ اس نے میرے بارے یہ بات کیوں کی میں اٹھ کر آنے لگا تو اس نے کہا ناراض کیوں ہو رہے ہو میں سچ بتا رہا ہوں اور میں نے ایک مثال دی ہے تیری مار نہیں رہا میں چل بیٹھ جا مذاق کر رہا ہوں میں بیٹھ گیا تو اس نے کہا لڑکیوں کی چوت مارتے ہیں گانڈ نہیں پاگل مگر ایک بات یاد رکھ چوت صرف اس لڑکی کی مارتے ہیں جو جوان ہو جوابھی جوان نہ ہو اسکی چوت نہیں مارنی چاہیے۔ میں نے کیا یہ کیسے پتا چلے گا کونسی جوان ہے کونسی نہیں ؟ اس نے کہا تم بالکل بدھو ہو دیکھو جو لڑکی جوان ہوتی ہے اسکی چھاتیاں اگ آتی ہیں اور اسکو ماہواری آنے لگتی ہے میں نےحیران ہو کر پوچھا یہ ماہواری کیا ہوتی ہے اس نے مجھے جو بتایا اس نے میرے چودہ طبق روشن کر دیے اس نے کیا ہر مہینے لڑکیوں کی چوت سے خون جیسا کچھ نکلتا ہے اس کو ماہواری یا مینسز کہتے ہیں میں حیران ہوا اور پوچھا ایسا کیوں ہوتا ہے اس نے کہا اس کا مطلب ہوتا ہے لڑکی جوان ہے اور اس میں اب بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت آگئی ہے میں نے کہا تو کیا ہر لڑکی کو ماہواری آتی ہے اس نے کہا ہاں ہر جون لڑکی کو آتی ہے مگر جب بچہ پیٹ میں بنتا ہے تو ماہواری رک جاتی ہے ۔یہ سب باتیں میرے لیے نئی اور حیران کن تھیں آدھی چھٹی کو چند منٹ رہ گئے تھے اس لیے میں انہیں سوچوں میں گم واپس آگیا اور سوچ رہا تھا کیا عروسہ کو بھی ماہواری آتی ہوگی پھر سوچا آج پوچھ لوں گااور پھر چھٹی تک میں انہیں باتوں کی ادھیڑ بن میں لگا رہا۔ چھٹی کے بعد ہم گھر آگئے اور پھر مجھے انتظار تھا کہ کب عروسہ آئے اور میں اس سے پوچھوں اور پھر عروسہ اور راحت ایک ساتھ آگئے اور مجھے کچھ کرنے اور پوچھنے کا موقع ہی نا ملا سٹڈی کرتے ہوئے میں نے عروسہ کے کان میں کہا رات کو میں تمہارے چھت والے کمرے میں آؤں گا نو بجے اور پھر رات کو میں اپنی چھت سے راحت کی چھت پر اور پھر وہاں سے عروسہ کی چھت والے کمرے میں چلا گیا ابھی وہاں گیا ہی تھا کہ عروسہ بھی آگئی ہم کمرے میں چلے گئے اور لائٹ بند کر دی مگر کمرے میں پھر بھی دیکھنے لائق روشنی تھی کیونکہ باہر سے محلہ روشن تھا اور باہر کی روشنی کمرے کو بھی کچھ نہ کچھ روشن کر رہی تھی میں جاتے ہی اسے بانہوں میں بھر لیا اور پیار کرنے لگا اسکے چھوٹے چھوٹے بوبز دبانے لگا اور پھر ہاتھ نیچے لے جا کر نرم اور موٹی گاند دبانے لگا اسکی گانڈ پہلے سے زیادہ موٹی لگ رہی تھی مطلب کمر سے کافی باہر کو نکلی ہوئی تھی میں نے جلدی سے اسکی شلوار نیچے کردی اور اسکی گانڈ کی دراڑ میں ہاتھ پھیرنے لگا اور پھر آگے چوت پر لے آیا اور اس پر ہاتھ پھیرنے اور سوراخ چیک کرنے لگا عروسہ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور کہنے لگی خیر تو ہے آج یہاں کیا کرنے لگے ہو میں نے کہا ایک بات تو بتاؤ تمہیں ماہواری آتی ہے ؟ وہ حیران ہوئی اور کہنے لگی تمہیں کیسے پتا چلا ابھی کچھ دن پہلے آئی ہے پہلی دفعہ میں نے کہا تو ٹھیک ہے پھر آج میں یہاں لن ڈالوں گا میں نے چوت میں انگلی گھساتے ہوئے کہا وہ گھبرا گئی اور میرا ہاتھ پکڑ کیا کہنے لگی نہیں نہیں یہاں نہیں میں نے بہت کوشش کی مگر وہ نہ مانی میں نے کہا چلو کوئی بات نہیں اب اپنی قمیض بھی اتار دو اس نے کہا نہیں شلوار اتاری ہوئی ہے ایسے کر لو جیسے پہلے کرتے ہو میں نے کہا نہیں سارے اتارو آج اور میں نے اسکی قمیض پکر کر اوپر کرنی چاہی تو اس نے بھی ساتھ دیا اور اتار دی پھر میں اسکے بدن کو چومنے لگا اور وہاں سے اسکے بوبز پر آگیا اور بوبز چوسنے اور چومنے لگا ساتھ ساتھ اسکی گانڈ میں بھی ہاتھ پھیر رہا تھا پھر کچھ دیر بوبز چوسنے کے بعد اسے کہا جھک جاؤ وہ ڈوگی سٹائل میں آگئی تو میں اسکی گاند کا اور کمر کو چومنے لگا اور پھر اپنا منہ سوراخ کے قریب لا کر اس پر تھوک پھینکا اور انگلی سے اچھے سے لگا دیا اور پھر تھوک سے اپنے لن کو چکنا کیا اور گانڈ کے سوراخ پر رکھ دیا اور پھر ایک ہلکا سا جھٹکا مارا ٹوپے سے کچھ زیادہ اندر تھا پھر لن نکال کر اور تھوک لگایا اور پھر سارا ہی اندر کر دیا نرم اور گرم گانڈ میں اور پھر سارا اندر کر کے وہیں رک گیا اور پھر اسکی پیٹھ چومنے لگا اور نیچے ہاتھ لے جا کر اسکے بوبز دبانے لگا کچھ دیر ایسے کرنے کے بعد لن کو حرکت دینی شروع کر دی اور پھر درمیانی سپیڈ سے اندر باہر کرنے لگا ساتھ ہی ساتھ اسکے بوبز بھی دبا رہا تھا ایک دو منٹ اندر باہر کرنے کے بعد لن باہر نکالتا اور تھوک لگا کر پھر ڈال دیتا آج مجھے پانچ منٹ ہو چکے تھے اندر باہر کرتے ہوئے اور اب میں لذت کی انتہا کو جلد سے جلد پہنچنا چاہتا تھا اور کچھ دیر بعد مجھے ایسے لگا جیسے میری جان لن سے نکلنے لگی ہے اور میرا لن اور سخت ہو کر پھول گیا اور میں نے اپنی سپیڈ بڑھا دی اور پھر لن کو گانڈ کی گہرائی میں روک کر فارغ ہونے لگا میرا لن جھٹکے کھا کھا کر منی کی پچکاریاں مار ریا تھا اور میں چنگھاڑتے ہوئے اسکے اوپر پڑا تیز سانسیں لے رہا تھا اور لگ رہا تھا آج عروسہ کو بھی بہت مزہ آیا ہے کیونکہ وہ اپنی گانڈ کو بھی لن کے گرد مزید کس رہی تھی دبا رہی تھی بھینچ رہی تھی نچوڑ رہی تھی ۔ ساری منی نکل جانے اور حواس بحال ہونے کے بعد میں اس کے اوپر سے اترا اور وہاں پڑے پرانے کپڑے سے اپنا لن صاف کرنے لگا اور اتنے میں عروسہ نے بھی اپنے کپڑے پہن لیے اور پھر وہ نیچے چلی گئی اور میں واپس اپنے گھر آگیا ۔ تو دوستو وقت گزر رہا تھا اور میں کبھی عروسہ کی اور کبھی راحت کی گانڈ مار رہا تھا یہ سب کرتے مجھے اب دو تین مہینے ہو چکے تھے اب میرا لن بھی لمبائی اور موٹائی میں کچھ بڑھ چکا تھا اور اب راحت کی گانڈ بھی کچھ موٹی ہوکر مٹکنے لگی تھی اور اسکے بوبز بھی کچھ بڑھ رہے تھے مگر اتنے نہیں تھے کہ کپڑوں میں واضع نظر آتے مجھے اس کے بوبز کا اندازہ تب ہوا جب میں نے ایک رات اسے چودتے ہوئے سارے کپڑے اتارنے کا کہا میں اسکے بوبز دیکھ کر حیران ہوا اسکے بوبز عروسہ جتنے بڑے تو نہیں تھے مگر کافی ہوگئے تھے اس نے اپنا حلیہ چونکہ لڑکوں والا رکھا تھا اس لیے دیکھنے والوں کو زیادہ محسوس نہیں ہوتے تھے اور اسکا لن بھی میرے لن کی طرح بڑھ رہا تھا ۔ اور میں سکول میں اپنے اس کمینے دوست فیاض سے بہت کچھ سیکھ رہا تھا جان رہا تھا اور وہ سب کچھ راحت اور عروسہ پر آزما رہا تھا ایسے سمجھ لو کہ میں پڑھنے اور سیکھنے کے ساتھ ساتھ پریکٹیکل بھی کر رہا تھا اور پھر ایک دن عروسہ نے بھی مجھے راحت کو چودتے ہوئے دیکھ لیا۔شاید وہ ہمیں کب سے دیکھ رہی تھی جب میں فارغ ہو گیا اور لن راحت کی گانڈ سے نکال لیا وہ ایک دم سے کھڑکی سے ظاہر ہوئی کھڑکی ایسے بند تھی کنڈی کرنا ہم بھول گئے تھے ، اس نے کہا یہ کیا ہو رہا ہے ۔ہم دونوں چونک گئے کھڑکی کی طرف دیکھاتو عروسہ کھڑی مسکرا رہی تھی میرا لن مرجھا چکا تھا مگر راحت کا لن اب بھی نیم کھڑا تھا وہ کبھی مجھے دیکھتی تو کبھی راحت کو اور اس کے لن کو میں نے جلدی سے کپڑے پہنے اور جا کر دروازہ کھولا تو وہ اندر آگئی ۔کہنے لگی کب سے چل رہا ہے یہ سب زیادہ ٹائم نہیں ہوا زیادہ ٹائم نہیں ہواعروسہ نے مسکرا کر راحت کی طرف دیکھا راحت شرما رہا تھا اس سے عروسہ نے راحت سے کہا تم کب سے گانڈو بن گئے ہو میں تو تمہیں معصوم اور شرمیلا سمجھتی تھی راحت نےفٹ سے کہا جب سے تمہیں گانڈ مروتے ہوئے دیکھا تب سے میں بھی بن گیا عروسہ کو نہیں پتا تھا کہ راحت سب جانتا ہے وہ یہ سن کر چونک پڑی اور گھبرا گئی میں نے اسے تسلی دی کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں راحت شروع سے سب جانتا ہے اور ہمارا ہم راز ہے کسی کو نہیں بتائے گاتب عروسہ نارمل ہوئی اور پھر ہم سٹڈی کرنے لگے ۔ اب ہمیں ایک دوسرے کا کوئی ڈر یا پردہ نہیں تھا ہم جو چاہتے کھل کر کر سکتے تھے اب ہم تینوں ایک دوسرے کے ہم راز بن چکے تھے۔ اب میں جب چاہتا راحت کی موجودگی میں عروسہ کو چود سکتا تھا یا عروسہ کی موجودگی میں راحت کی لے سکتا تھا اب سٹڈی کرتے کرتے عروسہ راحت کی موجودگی میں میرا لن بھی پکڑ لیتی تھی اور اس سے کھیل لیتی تھی اور میں اسکے بوبز دبا لیتا تھا یا میں اور راحت ایک دوسرے سے لن بھی لڑا لیتے تھے یا ایک دوسرے کی مٹھ لگا لیتے تھے یا ایک دوسرے سے لن کا مقابلہ بھی کر لیتے تھے کہ کس کا خوبصورت سے یا کس کا بڑا ہے کس کا زیادہ موٹا ہے ۔میں نے ایک بات محسوس کی کہ جب عروسہ میرا لن پکڑتی دباتی یا اس سے کھیلتی تو راحت کو برا محسوس ہوتا یا وہ جیلس ہوتا تھا پتا نہیں ۔ ایک دن جب عروسہ میرے لن کو باہر نکال کر اس سے کھیل رہی تھی تو اچانک ہی راحت نے بھی اپنا لن باہر نکال لیا اور ہمارے پاس آکر کہنے لگا یہ کیا تم بس ایک لن سے ہی چمٹی رہتی ہو یہ دیکھو میرا اس سے زیادہ خوبصورت ہے یہ لو اسے پکڑو عروسہ نے اسکا لن بھی پکڑ لیا اب پوزیشن یہ تھی کہ درمیان میں عروسہ بیٹھی تھی ایک طرف راحت اپنا سانپ نکالے بیٹھا تھا اور اس کے دوسری طرف میں اور عروسہ کا ایک ہاتھ ا سکے ناگ پر تھا اور ایک ہاتھ میرے۔اسی وقت مجھے ایک شرارت سوجھی میں نے راحت سے کیا تم اصل مزہ لینا چاہتے ہو؟ اس نے کہا ہاں میں نے کہا تو پھر میری طرف آجاؤوہ دوسری طرف آگیا اب میں درمیان میں تھا ایک طرف راحت تھا اور دوسری طرف عروسہ تھی میں نے راحت کو لن سے پکڑ کر کہا بیٹھ جاؤ وہ بیٹھ گیا تو میں نے تھوک اپنی ہتھیلی پر ڈالا اور اسے راحت کے لن پر مل دیا اور اسکی مٹھ لگانے لگا میں بار بار ہاتھ کو گیلا کرتا جاتا اور اپنے ہاتھ کی حرکت کو تیز کرتا جاتا دوتین منٹ ہی ہوئے تھے ہی راحت کی حالت خراب ہونے لگی اس نے کہا بس کر مجھے کچھ ہو رہا ہے مگر میں لگا رہا عروسہ ہنس رہی تھی اسے پتا تھا کہ راحت کو کیا ہو رہا ہے میں نے راحت سے کہا یہی تو اصل مزہ ہوتا ہے یہ کہہ کر میں نے اپنے ہاتھ کی حرکت بڑھا دی ابھی چند بار ہی ہاتھ کو حرکت دی تھی کہ راحت کا لن جھٹکے کھاتے ہوئے اپنا پانی چھوڑنے لگا اسکا پانی آج پہلی بار نکلا تھا وہ حیران ہو رہا تھا بانی نکلنے کے بعد اسے سکون سا آگیا میں نے کہا کیوں آیا نہ مزہ اس نے کہا ہاں یار بہت زیادہ مجھے تو پتا ہی نہیں تھا کہ اصل مزہ کیا ہوتا ہے۔1 like
-
لڑکی لڑکے اور ہیجڑے کی محبت
1 likeقسط نمبر1 طوفانی ہواؤں کے شور میں ، جب میں نے اس سے پوچھا کہ کیا اسے کبھی کسی سے محبت ہوئی ؟ وہ ہنس پڑا، کہنے لگا ، محبتوں کے جلو میں ، میں پیدا ہوا تھا اور انہی کے درمیان مروں گا۔ اس نے مجھے اپنی کہانی سنائی ۔ اس نے کہا ، جس محلے میں اس نے ہوش سنبھالا، وہاں کے لوگ غیر معمولی طور پر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے تھے۔ ساتھ جڑے گھروں میں رہنے والے ہم تین بچّے ایک دوسرے کے ساتھ کھیل کود کر بڑے ہوئے۔ میں جنیدجمال ، عروسہ محبوب اور تیسری یا تیسرا راحت شمیم ۔ راحت ہیجڑا تھا ۔ جب وہ پیدا ہوا تو ڈاکٹروں کو لگا وہ مکمل لڑکا نہیں ہے۔( لڑکا اس لیے کہا کہ اس طرح کے لوگ دو طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ جو جن میں لڑکیوں والے خواص ذیادہ پائے جاتے ہیں اتنے کہ کوئی بہت قریبی بھی یہ فرق نہیں کر پائے گا کہ وہ کوئی لڑکی نہیں بلکہ ایک ہیجڑا ہے اور دوسرے وہ جن میں لڑکوں والے خاص زیادہ پائے جاتے ہیں یہاں تک کہ ایک صحت مند لن بھی ہوتا ہے بچپن میں تو بالکل ہی پتا ہی نہیں چلتا کہ وہ کوئی تیسری مخلوق ہے البتہ جونی میں اس میں کچھ لڑکیوں والے خواص آ جاتے ہیں) تو راحت بھی ایسا ہی تھا مطلب لڑکا ذیادہ تھا اور اور لن والا ہیجڑا تھا ۔اور لن بھی کمال صحت مند تھا۔ بچپن میں جب ہم ساتھ کھیلا کرتے تو ہمیں مردوزن کی تفریق کا بھی علم نہ تھا۔ ہم تینوں بہت اچھے ماں باپ کی اولاد تھے ۔میں اور عروسہ ہم عمر تھے۔ راحت ہم سے 2برس چھوٹا تھا۔ جب راحت پیدا ہوا تو میرے اور عروسہ کے والدین نے یہ فیصلہ کیا کہ نئے مہمان کو کبھی یہ احساس نہ ہونے دیا جائے گا کہ اس میں کوئی کمی ہے ۔ اپنے اس عہد پر وہ قائم رہے ۔ مجھے اور عروسہ کو خاص طور پر راحت سے مانوس کرایا گیا ۔ ہم دونوں کا ہاتھ پکڑ کر اس نے چلنا سیکھا۔ سکول میں کوئی بچّہ اسے چھیڑتا تو ہم دونوں اس کا دفاع کرتے ۔ ان دنوں دنیا کی ہر خوشی ہمیں میسر تھی لیکن کب تک؟ ایک روز ہمیں بڑا ہونا تھا۔ زمانے کے تلخ حقائق سے نبرد آزماہونا تھا ۔ بچپن کب ختم ہوا اور کب لڑکپن آیا اور پھر کب جونی کی بہار آئی پتا ہی نہ چلا راحت شمیم ایک بے حد سلجھا ہوااور بے حد خوبصورت بندہ تھا ۔ اس کی شخصیت میں نفاست تھی ۔ شروع سے اس نے لڑکوں کے کپڑے پہننا پسند کیے۔ وہ لڑکوں ہی کی طرح بات کرتا ۔ تیسری جنس کے اکثر لوگوں کے برعکس وہ لچکتا نہ ٹھمکتا ۔۱پنے لیے وہ مذکر کا صیغہ استعمال کرتا ۔جوں جوں ہم بڑے ہوتے گئے دنیا اور جنسی کشش کے راز ہم پر کھلتے گئے اور ہم تینوں ایک دوسرے میں وہ جنسی کشش محسوس کرنے لگے جو کہ ایک فطری تقاضا تھااور پھر اس ڈگر میں آگے بڑھنے لگے۔میرے اور عروسہ کے درمیان یہ اٹریکشن تو نیچرل تھی ہم لڑکا لڑکی تھے مگر راحت بھی عروسہ میں دلچسپی لینے لگا تھا اور میرے بغیر بھی نہیں رہ سکتا تھا۔وہ اکثر عروسہ کی طرف وارفتگی سے دیکھتا ہوا پایا جاتا اور جب میں دیکھ لیتا تو وہ اپنی چوری پکڑے جانے پر شرما جاتا۔تیرہ چودہ برس کی عمر میں جب لڑکپن اور نوجوانی کازمانہ شروع ہوا تو آہستہ آہستہ میرے اور عروسہ کےجسم میں فطرتی تبدیلیاں آگیں اور ہمارے جسمانی خدوخال واضع ہوگے یعنی لڑکے اور لڑکی کی طرح جیسے عام طور پر ہوتا ہے کہ لرکی میں نزاکت آجاتی ہے اور اس کے بوبز اگتے ہیں اور سینہ ابھر آتا ہے اور لڑکے میں داڑھی مونچھ اگنے لگتی ہے ۔مگر راحت تو اور بھی غضب ہو گیا تھا سفید بے داغ ملائم چہرہ درمیانے گلابی ہونٹ درمیانہ قد سمارٹ جسم اور چھوٹی چھاتیاں جو وہ لڑکوں والے کھلے اور ڈھیلے کپڑوں میں چھپائے رکھتا اور دیکھنے والوں کو پتا نہ چلتا کہ وہ ایک ہیجڑا ہے آپ کے لڑکا یا لڑکی دکھنے میں قدرتی جسمانی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ آپ کے حلیے کا بڑا گہرا عمل دخل ہوتا ہےاور وہ تو بال بھی لڑکوں کی طرح بنواتا تھا اور کپڑے جوتے سب کچھ لڑکوں کی طرح استعمال کرتا عروسہ پابندی سے دوپٹہ لینے لگی ۔ راحت پر ایسی کوئی پابندی عائد نہ تھی ۔ آدھا وقت وہ میری معیت میں گزارتا اور باقی آدھا عروسہ کے ساتھ ۔راحت کو تصاویر بنانے کا شوق تھا ۔ہر وقت وہ عروسہ اور میرے ساتھ تصاویر بناتا رہتا۔ ہم تینوں کے موبائل ان تصاویر سے بھر ے پڑے تھے ۔ وقت گزرتا گیا۔اور پھر ہم تینوں کے درمیان سیکس اور لزت کا وہ جنسی کھیل شروع ہوا جس نے شاید کبھی ختم ہی نہیں ہونا تھا۔ سیکس کا کھیل تو ہمارے درمیان لڑکپن میں ہی شروع ہو گیا تھا کیونکہ سکولوں میں ہر قسم کے بچے ہوتے ہیں اور سیکس کے بارے میں باتیں کرتے ہی رہتے ہیں اور ساتھ دوسرے سننے والے بچوں کا بھی اس طرف رجحان ہو جاتا ہے اور جب سیکس کرنے کا دل کرتا ہے تو ہمیں ہمارے قریب رہنے والے لڑکیاں لونڈے ہی ہماری توجہ کا مرکز بنتے ہیں میری نظر بھی عروسہ پر جا ٹکی اور میں اس کے جسم کے ساتھ چھیڑچھاڑ کرنے لگا تھا جیسے اس کے چھوٹے چھوٹے نپلز کو کھینچ دینا اور اس کی موٹی اور نرم گاند کی دراڑ میں انگلی گھسا دینا اس چھیڑ چھاڑ سے بظاہر تو وہ غصہ کرتی تھی لیکن وہ اسے انجوائے بھی کرتی تھی اس کا اندازا مجھے اس بات سے ہوا کہ جب میں اس کی گاند میں انگلی کرتا تھا تو کبھی کبھی وہ انجان بنی رہتی تھی جیسے اسے پتا ہی نہ ہو پھر ایک دن ایسا ہوا اس دن راحت سکول نہیں آیا تھا ہم چھٹی کے بعد گھر واپس آرہے تھے ہمارے راستے میں ایک زیر تعمیر عمارت آتی تھی جس پر کسی وجہ سے کام روک دیا گیا تھا میں نے عروسہ سے کہا چلو وہاں چلتے ہیں اور ہم کھیلتے کھیلتے وہاں چلے گئے وہاں ہم بھاگنے دوڑنے لگے اتنے میں عروسہ کو وہ سیڑھیاں نظر آگیں جو نیچے تہہ خانے میں جا رہی تھیں عروسہ نے مجھے آواز دی یہاں آنا یہ دیکھو یہ سیڑھیاں نیچے جا رہی ہیں میں بھی وہاں جا پہنچا ۔ہم یہاں پہلے بھی ایک دو بار آچکے تھے مگر یہاں کوئی تہہ خانہ بھی ہے یہ ہمیں معلوم نہیں تھا خیر ہم نیچے اتر گئے وہاں نیچے گئے تو مجھے ایک شرارت سوجھی میں نے آج انگلی کے بجائے اپنا لن اسکی گاند کی دراڑ میں پھنسا دیا اور اسے پیچھے سے بانہوں میں بھر لیا ۔ عروسہ نے کہا یہ کیا کر رہے ہو گندے؟؟میں نےکہاکچھ نہیں پیار کر رہا ہوں تمہیں۔عروسہ نے کہاپیارایسے تھوڑی ہوتا ہے؟میں نے کہا تو اور کیسے ہوتا ہے ؟؟؟عروسہ چھوڑو بتاتی ہوں۔ میں نے اس کا گال گیلا کرتے ہوئے کہا ایسے ہی بتا دو۔ یہ کہہ کر میں اس کے اگتے بوبز پر ہاتھ لگانے لگا اب شاید عروسہ کو بھی مزہ آنے لگا تھا کیونکہ وہ اب بات نہیں کر رہی تھی اور اس کی سانسیں تیز ہوگئی تھیں ۔میں نے پوچھا اچھا لگ رہا ہے تمہیں وہ خاموش رہی میں نے اسے کہا اپنی شلوار زرا نیچے کرو پھر دیکھو کتنا مزہ آتا ہے جلدی سے بولی نہیں نہیں یہ نہیں کرنا میں نے کہا یہ کرنا ہی ہے پلیز پھر وہ خاموش ہو گئی شاید سوچ رہی تھی کرنا چاہیے یا نہیں میں نے اسے سوچنے کا وقت نہ دیا اور خود ہی اسکی شلوار نیچے کھینچ دی اور ایک ہاتھ سے اسے اپنے ساتھ لگائے رکھااور پھر اپنی زپ بھی کھول دی اور ننگا لن اس کی نرم اور گرم گانڈ کی دراڑ میں گھسا دیا ۔ کیا بتاؤں دوستو اس پہلی بار والی اس دراڑ میں وہ مزہ تھا جو آج تک مجھے کسی چوت اور گانڈ میں بھی نہیں ملاکچھ دیر ایسے رہنے کے بعد میں نے اسے کہا تھوڑا سا جھک جاؤ ۔ اس نے کہا نہیں کافی دیر ہو گئی ہے اب واپس چلتے ہیں پلیز میں نے کہا کچھ دیر اور ٹھہرنے سے کچھ نہیں ہوگا میں نے خود اسے تھوڑا جھکانے کی کوشش کی تو وہ جھک گئی بس معمولی سا میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا پہلی بار موقع ملا تھا میں نے جلدی سے تھوک لگائی ٹوپے کو سوراخ کا اندازا لگا کر ٹوپا سوراخ پر رکھا اور دباؤ ڈالنے لگا مگر جا نہیں رہا تھا اندرنیچے کو سلپ کر رہا تھا پھر میں نے پکڑ کر سوراخ پر رکھا اور بنا چھوڑے دھکا لگایا مگر بیچ میں میرا ہاتھ اور اس کے موٹے چوتڑ ہونے کی وجہ سے کامیابی نہ ملی ۔