Leaderboard
-
dangeroush
Active Members5Likes22Posts -
اتھرابھٹی
Previous Members4Likes388Posts -
KING👑BABA
Active Members2Likes64Posts -
Kareemjan
Cloud Basic Plus2Likes99Posts
Popular Content
Showing most liked content on 03/03/21 in Posts
-
جن زادی کے ساتھ زیادتی
1 likeیہ رات کے دو بجے کا وقت تھا ۔۔۔ پورے گاوں میں ہر طرف اندھیرا پھیل چکا تھا ۔۔۔ اور اس اندھیرے میں تین دوست گاوں کے کھیتوں میں اپنی محفل لگائے بیٹھے تھے ۔۔۔۔ وہ تینوں لڑکے روشن ، حمزہ ،اور عمران کافی پرانے دوست تھے ۔۔۔ ان تینوں سے محبت تو کوئی نہیں کرتا تھا لیکن نفرت پورا گاوں کرتا تھا۔۔۔ اور اس نفرت کے پیچھے بھی قصور ان تینوں لڑکوں کا تھا ۔۔۔۔ وہ تینوں لوفر آورارہ قسم کے لڑکے تھے ۔۔جو شراب ، سگریٹ اور ہر قسمی نشے کا شکار تھے ۔۔ اب ان سے محبت تو کوئی کر ہی نہیں سکتا تھا یہاں تک کہ ان کے اپنے گھر والے بھی ان سے تنگ تھے ۔۔ اور وہ تینوں بھی کسی کی ۔محبت کے انتظار میں نہیں تھے انہوں نے بھی گاوں سے دور کھیتوں میں اپنی ایک علیحدہ دنیا بنائی ہوئی تھی تا کہ گاوں والے انہیں تنگ نہ کریں اور وہ گاوں والوں کو تنگ نہ کر سکیں۔ ۔۔ رات کو وہ لڑکے گاوں کے کھیتوں میں بیٹھ کر ساری رات نشہ کرتے ۔۔۔ لیکن ایک بار ان کی زندگی میں ایک ایسی عجیب و غریب رات آئی کہ ان کی زندگی ہی بدل گئی ۔۔۔۔۔۔ یہ اس رات کی بات ہے جب وہ تینوں دوست کھیتوں میں بیٹھ کر نشہ کر رہے تھے ۔اور نشے میں گم تھے انہیں کسی کا ہوش نہیں تھا ۔۔ پھر اچانک کھیتوں میں کسی لڑکی کے پازیب کی آواز سنائی دی ۔۔۔ حمزہ نے پازیب کی آواز سن لی اور اپنے دوستوں سے بولا ۔۔۔۔ یار میں نے ابھی ابھی کسی لڑکی کی پازیب کی آواز سنی ہے ۔۔۔ ' روشن نے گھور کر حمزہ کو دیکھا اور لاپرواہی سے کہا ۔۔۔ تیرے کان بج رہے ہیں اتنی رات کو یہاں کون لڑکی ہو سکتی ہے کھیتوں میں ۔۔ ضرور تونے آج نشہ زیادہ کیا ہے ۔ ' حمزہ کی بات پہ روشن اور عمران کسی نے یقین نہیں کیا اور حمزہ بھی دوبارہ سگریٹ پینے میں مصروف ہو گیا یہ سوچ کر شاید واقعی آج اس نے نشہ زیادہ کر لیا ہو اس لئے اسے ایسی آواز سنائی دی ۔۔۔۔۔ وہ سب اس آواز کو نظر انداز کر ایک بار پھر سگریٹ پینے لگے ۔۔۔۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی لیکن ان سب کے جسم جیسے لوہے کے بنے ہوں انہیں کچھ محسوس ہی نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔۔ تھوڑی دیر بعد لڑکی کی پازیب کی آواز پھر سے سنائی دی ۔۔۔ اب کی بار وہ آواز تینوں دوست نے سن لی اور سب کے کان کھڑے ہو گئے ۔سب حیران ہو کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے ۔۔۔ ۔۔حمزہ فورا بولا ۔۔ دیکھا ۔۔۔ میں نے کہا تھا ناں یہاں کسی لڑکی کی پازیب بج رہی ہے لیکن میری بات کوئی سنتا ہی نہیں ۔۔۔۔۔ ' عمران نے حیرانگی سے کہا ابے یار یہاں سچ میں کسی پازیب کی آواز آ رہی ہے ۔۔۔ لگتا ہے کوئی لڑکی ہے یہاں پہ ۔۔۔۔۔ ' وہ تینوں دوست نشہ چھوڑ کر کھڑے ہوئے ۔۔۔۔ لیکن اتنی رات کو یہاں لڑکی کون ہو سکتی ہے ۔۔ کسی لڑکی کا رات کے دو بجے ان کھیتوں میں کیا کام ۔۔۔۔۔ ' روشن شیطانی مسکراہٹ سے بولا ۔۔۔۔ یہ تو اس لڑکی کو دیکھ کر ہی پتا چلے گا ۔۔۔ کہ وہ یہاں کیا کر رہی ہے ۔۔۔۔ ' وہ تینوں چلتے جا رہے تھے اور ادھر ادھر اس لڑکی کو ڈھونڈنے لگے ۔۔وہ اپنے نشے کا سامان وہیں چھوڑ کر اب صرف پازیب کی آواز والی کو ڈھونڈ رہے تھے۔۔ رات کا وقت تھا ہر طرف گھپ اندھیرا پھیل چکا تھا ۔۔۔ اور وہ تینوں لڑکے اس پازیب کی آواز کو سنتے ہوئے اس لڑکی کو تلاش کر رہے تھے ۔۔۔۔ پھر اچانک ان تینوں کو ایک درخت کے پیچھے بہت ہی خوبصورت لڑکی نظر آئی ۔۔۔۔ وہ سب حیران ہو کر اس لڑکی کو دیکھنے لگے ۔۔۔ اتنی خوبصورت لڑکی وہ اپنی زندگی میں پہلی بار دیکھ رہے تھے ۔۔۔ جانے وہ کون تھی اور اتنی رات کو کھیتوں میں کیا کر رہی تھی ۔۔۔ انہوں نے پہلے تو کبھی کھیتوں میں کوئی لڑکی نہیں دیکھی تھی ۔۔۔۔۔ عمران نے اس لڑکی کو دیکھ کر حیرانی سے کہا ۔۔۔ او تیری یہ لڑکی کون ہے اور یہاں کیا کر رہی ہے ۔۔۔ ' حمزہ نے شاطرانہ انداز میں کہا ۔۔۔۔ ابے جو بھی ہے ہمیں اس سے کیا ۔۔۔ چلو اس کے پاس چلتے ہیں اور اس سے بات کرتے ہیں ۔۔۔بہت ہی دھماکہ لڑکی ہے ۔۔۔ ایسی لڑکی تو پوری دنیا میں نہیں ہوگی ۔۔۔۔ ' حمزہ کی بات پہ وہ تینوں اس لڑکی کے پاس جانے لگے ۔۔۔ وہ لڑکی بھی ان تینوں کو دیکھ چکی تھی اور کافی حیران بھی تھی ۔۔۔۔وہ تینوں اس لڑکی کے پاس پہنچ کر بولے ۔۔۔۔۔ کون ہیں آپ اور اتنی رات کو یہاں کھیتوں میں کیا کر رہی ہیں ۔۔۔۔ ' وہ لڑکی اول تو ان تینوں کو وہاں دیکھ کر ہی کافی ڈر رہی تھی اور اب ان کے سوال سے مزید گھبرا گئی ۔۔۔۔ اور گھبراتے ہوئے بولی ۔۔۔۔ میں ۔۔۔ میں چلتی ہوں یہاں سے ۔۔۔ رات بہت ہو گئی ہے ۔۔۔ ' وہ لڑکی ان تینوں کو دیکھ کر وہاں سے جانے لگی جب عمران نے روشن کو کہنی مار کر کہا ۔۔۔ ابے یار اتنی اچھی لڑکی ملی ہے کیا اسے یونہی جانے دو گے ۔۔۔۔ اسے پکڑو آج کی رات ہم تینوں کا دل بہلائے گی ۔۔۔۔ ' حمزہ اور روشن عمران کی بات پر تیزی سے بھاگے اور اس لڑکی کے سامنے جا کر کھڑے ہو گئے ۔۔۔۔۔وہ لڑکی اس طرح اپنا راستہ روکے جانے پر حیران ہوئی ۔۔۔۔۔اور غصے سے بولی ۔۔۔۔ راستہ کیوں روکا ہے تم لوگوں نے میرا چلو ہٹو سامنے سے جانے دو مجھے ۔۔۔۔۔ ' عمران غور سے اس لڑکی کے جسم کا جائزہ لینے لگا پھر آوارگی سے بولا۔۔۔۔۔ ہٹ جائیں گے تمہارے راستے سے بھی اتنی جلدی کیا ہے ۔۔۔ زرا ہمارے ساتھ چلو ہمیں خوش کر دو پھر جانے دیں گے تمہیں ' اس لڑکی نے نظریں اٹھا کر گھورتے ہوئے ان تینوں لڑکوں کو دیکھا اور غصے سے بولی ۔۔۔۔ تم لوگ نہیں جانتے میں کون ہوں ۔۔۔ اگر تم تینوں کو پتا چل جائے میں کون ہوں تو یہاں کھڑے رہنے کی ہمت نہیں کر پاتے ۔۔۔۔ ' اس لڑکی کی بات پر وہ تینوں ہنسنے لگے۔۔۔پھر روشن بولا،چلو اب نخرے نہ کرو اور ہمارے ساتھ چلو آج کی رات ہمارے ساتھ گزارو پھر جہاں جانا ہے چلی جانا۔اب یہ نہ کہنا کہ تم شریف لڑکی ہوکیونکہ کوئی بھی شریف لڑکی اتنی رات کو کھیتوں میں نہیں گھومتی۔۔۔ روشن کی بات سن کر اس لڑکی نے کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھا اور چیخ کر بولی، مرو گے تم سب"جانتے نہیں میرے بارے میں کہ میں کون ہوں میں لڑکی نہیں ہوں میں ایک جن زادی ہوں اس لڑکی کی بات پر تینوں دوست پھر زور زور سے ہنسنے لگے اور اس لڑکی کا مذاق اڑاتے ہوئے عمران بولا۔ اچھا تو تم جن زادی ہو،اچھا طریقہ ہے خود کو بچانے کا لیکن یاد رکھو آج ہم کسی قیمت پر تجھے چھوڑنے والے نہیں ہیں۔۔۔ وہ لڑکی عمران کی بات سن کر مزید غصے میں آ گئی اور اس نے ایک زوردار تھپڑ عمران کے منہ پر مارتے ہوئے کہا،،میں نے کہا نا میں انسان نہیں ہوں،سمجھ نہیں آرہی تم لوگوں کو،جانے دو مجھے دیر ہو رہی ہے، ہٹو میرے سامنے سے۔۔ عمران ایک تھپڑ کھا کر آگ بگولا ہو گیا اور اس نے لڑکی کو ایک دھکا دیا جس سے وہ کھیتوں میں جا گری۔ روشن اور حمزہ نے اس لڑکی کوبازؤں سے پکڑ لیا اور عمران اپنے کپڑے اتارنے لگا۔۔۔وہ لڑکی زور زور سے چیخ رہی تھی لیکن روشن اور حمزہ اسے قابو کیے ہوئے تھے عمران اگے بڑھتا جا رہا تھا شیطانی مسکراہٹ اسکے چہرے پر تھی. جبکہ اس لڑکی کی آنکھوں میں خوف و ہراس پھیل گیا. روشن اور زمان نے مضبوطی سے اس لڑکی کو اپنے قابو میں کیا ہوا تھا اور زمان نے لڑکی کہ منہ پر ہاتھ رکھ کر اس کا منہ بند کیا تھا کیونکہ لڑکی زور زور سے چلا رہی تھی ہیلپ ہیلپ ہیلپ عمران ڈر بھی رہا تھا کہ کہیں کوئی آ نہ جائے کیونکہ پہلے بھی وہ چند ایسے واقعات میں پکڑا گیا تھا لڑکی اب بھی چیخ رہی تھی وہ کوشش کر رہی تھی کہ کسی نہ کسی طرح ان کے چنگل سے نکل جائے لیکن روشن اور زمان کی گرفت بہت مضبوط تھی اور روشن کا ایک ہاتھ اس کے بالوں پر تھا جس سے وہ آ ہستہ آہستہ مدھم پڑتی جا رہی تھی عمران اب بالکل اس لڑکی کے پاس آ چکا تھا اور اس کے اگلے دونوں ہاتھ لڑکی کے گالوں پر پڑنے والے تھے کہ لڑکی نے لیٹے لیٹے ایک زور کی لات عمران کو ماری جو اس کے اوپر آ رہا تھا، لات عمران کو بہت زور سے لگی اور وہ لڑکی پر آ گیا، درد کی شدت سے عمران لوٹ پوٹ ہونے لگا، ادھر روشن اور زمان اپنے ساتھی کی طرف لپکے اور لڑکی کو چھوڑ دیا جس سے لڑکی کو موقع مل گیا اس نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن اس میں طاقت نہ ہونے کے برابر تھی،اس کی آنکھوں کہ سامنے اندھیرا چھایا ہوا تھا،،، زمان اور روشن عمران کو سنبھال