Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 19/09/21 in all areas

  1. 1 like
    Update 013 عام طور پر اگر دیکھا جائے تو کہانیوں میں کچھ ایسا ہی ہوتا ہے ہیرو جوان ہوتا ہے اور ایک کے بعد ایک کرکے اس کو چوتیں ملنی شروع ہو جاتی ہیں لیکن حقیقی زندگی اس سے تھوڑی مختلف ہے حقیقی زندگی میں ایسا نہیں ہوتا کہ آپ کے اردگرد موجود سبھی لڑکیاں آپ سےچدنے کو بےتاب ہوں مجھے چوت کامزہ تو لگ گیا تھا لیکن صرف ایک ہی بار اس کے بعد سے ہمیشہ جب بھی کوئی اس طرح بنتا کوئی نہ کوئی مسئلہ بیچ میں پڑ جاتا آج بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا بے چارے منا نے اپنی بہنوں کی چدائی پر چھاپا مار دیا تھا میں آج بھی منا کو دیکھتا ہوں تو مجھے بہت ہنسی آتی ہے خیر میں جب کمرے میں آیا تو مہوش کا میسج آیا ہوا تھا اس نے بتایا تھا کہ خطرہ ٹل گیا میں اور مہوش ایسے ہی میسج پر باتیں کرتے رہے میں تو لڑکا تھا تو میری اتنی گانڈ پٹی ہوئی تھی وہ دونوں تو بیچاری لڑکیاں تھی مہوش اور نوشین کا بھی ڈر کے مارے برا حال تھا مہوش بار بار یہی کہہ رہی تھی کہ اگر آج پکڑے جاتے تو پتا نہیں کیا ہو جاتا خیر وہ دن کسی نہ کسی طرح گزر گیا میں نے پھر مہوش سے بات کرنے کی کوشش کی اس کو سمجھایا کے بار بار چھاپا نہیں پڑے گا لیکن وہ واقعی بہت ڈری ہوئی تھی خیر میرے بہت سمجھانے پر اس نے کہا کہ کچھ دن ٹھنڈے ہو کر بیٹھ جاؤ میں سمجھ گیا کہ اب کچھ دن اور مٹھ پر ہی گزارا کرنا پڑے گا ایسے ہی دن گزرتے رہے میں نے کئی بار میں بھی مہوش اور نوشین کو منانے کی کوشش کی لیکن دونوں میں سے کوئی بھی نہیں مانی ایک دن مہوش کی امی میرے گھر آئیں ان کے ہاتھ میں مٹھائی کا ایک چھوٹا سا ڈبہ بھی تھا میوش کی امی نے بتایا کہ نوشین کا رشتہ پکا ہو گیا ہے یہ سن کر میرے چہرے پر اداسی چھا گئی بیٹھے بیٹھے ایک اور چوت ہاتھ سے نکل گئی میں اوپر اپنے کمرے میں آیا اور نوشین کو میسج کر دیا مبارک ہو نوشین کا کوئی رپلائی نہیں آیا اسے بھی پتہ تھا کہ یہ بات میں طنز میں کہہ رہا ہوں دن گزر گیا میں سو گیا اگلے دن اٹھا اور اسکول چلا گیا واپس آکر موبائل دیکھاتو اس میں مہوش کا میسج آیا ہوا تھا مہوش نے میسج کیا تھا کہاں ہو میں نے رپلائی کیا گھر پر میسج آیا میرے گھر آؤ میں نے اوکے کا میسج کیا اور مہوش کے گھر کر چلا گیا پہنچ کر میں نے دستک دی تو دروازہ نوشین نے کھولا نوشین مجھے دیکھ کر مسکرائی لیکن میں نے اپنا چہرہ سنجیدہ ہی بنائے رکھا کیونکہ میں اس سے ناراض تھا نوشین دروازے سے ہٹ گئی اور مجھے اندر آنے کا راستہ دیا میں گھر کے اندر پہنچا اندر برآمدے میں لکڑی کے تخت پر مہوش بیٹھی تھی مجھے دیکھ کر اس کے چہرے پر ہمیشہ کی طرح مسکراہٹ آگئی مہوش نے مجھے اپنے پاس تخت پر بیٹھنے کا اشارہ کیا میں اس کے پاس جا کر بیٹھ گیا نوشین بھی آ گئی اور میرے سامنے کھڑی ہو گئی نوشین نے ایک نظر مجھے دیکھا اور پوچھا وقاص تم مجھ سے ناراض ہو؟ میں نے کہا جی نہیں میں کیوں آپ سے ناراض ہونے لگا میں نے یہ بات طنزیہ کی تھی جس کو نوشین بھی سمجھ گئی تھی نوشین آگے بڑھی اور میرا ہاتھ پکڑ کے بیٹھ گئی میں نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور کہا کہ آپ کا بھائی آئے گا مجھے چلنا چاہیے میں تخت سے اٹھنے لگا تو نوشین نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اپنی طرف زور سے کھینچا میں سیدھا نوشین سے چپک گیا نوشین کا قد اس وقت قریب میرے برابر ہی تھا ہم دونوں کے ہونٹ آپس میں ملتے ملتے بچے ہم دونوں کے چہرے ایک دوسرے سے بہت قریب تھے نوشی آگے بڑھی اور میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے ہلکا سا چھوڑ کے پیچھے ہو گئی اب میرے اندر آگ بھڑک گئی تھی میں آگے بڑھا اپنے ہاتھوں سے نوشین کا چہرہ پکڑا اور اپنے ہونٹ نوشین کے ہونٹوں پر جما دیئے نوشین نے اپنے ہونٹ کس کے بند رکھے ہوئے تھے اور اپنے ہاتھ میرے سینے پر رکھ کر مجھے دور کر رہی تھی میں گھر سے یہ سوچ کر آیا تھا کہ اگر آج یہ مچھلی میرے ہاتھ سے نکل گئی تو پھر کبھی ہاتھ میں نہیں آئے گی میں کس کرتے ہوئے اپنی زبان اس کے ہونٹوں پر پھیرے جا رہا تھا آخر کو نوشین نے اپنے ہونٹ کھول ہی دیا اب نوشین دیکس میں برابرکا میرا ساتھ دے رہی تھی میں نے نوشین کے چہرے کو چھوڑا اور میرے ہاتھ نوشین کے جسم پر جگہ جگہ بھٹکنے لگے پہلے میں نے نوشین کے مموں کو دبایا اور پھر ہاتھ پیچھے لے گیا پیٹھ کی جانب وہاں سے ہاتھوں کو لکھتا ہوا نیچے نوشین کے چوتڑوں پر لایا اور نوشین کی گانڈ کو پوری طاقت سے دبایا نوشین کے ہونٹ میرے ہونٹوں کے بیچ میں ہی کانپے مہوش سامنے بیٹھے یہ منظر بڑے غور سے دیکھ رہی تھی آخر کو صبر نہیں ہوا اور وہ بھی اٹھ کر ہماری طرف آ گئی میں نے نوشین کے ہونٹوں کو چھوڑا اور فورا اسے مہوش کا سر پکڑ کر اسے کس کرنے لگا مہوش پوری طرح سے گرم تھی اور فورا ہی میرا ساتھ دینے لگی اب میں کس مہوش کو کر رہا تھا لیکن میرے ہاتھ نوشین کی گانڈ پر تھے نوشین پوری طرح مجھ سے چپکی ہوئی تھی تھی اور مہوش میرے دائیں طرف تھی میں نے اپنے ہاتھوں کو نوشین کی کمیض کے اندر ڈالنا شروع کیا اپنے ہاتھوں کو نوشین کے پیٹ پر پھرتا ہوا اوپر کی جانب بڑھانے لگا نوشین مجھے روک نہیں رہی تھی جو کہ میرے لیے بھی حیران کن تھا بھلا ایسی لڑکی جس کی ایک مہینے بعد ہی شادی ہو وہ کیوں اپنا کنواراپن ضائع کروا کے اپنی زندگی برباد کرے گی میں دیر نہ کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو نوشین کے مموں پر لے گیا برا کے اوپر سے ہی مموں پر پہلے ہاتھ پھیرا اور پھر دبایا میرے ہونٹ ابھی مہوش کے ہونٹوں کے بیچ میں تھے مہوش زور سے میرے ہونٹوں کو چوسے جا رہی تھی میرے ہاتھوں میں ایک بہن کے ممے تھے اور ہونٹوں میں دوسری بہن کے ہونٹ