پھر اسے کہا کہ مزید جھک جائے جیسے گھوڑی بنتے ہیں ویسے ہونے کو کہا پہلے تو اس نے انکار کیا اور کہا جو کرنا ہے ایسے ہی جلدی سے کرو ہمیں دیر ہو رہی ہے میں نے کہا یہی تو میں کہہ رہا ہوں کہ ایسے نہیں ہو رہا جلدی کرنے کیلئے تمہیں مزید جھکنا ہوگا پھر وہ جھک گئی بالکل اپنی کہنیوں اور گھٹنوں کے بل ہوگئی دوستو کیا نظارہ تھا کیا گانڈ تھی صاف شفاف بالکل کنواری چھوٹا سا براؤن سا سوراخ تھا بہت ہی ٹائٹ خیر میں نے سوراخ اور ٹوپے پر مزید تھوک لگائی لن کو سوراخ پر اکھا اور زور کا دھکا لگا دیا عروسہ کی زوردار چیخ نے میری کامیابی کا علان کیا۔ اس وقت میرا لن چار انچ کا تھا جو کہ ایک انچ تک اندر جا چکا تھا اور عروسہ تڑپ رہی تھی اور میرے نیچے سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھی اور میں نے اسے کمر سے دونوں ہاتھوں سے مظبوطی سے پکڑ رکھا تھا ۔اب مجھے باقی کا لن بھی اندر ڈالنا تھا ۔عروسہ چیخ رہی تھی اور بار بار کہہ رہی تھی بہت درد ہورہا ہے پلیز باہر نکالو اور مجھ پر سارا اندر ڈالنے کی دھن سوار تھی پتا نہیں مجھے کیا ہوگیا تھا میں نے ایک اور دھکا دیا اور تقریباً سارا ہی اندر پہنچا دیا ۔ گانڈ اندر سے بہت گرم اور بہت زیادہ ٹائیٹ تھی میرا لن جیسےجکڑ لیا گیا ہو اور پھر میں ہلے بنا ایسے ہی کافی دیر ڈال کے کھڑا رہا اور آہستہ آہستہ عروسہ کے درد میں کمی آنے لگی اور مجھے بھی کچھ ہوش آنے لگا ہمیں کافی دیر ہو چکی تھی جب ہوش آیا تو پتا چلا پھر میں نے لن نکال کیا کیونکہ پہلی بار تھا ذیادہ پتا نہیں تھا کہ اصل مزہ کچھ اور ہوتا ہے اور پھر ہم کپڑے ٹھیک کر کے گھر کی طرف چل پڑے۔ گھر جاتے ہوئے وہ مجھ سے ناراض دکھائی دے رہی تھی کہنے لگی بہت برے ہو تم ۔ میرا زرا احساس نہیں کیا تمہیں پتا ہے کتنا درد ہوا مجھے پھاڑ دی تم نے میری اپنا اتنا بڑا گھسا دیا ۔میں نے اسے چھیڑنے کیلئے کہا کتنا بڑا ؟؟ کہنے لگی مجھے کیا پتا میرے بازو جتنا ہی ہوگا جتنا درد ہوا ہے مجھے۔میں نے اس سے کیا اچھا بابا سوری اب ایسے منہ تو نا بناؤ۔ایسے ہنسی مذاق کرتے ہم گھر آگئے۔پھر کافی دن تک ہم کچھ نہ کر سکے ایک تو راحت ساتھ ہوتا تھا اوپر سے عروسی بھی درد سے ڈر گئی تھی اب مجھے کچھ کرنے نہیں دے رہی تھی۔میں اسے راضی کرنے کی کوشش میں لگا رہا۔اسے یقین دلاتا رہا کہ اب نہیں کرونگا درد پھر ایک دن وہ نیم رضا مند ہو گئی اور کہنے لگی اچھا کبھی موقع ملا تو کر لینا۔اب میں اس انتظار میں تھا کہ کبھی راحت چھٹی کرے تو میں موقع سے فائیدہ اٹھاؤں اور آخر کار وہ وقت بھی آگیا ۔ میں سارا دن بے چین رہا کہ کب چھٹی ہو اور ہم اس جگہ جائیں۔پھر چھٹی کا ٹائم بھی ہوگیااور ہم اسی جگہ چلے گئے اس دن میں سب کچھ تسلی سے اور آرام سکون سے کرنا چاہتا تھا۔تہہ خانے میں جاتے ہی میں نے عروسہ کو گلے لگا لیا اور اسے چومنے لگا پھر لپ ٹو لپ کس کیا اس کےلپ چوسے اس کے ننھے ننھے بوبز دبائے اور پھر میرے ہاتھ وہاں جا پہنچے جو مجھے چاہیے تھی گانڈ پر ہاتھ پھیرتا اور دباتا رہا۔اور پھر اسکی شلوار نیچے کر دی اور ننگی گانڈ پر ہاتھ پھیرنے لگا جس سے عروسہ کو بھی مزہ آنے لگا اسے کرنٹ سا لگتا میرے ہاتھ پھیرنے سےاور پھر اسے دوسری طرف منہ کر کے جھکنے کو کہا اور وہ جھک گئی اور پھر میرا کام شروع ہوا میں نے کافی سارا تھوک اس کی گانڈ کے چھوٹے سے سوراخ پر لگایا اور انگلی سے اندر کرنے لگا جب سوراخ اچھی طرح چکنا ہو گیا تو لن تو بھی بہت سا تھوک لگا کر اچھے سے چکنا کر دیا سارے لن کو چکنا کرنے کے بعد ٹوپے پر اور تھوک لگایا اور سوراخ پر رکھ دیا اس سے ہم دونوں کو ایک کرنٹ سا لگا اور پھر دباؤ ڈال دیاٹوپا اندر جانے لگا ابھی آدھا بھی نہیں گیا تھا کہ عروسہ کہنے لگی درد ہو رہا ہے میں وہیں رک گیا اور پھر باہر نکال لیا اور پھر سوراخ کو تھوک سے بھر دیا اور اور لن کو بھی اور پھر ڈالنا شروع کیااب آدھے سے زیادہ اندر چلا گیا تھا ایک انچ رہتا تھا میں نے دباؤ بڑھانا جاری رکھا عروسہ کو درد ہو رہا تھا مگر اتنا زیادہ نہیں جو برداشت نہ کر سکتی پورا لن ٹائیٹ اور نرم گرم گاند میں ڈال کر میں وہیں رک گیا پانچ منٹ ایسے ہی رکا رہا اور جب عروسہ بالکل نارمل ہوگئی تو ہلانا شروع کیا ۔(اب مجھے سکول کے لڑکوں سے کچھ پتا چل گیا تھا کہ لن ڈالنے کے بعد جھٹکے لگائے جاتے ہیں) ایک دو منٹ میں ہی میرے ٹوپے میں عجیب سرور سا ہونے لگا جو آہستہ آہستہ بڑھتا جا رہا تھا اور میں سوچ رہا تھا کہ یہ میرے لن میں کیا ہو رہا ہے جب برداشت سے باہر ہونے لگا تو میں نے لن نکال لیا ۔ عروسہ نے کہا بس ہوگیا میں نے کہا ہوں ہو گیا اور ہم کپڑے پہن کر گھر کی طرف چل پڑے ۔ میں راستے میں سوچ رہا تھا کہ لن میں کیسا سرور ہورہا تھا جیسے جان نکل جائے گی۔ اتنے میں عروسہ کی آواز نے مجھے خیالوں کی دنیا سے نکالا وہ کہہ رہی تھی کیا سوچ رہے ہو میں نے چونکتے ہوئے کہا کچھ نہیں پھر وہ کہنے لگی تمہیں مزہ آیا میں نے کہا ہاں بہت اور تمہیں اس نے کہا بس تھوڑا سا کیونکہ پہلے درد ہو رہا تھابعد میں تھوڑا تھوڑا مزہ آنے لگاتھا۔اتنے میں ہمارا گھر آگیا اور ہم اپنے اپنے گھر چلے گئے۔ رات کو جب میں اپنے بستر پر لیٹا اس بارے سوچ رہا تھا جیسے ہی میں نے آنکھیں بند کیں اور لن کو مٹھی میں پکڑا مجھے وہی مجھے وہی منظر اور مزہ یاد آنے لگا اور میں آہستہ آہستہ اپنے لن کو مسلنے لگا اور کچھ دیر میں میرے لن میں پھر وہی سرور سا محسوس ہونے لگا جیسے عروسہ کی گانڈ میں اندر باہر کرتے محسوس ہونے لگااور ایسے لگنے لگا جیسے میری جان میرے لن سے نکل جائے گی اور عجیب سا محسوس ہونے لگا میں سوچنے لگا کہ یہ کیا ہے ایسا کیوں ہونے لگتا ہے مجھے کچھ سمجھ نا آیا تو میں سوچتے سوچتے سو گیا۔ اب مجھے ہر وقت عروسہ کی گانڈ میں لن ڈالے رکھنے کا دل کرتا تھا مگر راحت کے ساتھ ہونے کی وجہ سے نہ تو ہمیں سکول میں کوئی موقع ملتا نہ راستے میں اور نہ ہی گھر پر کیونکہ میں اور عروسہ جب بھی ساتھ ہوتے تھے راحت بھی ہمارے ساتھ ہی ہوتا تھا۔