رہے تھے لیکن اس کی حالت بہت خراب تھی، روشن نے عمران کو سہارا دیا، زمان بولا، یار اس کو گھر لے چلتے ہیں اس کی حالت بہت خراب ہے، لیکن عمران جس کی آنکھوں میں ابھی بھی ہوس کی آگ تھی اور تکلیف میں ہونے کے باوجود بھی وہ بولا، نہیں اب میں اس کو بالکل نہیں چھوڑوں گا،اب میں اس کا وہ حال کروں گا کہ اسے اپنے آپ سے بھی نفرت ہو جائیگی، عمران کی اس بات پر زمان اور روشن کی آنکھوں میں بھی شیطانی چمک جاگ اٹھی اور وہ لڑکی کی طرف بڑھنے لگے جدھر انہوں نے لڑکی کو پھینکا تھا،،، لیکن اچانک روشن چیخ کر بولا،،، وہ دیکھو،وہاں تو لڑکی نہیں ہے زمان بولا،کدھر چلی گئی،ڈھونڈو اسے زمان کی بات سن کر روشن ادھر ادھر کھیتوں میں لڑکی کو تلاش کرنے لگا لیکن لڑکی کہیں نظر نہیں آئی جب تھک ہار کر دونوں عمران کے پاس آئے تو ان کو ایک زور دار جھٹکا لگا، عمران کی ادھ کٹی لاش کھیتوں میں پڑی ہوئی تھی سارے کپڑے پھٹے ہوئے تھے اور کٹی ہوئی گردن سے خون بہہ رہا تھا جب ان دونوں نے اپنے ساتھی کی کٹی ہوئی لاش دیکھی تو ان کا دل دہل گیا ان دونوں نے ایک بھیانک چیخ ماری اور گاؤں کی طرف دوڑ لگا دی، صبح ہونے والی تھی،دونوں بہت ڈر چکے تھے،ان کی ہمت جواب دے چکی تھی، اب ان کو یقین ہو رہا تھا کہ جس کے ساتھ ہم نے زیادتی کرنے کی کوشش کی وہ لڑکی نہیں تھی۔بلکہ ایک جن زادی تھی،اب ان دونوں کو اپنی موت یقینی نظر آ رہی تھی،دونوں کی آنکھوں سے نیند اڑ چکی تھی۔ ساری رات انہوں نے جاگ کر گزاری۔بار بار دوست کی موت کا منظر ان کی آنکھوں کے سامنے آ رہا تھا۔ جیسے تیسے رات گزر گئی، ادھر صبح جب گاؤں والوں نے عمران کی لاش دیکھی تو گاؤں میں کہرام مچ گیا، سارے لوگ بھاگے بھاگے کھیتوں کی طرف بھاگے اور عمران کی لاش کو عمران کے گھر لایا گیا،پولیس آئی لیکن کوئی نتیجہ نہ نکلا اور نہ ہی قاتل کا پتہ چلا، عمران کو قبرستان میں دفن کر دیا گیا، بات آئی گئی ہو گئی،لیکن زمان اور روشن کو پتہ تھا کہ ان کی خیر نہیں ہو گی،شام کو زمان نے روشن کو بلایا،زمان کی حالت بہت خراب تھی، ادھر روشن بھی بیمار ہو چکا تھا کیونکہ دونوں نے ساری رات نیند نہیں کی تھی ڈر اور خوف کی وجہ سے۔۔۔ زمان بولا،کیوں نہ ہم ساری سٹوری گھر والوں کو بتا دیں، روشن بولا،پاگل ہو گئے ہو،مروانا چاہتے ہو،؟ تمہیں پتہ ہے کیس پولیس کے پاس پہنچ چکا ہے،شکر ہے کہ ہم بھاگ نکلے عمران کی لاش کو چھوڑ کر، سوچو اگر ہم عمران کی لاش کو گاؤں لے جاتے تو سب کا شک ہم پر آ جاتا اور ہم بے گناہ پھنس جاتے، زمان بولا،ہاں یار یہ بات تو ہے،میں تو پہلے ہی کہ رہا تھا کہ چلو چلیں لیکن عمران نہیں مان رہا تھا، اب دیکھا؟وہ اپنی غلطی میں خود مارا گیا،کیوں نہ ہم ایک کام کریں؟ روشن بولا,کونسا تو زمان بولاکیوں نہ ہم تھانیدار کو ساری سٹوری بتا دیں جو ہمارے ساتھ کل رات پیش آیا، لیکن روشن بولا,کیا تھانیدار ہماری بات مانے گا؟؟؟ تو زمان بولا،کیوں نہیں مانے گا۔بات کرنے میں کیا حرج ہے،بات کر کے دیکھ ہی لیتے ہیں صبح۔ روشن بولا ٹھیک ہے۔ دونوں اپنی راہ ہو لیے یہ اقرار کر کے کہ صبح تھانیدار کو ساری حقیقت بتا دیں گے لیکن ان کو کیا پتہ تھا کہ صبح ایک بھیانک خطرہ ان دونوں کی زندگی کو جہنم بنانے والا ہے۔۔۔ دونوں اپنے گھروں کو چل دیے، شام ہونے کو تھی، زمان گھر میں داخل ہوا تو گھر میں کہرام برپا تھا، زمان کے بھائی کا تین سالہ بیٹا گھر سے غائب تھا سب اسے ڈھونڈنے میں لگے تھے لیکن نہیں مل رہا تھا، آ گئے لوفر کہیں کے، زمان کا بڑا بھائی بولا، اب بچے کو ڈھونڈو میرا منہ کیا دیکھ رہے یو، زمان بچے کو ڈھونڈنے لگ گیا، وہ عشاء تک بچے کو ڈھونڈتے رہے لیکن بے سود، زمان کو اب شک ہونے لگا تھا کہ کچھ گڑ بڑ ہے کیونکہ اتنا چھوٹا بچہ کدھر جا سکتا ہے جو چل بھی نہیں سکتا۔۔۔ اچانک باہر شور شرابہ شروع ہو گیا۔ سب باہر کی طرف بھاگے،باہر نکلے بہت سارے لوگ جمع تھے،،، ایک بندے نے ہاتھ میں چھوٹا بچہ اٹھا رکھا تھا، ارے یہ کیا،یہ کیسے،کدھر ملا او میری جان زمان کا بھائی چیخنے لگا،، سب کے رونگٹے لگ گئے اور گھر کے سارے فرد غم سے نڈھال ہو گئے، ایک بندہ بولا، جی یہ بچے کی لاش ایک گٹر میں تھی،بہت رو رہا تھا لیکن لگتا تھا کسی نے نیچے پاؤوں سے پکڑا ہوا تھا، ہم بھاگے لیکن کسی نے گٹر کے اندر کھینچ لیا اور تھوڑی دیر بعد لاش پھر اوپر آ گئ۔۔۔ سب پر ہو کا عالم تھا سب کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔ بچے کی لاش کو گھر لایا گیا تو اندر بھی قیامت کا منظر تھا، بچے کی ماں یہ دیکھ نہ سکی،ایک چیخ ماری اور وہاں گر گئی، اس کو بے ہوشی کی حالت میں اٹھا یا گیا اور بچے کو بھی گھر لایا گیا،اس کو نہلایا گیا بچے کی ماں کو ہسپتال لایا گیا،لیکن وہاں ایک قیامت کا منظر تھا،،، بچے کی ماں دم چوڑ چکی تھی، ماحول بدل چکا تھا۔جن زادی کی وجہ سے تین لاشیں گر چکی تھیں،تین دوستوں کی غلطی نے ایک ہنستے بنستے گھر میں صف ماتم بچھا دی تھی۔ غلطی جن زادی کی نہیں تھی۔غلطی ہوس کے مارے تین دوستوں کی تھی جن میں ایک عمران اپنے انجام کو پہنچ چکا تھا،دوسرے زمان کے گھر میں آدھی رات کو قیامت کا منظر تھا اور تیسرا روشن گھر میں آرام سے سو رہا تھا، بچے کی ماں کی لاش کو گھر لایا گیا، صبح اس کو بچے کے ساتھ دفن کیا جانا تھا زمان کی بہت بری حالت تھی۔وہ بار بار روئے جا رہا تھا،وہ خود پر لعنت کر رہا تھا،اسے لگ رہا تھا چھوٹے بچے کی اور اس کی ماں کی موت اس کی وجہ سے ہوئی ہو، وہ اپنے بھائی کو کیا منہ دکھائے گا۔۔۔ وہ بہت دیر سے رو رہا تھا،اور یوں روتے اسے نیند آ گئی لیکن رات کے کسی پہر اس کی آنکھ کھل گئی۔ اسکو یوں لگا جیسے جن زادی اس کے خواب میں آئی ہو اور بول رہی ہو کہ ایسے کیسے سو گئے، ابھی تو میں نے تجھے تیری ماں کا غم دکھانا ہے، ابھی تو تجھے اپنے والد کا جنازہ اٹھانا ہے، اسکے بعد تجھے تڑپاؤں گی،ابھی تو تیرا دوست بھی باقی ہے جس کو تیری بھیانک موت کی خبر سننی ہے،تم دونوں اتنی جلدی عمران کی موت بھول گئے، یہ سب وسوسے زمان کے ذہن میں آ رہے تھے اور وہ پھر رونے لگ گیا،،، اسے کیا پتہ تھا کہ ان پر قیامت تو اب آئے گی۔۔۔ صبح بچے اور اس کی ماں کو دفن کر دیا گیا،ہر ایک کی آنکھ اشکبار تھی سب رو رہے تھے۔ زمان کو بخار چڑھ چکا تھا،اس نے صبح سے کسی سے بات نہیں کی تھی اور نہ ہی کچھ کھایا پیا تھا،روشن کو صبح فوتگی کا علم ہوا،وہ زمان کے گھر آیا، تعزیت کی اور زمان کے کمرے میں پہنچ گیا،زمان کمرے میں ایک طرف بیٹھا ہوا تھا،روشن اس کے پاس جا کر بیٹھ گیا،اور دھیمی آواز سے بولا،، یار بہت افسوس ہوا مجھے،یقین مانو جب سے یہ خبر سنی ہے مجھے تک ابھی تک یقین بھی نہیں آ رہا، روشن کی بات زمان نے سن لی تھی لیکن چپ بیٹھا تھا،،، روشن بولا، دیکھ زمان یار،کب تک یوں خود کو تکلیف دو گے،چل اٹھ اور کچھ کھا پی لے، لیکن زمان تھا کہ بولنے کا نام نہیں لے رہا تھا، روشن بہت دیر تک اپنے دوست کے پاس بیٹھا رہا اور اس سے باتیں کرتا رہا لیکن زمان توجیسے صدیوں سے خاموش ہو، آخرکار روشن گھر چلا آیا۔ جیسے تیسے کر کے دن گزر گیا اور رات ہو گئی اور یہ ان دونوں دوستوں کی زندگی کی بھیانک ترین رات ہونے والی تھی،،، روشن رات کو سونے کی تیاری کر رہا تھا کہ اسے ماں نے آ کر اطلاع دی، بیٹا گیٹ پر کوئی آیا ہوا ہے اور تمہیں بلا رہا ہے، اوکے اماں میں دیکھتا ہوں، روشن یہ بول کر گیٹ پر گیا،گیٹ کھولا، باہر ایک بندہ کھڑا تھا،بندہ بولا، تیرے دوست نے اپنی نسیں کاٹ لی ہیں اور اس کی حالت بہت خراب ہے، کیا،؟ روشن چیخ کر بولا، کدھر ہے وہ؟ مجھے لے چلو ادھر، وہ بندہ اسے لیکر ہو لیا،اس کا رخ سیدھا کھیتوں کی طرف تھا، روشن بولا،،یہ کدھر لیکر جا رہے ہو؟ زمان کدھر ہے،؟ وہ شخص بولا،وہ سامنے کھیتوں میں، روشن اس کے پیچھے چلنے لگا، وہ شخص بولا،وہ سامنے پڑی ہے لاش، روشن نے سامنے دیکھا تو زمان کی لاش پڑی تھی جس کا گلا کٹا ہوا تھا،ہاتھ کی نسیں کٹی پڑی تھیں اور سر سے خون بہ رہا تھا، روشن یہ دیکھ کر چیخ پڑا، نہیں،یہ تو نے کیا کر لیا خود کے ساتھ،اور رونے لگ گیا، اس نے نہیں بلکہ میں نے کیا ہے اس کے ساتھ، پیچھے سے آواز آئی، روشن نے پیچھے دیکھا تو وہی جن زادی کھڑی تھی،یہ دیکھ کر روشن کا دل دہل گیا، اچانک روشن کو سب یاد آ گیا،یہ تو وہی جگہ تھی جہاں انہوں نے جن زادی کے ساتھ زیادتی کی کوشش کی تھی اور جہاں عمران کو جن زادی نے مار ڈالا تھا، جن زادی روشن سے بولی، یاد کرو یہ وہی جگہ ہے،کچھ آیا یاد؟ تم لوگوں نے میرے بال پکڑے تھے میں نے تیرے دوست کا سر توڑ دیا، تیرے دوست نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا میں نے اس کی نسیں کاٹ دیں، تیرے دوست عمران کا میں نے گلا گھونٹا تھا، بچے کو میں نے گٹر میں ڈال کر مارا تھا اور بچے کی ماں کی موت بھی میرے ہاتھوں ہوئی، اب تیری باری ہے، یہ کہ کر جن زادی روشن کی طرف بڑھی،،،، جن زادی اپنا کام کر چکی تھی،اس کا انتقام پورا ہو چکا تھا،،، صبح کو جب روشن اور زمان کی موت کی خبریں ملیں تو زمان کی ماں جو پہلے سے صدمے تھیں اپنے گھر میں تیسری لاش نہ دیکھ سکیں اور کوچ کر گئیں، اسطرح ایک گھر سے دو دنوں میں چار جنازے نکلے، زمان کا باپ پاگل ہو چکا تھا،روشن کی ماں اپنے بیٹے کے غم میں دیوانی ہو گئی،وہ رات کو گھر سے نکلی اور پھر کبھی نہ آئی،،، ادھر عمران کا گھر بھی اجڑ چکا تھا، زمان ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا اور واحد کفیل تھا جس سے ان کے گھر میں فاقے آنے لگے۔۔۔ جن زادی اپنا انتقام پورا کر چکی تھی،لیکن ایک وعدہ جو اس نے زمان سے کیا تھا کہ تو اپنی ماں اور باپ کا جنازہ خود دیکھے گا وہ پورا نہ کر سکی کیونکہ زمان بالکل دیوانہ ہو گیا تھا۔اور وہ یہ صدمہ دیکھنے سے پہلے ہی چلا گیا۔۔۔ اس طرح ایک جن زادی کی وجہ سے تین خاندان برباد ہو گئے،،، غلطی جن زادی کی نہیں تھی بلکہ ان تینوں کی تھی جن کی وجہ سے سزا ان کے گھر والوں کو ملی۔۔۔ ختم شد عائشہ تاج مرتضی1 like
-
عشق دیندا ہے رولا
1 likeبہت اعلیٰ کہانی ہے میں نے پہلی دفع کوئی انسیسٹ کہانی پڑھنے کی کوشش کی پہلے جو بھی شروع کی اس میں بکواس زیادہ ملتی تھی یہ کہانی ڈھونڈتے ہوے اس فورم پر آیا لیکن یہاں بھی ادھوری لگ رہی ہے بھائی اس کی اگلی اپڈیٹ کب تک ممکن ہے۔1 like
-
عشق دیندا ہے رولا
1 likeقسط نمبر 12 تھوڑی دیر گزری تو دروازے پر ناک ہوئی میں نے بولا آجاؤ تو کمرے میں کومل داخل ہوئی۔ کومل کی عمر تقریبا22/23سال ہے اور ہماری فیکٹری کے منیجر کی بیٹی ہے کومل چھوٹی ماں کی کافی اچھی دوست ہے۔ اور اکثر چھوٹی ماں پاس آتی رہتی ہے۔ کومل واقع ہی کومل تھی تیز دودھیا رنگ جس میں ہلکاسا گلابی پن پتلے ہونٹ لمبی گردن قد اس کا تقریبا5فٹ 4انچ کے پاس ہوگا مموں کا سائز 36تھا اور پتلی کمر کے نیچے ہلکی سی باہر کو نکلی ہو ئی گانڈ۔ تھوڑی ماڈرن تھی اور پڑھی لکھی تھی کل ملا کر دیکھنے کی چیز تھی اس وقت اس نے ایک ڈارک گرین کلر کی شلور قیض پہن رکھی تھی۔ اس بار تو چھوٹی ماں نے سچ میں سراپرائس کردیا۔ اس کو دیکھتے ہی میرے جسم میں ہل چل ہونے لگ پڑی تھی۔ کومل آہستہ سے آگے آئی اور ہلکی سی آواز میں بولی مجھے سدرہ(چھوٹی ماں) نے بھیجا ہے۔ میں بولا بیٹھ جاؤ تو وہ بیڈکے کنارے پر بیٹھ گئی۔ مجھے پتہ تھا کہ کومل لڑکی ہے پہل کبھی نہیں کرے گی یہ بات مجھے ناز نے اچھی طرح سمجھا دی تھی۔میں نے پوچھا کیا حال ہے اور آج کل کیا کررہی ہو بولی کہ آج کل فارغ ہوں اور اب آپ کا آفس جوائن کروں گی۔میں نے بولا اچھی بات ہے۔ میں نے اس سے پوچھا صرف ایک سوال کروں گا بس کہ کیا تم اپنی مرضی سے آئی ہو میرے روم میں یا کوئی زبردستی ہوئی ہے تم کے ساتھ کسی قسم کا لالچ دیا گیا ہے۔سچ بتانا باقی میں سنھبال لوں گا۔ ایک بار تو اس نے نظر اٹھا کر مجھے دیکھا پھر آہستہ سے بولی ایسی کوئی بات نہیں میں کسی لالچ میں نہیں آئی سدرہ نے مجھے بولا تو میں اس کو منع نہیں کرپائی۔اس کی اور میری دوستی ہی ایسی ہے۔میں بولا ٹھیک تم کو کسی قسم کا کوئی اعتراض تو نہیں بولی نہیں میں اپنی مرضی سے آپ کے روم میں آئی ہوں۔ میں کنفرم کرنا چاہتا تھا کیونکہ میں سردار تھا ہر قدم پھونک کر رکھنا تھا ویسے چھوٹی ماں نے سب چھان پھٹک کر ہی بھیجا ہوگالیکن میں پھر بھی کوئی رسک نہ لینا چاہتا تھا۔ میں بولا پھر اتنی دور کیوں بیٹھی ہوپھر وہ اٹھی اور میرے پاس آگئی۔ میں اٹھ کھڑا ہوا اوراس کا ہاتھ پکڑ لیا بیڈ سے اٹھا کر کھینچ کر اپنے گلے لگا لیا وہ میرے گلے لگ گئی میں نے اس کے منہ کو پکڑا اور اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پررکھ دیے جس کے لیے مجھے تھوڑا سر نیچے کرنا پڑا کیونکہ اس کا قد چھوٹا تھا اس کے ہونٹ کمال کے تھے نرم و نازک وہ بھی میرا بھر پور ساتھ دے رہی تھی اور میرے ہونٹو ں کو کسی ایکپرٹ کی طرح زور زور سے چوس رہی تھی میں نے اس کی نرم گانڈ پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیے اور کسنگ جاری رکھی کوئی بھی ہونٹ چھوڑنے کو تیا رنہ تھا۔ آخر جب سانس پھولنے لگی تواس نے ہونٹ الگ کرلیے ایسی کسنگ کا مزا تو ناز نے بھی نہیں دیا تھا۔ میں نے اس کی قمیض پکڑی اور اتاردی ساتھ ہی برا بھی اتار دی اس کے 36سائز کے ممے اچھل کر باہر آگئے جیسے کسی نے زبردستی قید میں رکھا تھا اس کے ممے بڑے نرم تھے جیسے روئی ہو اس پر ہلکے پنکش نپل تھے جو مٹر کے دانے کے جتنے تھے۔ میں نے کومل کو اٹھاکر بیڈپر پھینکا اپنی شرٹ اتار کر اس پر سوار ہوگیا اور اس کے مموں پر ٹوٹ پڑا ایک ہاتھ سے مسلتا اور دوسے کو منہ میں بھرتا جتنا ہوتا اس کے منہ سے سسکاریاں نکل رہی تھیں میں نے 15منٹ اس کے ممے چوس چوس کر اور ہلکے ہلکے کاٹ کر لال کردیے تھے ان پر ہلکے ہلکے نشان تھے کاٹنے کے میرا دل نہیں بھر رہا تھا اس کے ممے تھے ہی ایسے پھر میں نیچے آنا شروع ہوا اس کے پیٹ پر چومنا شروع کردیا اور ناف میں زبان گھسا کر جب چاٹا مارا تو اس کا جسم اکڑا اور اس نے پانی چھوڑ دیا شاہد یہ اس کا ویک پوائنٹ تھا۔ لمبے لمبے سانس لینے لگی۔ بولی مزا آگیا ایسا مزا پہلی بار آیا ہے اس کا مطلب تھاکہ کومل کنواری نہ تھی پہلے بھی چدوا چکی ہے تب ہی شاہد چھوٹی ماں کے بولنے پر مان گئی تھی۔ بولی اب میری باری ہے تم کو مزا دینے کی مجھے دھکا دے دیا میں لیٹ گیا۔ وہ میرے اوپر آگئی اور میرے ہونٹ چوسنے لگ پڑی پھر میرے سینہ کو چوسنا شروع کردیا میں نپلز پر زبان پھیری تو میری تو جیسے مزے سے جان ہی نکلنے والی ہوگئی پھر وہ نیچے آئی ابھی تک اس نے میرے لن کو نہیں پکڑا تھا اب اس نے میرا لن کو ٹراؤزر کے اوپر سے ہی پکڑ لیا لیکن جیسے ہی پکڑا حیرانی سے فوراً چھوڑ دیا اور جلدی سے ٹراؤزر نیچے کیا تو میرا لن پھنکاراتا باہر آیا اس نے پہلے تو ہاتھ میں پکڑا اور زور سے دبایا کہ شاہد اصلی نہیں ہے پھر اس کے منہ سے نکلا اتنا بڑا اس کی آنکھوں کی چمک بتا رہی تھی اس کو میرا لوڑا بہت پسند آیا ہے۔اس نے فوراً میرے لن پر تھوک پھینکا اس پر مل دیا پھر اس کو منہ میں بھر لیا جتنا ہوسکتا تھا اور اس کو چوسنا شروع کردیا موٹائی زیادہ ہونے کی وجہ سے زبان سے رگڑ تو نہ لگاپائی لیکن اس نے ایسا چوسا کہ مزے سے میرے آنکھیں بند ہوگئی اور منہ سے سسکاریا ں اور مزے کے مارے آوازیں نکل رہی تھیں وہ کبھی میرا لن منہ میں ڈال کر چوستی کبھی ہاتھ چلاتی کبھی میرے ٹٹوں کو چوستی۔ مجھے لگا یہ ناز تو اس کے سامنے کچھ بھی نہیں لگتا ہے اس کا کام ہی چدوانا ہے۔ لن چوس چوس کر جب تھک گئی تومیرالن منہ نکالااور بولی تم فارغ کیوں نہیں ہورہے میرا منہ تھک گیا ہے میں بولا پچپن کی محنت ہے اس کے ساتھ ہی میں نے اس کے پکڑ کر لٹا لیا ا ور اس پر ٹوٹ پڑا ہونٹ چوسے پھر اس کے مموں کو کچھ دیر چوسا پھر اس کی شلوار اتار ی اس نے گانڈ اٹھا کر شلوار کو پاؤں سے نکالا۔ اس کی پھدی بالکل صاف تھی جیسے ابھی صاف کرکے آئی ہواس کی پھدی سے مست قسم کی خوشبو آرہی تھی مجھ سے رہا نہ گیا اور میں بھی پھدی پرٹوٹ پڑا اور ایک انگلی اس کی پھدی میں داخل کر کے آگے پیچھے کرنے لگا اور ساتھ میں اس کا دانہ چوسنے لگا تو اس کی آواز سسکیوں کی جگہ چیخوں میں بدل گئی اس کو بہت مزا آرہا تھا میرا یہ وار وہ سہ نہ پائی اور جلدہی پانی چھوڑ دیا جو میں نے پی لیا پہلی بار جب ناز کا پانی پیا تھا تو عجیب سا لگا تھا اب کومل کا پیا ہے تو بہت مزا آیا اس کی پھدی کو چاٹ کر صاف کردیا۔کومل بولی میں تو تم کو مزے کروانے آیا تھی تم نے مجھے ہی مست کردیا ہے میں نے بولا اصلی مزا تو ااب آئے گا اور اپنا لن اس کے منہ کی طرف کردیا اس نے منہ میں لیا اور تھوڑا ساچوسا پھر اس پر تھوک پھینک دیا پھر میں اس کی ٹانگوں کی طرف آیا اور اس کی ٹانگیں اٹھا کر لیں بولی آہستہ کرنا اتنا بڑا کبھی نہیں لیا میں نے۔ میں نے لن اس کی پھدی پر رکھا اور پھیرا تو اس کی سسکی نکل گئی بولی اب ڈال دو انتظار نہیں ہورہا۔ میں نے بھی لن اس کی پھدی کے سوراخ پر رکھا اور ایک ہلکا دھکا مارا جس سے میرا لن تین انچ تک اندر چلا گیا ا س کی ہلکی سی چیخ نکل گئی میں رک گیا پھر ایک دھکا مار اتو میرا آدھا لن اس کے اندر چلا گیا اس نے ایک زور دار چیخ ماری میں رک گیا اور اس کے اوپر جھگ گیا اور اس کے مموں کو منہ میں بھر لیا چوسنے لگ پڑا تھوڑی دیر بعد اس نے گانڈ ہلائی تو میں نے بھی آہستہ سے باہر نکال کر ہلکے دھکے لگانے شروع کردیے سپیڈ سلو رکھی۔اس کی سسکیاں بلند ہو رہی تھیں اس کی پھدی ناز کی پھدی سے ٹائٹ تھی لیکن اتنی ٹائٹ نہ تھی اب کومل بھی میراساتھ دے رہی تھی میں نے آدھے لن سے ہی چدائی جاری رکھی 10منٹ کے بعد اس کے جسم نے اکڑنا شروع کیا میں نے اس کے ہونٹو ں کو منہ میں بھر لیا اس کے اوپر لیٹ گیا اب وہ میرے نیچے تھی میں نے لن سارا باہر نکالا صرف ٹوپی اندر رکھی اور ایک زور دار دھکا مارا جس سے میرا سارا لن اس کے اندر جڑ تک گھس گیا اس نے زور سے چیخ ماری جو کہ میرے منہ میں ہی رہ گئی اس نے جھٹکے کھانے شروع کردیے۔ میں اس کے اوپر لیٹا رہا کومل کی آنکھوں میں آنسو تھے میں نے اس کے آنسو کو چاٹ کر صاف کیا اور اس کے مموں کو چوسنا شروع کردیا کچھ دیر بعد کومل نارمل ہوگئی میں نے آہستہ سے لن باہر نکالا اور اندر ڈال دیا جس سے کومل کی سسکاری نکل گئی۔ کومل بولی میری جان نکال دی تم نے کوئی ایسا بھی کوئی کرتا ہے میں بولا کیا کرتا پورا تو ڈالنا ہی تھا۔ بولی تو آرام سے ڈالتے نہ میں نے کہا اب سارا چلا گیا ہے بولی سچ میں بولا ہاں بولی مجھے یقین نہیں ہورہا میں نے کہا چیک کرلو اس نے ہاتھ نیچے لے جا کر دیکھا بولی واہ میں اب آہستہ آہستہ دھکے لگانے شروع کردیے تھے۔ کومل بولی آہستہ اف آرام سے کرو پھر بولنے لگ پڑی مزا آرہا ہے تیز کرو میں نے بھی رفتار بڑھا دی جتنا ہوسکتا تھا اتنی تیزی سے دھکے لگانے لگ پڑا اس کی سسکیاں بلند ہوچکی تھیں پھراس کا جسم اکڑنا شروع ہوگیا میرے لن پر گرم گرم پانی محسوس ہوا لیکن میں نے دھکے جاری رکھے تو کومل نے چیخنا شروع کردیا۔ لیکن میں نہ رکا میری رفتا ر طوفانی ہوچکی تھی کومل نیچے سے نکلنا چاہتی تھی لیکن میں نے اس کوقابو رکھا اور دھکے جاری رکھے پھر آخری جھٹکا مارا اور اس کے اوپر لیٹ گیا۔ میرے لن سے پچکاریاں نکل نکل کر اس کے پھدی کو بھر رہیں تھیں جب آخری قطرہ نکل گیا تو میں اس کے اوپر اٹھ گیا تو پھدی سے اس کااور میرا پانی اور تھوڑی سی لالی نکل نکل کر نیچھے گر رہی تھی۔ اور اس کی پھدی کھل بند ہو رہی تھی۔ میں سائیڈ لیٹ گیا سانس بحال کیا اٹھا اور کومل کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھو ں جاری تھے میں جلدی اٹھا فریج سے جوس نکال اور اس کی طرف بڑھا اور اس کو اٹھا کر پلایا اور اس کو سوری بولا تو بولی تم نے مجھے زندگی کا مزا دے دیا سوری کیوں بول رہے ہو بول مجھے تو بہت مزا آیا ایسی چدائی کبھی زندگی میں نہیں ہوئی میں بولا تو تم رو کیو رہی ہو بولی انسان ہوں درد تو ہوتی ہے تم نے تو میرا اندر ہلا کررکھ دیا ہے بہت درد ہوا لیکن اس درد میں جو مزا ملا اس کو کبھی نہیں بھولوں گی تم کی جو تعریف سنی ہے اس سے بڑھ کر پایا میں بولا ہیں میری تعریف کس نے کر دی بولی سدرہ نے کی ہے میں بولا انہوں نے کب دیکھا بولی ان کو ناز نے بتایا تھا تم کے لن کے بارے تم کے سٹیمنے کے بارے میں تم کی چدائی کے بارے میں جب سدرہ نے مجھے سے بتایا تو مجھ سے رہا نہ گیا میں نے ان کے سامنے خواہش کی تم سے چدنے کی میر ی ان کی دوستی ایسی ہے کہ وہ منع نہ کرسکیں۔ مجھے اب معلوم ہوا اصل بات کیا تھی خیر میں نے بھی جوس پیا۔ میں نے بولا چلو دوسرا روانڈ سٹارٹ کرتے ہیں بولی نہیں ابھی کچھ دیر رک جاؤ تم کو برداشت کرنا اتنا آسان بھی نہیں جتنا تم سمجھ رہے ہو۔ وہ اٹھی اور لنگڑاتی ہوئی باتھ روم گئی فریش ہونے پھر میں گیا واش روم وہ نہا رہی تھی میں بھی اس کے ساتھ کھڑا ہوگیا اور اس کو اپنی طرف پلٹ کر کسنگ کرنا شروع کردی وہ بھی میر ا ساتھ دینے لگ پڑی پھر اس کے مموں سے کھیلنا شروع کردیا اس نے سسکنا شروع کردیا پھر میں نے اس کو پکڑ کر اپنے لن کی طرف سے کیا جو کہ کھڑا ہوچکا تھا اور جھٹکے لگارہا تھا میں کموڈ پر بیٹھ گیا تو کومل نے لن منہ لیا اور چوسنا شروع کردیا اس کا چوپاکمال کا تھا مجھے بہت مزا آرہا تھا میں نے اس کے منہ میں دھکے لگانے شروع کردیے جس سے اس کی رال بہ رہی تھی اور اس کے منہ سے گھو گھو کی آواز نکل رہی تھی۔ میں نے لن اس کی منہ میں دبایا جتنا جاسکتا تھا اور روک لیا دو چار سیکنڈ روکا پھر نکالا تو اس کی کھانسی نکل گئی میں رک گیا پھر اس کو میں نے گھوڑی بنا دیا کومل کموڈ پکڑ کر جھگ گئی میں نے لن اس کی پھدی کے سوراخ پر رکھی اور ایک جاندار دھکا مارا میرا آدھے سے زیادہ لن اس کی پھدی میں چلا گیا اس منہ سے چیخ نکلی میں نے ساتھ ہی دوسرا دھکا مارا میرا پوا لن اس کے اندر تھا پھر میں نے تیز رفتار دھکے لگانے شروع کردیے اس کی چیخے نکل رہی تھی میں نے کوئی پرواہ نہ کی پھر مجھے لن پر گرم پانی محسوس ہوا لیکن میں نہیں رکا وہ نیچے گرنی لگی میں نے اسے کو پلٹا کر گود میں اٹھا لیا اور لن اس کی پھدی میں ڈال دیا اور اس کو چودتا چودتا کمرے میں لے گیا اس کوبیڈ پر گھوڑی بنایا اور لن اس کی پھدی میں ہی رکھا اور چودنا شروع کردیا تھوڑی دیر بعد پھر اس کا پانی مجھے اپنے لن پر محسوس ہوا میں نے لن نکال لیا لن پہلے ہی اس کے پانی سے چکنا ہوچکا تھا میں نے لن اس کی گانڈ پر رکھا اور ایک زور سے دھکا مار اجتنی میری جان سے لن اس کی گانڈ چیرتا ہوا جڑ تک گھس گیا اس نے ایسی چیخ ماری کے بس میں اور لیٹ گئی نے اس کو قابو کر لیا اور اس کو چودنا نہ چوڑا وہ نیچے سے نکلنا چاہتی تھی لیکن مجھے پتہ لگ چکا تھا اس کو رف چدائی پسند تھی اس لیے میں رکا نہیں اس کو چودتا رہا وہ چیختی رہی کہ میری پھدی مار لو گانڈسے نکال لو تم کا بہت بڑا ہے لیکن میں نے ایک نہ سنی اور گانڈ مارتا رہا پھر کچھ دیر گزری تو کومل کو بھی گانڈ مروانے میں مزا آنے لگ پڑا اور اس نے بھی گانڈ کو اٹھا نا شروع کردیا لیکن کچھ دیر بعد پھر پانی نکال چکی تھی 45منٹ ہو چکے تھے گانڈ مارتے ہوئے کومل نیچے دم سادھے لیٹی پڑی تھی اور سسک رہی تھی پھر مجھے بھی اپنا وقت قریب محسوس ہوا میں نے بھی رفتا ر طوفانی کرتے ہوئے دھکے لگانا شروع کردیا 5منٹ بعد میرے لن نے اس کی گانڈ بھرنا شروع کردی جب لن خالی ہوا تو اس کے اوپر سے اترا میں اس وقت پسینے سے بھیگ چکا تھا حالانکہ کے ائیر کنڈیشن چل رہا تھا جیسے ہی لن اس کی گانڈ سے نکلا تو پھک کی آواز آئی اور اس کی گانڈ میں بڑا ہول بنا ہوا تھا اور میرا مال اور خون اس کی گانڈ سے باہر نکل نکل کر نیچے بیڈ پر گررہے تھے۔ پھر میں اٹھا اس کو اٹھا کر واش روم لے گیا خود بھی نہایا اس کو بھی صاف کیا کومل ابھی تک کچھ نہ بولی تھی پھر اس کو صوفے پر بیٹھا کیونکہ بیڈ پر اس کا اور میرے مال سے شیٹ بھری ہوئی تھی میں نے فریج کھو لا اور ایک ملک شیک نکال جگ اور دو گلاس لیے اور کومل کے پاس صوفے پر بیٹھ گیا گلاس میں جوس ڈال کر اس کو دیا اس نے خاموشی سے پی لیا میں بولا سوری یار لگتا مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا لیکن تم کی مست گانڈ دیکھی تو نہیں رہا گیا بولی کوئی بات نہیں جب تم سے چدنے کا شوق ہوا ہے تو گانڈ مروانے سے کیا ڈرنا میرا پورا جسم درد کررہا ہے لیکن جو مزا آیا و ہ بیان سے باہر ہے میں سوچ رہا تھا عجب پاگل لڑکی ہے اتنی بری طرح چدی ہے پھر بھی اس کو مزا آیا پھر مجھے ناز کی باز یاد آئی لڑکی جتنا زبردست چدے گی اتنا ہی اس کو مزا آئے گا۔ بولی اب تو تم کی غلا م بن چکی ہوں کبھی کبھی مجھے بھی خیرات دے دیا کرنا میں بولا کیسی بات کرتی ہوجو مزا تم نے مجھے دیا ہے وہ میں بھلا بھول سکتان ہوں اور تم جیسا نشیلا جسم بھلا میں بھول سکتا ہوں بولی اب دوستی پکی میں نے بولا ابھی بھی کوئی گجائش ہے پکی دوستی بولی بس پھر دیکھتے جاؤ یہ دوست تم کے لیے کیا کیا کرتی ہے میں بولا اچھا جی۔ اسی طرح کی باتیں چلتی رہی پھر بولی میں چلتی ہوں صبح ہونے والی ہے میں نے ٹائم دیکھا تو جم جانے کا ٹائم ہوگیا تھا وہ اٹھی اور لڑکھڑا کر گرپڑی بولی بہت ہی ظالم ہو بے حال کردیا لیکن مزا آیامیں نے ایسی چودائی تو خوابوں میں بھی نہیں سوچی تھی۔جیسے تیسے کر کے باہر نکل گئی میں بھی اٹھ کر جم چلا گیا۔1 like
-
عشق دیندا ہے رولا