  2. 1 like
    jnab kahani bohat achi hai isko aage barhao or thora jaldi update dene ki koshish kro. baqi kahani ko dobara se start krne ka bohat boht shukria
  3. 1 like
    update 008 اگلے دن اسکول سے واپس آ کر میں سیدھا کنول آنٹی کے گھر کے لیے نکل پڑا۔ دروازے پر دستک دی تو دروازہ آنٹی نے ہی کھولا۔اور مجھے دیکھ کر ایک پیاری سی مسکراہٹ کے ساتھ دروازے سے ہٹ گئیں اور مجھے اندر آنے کا راستہ دیا۔ اس دن کے سیکس کے بعد سے اب تک ہمارے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔آنٹی نے ہاتھ میں چائے کا کپ پکڑا ہوا تھا۔ میں سیدھا آنٹی کے بیڈروم میں جا کر پلنگ پر بیٹھ گیا۔کچھ دیر بعد آنٹی بھی آ گئیں اور اب اُنکے ہاتھ میں دو کپ تھے۔جس میں سے ایک اُنہوں نے میری طرف بڑھا دیا۔ میں نے کپ پکڑا اور چائے پینے لگا۔ لیکن مجھے مجھے جلدی تھی کے کب ہم دونوں اپنے کپڑے اتار کر ننگا ناچ شروع کریں۔ مینے جلدی سے چائے ختم کی تب تک آنٹی بھی اپنی چائے ختم کر چکی تھیں۔میں نے اپنا کپ پلنگ کے نیچے رکھا اور جھٹ سے آنٹی کو اپنی بانہوں میں لے لیا۔ اور کسنگ شروع کر دی۔ آنٹی بھی برابر کا ساتھ دے رہی تھیں۔میرے ہاتھ آنٹی کے جسم پر رینگ رہے تھے۔میں آنٹی کی پیٹھ کو سہلا رہا تھا اور ساتھ ساتھ آنٹی کو اپنی بانہوں میں دبا رہا تھا جس سے آنٹی کے ممّے میرے سینے میں گڑھ رہے تھے۔میں اپنے ہاتھ نیچے کر آنٹی کی گانڈ کو پکڑ لیا اور زور زور سے دبانے لگا لیکن مجھے تھوڑی ہی دیر میں احساس ہوا کہ آنٹی نے شلوار کے اندر پینٹی پہنی ہوئی ہے۔ میرے ذہن میں فوراً خیال آیا کہ کہیں آنٹی منسس میں تو نہیں۔یہ سوچ میں اپنا ہاتھ آگے لے آیا اور آنٹی کی چُوت کی جگہ کو چیک کیا تو واقعی میرے نصیب میں رنڈی ناچ رہی تھی۔آنٹی کے پیریڈز چل رہے تھے۔اور مجھے ہاتھ سے آنٹی کا پیڈ صاف محسوس ہو رہا تھا۔ آنٹی بھی میری اس حرکت سے سمجھ گئیں کے میں جان چکا ہوں کے دال نہیں گلے گی آج۔ اور میرے چہرے پر مایوسی بھی چھا گئی تھی جو آنٹی نے نوٹ کر لی تھی۔ آنٹی نے پھیر سے مجھے دیکھ کر سمائل پاس کی۔اور جھک کر گھٹنوں کے بل بیٹھ گئیں اور میری بیلٹ کھولنے لگیں۔ آنٹی نے پہلے بیلٹ پھیر میری جینز کا بٹن اور اور پھر زپ کھول کر میری پینٹ نیچے کر دی اور میرے انڈرویئر کے اوپر سے میرے لن کو سہلانے لگی میرا لںڈ جو کسنگ کے دوران فل کھڑا تھا اور پیریڈز کا پتہ چل کے اب نیم کھڑا ہو گیا تھا و پھیر سے اپنی فل پاور میں آنے لگا۔ آنٹی نے میرا انڈرویئر نیچے کیا اور میرے لن کو ہاتھ میں لے کر مٹھ لگانی شروع کر دی۔مجھے بہت مزا آ رہا تھا۔میری آنکھیں مزے سے بند ہو گئیں۔تھوڑی دیر بعد مجھے اپنے لن پر کچھ گیلا محسوس ہوا میں نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو آنٹی میرا لن زبان سے چاٹ رہی تھیں۔یہ دیکھتے ہی مجھ پر شہوت کا ایک زبردست وار ہوا اور میرے لن نے زور کا جھٹکا لیا اور آنٹی میرے لن کو ایسے جھٹکے لیتے دیکھ کر مسکرانے لگیں۔ آنٹی نے دیر نہ کرتے ہوئے اپنا من کھولا اور لن منہ میں لے لیا۔زندگی میں پہلی بار کوئی عورت میرے لن کو چوس رہی تھی۔ عورت اس لیے لکھا کیوں کے اس سے پہلے بھی ایک بار میں گلی کے بچے کو دس روپے کا لالچ دے کر اپنا لن چسوا چکا تھا۔ مزا تو اس وقت بھی آیا تھا لیکن آنٹی کے چوسنے کی بات هی کچھ اور تھی۔ آنٹی مزے سے میرا آدھا لن منہ میں کے کر اندر باہر کر رہی تھیں اور میں کسی اور ہی دنیا کی سیر کرنے رہا تھا۔اسی مزے میں مینے آنٹی کے سر کو پکڑ لیا اور خود لن کو اندر باہر کرنے لگا۔آنٹی نے یہ دیکھ کر اپنے منہ کو ڈھیلا چھوڑ دیا تا کہ میں آرام سے اُن کے منہ کو چود سکون۔ میں نے بھی تیزی سے آنٹی کے من کو چودنا شروع کر دیا۔ جب میرا آدھے سے زیادہ لن آنٹی کے منہ میں چلا جاتا تو آنٹی کو کھانسی آجاتی۔آنٹی نے اپنا ایک ہاتھ میرے پیٹ پر رکھ دیا تا کہ میں اپنا لن آدھے سے زیادہ اُنکے منہ میں نہ ڈال سکوں۔ میں دس منٹ تک ایسے ہی آنٹی کے من کو چودتا رہا۔اور فارغ ہونے کے قریب آ گیا۔میری سسکیاں نکلنے لگیں جسے سن کر آنٹی سمجھ گئیں کے میں اب جھڑنے والا ہوں تو آنٹی نے میرے لن کو منہ سے نکالا اور زور زور سے ہلانے لگیں۔ میرا لن بھی یہ وار برداشت نہ کر سکا اور میں فارغ ہو گیا۔ آنٹی میرے سامنے سے ہٹ گئیں تھیں اس وجہ سے میرے لن سے نکلنے والی منی کی دھار زمین پر جا گری ورنہ آنٹی اگر سامنے سے نہ ہٹی ہوتیں تو میری منی آنٹی کے منہ پر ہی گرتی۔ فارغ ہونے کے بعد آنٹی اٹھیں اور سیدھا واشروم چلی گئیں اور ہاتھ منہ دھو کر اور کلی کر کے آ گئیں۔واپس آتے وقت اُنکے ہاتھ میں ایک گندا کپڑا تھا جس سے اُنہوں نے زمین پر گری میری منی کی صاف کر دیا۔ میں پلنگ پر بیٹھا یہ سب دیکھ رہا تھا اور میری پینٹ اب بھی میرے گھٹنوں پر تھی اور لن مرجھایا ہوا تھا۔ آنٹی نے میری طرف دیکھا اور مجھے واشروم جانے کا کہا میں اٹھ کو واشروم گیا اور اپنی حالت درست کر کے واپس آ گیا اور پلنگ پر بیٹھ گیا۔ آنٹی پہلے سے ہی پلنگ پر بیٹھ کر اپنا موبائل دیکھ رہیں تھیں۔ میری طرف دیکھ کر آنٹی نے پیاری سی مسکراہٹ دی اور کہا۔ آنٹی: مزا آیا؟ میں: ہاں بہت لیکن پہلے جیسا نہیں۔ آنٹی مسکرائیں اور کہ وہ مزا بھی جلد مل جائیگا۔ میں تھوڑی دیر آنٹی کے گھر بیٹھ کر واپس اپنے گھر آ گیا اور اپنا اسکول کا ہوم ورک کرنے لگا۔