ایسے کچھ دن گزر گئے اور میں سکول کے لڑکوں سے سیکس کی باتیں بھی سنتا رہا اور مجھے پتا چل گیا یہ سرور لن میں کیوں ہوتا ہے اور مٹھ مارنا کیا ہوتا ہے اب میں باتھ روم میں جب بھی نہانے جاتا تھا تو اپنے لن سے ضرور کھیلتا اور مٹھ مارنے لگتا ایک دن میں ایسے ہی کر رہا تھا کہ میرے لن میں پھر سے وہی کیفیت ہونے لگی مگر اس بار میں نے مسلنا بند نہیں کیا اور لگاتارمسلتا رہا اور اچانک میرے لن سے ایک فوارہ سا نکلا اور لن جھٹکے کھاتے ہوئے فوارے چھوڑنے لگا اور اس کے بعد سکون سا آگیا اب مجھے پتا چلا کہ اصل مزہ تو یہ ہوتا ہے مگر میرے لن سے وہ گاڑھی چیز کیا نکلی تھی یقیناً پیشاب تو نہیں تھا پھر مجھے لگا یہی منی ہوگی جس بارے میں لڑکے بات کر رہے تھے کہ لن سے منی نکلتی ہے تو بہت زیادہ مزہ آتا ہے اسکا مطلب یہ تھا کہ میرے لن میں منی بننا شروع ہو چکی تھی اور آج پہلی بار نکلی بھی تھی اور میں جوان ہو رہا تھا۔اس مجھے عروسہ سے اصل مزہ حاصل کرنا تھا اور میں موقہ کی تلاش میں تھا اور پھر آخر کار ایک دن موقع مل ہی گیا ۔ میں اور عروسہ ہماری چھت پر بنے کمرے میں پڑھ رہے تھے راحت ابھی تک نہیں آیا تھا یہ ہمارا معمول تھا کہ ہم ساتھ مل کر پڑھتے تھے اس کمرے میں اور ہوم ورک کرتے تھے ۔ میں نے موقہ کا فائیدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا اور عروسہ سے کہا مجھے کچھ کرنا ہے عروسہ نے کہا کیا میں نے کہا وہی جو ہم اکیلے میں کرتے ہیں راحت نہیں ہے مجھے جلدی سے کر لینے دو اس نے کہا نہیں راحت کسی بھی وقت آسکتا ہے میں نے کہا پلیز کرنے دو اتنے دن ہوگئے ہیں موقہ ہی نہیں مل رہا تھااس نے کہا وہ تو ٹھیک ہے اگر راحت آگیا تو؟؟؟ میں نے کہا جلدی سے کر لیتا ہوں میں جلدی سے اٹھا اور دروازہ بند کر لیا اور عروسہ سے کہا جلدی سے شلوار اتارو اس نے اتار دی میں دروازہ بند کر کے مڑا تو اپنی شلوار بھی اتار دی اور آتے ہی ایک بڑا سا تھوک کا گولا عروسہ کی گاند کے سوراخ پر پھینکا اور پھر لن کو بھی گیلا کیا اور سوراخ پر رکھ دیا اور زور سے جھٹکا دیا آدھا لن تو اندر چلا گیا ساتھ ہی عروسہ کی ہلکی سی چیخ بھی نکل گئی میں رکا نہیں اور ایک اور جھٹکا دیا اور لن اینڈ تک عروسہ کی تنگ گانڈ میں اتار دیا اور پھر جلدی سے اندر باہر کرنے لگا کچھ دیر بعد میرے لن میں وہی جانا پہچانا سا سرور ہونے لگا اس بار میں نہیں رکا اس بار مجھے پورا مزہ لینا تھا اور اپنی منی سے عروسہ کی گانڈ کو سیراب کرنا تھا کچھ دیر جھٹکے مارنے کے بعد مجھے لگا کہ جیسے میری جان لن سے نکل رہی ہو لن منی چھوڑتے ہوئے عروسہ کی گانڈ میں اپنی پہلی برسات کرنے لگا اس مزے نے تو مجھے پاگل ہی کر دیا میں نڈھال ہوکر عروسہ کے اوپر گر گیا اور تیز تیز سانس لینے لگا عروسہ نے مجھےہلکے سے جنید پکارا تو مجھے ہوش سا آیا میں نے ہوں کیا تو اس نے کہا اگر ہوگیا ہے تو چھوڑ دو مجھے کوئی آجائے گا میں آہستہ سے پیچھے ہٹا اور لن نکال لیا اس نے جلدی سے شلوار اوپر کر لی اور میں نے بھی اور جا کر دروازہ کھول دیا دیکھا تو راحت بھی باہر موجود تھا ایک دم سے میرا رنگ اڑ گیا مجھے لگا کہ میری چوری پکڑی گئی ہےلیکن اس نے کچھ نہیں کہا نارمل کھڑا رہا تو میری جان میں جان آئی اور لگا کہ اسے کچھ پتا نہیں چلا میں نے کہا آؤ راحت ہم تمہارا ہی انتظار کر رہے تھےآؤ ہوم ورک کریں اور ہم جلدی سے اندر آگئےاور پھر سٹڈی کرنے لگےاور پھر ہمارا یہ معمول بن گیا ہم راحت سے جلدی آتے اور اس کے آنے سے پہلے اپنی پیاس بجھا لیتےآخر یہ سب کب تک چھپا رہتا ہے راحت کو بھی آخر پتا چل گیا پتا نہیں وہ کب سے ہمیں یہ سب کرتا دیکھ رہا تھا اور ہمیں پتا تک نہیں تھا۔ ایک دن اچانک راحت نے مجھے آدھی چھٹی کے ٹائم کہا کہ مجھے سب پتا ہے جو عروسہ اور تم کرتے ہو چھپ چھپ کر میں حیران ہو گیا کہ ہم جو کچھ کرتے ہیں وہ اس کو کیسے پتا ہے ۔میں نے کہا کیا کرتے ہیں اور تمہیں یہ سب کیسے پتا ہے؟اس نے کہا میں روز دیکھتا ہوں چھپ کر تم جو گندہ کام کرتے ۔ اب اس سے کوئی جھوٹ بولنے کا یا چھپانے کا کوئی فائدہ نہیں تھا اس لیے میں نے اسے سب کچھ بتانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔1 like
-
Ma sab ka Hero
1 likeUpdate 35 Us din ka aagaz bhi aam dino jaisa hi tha. Uni ke baad Shop par chala gaya. Takreebn shaam ke 4 baj rahe the ke mujhe Aga jee ki call aayi Aga jee:beta wo Madam Nighat ki tabiyaat achanak kharaab ho gae thi to hum unhein hospital le ga...... Ma unki baat kaatate hue bola Me:Konse hospital ma hn aap abhi???? Aga jee:beta baat to mukkamal hone do Me:jew bolein Aga jee:Beta doctors na bohot koshish ki lekin wo nahi bach sakin. Un ka intekaal ho gaya ha. Unki dead body ko hum Orphanage le jaa rahe hn. Shock ke maare mere mu sa aik lafaz bhi nahi nikla. Aga jee ki awaaz mujhe hosh ma lae. Aga jee:Hlo beta tum aun rahe ho naa. Me:je jeee jee aga jee Ma bhi orphanage puhnch raha hn. Ma dukaan sa nikla abhi raaste ma hi tha ke mujhe Nazia ki Ami ki call aayi Aunty:beeeeetaaa kidhar hoooo ttuu tum??? Wo roo rahi thi. Ma na pucha Me:aunty kya hua sab khairiyat to ha naa??? Aunty:beta tum foran ....... Hospital aa jao. Me:jee abhi aaya aunty. 30 mit baad ma aunty ke samne khara tha. Aunty mere kandhe par sar rakh kar zaar o kotaar roo rahi thi.Un sa puchaane par pata chala ke Nazia University ma behosh ho gae thi. University ki intazaamiya usse is hospital ma admit karwaa kar aunty ko itlaa de kar chali gae. Abhi doctors check up ma masroof the. Takreebn aik ghante baad Doctors na Nazia ka bare ma jo bataya usse sun kar aik dafa phir mujhe jhatka laga Doctor:aapko pata tha ke aapki beti drugs leti ha??? Me:Are doctor saab kaisi baatein kar rahe hn??Nazia aisa koi kaam nahi kartiiiii........ Aunty ki kapkapaati awaaz aaai Aunty:Jee doctor saab kabhi kabhaar wo drugs use karti thi Ma heraani sa aunty ka chehra taakne laga. Doctor:jab aapko pata tha ke wo drugs leti ha to phir kiun aap na use nahi roka. Aunty:bohot samjhaaya usse lekin wo nahi maani. Ab jawaan aulaad pa haath to nahi utha sakti thi naa. Me:Doctor saab Nazia ab theek to ha naa??? Doctor:Us ne kafi heavy amount ma cocaine use ki ha jiska asar uske brain par para ha or wo sochne samajhne ki salaahiyaat khoo bethi ha. Me:mtlb??? Doctor:Uske brain ka kaafi hissa damage hua ha. Bolna samajhna sunana ye sab hissein khatam ho gae hn wakti toor par. Chalne phirne ma bhi takleef ho gi. Agar unki munasib care ki jae to waapis normal haalat ma aa sakti hn wo. Me:hum usse ghar le jaa saakte hn kya??? Doctor:abhi 3 sa 4 din hum usse under observation rakhain ge.phir aap patient ko ghar le jaa sakte hn Me:Thanks doctor. Nazia ko room ma shift kar diya gaya tha hum uske room ma chale gaye. Room ma puhnchte hi aunty aik dafa phir rone lag gae. Ma na unhein samjhaya bujhaaya chup karwaaya.Jab unki haalat sambhli to ma bola Me:aunty wo Madam Nighat ka inteqaal ho gaya ha. Mujhe orphanage jaana ha. Aap tension naa lein.Ma aik do ghaante tak aa jaon ga. Aunty na haan ma sar hilaa diya.Ma unki peshaani choom kar bola Me:fikar karne ki zaroorat nahi ha A...... na chaha to saab theek ho jae ga. Orphanage puhncha to wahan har taraf gehra sanaata chaahya hua tha. Jahaan kabhi bachoo ki hansi or shor goonjaata rehta tha wahan soog ka mahool tha. In 4 maah ma Nighat saab bachoo ki har dil aziz ho gae thi. ........................ Aik baar wo mujh sa kehne lagi Nighat:Razi yahan aa kar aesa lagta ha ke ma ne apni pechli zindagi sari barbad ki ha. Akele aik ghar ma rehna jis kadar aziyaat deta ha utni hi khushi balke us sa zayada khushi mujhe yahan in bachoo ke darmayaan aa kar mil rahi ha. Thora wakfa le kar wo boli Nighat:Razi tumhaara bohot bohot Shukriya ke tum mujhe yahan le aaye. Warna us ghar ma to is bemaari ke saath ma aik pal bhi nahi reh sakti thi. Kabhi wo kehti Nighat:Razi in bacho ke saath khel ke in se baatein kar mujhe apne Beaulaad hone ka gham bhool jaata ha. Or ma unhe mazaak ma kehta Me:aap haan to karain aapko maa bhi bna dete hn. Nighat khil khilaa kar hansati or kehti Nighat:ye baat tumhaari 2 aadaad begmaat ko pata chal gae to har taraf tabahi aa jaaye gi. Phir hum dono ka mushtarka kehkaha goonj uthata. ........................................... Janaze or phir tadfeen ke dauraan mujhe nighat ke saath bitaaya aik aik pal aik aik lamha yaad aa raha tha.Tadfeen ke baad ma ghar gaya to ghar ma koi nahi thi. Hania ko call ki to usne bataya ke wo teeno orphanage ma hn. School teachers or students ke pass. Ma bed par dhae saa gaya. Aik dum sa do itne bare shook lage mujhe samajh nahi aayi ke ma kya karun. Dimaag maof sa ho gaya tha. Aankhein band ki or har khyaal ko zehen sa jhatak kar sone ki koshish karne laga. Kuch hi der ma aankh lag gae. Lekin shayad takdeer ko mera yun befikar ho kar sona pasand nahi aaya.Raat takreebn 1 baje ke kareeb mujhe Hania ne jagaya. Wo hiklaate hue boli Hania:bhaaa bhaa bhaiyaaa woo woo bhaaaabhiii wooo Hania bohot ghabrayi hui lag rahi thi. Me:Kya hua Nida ko??? Hania:bhaiyaaaaa woo woo behoooosshh Ma bed sa jump mar kar utra or bahir ki taraf bhaga. Drawing room ma Nida Neche carpet par behosh leti hui thi or Asma pani chiraak kar usse hosh ma laane ki koshish kar rahi thi. Ma na Nida ko bahoon ma uthaya or Haniya ko bola Me:Hania tum aao mere saath.Asma tum ghar par hi raho balke Orphanage chali jao. Asma:Nahi ma bhi aapke saath chalti hn. Ma zra gusse sa bola Me:Is halaat ma kahan tum dhaake khaati phiroo gi. Hania ha mere saath. Tum aaram karo. Ma Nida ko baahon ma uthaaye bahir nikla tab tak Hania gari ghar sa bahir nikal chuki thi. Ma na Nida ko pechli seat par litaya or Hania ko ishara kiya to wo peche chali aayi or Nida ka sar apni goad ma rakh kar beth gae. 30 mint baad hum hospital ma the. Doctors usse emergency ward ma le gaye the. Ma or Hania bahir bechaini sa tehalne lage. Kareeb aik ghante baad aik lady doctor aai or boli Doctor:patient ki halaat bohot serious ha. Uska jisam apne pait ma palne waale bache ko kabool nahi ka...... Ma doctor ki baat kaatate hue bola Me:Doctor ye kaise ho sakta ha????? Doctor:jee ise science ki zuban ma preterm ya premature birth kehte hn. Iski kafi wajuhaat ho sakti hn. Jaise uterus walls ma koi pechidaagi aana ya fetus ka early movement shuru kar dena ya brain ingury wagaira. Me:doctor sahiba mere paale kuch nahi par raha aap plz seedhi zuban ma baat karain Doctor:Jee baat ye ha ke aapki wife ki maujooda condition premature delivery ki taraf ishara kar rahi ha. Shayad 2 sa 4 ghantoo ma process shuru ho jae. Is ma asal masla ye ha ke aapki wife ko thori der ka liye hosh aata ha wo phir behosh ho jaati hn. Unke hosh ma agar to delivery ho gae tab to itni zyada tension ki baat nahi ha lekin agar unki behoshi ke dauran process start hua or wo wakt par hosh ma naa aai to maa or bache dono ko nuksaan ho sakta ha. Is surat ma hume operate karna ho ga jo maa ke liye kafi risky saabit ho sakta ha. Me:Doctor sahiba plz meri wife or bache ko bacha lein.aap jo kahein gi jitne paise maangein gi ma doon ga plz un dono ko bacha lein. Plzz Doctor:dekhein zindagi or moot A.... H ka haath ma ha. Hum apni taraf sa unhein bachane ki puri koshish karein ge. Aap is form par sign kar dein plz. Ma na form par sign kar diye.Form ma likha tha ke doctors apni puri koshish karain ge lekin agar bache ya maa ma sa koi mar jaata ha to phir unke lawaahikeen doctors ko iska moord e ilzaam nahi thehra sakte. Wo 5 ghaante mere liye kisi kiyaamat sa kam naa the.Bas aik bench pa betha aankhein band kiye Nida ki yaadoo ma gum tha. ................................ Nida:Razi idhar aao. Kaan pakar kar murga bn jao. Me:kiun Madam??? Nida:Kiun ke bache saari class ke test ma 90 above numbers aaye hn or tumhaare sirf 65. Me:Mam un saab ne cheating ki ho gi naa Madam. Nida:tumhaare baki bachoo sa koi lena dena nahi ha. Tumhhaare number ache aane chahiye bas. Koi cheating kare ya apna kare tumhe is sa koi fark nahi parna chahiye. Unki yee baat aaj bhi apne paale sa bandh kar rakhta hn. Duniya jo karti ha karti rahe ma wohi karta hn jo mujhe acha lagta ha chahe duniya uski kitni mukhalifaat kare. Duniya ko apne lun par charha ke rakho. Aik dafa experiment karte hue mere haath pa thora acid gir gya.Us wakt sirf ma Sara or Nida hi the lab ma. Sara ne Nida ko bataya to wo daurati hui mere pass aai mera haath dekha.Saath saath zakhm par paani daalti jaati or saath hi saath mujhe pyar bhare andaz ma daantati bhi jaati. Acid mere haath pa gira tha or wo bhi bilkul thora sa lekin aansoo unki aankhoo ma aa gae the. Us accident ke baad jab bhi uske baare ma baat hoti to sara mujh sa kehti Sara:Razi chemistry lab ma ma ne larke ka pura bazo acid sa jaalte dekha ha lekin Madam Nida ko itna pareshaani ma nahi dekha tha jitna pareshaan unko tumhhaare liye hote dekha tha. Lagta ha unka koi gehra rishta ha tumhaare saath. Aur ma uski baat ko mazaak ma taal deta. Farewell pa sab bachoo ne last time unke saath shake hand kiya lekin mujhe unhoo na saab ke saamne gaale lagaya or aansoo sa bheegi awaaz ma mere kaan ke pass sargooshi ki Nida:I will miss you a lot. Tab bhi sara na mujhe kaha ke Sara:Razi tum maano ya naa maano lekin Madam Nida ka koi khaas taaluk ha tum sa. Ma waise hi hansi ma bola Me:sab sa zayada taang kiya ha unhein to sab sa zayada miss bhi to mujhe hi karain gi naa. Suhaagraat pa jab ma na unhe mu dikhaye di to wo boli Nida:iski koi zaroorat nahi ha mujhe bas aapke naam ke saath apna naam jorna tha wo jur gya mujhe or kuch nahi chahiye chahe ab ma mar... Ma na uske mazeed kuch kehne sa pehle uske honto par apne hont rakh diye. Aik dafa uni jaate hue mera halka sa accident ho gya. Ma wahin sa wapis ghar aa gaya. Asma factory gae hui thi or Hania school. Nida hi sirf ghar par thi. Mere bazoo par pati bandhi dekh kar rone lag gayi or mujhe daante lagi ke aaram sa bike nahi chala sakte the. Dhayaan kahan hota ha aapka...... Bari mushkil sa usse chup karwaya tha. Abhi chand din pehle ki baat ha ma na us sa pucha Me:Nida tum Na.... Z ke baad dua ma kya maangti hn. Nida:aapko maangti hn. Me:lekin ma to tumhaare pass hi hn Nida:Ma dua maangti hn ke meri kookh sa aik or Razi paida ho Ma uski baat par hansane lag gya. Wo aksar mujh sa kehti thi ke ma apne bete ka naam Raza rakhun gi. Ma us sa kehta ke agar beti hui to??? Wo kehti ma A.... H sa dua maangti hn ke hume Raza inayaat farma or mujhe yakeen ha ke wo meri baat zaroor manein ga. Kabhi kehti ke Razi mere bete ki tarbiyaat ma koi kami naa chorna. Ma kehta ke hum dono milkar apne bete ki tarbiyaat karein ge to wo kehti ke nahi mere bete ki tarbiyaat tum hi karo ge. Ma nahi kar paon gi. ......................... Ma hospital ke bench par betha sar dewaar sa tikaaye aankhein band kiye Nida ke saath bitaaye jaane waale paal yaad kar raha tha ke kissi na mere shaane ko jhinjhoora Me na aankhein kholi to Hania ka chehra nazar aaya. Uski aankhoo ma aansoo the jinhein wo nikalne sa bamushkil roke hue thi. Ma na uske sar par pyaar sa haath phera or bola Me:are pagli roo kiun rahi ho. Kuch nahi ho ga tumhaari bhabhi ko. Doctors dekh rahe hn naa usse. Saab theek ho jae ga. Hania ki aankhoo sa aansoo nikal aaye or wo zaar o kitaar roone lag gae. Me na usko gaale laga liya or usse chup karwaane laga wo roote hue achaanak boli Hania:Bahiyaaaa bhaa bhaabhi nahi rahiin. Me:Kiun mazaak kar rahi ho. Tumhe kis ne kaha ye saab?? Uske kuch kehne sa pehle hi doctor ki awaaz aai Doctor:Mr.Razi your wife is no more. But your baby is safe. Meri aankhoo sa aanso behne lage. Mujhe samajh nahi aaya ke ma kya karun. Pehle Nighat phir Nazia or ab Nida. Dil chahta tha ka zoor zoor sa chilaun par phir dimaag kehta ke chilaane ka kya faida wo konsa waapis aa jaye gi. Mere zehen ma Nida ke alfaaz goonjane lage MERE BETE KI TARBIYAAT TUM HI KARO GE.MA NAHI KAR PAON GI....... MA NAHI KAR PAOUN GII.....1 like
-
payas aur meri family