1 likeقسط نمبر11 ان کے گھر پہنچا جیسے ہی گیٹ پر گاڑی کا ہارن دیا تو چوکیدار نے فوراً گیٹ کھول دیا میں گاڑی سیدھے اندر لے گیا۔ ان کا گھر بھی ایک بڑی حویلی پر مشتمل ہے ایک طرف لان ہے ایک طرف کمرے بنے ہوئے ہیں جن کے سامنے بڑا سا برآمدہ ہے اور باقی اپر منزل پر بھی کافی کمرے ہیں پچھلی طرف نوکروں کے کوارٹر بنے ہوئے ہیں۔ جیسے کہ میں پہلے بتا چکا ہوں ان کی فیملی میں ان کی بیوی مسرت، بیٹیاں نوشین، شہناز، عظمیٰ اور بیٹا علی ہے۔ چچی مسرت ایک ہاؤس وائف ہیں ان کی عمر 42سال ہے وہ پڑھی لکھی نہیں ہیں گاؤں کی ہی ہیں لیکن گاؤں کی ہونے کی وجہ سے بہت ہی سلم سمارٹ ہیں لیکن جو سب سے خاص بات ان میں ہے وہ ہے ان کے ممے۔ ہماری پوری فیملی میں سب سے بڑے ممے ان کے ہیں 42تو ہونگے ہی۔ اور یہی خاص ان کی بیٹیوں میں بھی ہے ہیں وہ بھی سب سلم سمارٹ لیکن ان تینوں کے ممے بھی اپنی ماں کی طرح بڑے بڑے ہیں لیکن وہ بھی چچی کا مقابلہ نہیں کرسکتی ہیں۔ بڑی بیٹی نوشین اس کی عمر 22سال ہے وہ بھی اپنی امی طرح خوبصورت اور سلم سمارٹ ہیں لیکن ماں کے بعد مموں میں اس کا نمبر بھی دوسرا ہی آتا ہے۔ اس نے ابھی حال ہی میں گریجویشن مکمل کیا ہے آج کل وہ گھر میں ہوتی ہیں تھوڑی سیریس ٹائپ کی ہیں۔پھر ان کی بیٹی شہناز اس کی عمر 21سال ہے اس نے بھی گریجویشن مکمل کرلیا ہے اور وہ انوشے کے ساتھ آج ہی ہاسٹل سے واپس آئی ہے وہ بھی سلم ہیں لیکن اس کی گانڈ اور ممے اتنے ہی بڑے ہیں جو کہ اس کی کمر کو ایک کمان کی شکل دیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ چلتی پھرتی آئٹم بم لگتی ہے لیکن اس کی سب سے خاص بات اس کے چہرے کی مصومیت تھی ایسا لگتا تھا کہ چھوٹی سی بچی ہے لیکن ممے اور گانڈ یکھ کر لگتا ہے کہ پوری مکمل عورت ہے۔ یہ بھی تھوڑی سریس ٹائپ ہیں۔ پھر ان کی بیٹی عظمیٰ ہے اس کی عمر 17سال ہے اب سوچ رہے ہوں گے بڑی بہنوں میں ایک سال کا فرق چھوٹی بہن میں اتنا فرق تو ان کے دو بیٹے ہوئے تھے لیکن وہ دونون زندہ نہ رہ پائے پیدا ہوتے ہوئے فوت ہوگئے تھے نوشین ابھی پڑھ رہی ہے سیکنڈ ائیر میں اس کا جسم اور عائشہ کا جسم تقریباً ایک جیسا ہے۔ لیکن اس کے ممے عائشہ کے مموں سے بڑے ہیں یہ تو باتوں کی مشین ہے اور چلبلی ہے۔ پھر بیٹا علی ہے جو کہ 14سال کا ہے۔ اس نے ابھی میٹرک پاس کیا ہے۔اگر وہ میری عمر کا ہوتا تو مقابلہ میں حصہ لیتا لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ میں گاڑی سے اتر کر باہر نکلا تو پوری فیملی میں استقبال میں کھڑی تھی میں سب سے پہلے چچا سے ملا انہوں نے مجھے گلے لگایا پھر چچی سے ملا تو انہوں نے بھی گلے لگایا اور پیا ر کیا ان کے بڑے ممے میرے سینے میں دھنس گئے تھے میں جلدی سے پیچھے ہٹ گیا پھرعظمیٰ سے ملا وہ چچی کے بعد کھڑی تھی تو بولی آخر ہمیں ہی آپ کو اپنے گھر دعوت دے بلوانا پڑا ادھر آنا تو شاہد آپ کی شان کے خلاف ہے۔میں ہنس پڑا بولا نہیں ایسی کوئی بات نہیں آپ کو پتہ ہی ہے کہ میں یہا ں تھا ہی نہیں ٹریننگ پر گیا ہوا تھا پھر آتے ہی مقابلے شروع ہوگئے ابھی ہی فری ہوا ہوں بولی مقابلے تو پچھلے ہفتہ ختم ہو گئے تھے اور آپ سردار بھی بن گئے لیکن آپ نے ایک دفعہ بھی چکر نہیں لگایا میں بولا بس مصروف تھا اب لگاتا رہوں گا اتنے میں نوشین بولی بس بھی کرو باتونی مشین ہم سے بھی ملنےدو وہ بولی میں کوئی اتنا زیادہ بولتی ہوں میں بولا نہیں نہیں بس ایک بار شروع ہوجاؤ تو نان سٹاپ لگی رہتی ہو اس نے منہ پھلالیا سب ہنس پڑے پھر نوشین سے ملا اس نے ہاتھ ہی ملایا پھر شہناز سے ملا اس نے بھی شیک ہی کیا۔ لاسٹ میں علی تھا اس کے گلے ملا اس کا حال چال پوچھا۔ پھر سب اندر چلنے لگے تو میں گاڑی کی طرف آیا چچا بولے یہیں سے واپس جانا ہے کیا میں بولا نہیں ایک منٹ بس آیا پھر میں نے ان کی فیملی کے لیے جو گفٹ لیے تھے وہ اٹھائے اور ان کے پیچھے چل پڑا سب سے پیچھے شہناز تھی اس کی گانڈ سب سے بڑی لگ رہی تھی لیکن وہ بھی چچی کی گانڈ کا مقابلہ نہیں کرپارہی تھی لگتا ہے چچی صرف گانڈ ہی مرواتی ہے صبح شام۔ خیر سب اندر داخل ہوئے ایک ہا ل ٹائپ کمرہ تھا سب وہاں بیٹھ گئے صوفوں پر چچی کچن میں چلی گئی دیکھنے کہ کھانا تیار ہے کہ نہیں میں نے سب کے لیے گفٹ نکالے او ر دے دیے۔ سب نے تھینک کہا سب کے لیے گولڈ کی چین تھی چچی آئی اس کو بھی دے دی۔علی کے لیے نیو پلے سٹیشن لایا تھا۔ انکل کے لیے میں پسٹل لایا تھا تو علی بولا میرے لیے بھی پسٹل لانا تھا میں بولا ٹھیک ہے اگلی بار آپ کو بھی پسٹل دوں گا۔ سب کو سوٹ بھی دیے۔ چچی بولی ان سب کی کیا ضرورت تھی میں بولا تو آپ نے مجھے گفٹ دیے اس کی کیا ضرورت تھی ویسے بھی میرا بھی اتنا ہی حق ہے آپ پر جتنا آپ کا مجھ پر ہے۔ پھر میں نے شہناز کو اس کے پیپر کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا بہت اچھے ہوئے ہیں۔ خیر ویسے ہی باتین چلتی رہی پھر کھانا لگ کیا۔سب نے کھانا کھایا پھر سب بیٹھ کر گپیں مارتے رہے چچی بولی بیٹا اب تو تم سردار بن گئے ہو پڑھائی بھی پوری ہوگئی ہے شادی کب کر رہے ہو میں بولا ابھی تو کوئی ارادہ نہیں ہے۔اور نہ ہی کوئی لڑکی ہے جس سے کروں چچی بولی تم ہاں تو کرو لڑکیاں تو لائن میں لگ کر تم سے شادی کریں گی کو ن ہے جو تم سے شادی نہ کرنا چاہے گامیں بولا ابھی تو کوئی لڑکی بھی نہیں ہے جب ہوئی تو دیکھوں گا بولی کیسی لڑکی چاہیے میں بولا بالکل آپ جیسی جب میں یہ بول رہاتھاتو میری نظریں ا س وقت ان کے مموں پر چلی گئی جس کو انہوں نے دیکھ لیا تھا چچی بولی اچھا میرے جیسی کیوں تم تو سردار ہو پڑھے لکھے ہو۔ اور بہت خوبصورت ہو تم کو تو پڑھی لکھی اور خوبصورت لڑکی سے شادی کرنی چاہیے میں بولا جو زیادہ پڑھ لکھ جاتی ہے وہ خاوند کی خدمت نہیں کرتی آپ جیسی ہوگی میری خدمت تو کرے گی تو چچی بولی کون سی خدمت کروانی ہے تمہارے نوکر نوکرانیاں تھوڑے ہیں کیا میں بولا نہیں جو بھی میرا کام ہوگا اس کو خود کرنا پڑے گا۔ بولی اچھا میں بولا کوئی ہے ایسی آپ کی نظر میں ہو جو آپ کی طرح خوبصورت بھی ہو اور خدمت کرنا بھی جانتی ہو۔ آپ نے تو چچا سے شادی کرلی ورنہ آپ سے کرلیتا میں تھوڑا لیٹ ہوگیا۔ تو سب ہنس پڑے چچا بولے یار کہیں میری بیوی نہ بھگا کر لے جانا میں بولا نہیں ایسا نہیں کرتا یہ تو میری پیاری چچی ہیں بس ان کے جیسی لڑکی ہونی چاہیے۔ عظمی بولی میں انکی کاپی ہوں مجھ سے شادی کرلو تو سب ہنس پڑے میں بھی ہنس پڑا میں بولا اچھا تو تم مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہو بولی ہاں کرلو میں بولا میں نے چچی جیسی بولا ہے چچی کے الٹ باتونی مشین نہیں تو منہ پھلا لیا بولی نہیں کرنی تو نہ سہی سب ہنس پڑے۔ اسی طرح ہنسی مذاق چلتا رہا پھر اجازت چاہی اور دوبارہ جلدی آنے کا وعدہ کر کے چل پڑا اور چچی کو بولا میرے لیے پھر کوئی لڑکی ڈھونڈ رکھو جلدی اگلی باری آؤں گا تو لڑکی سے ملوں گانہ ملے تو پھر آپ کو ہی لے جاؤں گا۔ اور وہاں سے بھاگ گیا۔ پھر گاڑی اسٹارٹ کی اور چل پڑا گھر کی طرف لیکن گاڑی میں بیٹھا تو صبح والا واقعہ یاد آگیا کہ عائشہ اور نور کا سامنا کیسے کروں گا۔ پھر سوچا ان کے پاؤں میں بیٹھ جاؤ ں گا پھر وہ جو سزاد یں گیں بھگت لوں گا۔ واپس پہنچا حال میں ہی سب بیٹھے تھے اور میری واپسی کا انتظا کر رہے تھے سب کو سلام کیا اور ایک صوفے پر بیٹھ گیا تو عائشہ اور نور اٹھ کھڑی ہوئیں کہ نیند آرہی ہے روم میں جاتی ہیں امی بولی چلی جاتی ہو بیٹھ جاؤ تھوڑی دیر تو وہ بولی نہیں نیند بہت زور کی آئی ہے پھر اٹھ کر چلی گئیں امی بولی صبح تو بہت خوش تھیں جب سے واپس آئیں ہیں مارکیٹ سے توپریشان ہیں۔چھوٹی ماں بولی جب میں افی کے کمرے میں گئی تھی تو یہ بھی بہت پریشان لگ رہا تھا تو امی بولی کیا بات ہوئی تھی تم لوگوں میں۔ میں بولا کچھ بھی نہیں بس اتنی بات ہوئی کہ وہ بریسلٹ سیم نہیں ملے جو نمرہ کو لے کر دیا تھا۔تومنہ پھلا لیا۔ امی بولی کوئی بات نہیں میں ان کو سمجھا دوں گی میں بو لا کوئی بات نہیں میں ان کو منا لوں گا۔ امی بولی ٹھیک ہے نمو بولی میں اپنا بریسلٹ ان کے جیسا لے لیتی ہوں یہ میں امی کو دے دیتی ہوں اس نے اتار کر امی کو دے دیا۔ میں اٹھ کر اپنے کمرے میں آیا فریش ہوا پھر نور اور عائشہ کے کمرے کی طرف چلاگیا۔ ناک کیا تو اند ر سے آواز آئی آجاؤ دروازہ کھلا ہے۔ میں اندر داخل ہوا تو دونوں بیڈ پر بیٹھی تھیں رات کا سوٹ پہن چکی تھی۔ سفیدکلر کی سلیو لیس شرٹ اور کھلاسفید ہی ٹراؤزر۔ مجھے دیکھتے ہی نور نے غصے سے دیکھا کیوں آئے ہو ہمارے کمرے میں ہمارے ساتھ زبردستی کرنے آئے ہو کیا۔ میں بولا میں تم لوگوں کو مجرم ہوں صرف اتنا کہوں کا کہ میں نے اپنا خنجر نکال لیا اور سر جھکا کر ان کے سامنے بیٹھ کر خنجر ان کی طرف کرتے ہوئے کہا کہ یہ میرا خنجر ہے یہ انصاف کا خنجر ہے۔ میں تم کا مجرم ہوں تم کو حق ہے کہ میری جان لے لو۔ جان لینے سے پہلے اتنا جان لو کے میں نے کچھ بھی جان بوجھ کر نہیں کیا جو بھی ہوا انجانے میں ہوا پر میں اپنی غلطی ہی کہوں گا تو نور نے خنجر پکڑ لیا اور میری طرف آئی اور گردن پر خنجر دیا میرے آنسو زمین پر گر رہے تھے میں رو رہا تھا۔ اتنے میں عائشہ آئی اور اس نے نور سے خنجر پکڑ لیا اور بولی کیا کرنے لگی ہو یہ میرا مجرم ہے تم کا نہیں میں نے اس کو معاف کردیا۔ اور اس نے مجھے اٹھا کر گلے لگا لیا اور خود بھی رو پڑی میں اس کے گلے لگ کر زور زور سے رو پڑا اور معافی مانگنے لگا۔ تھوڑی دیر تک عائشہ نے مجھے چپ کروایا اور مجھے پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئی اور بیڈ پر بیٹھا دیا۔ بولی بھائی میں نے معاف کردیا میں جانتی ہوں کہ آپ کی غلطی نہیں ہے میں پچپن سے آپ کو جانتی ہوں وہ ماحول کا اثر تھا کہ ایسا ہوگیا جو بھی ہونا تھا ہو گیا میں نے آپ کو معاف کردیا۔ میں نے بول شکریہ میری بہن میں نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا تھا۔ نور بھی ہمارے پاس آگئی اور بیٹھ گئی میں نے اس سے پھر معافی مانگی اور عائشہ سے خنجر لے کر نور کے ہاتھ میں دیا کہ آپ کو حق ہے میری جان لے سکتی ہو میں اُف تک نہیں کروں گا۔ لیکن اس نے خنجر پھینک دیا اور میرے گلے لگ گئی کہ یہ میں کیا کرنے لگی تھی اپنے ہی بھائی کو اور سب کے سردار کو مارنے لگی تھی۔ میں بولا میں نے غلطی کی ہے تم سزا ہی دے رہی تھی اور ٹھیک ہی دے رہی تھی۔ پھر اس کو بھی چپ کروایا۔ تھوڑی دیر خاموشی رہی نور بولی کتنے واہ حیات لوگ ہیں اس طرح کھلے عام ایسے کام کرتے ہیں میں بولا ہاں یہ بات تو ہے ان کو زرا شرم نہیں آئی کہ سب کے سامنے وہ کام کررہے تھے۔ خیر میں بولا کہ غلطی میں نے کی ہے تو سزا تو بنتی ہے تم لوگوں نے معاف کردیا ہے لیکن اس کی سزا تو ہے کل تم کو شہر لے جاؤں گا اور گھماؤں گا۔ تو وہ دونوں خوش ہوگئی میں بولا کیا کروں اب کوئی گرل فرینڈ تو ہے نہیں تم لوگوں کو ہی گھماؤں گا تو نور بولی مجھے گرل فرینڈ بنا لو میں بولا نہ بابا نا سنا ہے گرل فر ینڈبہت خرچہ کرواتی ہیں مجھے ضرورت نہیں تو سب ہنس پڑے۔ بولی نہیں کرواتی خرچہ میں بولا مجھے گرل فرینڈ چاہیے مصوم سے تم تو مجھے ہی مارنے پے تلی تھی اور ہنس دیا بولی ماروں گی میرے بھائی ہو۔غلطی کرو گے تو سزا دوں گی نہ میں بولا دو میں نے کب روکا تھا۔ خود ہی رک گئی۔ بولی اب کوئی ایسی غلطی کرو گے تو پھر سزا دوں گی میں بولا ایسی غلطی کیا مطلب میں ایسی غلطی دوبارہ کروں گا۔ بولی نہیں میرا مطلب ہے غلطی کرو گے تو سزا دو ں گی۔ میں بولا ٹھیک ہے۔ پھر میں نے کہا کل تیار رہنا اور ان کے روم سے چلا گیا۔ اپنے رو م میں آکر فریش ہوا اور اپنے گفٹ کا انتظار کر نے لگا۔1 like
-
عشق دیندا ہے رولا
1 likeقسط نمبر9۔ میں تھوڑی دیر کے لیے سو گیا پھر اٹھ کر فریش ہوا اور نیچے آگیا وہاں نور اور عائشہ بیٹھی ہوئیں تھیں مجھے دیکھتے ہی بولی بھائی آپ تو ہر وقت نمرہ کے ساتھ ہی رہتے ہو میں بولا اب تو اتنا عرصہ ہوگیا اس کے ساتھ وقت نہیں گزارہ بس مقابلے کی تیاری کرتا رہا اب سب کے ساتھ وقت گزاروں گا۔ بولی آپ نے نمرہ کو بریسلٹ دیا ہمیں بھی چاہیے۔ میں بولا جب بولو لے جاؤ گا۔ اتنے میں امی آگئی وہ بھی ہمارے ساتھ بیٹھ گئی میں ان کے پاس جا کر بیٹھ گیا بولی کبھی اپنے ماں کو بھی وقت دیا کرو میں بلا امی سارا وقت آپ کا ہی تو ہے پھر میں ان کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا تو میرا پاؤں عائشہ پٹ کے ساتھ ٹچ ہو رہا تھا نہ تو عائشہ نے نوٹس لیا نہ میں نے لیکن اس کا جسم گرم تھا اور پٹ اتنا نرم تھا کہ کیا بتاؤں پاؤں اندر دھنس رہا تھا عائشہ تھوری سی فربہ جسم کی مالک ہے مطلب نہ اتناجسم بھاری نہ پتلا درمیانہ جسم اور درمیانہ قد تھا ہم بہن بھائیوں کے قد میں سے سے کم قد اس کا ہی تھالیکن ایک با ت تو پتہ چل گئی تھی عائشہ کا جسم بہت نرم ہے۔ امی میرے بالوں میں ہاتھ پھیر رہی تھیں ان کا سینہ میرے منہ کے اوپر تھا لیکن اس وقت مجھے کوئی شہوت نہ تھی۔ بلکہ مجھے ان کی گود میں سکون مل رہا تھا امی بولی اب تم کی دعوتیں شروع ہوں گے کئی خاندان تم کو سرادر بننے کی وجہ سے دعوت پر بلائیں گے تاکہ ان سے جان پہچان ہو سکے سب سے پہلی دعوت تم کے چچا کی طرف سے ہے کل شام ان کے گھر تم کی دعوت ہے۔ میں بولا ٹھیک ہے امی چلا جاؤں گا۔اسی طرح ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں پھر ابو بھی آگئے وہ فیکٹری میں گئے ہوئے تھے ہماری ایک فیکٹر ی میں مشینوں کے پرزے بنتے تھے اور ایک فیکٹر ی میں فیکٹری میں پلاسٹک کا سامان تیار ہوتا تھا۔اور ایک ہماری کنسٹریکشن کمپنی تھی اور کئی پلازے تھے جن کے لیے ابو نے ایک مین ہیڈ آفس بنایا ہوا تھا باقی سب میں منیجر تھے جو کہ پورے کام کو کنٹرول کرتے تھے پھر ہیڈ آفس آکر ابو کو ساری ڈیٹیل اور حساب وغیرہ چیک کرواتے تھے ابو بھی اکثر فیکٹر ی اور کمپنی میں پلازہ چکر لگاتے اور چیک کرتے رہتے وہاں کا سارا نظام الگ تھا اور یہاں کا سارانظام الگ تھا۔ میں بھی اب سوچ رہا تھا آفس جانا شروع کردوں اور ساتھ ساتھ کام سمجھتا رہوں اور ابو کا ہاتھ بٹاؤں پہلے تو مقابلے کی تیاری میں رہا اب میں بھی آفس جانا چاہتا تھا۔ میں نے یہی بات ابو سے بولی تو ابو بولے بیٹا تم کا اپنا تو آفس ہے جب چاہو آجاؤ لیکن بچپن سے تیاری کررہے ہو مقابلے کی اور پندرہ ماہ پہاڑوں میں رہے ہو اب تم سردار ہو تو کچھ عرصہ اس کا پھل کھاؤ پھر آفس بھی آجانا میں بولا جی ابو ٹھیک ہے لیکن میں چاہتا ہوں اب آفس جانا شروع کردوں باقی یہ سب تو چلتا ہی رہے گا میں کون سا ہر وقت آفس میں رہوں گا۔ بولے ٹھیک ہے جیسے مرضی کرویار پھرکھانہ لگ گیا اور پھر سب نے کھانا کھایا اور اپنے اپنے روم میں چلے گئے۔میں اپنے روم میں جانے کی بجائے عائشہ اور نور کے روم میں چلا گیا حالانکہ بہت کمرے تھے حویلی میں لیکن وہ دونوں اپنا روم شیئر کرتی تھیں۔ میں نے ناک کیا تو نو ر آپی کی آواز آئی آجاؤ میں اندر چلاگیا مجھے دیکھ کر نور بولی واہ واہ آج دن کدھر سے چڑھا ہے جناب سردار آفتا ب خان ہمارے کمرے میں آئے ہیں میں ہنس دیا کہ اگر برا لگا تو واپس چلا جاتا ہوں تو عائشہ بولی ہماری تو ہمیشہ سے خواہش تھی کہ تم ہمارے بھی اتنے ہی بھائی بنو لیکن تم تو اس نموکے ساتھ چپکے رہتے ہو جیسے وہ ہی تمہاری بہن ہو میں نے بولا اب آپ کا سارا گلا دور کردوں گاروزانہ حاضری دیا کروں گا بولی پتا ہے دن کے بعد پھر بھول جاؤ گے میں بولا پکا وعدہ اب آپ کے پاس روزانہ آیا کروں گا عائشہ بولی دیکھتے ہیں پھر نور بولی نمو کو بریسلٹ لے کردیا ہے ہمیں کب لے کر دو گے میں بولا صبح چلتے ہیں آپ کو بھی لے کر دوں گا صبح تیار رہنا عائشہ بولی کوئی ضرورت نہیں مانگ کر لینے کی خود سے تو دیا نہیں میں بولا اس کے ساتھ گیا تھا اس کو پسند آگیا تو لے دیا او ر کوئی بات نہیں آپ کو صبح لے دوں گا۔عائشہ بولی ٹھیک ہے پھر صبح ہم تیار رہیں میں بولا جی پھر عائشہ بولی کہ خالی بریسلٹ ہی دلواؤگے میں بولا جو تم کا دل کرے لے لینا نور بولی یہ ہوئی نہ بات صبح تم کی جیب تو خالی میں بولا سب تم کا ہی تو ہے۔اسی طرح نوک جھوک چلتی رہی آخر کاران کا موڈ بہت اچھا ہوگیا پھر میں اٹھ کر اپنے کمرے میں آگیا اور سوگیا پہلے سوچا ناز کو بلوا لوں پھر سوچا آج ریسٹ کرتا ہوں پھر سوگیا۔ صبح روٹین کے مطابق جم گیا وغیرہ سے فارغ ہو کر گھر واپس آیا اور کمرے میں چلاگیا اتنے میں نمو بلانے آئی کے ناشتہ کرلو میں بولا آتا ہوں فریش ہو کر پھر نمو بولی رات نور اور عائشہ کے کمرے کے کیا کرنے گئے تھے میں بولا کیا نہیں جاسکتا نمو بولی جاسکتے ہولیکن کبھی گئے نہیں ہو میں بولا یہی تو ان کا گلہ تھا کہ میں ان کے پاس جاتا نہیں ہر وقت تم سے چپکا رہتا ہوں تو نمو بولی مجھ سے کب چپکے رہتے ہو آج کل تو پتہ نہیں کدھر گم رہتے ہو میں بولابکواس نہ کرو ابھی کل ہی تو تم کو لے کر شہر گیا تھا اور اتنا ہنگامہ ہوا بولی پتہ پتہ ہے بس کرو میں بولا اچھا یار اب سب کو ٹائم دیا کروں گا پھر ہم نیچے آگئے تو سب ناشتے کی ٹیبل پر موجود تھے ہم نے ناشتہ کیا ابو کسی کام سے چلے گئے ابھی تک ابو نے ہی میرا زیادہ کام سنھبالہ ہوا تھا کوئی بڑا کام ہوتا جس پر میرے فیصلہ یا دستخط کی ضرورت ہوتی تو لے لیتے لیکن جمعہ والا دن جو پنچایت ہوتی اس کی سربراہی مجھے ہی کرنی تھی۔