  4. 1 like
    Thanks devil kahani achi hy agy b post kroo
  5. @udas punchipunchipunchipppunchippunchpunchi @fairi And @alone_leo82 آپ دونوں نے سہی پہچانا کمال پاشا اب جمیل کے روپ میں آئے گا اور بلکل ہی تھوڑے سے ٹھہراؤ کے بعد نت نئے ہنگامے پھر سے منتظر ہیں۔ بہت جلد ہی اپڈیٹ دینے کی کوشش کروں گا فلحال تو کام میں اتنا مصروف ہوں کہ آج اپڈیٹ دینے کے دو تین دن بعد جا کر کمنٹس دیکھنے اور جواب دینے کا ٹائم ملا۔۔ کوشش کروں گا کہ آپ لوگوں کو ذیادہ انتظار نہ کرنا پڑے۔
  6. ہیلو دوستو میں ہوں آپ کا شاہ جی۔۔۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہمارے ہاں زیادہ تر لڑکے سیشنل کھلاڑی ہوتے ہیں میں جب کبھی کرکٹ کا ورلڈ کپ ہورہا ہو تو سب سٹریٹ فیلوز کرکٹ کے دیوانے نظر آتے ہیں اور ہر طرف کرکٹ ہی کرکٹ چل رہا ہوتا ہے اسی طرح جب فٹ بال کا ورلڈ کپ ہورہا ہو تو سب لڑکے فٹ بال کیلئے ہی پاگل ہوتے ہیں یہ ایک نارمل بات ہے۔ یہ کہانی فٹ بال ورلڈ کے دنوں کی ہے جیسے جیسے ورلڈ کپ آگے بڑھتا جاتا لڑکوں کا کریز بھی بڑھتا جاتا اور تب ایک دن ہم دوستوں نے فیصلہ کیا کہ ہم بھی ایک فٹ بال ٹیم بناتے ہیں اور پھر نیو سٹار فٹ بال کلب کے نام سے ہماری ٹیم بن گئی۔ جس کا میں نائب کپتان اور میرا دوست کپتان بن گئے۔ پریکٹس کے لیے ہم نے میڈیکل کالج راولپنڈی کی گراؤنڈ پسند کی لیکن ابھی ہم نے ایک دو دن ہی پریکٹس کی تھی کہ وہاں سے ہم لوگوں کو بھگا دیا گیا تب ہم نے ایک دوسری گراؤنڈ پر کھیلنا شروع کردیا۔ لیکن پہلی کی طرح وہاں سے بھی بے دخل کردیا گیا۔ اسی طرح ہم تیسری گراؤنڈ پر پہنچ گئے۔ وہاں سے بے دخلی کے بعد ہم نے ایک گورنمنٹ سکول کے گراؤنڈ پر کھیلنا شروع کیا یہ گراؤنڈ ایک گورنمنٹ سکول کی ملکیت تھا۔ جہاں پر ہمارے دوست کے پاپا نے پرنسپل سے پرمیشن لے دی تھی۔ یہ سکول ائیر پورٹ کے قریب ہی تھا۔ ہمارے گراؤنڈ سے تھوڑا دور ہی آرمی آفیسران کے گھر تھے۔ میری ذمہ داری یہ تھی کہ میں گراؤنڈ میں فٹ بال اور کھلاڑیوں کی کٹس وغیرہ لایا بھی کروں اور کسی محفوظ جگہ پر رکھا بھی کروں۔ اب ہم نے ہر شام وہاں پریکٹس کرنا شروع کردی تھی کچھ دنوں کےبعد ایک لڑکا جو شکل سے کچھ سپیشل پرسن سا لگتا تھا ہمارے پاس آکر روزانہ گیم دیکھنے لگا اس سے ہماری خاص کر میری کچھ جان پہچان بھی ہوگئی اور پھر ایک دن اس نے بھی ہمارے ساتھ کھیلنے کی ریکوسٹ کی لیکن کپتان نے درخواست صرف اسی وجہ سے قبول نہیں کیونکہ وہ خاص دکھتا تھا۔ کپتان کے صاف انکار سے وہ کافی ناامید ہوا اور وہاں سے چلا گیا اگلے دن جب ہم کھیلنے آئے تو ہم نے اس لڑکے کے ساتھ ایک بیٹ مین(آرمی والا) اور ایک میچور عورت جو کہ اس کی بڑی بہن تھی، آئے ہوئے تھے۔ بیٹ مین نے آگے آکر ہم سے کہا کہ میڈم صاحبہ بولا رہی ہیں جب میں اور کیپٹن میڈم کے پاس گیا تو وہ غصے سے بولیں: دیکھو اگر تم لوگوں کو یہاں کھیلنا ہے تو اس کو بھی ساتھ کھیلانا پڑے گا نہیں تو آپ سب کی چھٹی کردی جائے گی اس کھلی بلیک میلنگ سے ہم دونوں کافی گھبرا گئے اور ہم فوراً ہی اس لڑکے کو اپنے ساتھ کھیلانے پر آمادہ ہوگئے۔ اب وہ لڑکا ہمارے ساتھ ہی کھیلنے لگا، گیم شیم تو اس کو تو بالکل ہی نہیں آتی تھی لیکن اس کی بہن کا ڈنڈا تھا تو اس لیے ہم اسے کھلانے پر مجبور تھے۔ لڑکے کی پہلے ہی میرے ساتھ کافی گپ شپ تھی اس لیے فیصلہ ہوا کہ وہ میرے ساتھ بیک پر کھیلے گا۔ ساتھ ہونے کی وجہ سے میری اور اس کی بات چیت تھوڑے ہی دنوں میں فارمل بات چیت سے دوستی میں تبدیل ہوگئی۔ گراؤنڈ سے کچھ ہی دور اس کا گھر تھا اس لیے اسی نے آفر کی کہ میں ٹیم کی کٹ، فٹ بال اور باقی سامان اس کے گھر رکھ دیا کروں اور وہاں سے لے آیا کروں ، کچھ دنوں بعد میں اس کے گھر با آسانی آنے جانے لگا۔یہ گھر اس کے جیجا کرنل گل کا تھا۔ کرنل صاحب کی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی اس لیے مسز گل نے اپنے والدین سے اپنا بھائی مانگ لیا تھا اور وہ ان کے ساتھ رہتا تھا۔ اس کی بہن مسز گل جس کا نام پل وشاہ مروت تھا لیکن سب اسے مسز کرنل گل کہتے تھے۔ وہ خاندانی پٹھان تھی جیسا کہ آپ لوگ جانتے ہیں کہ پٹھان خوبصورت اور گورے چٹے ہوتے ہیں اور ناجانے کیا کیا خوبیاں پائی جاتی ہیں۔ مسز گل ٹھنڈے دماغ اور سمارٹ عورت دکھتی تھی۔ فوجی کی بیوی اور اوپر سے پٹھانی عورت، ہونے کی وجہ سے سٹائلش اور کلاسی۔۔۔ اوپر سے جسم بھی مسز گل نے ویل شیپڈ بنا رکھا تھا۔ صراحی دار لمبی گردن خوبصورت آنکھیں اور گولڈن بال۔۔۔اور جب وہ اپنی آنکھوں پر خوبصورت گلاسسز لگاتی تو بس۔۔۔ قیامت ہی آجاتی۔۔۔ بڑے بڑے پستان۔۔۔ اف اس کے پورے جسم میں سب سے زیادہ خوشنما اس کی نرم اور بڑی سی گانڈ تھی۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ہ ہ وہ مرد مار خاتون تھی جس (گانڈ) کو جب وہ ہلاہلا کر مستانی چال چلتی تو دیکھنے والے اپنا دل پکڑ کر رہ جاتے۔ مسز گل تھوڑا سپشل پرسن ہونے کی وجہ سے اپنے چھوٹے بھائی فدا سے بڑا پیار کرتی تھی اور اس کا خاص خیال رکھتی تھی فدا کا دوست ہونے کی وجہ سے میرے ساتھ بھی کافی اچھا رویہ رکھا ہوا تھا۔ ان کے شوہر گھر پر بہت کم ملا کرتے تھے زیادہ تر پل وشاہ باجی ہی گھر پر موجود ہوتی تھیں۔ فدا کی طرح میں بھی ان کو بھی پل وشاہ باجی کہہ کر پکارتا تھا شروع شروع میں تو میں ٹیم کا سامان ان کے نوکر کو دے کر چلا جایا کرتا تھا۔ پر کچھ ہی دنوں کے بعد فدا نے مجھے اپنے گھر لے جانا شروع کردیا اور پھر آہستہ آہستہ حالات یہ ہوگئے کہ ہم دونوں گھر سے ہی تیار ہوکر (کٹ میں) جاتے تھے اور واپسی پر وہیں کپڑے تبدیل کرتا تھا۔ یہ سمر سیزن کی بات ہے ہم دونوں معمول کے مطابق گھر آئے پسینے کی وجہ سے ہم دونوں کا جسم بھیگا ہوا تھا بُری طرح سے پیاس لگی ہوئی تھی۔ اس دن ان کا نوکر بھی گھر پر نہیں تھا فدا بولا: آؤ شاہ جی فریج پر حملہ کرتے ہیں۔ اکثر نوکر ہی ہم کو ٹھنڈا پانی یا شربت سرو کرتا تھا لیکن اس دن وہ گھر پر نہیں تھا اس لیے ہم دونوں فوراً ہی کچن کی طرف چل دئیے چونکہ کچن کا راستہ ڈرائنگ روم سے ہوکرگزرتا تھا، جیسے ہی ڈرائنگ روم میں پہنچے تو باجی پل وشاہ کسی خاتون کے ساتھ بیٹھی باتیں کررہی تھیں۔ ان کے سامنے مشروب پڑے ہوئے تھے۔ جیسے ہی ان کی نظر ہم پر پڑی وہ بولی: فدا دیکھو تو ہمارے گھر کون آیا ہے؟ ہم تو ابھی تمہیں ہی یاد کررہے تھیں۔ فدا اس خاتون کو دیکھ کر بڑا خوش ہوا اور فوراً ہی اس طرف چلا گیا یہ مسز سلیم تھیں پل وشاہ کی دوست۔۔۔ میں نے بھی ان کو دور سے ہائے بولا اور پھر کچن کی طرف بڑھنے لگا تو پل وشاہ باجی بولیں: شاہ جی آپ بھی آؤ نا۔۔۔ آپ سے بھی مسز سلیم ملنا چاہتی ہیں یہ سن کر میں بھی ان کے پاس چلا گیا۔مسز سلیم تو پل وشاہ باجی سے بھی دو دو ہاتھ آگے تھیں اس نے بڑے ہی ٹرانسپیرنٹ کپڑے پہنے ہوئے تھے جس سے ان کا گورا بدن صاف نظر آرہا تھا جیسے ہی میں ان کے پاس پہنچا پل وشاہ باجی بولی: یہ ہیں مسٹر شاہ جس کا میں ذکر کررہی تھی فدا کا اس ٹاؤن میں اکلوتا دوست۔۔۔ مسز سلیم صوفے سے اٹھی اور میرے ساتھ مصافہ کیا۔ میں ویسے تو ان کے ساتھ مصافہ کررہا تھا پر میری آنکھیں نہ چاہتے ہوئے بھی ان کی اوپن ٹرانسپیرنٹ شرٹ سے جھانکتی ہوئی گورے گورے موٹی پستانوں پر تھی جن کے بس نپلز ہی برا میں چھپے ہوئے تھے۔ باقی وہ ٹوٹلی ننگی تھی اتنے خوبصورت پستانوں پر میری نظر جیسے چپک سی گئی تھی میرے خیال میں پل وشاہ باجی کو میری اس بدتمیزی کا اندازہ ہوچکا تھا اس لیے وہ فوراً بولی: شاہ جی یہ مشروب لے لو۔۔۔ جیسے ہی میں نے ڈرنک کا گلاس اُن کے ہاتھ سے لیا تو انہوں نے ہلکا سا میرا ہاتھ دبایا اور سرگوشی میں بولیں:بُری بات۔۔۔ آپ اپنی نظروں پر قابو رکھیں۔
  7. ڈااکٹر صاحب پلیز اپڈیٹ
  8. woo ya updates zara different this.. exciting v good going on

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.