1 likeMa school ma chup chup mukhtlif bato ko soch ra tha keh tbhi shani mere pas aya r mjhe mukka marte hua bola han londay kaha khoya ha... Ma kuch na bola to us ne mjhe 1 r lgayi r kaha ab teri ku gand phat ri ha kuch bhonkay ga b ya ni... Ma ne gussay se uski trf dkha r bola bhenchod tou kia ab bina bat ke e bolta rahu... Us ne ghor se meri trf daikha r bola ab bta kia bat ha... Ma ne tng prte hue kaha kuch ni...is bat pa emotional hu gya r bola theek ha na bta ma e hu jo tujhe har bat bta daita o... Ma ne kuch sochte hue usy kaha shani 1 bat ha kisi ko btaye ga tou ni... Wo bola kuttay tujhe zara b yaqeen ni ha... Ma hansa r fr usy sari bat bta di... Meri bat sun ke wo khush hua r bola taimoor tere lund ke iftatah ka moqa aa gya ha.... Ab tujhe bas sahi waqt pa yeh lund shbana ki phudi ma ghuserna ha... Ma ne usy kaha pgl ha... Us ne mjhe ankh marte hue mere lund ko pkr lia r bola yeh 7 inch ka raja abhi se khara hu gya r tou abhi mjhe pgal keh ra ha... Us ne mera hath pkra r bola aj school ke bad 1 pansari ke han chle gye waha se ma tujhe 1 oil lekar do ga... Tou ne roz us se malish krni ha... R kuch dino ma yeh sand jaisa lund itna mota hu jaye ga keh jiski tou 1 dfa le ga wo fr tere lund se chudne kelye pgal hu jaye gi... Ma khush hu gya r uski trf bolte hue bola aj dphr ka khana akhty khaye ge... Us ne mjhe ankh mari r bola rishvat de ra ha... Fr hum ne chutti ke bad khana khaya r wo oil laine chle ge... Wapisi pa shani ne mjhe btaya keh tujhe sbr se kam laina huga r 10-15 din arama aram se shbana ko approach kar... Jo itni chuth marvane ma mashgool ha wo tujhe asani se de de gi per tujhe aise krna huga... Us ne mjhe pora plan btaya ma ne uski han ma han milayi r usy bye khte hue apne ghar ki trf chal pra... Ma shbana ki phuddi se apne lund ka iftitah krna chahta tha per shayid koi r kali thi jis ne mere hatho phol bnana tha r ma anjan tha keh wohi mere lund ka phla nasha bne gi..........1 like
-
payas aur meri family
1 likeNext... Ma ne wapis bra ko rkha r khud ko saf krne ke bad nidhal qadmo se chlta hua apne room ma aya r bed pa girte e meri ankh lg gyi.... Ma kafi dair bad so ke utha to dkha keh sham hune wali thi r ma 5-6 hrs sota raha tha... Ma uth ke fresh hua r sehan ma baith ke ami se bate krne lga.. Isi doran sadaf mujhe ghor ghor ke daikh ri thi.... Dosto yaha btata chlo keh sadaf hmare ghar ma e rhti ha r ami ke sath unke room ma soti ha jb keh ma apne room ma huta hu... Mri khala ki 2 betiya ha 1 sadaf r 1 irum... Sadaf mre se 5 sal bri ha jb keh irum mre jitni ha jb keh unka bhai asim mre se 3 sal bra ha Isi doran mujhe sadaf ka ghorna khatka to lkin mere zehan ma aisi koi bat ni ayi jo keh is ravaiye ki wjah ban ri o.... Ami se thori dair bat krne ke bad ma uth ke bahir ground ma chla gya lkin isi doran mre zehan ma shabana ka sarapa ghomta raha... Ma plan krne lga keh kaise aj unko daikha jaye.thora sochne ke bad ma ne 1 bat final ki keh aj rat jb ami r sadaf so jaye to ma chupke se chat ke raste unke ghar chla jaou ga.... Yahi sochte hue mere lund ne sar uthana start kr dia r ma usy rano ma dabata hua ghar ki trf chal pra... Ghar ja ke ma ne khana khaya to ami boli keh sadaf sath jaou r chat se kpre utar laou... Ma ne hath dhoye r sadaf sath chat pa aa ke kpre smaitne lga... Tbhi mri nazar bra pa pri jisko sadaf utar ke apne kapro ma rkh ri thi.. Mete zehan ma jhmaka hua keh yeh bra iski ha r isilye yeh mjhe ghor ghor ke daikh ri thi... Ma bra pa nazre jmaye khara tha keh tbhi mri nazar sadaf pa pri r wo mjhe bra ki trf dkhta hua daikh ri thi.... Us ne gussay se meri trf daikha r boli tumhe apne gnday zehan se fursat mil gyi hu to kpre lekar neeche chle... Ma yeh bat sun ke sharminda hugya r sorry khta hua unke oeeche kpre lekr chal pra... Sadaf mre agy gand mtka mtka ke chal ri thi r mera dil kr ra tha uski gand pa zor se thpar maro r apna lund nikal ke un rano ma qaid krdo... Ab mera har lrki ko daikhne ka nazariya badal chuka tha... Mjhe har kisi ma 1 orat nazar aa ri thi.. 1 orat jis ke pas mummay, bund r phuddi ha r jis se mri pyas mit skti ha ya haqeeqat ma barh skti ha.... Ma uski matkti gand ko ghor kr chal ra tha keh wo peeche muri r mri nazro ke daikh ke boli taimoor tum kuch zaida e bre ni hu gye... Ma ne na smjhi ma honqo ki trah sar hala dia... Tbhi mri nazar neeche trouser par pri jaha tamboo bna hua tha... Sadaf bre ghor se us trf dkh ri thi... Ma ne nazre jhuka ke kpre wohi table pa rkhe r apne room ma bhag gya Kamre ma ja ke ma ne socha keh ma yeh kia kar ra hu.... Mjhe shabana pa b gussa aa ra tha jis ne mjhe is kam ki trf lgaya tha...aise e ma btha na jane kitni dair tk in bato ko sochta raha keh keh tbhi ami ki awaz ayi keh darwaze bnd kr dna hum apne room ma ja re han....ma ne acha kaha r roz ki trah gate ko lock krne lg pra.... Ab mjhe un dono ke sone ka initzar tha.... Ma jldi se urr kr tayi ke kmre ke peeche phnchna chahita tha.... Ma ne kuch dair wait kia r fr halky halky seeriyah char ke unki chat pa phnch gya.... Mra dil dhak dhak kr ra tha.... Rat ke 10. 30 hue the r har trf khamoshi c thi... Ma holay se unke ghar ma utra r peeche gali se huta hua unke kamre ke peeche aa gya r khirki ke side se daikhne lga... Ab jo ma ne andar daikha to mera sans jaha tha wohi tham gya....1 like
-
پردیس ۔۔۔ اردو ادب کی لازوال سیکس کہانی
1 like