خیر ناشتے کے بعد میں چھوٹی ماں کے کمرے میں چلا گیا تو چھوٹی ماں تیار کررہی تھی کہیں جانے کی میں بولا کہا جارہی ہو تو وہ بولی کہ آج انوشے کو لینے ہوسٹل جارہی ہوں اس کی پڑھائی مکمل ہوگئی ہے۔ یہاں بتاتا چلوں کہ میری بہن جو چھوٹی ماں سے تھی وہ ہاسٹل میں تھی اس کے پیپر ہورہے تھے فائنل اس وجہ سے وہ جشن کے موقع پر نہ آسکی اب اس کے پیپر ختم ہوگئے تو وہ آرہی تھی۔میں بولا میں چلوں بولی خان جی ساتھ جارہے ہیں تم نے آنا ہے تو تم بھی آجاؤ میں بولا جب ابو جارہے ہیں بولی کیوں میں بولا ویسے ہی بولی ٹھیک ہے۔ ویسے بھی مجھے آج نور اور عائشہ کے ساتھ بازار جانا ہے۔ انہوں سرکھایا ہوا ہے نہ گیا تو وہ بہت ناراض ہوگیں چھوٹی ماں بولی اچھی بات ہے تم ہران کو ٹائم ہی نہیں دیتے جب بھی وقت ملتا ہے اپنی نمو کے پاس گھس جاتے ہو میں بولا بس جڑوا ں ہیں اور بچپن سے ایک ساتھ ہی رہے پڑھے اور بڑے ہوئے وہ مجھے سمجھتی ہے میں اس کو اس لیے زیادہ وقت اس کے ساتھ ہی گزارتا ہوں چھوٹی ماں بولی کسی اور کے ساتھ وقت گزارو گے تو اس کو سمجھو گے میں بولا اب میں نے نور اور عائشہ سے وعدہ کرلیا ہے روزانہ ان کو ٹائم دوں گا بلکہ سب کو برابر ٹائم دوں گا پہلے تو ویسے بس ٹریننگ میں ہی ٹائم گزرتا رہا ہے۔ چھوٹی ماں بو لی ٹھیک ہے۔ میں بولا آپ کے گفٹ کا انتظار ہے بولی لگتا ہے ناز سے دل بھر گیا ہے جو گفٹ کے انتظار میں ہو میں بولا نہیں ایسی بات نہیں لیکن جب سے آپ نے بولا ہے تو تجسس ہے اس لیے بس اور کوئی بات نہیں تو چھوٹی ماں بولی مجھ سے اب کیسی شرم لگتا ہے ناز نے ٹھیک طرح سے شرم نہیں اتار ی میں بولا اترجائے گی جلد وقت تو لگتا ہے نابولی ٹھیک ہے جلد ہی پیش کرتی ہوں میں بولا کیا بولی جس کا تم کو بے صبر ی سے انتظار ہے اور ہنس دی۔ میں باہر آیا تو نور اور عائشہ کھڑی تھیں اور میری طرف دیکھ رہی تھیں میں بولا چلو تیار ہو جاؤ پھر چلتے ہیں تو وہ دونوں خوش ہوگئیں عائشہ جو کہ باتونی تھی بولی ہمیں تو لگتا تھا کہ صبح ہوتے ہی رات کا وعدہ بھول گئے ہوگے میں بولا ایسانہیں ہوگا جو وعدہ کیا ہے وہ پورا کروں گا۔ پھر وہ دونوں جلدی جلدی کمرے میں چلی گئیں کے کہیں شاہد میں مقر نہ جاؤ ں میں بھی اپنے کمرے میں آگیا اور تیار ہونے لگ پڑا۔ میں نے ایک بلیک جینز اور سکائی بلیو شرٹ پہنی گاؤں میں زیادہ تر میں شلوار قمیض ہی پہنتا تھا لیکن شہر جاتے ہوئے پینٹ شرٹ یا اس قسم کا لباس پہنتا تھا۔اتنے میں نمو میرے کمرے میں آئی اور بولی جارہے ہو آج تو بڑا سج دھج کر جارہے ہو کسی گرل فرینڈ کو تو ٹائم نہیں دیا میں تھوڑا سے سیڈ سا منہ بنا کر بولا میری ایسی قسمت کہا 22سال کا ہوگیا ہوں سردار بن گیا ہوں لیکن ایک بھی گرل فرینڈ نہیں نہ ہی کوئی دوست ہے۔ تمہیں بھی اچھی طرح پتہ ہے۔ تو میرے پاس آئی اور بولی کیا میں تم کی دوست نہیں ہو میں بولا ہو لیکن میری گرل فرینڈ تو نہیں ہے نا جس کے ساتھ میں گھومو پھرو اور انجوائے کروں۔ تو میرے ساتھ گھوم لیا کرو میں دوست ہوں اور گرل بھی ہوں تو تم کی گرل فرینڈ بھی ہوئی نا میں بولا یا ر تم فرینڈ ہو لیکن گرل فرینڈ تو نہیں بن سکتی نا جیسے گرل فرینڈ ہوتی ہے ایسا تو نہیں کرسکتی یہ بات اس کی آنکھوں میں دیکھ کر رہا تھا اس نے کچھ دیر آنکھوں میں دیکھا پھر نظریں جھکا لیں۔ پھر وہ بنا کچھ بولے چلی گئی۔ قسط نمبر 10 میں نیچے آیا اور نور اور عائشہ کا انتظار کرنے لگا تھوڑی دیر گزری تو دونوں نیچے آئیں دونوں نے ایک جیسے کپڑے پہنے تھے ہلکے پیلے کلر کے اور اس پرسفید پھول تھے لان کے سوٹ تھے اور پر سفید ڈوپٹہ تھا۔ میں نے باہر گاڑی نکالی تو گارڈ بھی گاڑی نکالنے لگے میں نے ان کو روک دیا بولا جب میں پرسنل کام سے جارہا ہوں تو ساتھ نہیں آنا اگر کسی دورے پر یا کسی اور کام پر جاؤں تو ساتھ آنا وہ سمجھ گئے۔وہ باہر آئیں تو گاڑی کو دیکھ کر بولیں نہیں بائیک پر چلتے ہیں میں بولا تین لوگ ہیں بائیک پر کیسے جائیں گے بولی ہمیں تو بائیک پر جانا ہے میں بولا ٹھیک ہے پھر بائیک نکالی تو پہلے عائشہ بیٹھی پھر نور بیٹھ گئی بائیک پر تین لوگ بیٹھے تھے تو اس لیے عائشہ مجھ سے چپک گئی اس کے نرم نرم ممے مجھے اپنی پیٹھ پر محسوس ہورہے تھے میرے جسم میں چیونٹیاں رینگنے لگ پڑی میں نے سارا دھیان سٹرک پر لگایا اور اپنے آپ کو کنٹرول کرلیا۔ لیکن عائشہ شاہد مجھے کنٹرول کرنے نہیں دے رہی تھی اس کے نرم ممے میری کمر پر لگ رہے تھے اور جس سے میں گرم ہورہا تھا اور ساتھ ہی اس نے دونوں ہاتھ میرے پیٹ سے گزار کر مجھے پکڑ لیا تھا ایک جگہ کھڈا لگا تو وہ پوری میرے ساتھ چپک گئی اور واپس نہ ہوئی۔ خیر جیسے تیسے کر کے ہم شہر پہنچے پھر شاپنگ مال میں گئے وہاں انہوں نے اپنے لیے بریسلٹ لیے پھر کپڑے بھی خریدے میں نے انوشے کے لیے بھی بریسلٹ لے لیا آج وہ بھی واپس آرہی تھی پھر آج چچا کی طرف بھی دعوت تھی توان کے لیے کچھ گفٹ لیے اور پھر وہاں سے نکلے تو ایک ہوٹل سے کھانا کھایا ہم بہت انجوائے کررہے تھے پھر نور نے ضد کی کے ہم نے فلم دیکھنی ہے میں بولا نہیں اچھا نہیں لگتا اس کیساتھ عائشہ بھی بولنے لگ پڑی مجبوراً مجھے ماننی پڑی بولا کون سی فلم دیکھنی ہے اس وقت ہالی ووڈ کی ایک ہارر فلم لگی تھی رونگ ٹرن بولی یہ دیکھنی ہے میں بولا خوفناک ہے ڈر جاؤ گی بولیں یہی دیکھنی ہے میں بولا ٹھیک ہے کیونکہ میں بھی کبھی سنیما نہیں آیا مجھے بھی تجسس تھا پہلی بار فلم دیکھنے کا سنیما دیکھنے کا۔ٹکٹ خریدے اورکچھ سنیک خریدے پھر اندر داخل ہوگئے ابھی فلم سٹارٹ نہیں ہوئی تھی اس لیے اتنا اندھیرا نہیں تھا وہاں کئی کپل بیٹھے تھے ہم بھی ایک جگہ دیکھ کر بیٹھ گئے ایک طرف نور بیٹھ گئی ایک طرف عائشہ ان کے درمیان میں میں بیٹھ گیا لیکن اتنا زیادہ رش نہ تھا فلم شروع ہوئی تو فل اندھیرا ہوگیا فلم بہت ہی خوفناک تھی شروع ہوتے ہی ایک ڈراؤنا سین آیا تو دونوں نے مجھے پکڑ لیا اور انکھیں بند کرلیں میں نے بولا کیا ہوا دیکھو فلم اب بڑا شوق تھا ہارر فلم دیکھنے کا دونوں چپ رہی پھرفلم دیکھنے لگ پڑی لیکن مجھے نہ چھوڑا۔اور ہارر فلم ہو ہالی ووڈ کی اور اس میں بولڈ سین نا ہوں یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ ایک بہت ہی بولڈ سین آیا میں ترچھی نظر سے ان کی طرف دیکھا تو دونوں بہت غور سے دیکھ رہی تھیں جیسے ہی مجھ پر نظر پڑی نظر جھکا لیں۔ ہمارے آگئے ایک لائن چھوڑ کر ایک کپل بیٹھا تھا وہ اپنے کام میں لگ گیا دونوں کسنگ کررہے تھے اور ٹھیک ہمارے سامنے تھے دونوں دنیا سے بے خبر لگے پڑے تھے اور ایک کپل سائیڈ میں تھا وہ بھی سٹارٹ کرچکے تھے۔ لائیو شو دیکھ کر میرا تو دماغ خراب ہونا شروع ہوگیا اور میرا لن کھڑا ہونا شروع ہوگیا اب لڑکی نیچے منہ جھکا چکی تھی اورلڑکا اس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیر رہا تھا مطلب لڑکی لڑکے کا لن چوس رہی تھی جب میں نے ترچھی نظر سے نور او ر عائشہ کو دیکھا تو وہ دونوں بھی ان کو ہی دیکھ رہی تھیں۔میری حالت خراب تھی میرے پینٹ میں تمبو بن چکا تھا اگر انڈر ویئر نہ ڈالا ہوتا تو بالکل صاف نظر آتا۔ اب لڑکی لڑکے کے آگے اگلی سیٹ پر جھک چکی تھی اور لڑکا چدائی شروع کرچکا تھا۔ میں پسینہ پسینہ ہورہا تھا حالانکہ حال ایئر کنڈیشن تھاان دونوں کی طرف نظرڈالی تو ان کی حالت بھی کچھ ایسی تھی۔ لڑکی کی سسکیوں کی ہلکی ہلکی آواز آرہی تھی حالانکہ فلم کا شور بھی تھا اب فلم پر دھیان کہاں تھا اب تو ان کی طرف ہی سارا دھیان تھا اب میرا بس نہیں چل رہا تھا دل کررہا تھا کہ بس لڑکے کو ہٹا کر میں چڑھ جاؤں لڑکی پر۔ سچوئیشن ایسی تھی کہ دوسگی بہنیں ساتھ تھیں اور سامنے لائیو شو چل رہا تھا کیابتاؤں کیا حالت ہو رہی تھی۔مجھے پتہ نہیں چلا میرا ہاتھ کب عائشہ کی طرف رینگ گیا اور اس کی ٹانگ پر رکھ دیا اور پھیرنا شروع کردیا میرا سارا دھیان اس لائیوشو کی طرف تھا اور میں ہاتھ عائشہ کی ٹانگوں پر پھیر رہا تھا اور میرا ہاتھ عائشہ کی پھدی پر شلوار کے اوپر سے ہی لگا تو مجھے ایسا لگا جیسے میں نے کسی گرم گیلی بھٹی پر ہاتھ رکھ دیا ہوامجھے جھٹکا لگا کہ میرا ہاتھ کہاں ہے میں نے جب عائشہ کی طرف دیکھا تو اس کی نظریں مجھ پر تھیں اور میرا ہاتھ اس کی پھدی والی جگہ پر شلوار کے اوپر تھا میں نے فوراً ہاتھ اٹھالیا دوسری طر ف دیکھا تو نور بھی مجھے ہی دیکھ رہی تھی میرا سر جھک گیا اور آنکھوں سے آنسو آنے لگ پڑے زندگی میں کبھی نہیں رویا تھا لیکن جو کام آج ہوا تھا اس نے رولادیا میں ایسا تو نہیں تھا اب مجھے لائیو شو کا کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا۔ میں سرجھکائے بیٹھا تھا۔ میرا لن بیٹھ چکا تھا ایسے کے جیسے ساتھ ہو ہی نہیں زندگی میں پہلی بار ایسی غلطی ہوئی تھی کہ اپنی سگی بہن کی اس جگہ پر ہاتھ رکھ بیٹھا تھا اور دوسرے بہن نے دیکھ لیا تھا میری نظریں اٹھ ہی نہیں پارہی تھی مجھے ہوش نہیں تھا کب فلم کا ہاف ٹائم ہوا اور لائٹس آن ہوئیں۔ ہم تینوں خاموشی سے باہر آئے تو نور بولی بس اب چلتے ہیں اور فلم نہیں دیکھنی اس کی آواز میں غصہ تھا میں نے بولا ٹھیک ہے لیکن ایک بار بھی عائشہ کی طرف یا نور کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھا تھا۔ جلدی سے بائیک نکالی اور بیٹھ گیا۔ میرے پیچھے اس بار نور بیٹھی تھی پھر عائشہ بیٹھی ہمارے پاس کافی شاپر تھے کچھ میں نے آگے ٹانگ لیے تھے اور کچھ ان دونوں نے پکڑ لیے تھے۔ میں نے جیسے تیسے بائیک چلاکر جلدی سے گھر پہنچایا۔ اس بار بائیک بہت تیز چلائی جب بھی بریک لگتی تو نور مجھ سے چپک جاتی۔اس نے ممے مجھے اپنی کمر پر محسوس ہوتے لیکن اس بار سیدھا گھر جاکر بریک لگائی اور سیدھا اپنے کمرے میں آگیا تھوڑی دیر گزری تو دروازے پر ناک ہوئی میں نے بولا آجاؤ تو انوشے آگئی میں اٹھ کر کھڑا ہوا اور وہ بھاگتی ہوئی میرے گلے لگ گئی اس نے مجھے مبارک باد دی۔ میں نے اس کے پیپروں کے بارے میں پوچھا۔ تو اس نے کہا کے بہت اچھے ہوگئے ہیں پھر وہ چلی گئی میں نیچے نہیں جارہا تھا کیونکہ مجھ سے عائشہ سے نظر نہیں ملائی جاتی تھی۔ تھوڑی دیر بعد چھوٹی ماں آئی میں نے ان کا حال پوچھا پھر وہ میرے پاس بیٹھ گئی اور مجھ سے سفر کی باتیں کرنے لگی لیکن میں گم سم تھا انہوں نے بھی محسوس کرلیا اور بولی کیا بات ہے صبح تو بہت چہک رہے تھے میں نے بولا کچھ نہیں سفرسے آیاہوں انہوں نے شاپنگ کروا کروا کر تھکا دیا بولی بات کچھ اور ہے تم نہیں بتانا چاہتے تو مت بتاؤ اب میں کیابتاتا کہ چھوٹی بہن کی پھدی پر ہاتھ مارتا رہا ہوں میں نے بولا کچھ نہیں تھوڑی دیر ریسٹ کروں گا تو فریش ہوجاؤں گا بولی ٹھیک ہے لگتا ہے میرے گفٹ کا زیادہ ہی شدت سے انتظار ہے جو تم کو کچھ بھی اور اچھا نہیں لگ رہا میں بولا ایسا کچھ نہیں بس تھکاوٹ ہے بولی اچھا آج رات تم کی تھکاوٹ اتار دے گی میں بولا کو ن بولی سرپرائس ہے۔ میں بولا ٹھیک ہے جی جاتے ہوئے بولی تھوڑا آرام سے ابھی چھوٹی عمر کی ہے۔ چھوٹی عمر کاسن کر میرے نیچے ہل چل ہونے لگ پڑی اور میں یہ بھی بھول گیا تھا کہ ابھی کیا کرکے آرہا ہوں۔ پھر نمو آئی کمرے میں بولی ہوگئی تم لوگوں کی شاپنگ میں بولا ہوگئی ہے اس کے لیے بھی ایک سوٹ لایا تھا اس کو دے دیا تو وہ میرے گلے لگ گئی اور شکریہ بولا لیکن آج اس میں وہ گرم جوشی نہیں تھی جو ہوتی تھی جب میں اس لیے کچھ لاتا تھا شاہد صبح والی بات کی وجہ سے۔ پھر وہ چلی گئی۔ شام تک میں روم میں ہی رہا کیونکہ عائشہ اور نور کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں تھی لیکن جو کام ہوا ہے اس کے لیے معافی تو مانگنی ہے پھر چاہے وہ معاف کریں یا نہ لیکن ابھی مجھے دعوت پر جانا تھا اس لیے جلدی سے تیار ہوا اور چچا کے گاؤں کی طرف چل دیا ان کی طرف دعوت تھیں ان کا گاؤں ساتھ ہی ہے۔1 like
-
عشق دیندا ہے رولا
1 likeقسط نمبر8۔ گھر پر سب ناشتے کی ٹیبل پر تھے چھوٹی ماں بھی تھی ان کی اور میری نظرے ملی تو دونوں کی ہلکی سے سمائل نکل گئی سب نے مل کر ناشتا کیا میں اٹھنے لگا تو نمو بولی کے افی مجھے کچھ شاپنگ کرنی ہے دوست کی برتھ ڈے پارٹی ہے میں بولاابھی پروسوں ہی تو تم کی دوست کی برتھ ڈے پارٹی تھی اب کو ن سی دوست ہے تو نمو بولی دوسری دوست ہے میں بولا ٹھیک ہے جاتے ہیں۔ اور امی بولی بیٹا اب وہ سردار ہے کیا تم اس کے ساتھ گھومتی رہوگی اب اس کو کئی کام ہوں گے تو میں بولا امی کوئی بات نہیں میں دنیا کے لیے سردار ہوں لیکن آپ سب کے لیے میں افی ہی ہوں میں باہر نکلا گاڑی کی بجائے بائیک نکالی کیونکہ مجھے بائیک زیادہ پسند تھی اور نمو نے مجھے بائیک ہی گفٹ دی تھی اب پہلی بار اس کے ساتھی اسی کی گفٹ دی ہو ئی بائیک پر جارہے تھے۔ نمو نے ایک جامنی کلر کا سوٹ پہنا تھا نیچے ہیل والی جوتی تھی بہت پیاری لگ رہی تھی۔ راستے میں ایک جگہ سڑک ٹوٹی ہوئی تھی جس کی وجہ سے جمپ لگ رہے تھے تو نمو میرے ساتھ چپک گئی اس کے نرم نرم ممے مجھے اپنی کمر پر محسوس ہو رہے جس سے میرے ہوش گم ہو رہے تھے کسی نہ کسی طرح خو دکو قابو کر کے بائیک چلارہا تھاسوچ رہا تھا گاڑی لے آتا خیر ہم شہر پہنچے ایک مال میں گئے وہاں سے گفٹ پسند کیے ایک بریسلٹ مجھے پسند آیا جو میں نے نمو کو لے کر دیا ایک بریسلٹ میں نے چھوٹی ماما کے لیے خریدا لیکن نمو سے نظر بچا کر۔پھر باہر نکلے سٹرک کے کنارے ایک چھوٹا سا ہوٹل تھا جس سے برگر کھانے لگے انہوں نے ندی کے کنارے کرسیاں لگا کر جگہ بنائی ہوئی کافی خوبصورت لوکیشن بنائی گئی تھی مجھے واش روم آیا میں واش روم کی طرف گیا جب واپس آیا تو تین لڑکے نمو کے ساتھ ٹیبل پر بیٹھے اس سے بد تمیزی کر رہے تھے۔ میں چلتا ہوا ان کے پاس گیا تو نمو ان سے کہہ رہی تھی اگر اپنی جان پیاری ہے تو یہاں سے جلدی چلے جاؤ اگر وہ آگیا تو تم کا بھاگنا ناممکن ہوجائے گا۔ اتنے میں میں ان کے سرپر پہنچ گیا انہوں نے چونک کر مجھے دیکھا میری باڈی وغیرہ دیکھ کر پہلے تو رک گئے پھر پتہ نہیں کیا ہوا کہ بولے اچھا تو یہ ہے جس کی وجہ سے اچھل رہی ہے ان میں سے ایک نے بولا چل نکل یہاں سے دو دن بعد آکر اسے اسی جگہ سے لے جانا اب یہ بلبل ہمارے پاس رہے گی ہماری خدمت کرے گی میں نے کہا یا چھوڑو اس کے میں تم کے ساتھ چلتا ہوں جو خدمت بولو گے کردوں گا وہ سب ہنسنے لگ پڑے بولے لڑکا بھی چالولگتا ہے اس کو بھی لے چلتے ہیں میں نے نمو کو آنکھ ماری کیوں کہ میں یہاں اتنی پیاری جگہ پر کوئی توڑ پھوڑ نہیں چاہتا تھا وہ بھی میری بات سمجھ گئی باہر ان کی جیپ کھڑی تھی تھے ہم ان کی جیپ میں پچھلی طرف بیٹھ گئے ان میں سے دو ہمارے ساتھ پیچھے بیٹھ گئے ایک ڈرائیو کرنے لگا جو ہمارے ساتھ پیچھے بیٹھا تھا اس نے نمو کو ہاتھ لگانے کی کوشش کی تو میں بولا یہاں نہیں یار جو بھی کریں گے منزل پر پہنچ کر یں گے وہ بولے بڑا بہترین مال لیے پھر رہے ہو ہمارے ساتھ رہو عیش کروا دیں گے اور پیسے بھی کما لوگے میں ہنس دیاوہ ایک کوٹھی کے سامنے رکے ایک جو ہمارے ساتھ بیٹھا تھا نیچے اترا گیٹ کا تالا کھولا اس کا مطلب تھا کہ ان تینوں کے علاوہ یہاں کوئی نہیں تھا۔ ہم اندر آگئے اس نے گیٹ بند کر دیا اندر حال میں پہنچے تو انہوں نے اے سی آن کیا نمو بالکل میرے ساتھ لگ کر کھڑی تھی اس کو پتہ تھا اب ان تینو ں کا کیا حال ہونے والا تھا۔ ان میں سے ایک نمو کے قریب آنے لگا تو میں بولا دوستو پہلے میری باری پھر اس کی مجھے زرا جلدی ہے یار صبر نہیں ہورہا۔ جیسے ہی ان می سے ایک میرے قریب آیا میں نے اس کو گھوم کر کک لگائی اور وہ اڑتا ہوا صوفہ پر گرا صوفہ الٹ گیا میں بولاکیا ہوا یار اتنی چڑھا لی کیا جوکھڑا بھی نہیں ہوا جارہا دوسرا میرے قریب آیا تو اس کو بھی کک لگائی وہ بھی اس کے اوپر گرا جو پہلے گرا تھا اب اٹھ رہاتھا یہ بھی اس کے اوپر گرادونو ں گر پڑے تیسرا آیا میں نے اس کا بھی یہی حال کیا وہ بھی ان کے اوپر پھر میں نے تینوں کو خوب پھینٹی لگائی میرے پاؤں میں گر کر معافی مانگنے لگتا میں ا س کو لاتوں سے مارتا پانچ منٹ کے اندر تینوں ادھ مرے ہوگئے پھر میں نے خنجر نکال لیا کیونکہ اس کی دھار کو میں نے ابھی تک آزمایا نہیں تھا وہ تینوں تھر تھر کامنے لگے اور معافیاں مانگنے لگے۔ میں نے بولا تم ایسے ہی شریف لوگوں کو تنگ کرتے ہوگے آج تم ہمارے ساتھ بھی یہی کرنے لگے تھے میں نے ایک کے چہرے پر خنجر سے لکیر بنائی تو وہ تڑپنے لگا۔میں نے اسی طرح میں نے دونوں کے ساتھی بھی یہی کیا پھر میں نے نمو کو بولا جاؤ ان کی جیپ میں بیٹھو زرا واپس بھی تو جانا ہے۔ وہ چلی گئی تو میں نے خنجر سے ایک ایک ہاتھ تینوں کا کاٹ دیا وہ چیخنے لگے میں بولا شور مت کروں مجھے پتہ ہے یہ ساؤنڈ پروف ہے میں نے دیکھ لیا تھا تم یہاں اسی لیے لائے تھے کوئی ہماری آواز نہ سن سکے تم نے میری بہن کو ہاتھ لگانے کی کوشش کی تھی میں نے تمہارے ہاتھ ہی کاٹ دیے کہ دوبارہ اگر تم نے دوبارہ کسی لڑکی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا تو تم کے ساتھ اس سے بھی برا حال ہوگا پھر ایک کے جسم سے خنجر کا پھل صاف کیادوبارہ میان میں ڈال لیا جو کہ میری پنڈلی سے بندھی تھی پھر وہاں دروازہ بند کر کے نکل گیا مجھے آتا دیکھ کر نمو نے گاڑی سٹارٹ کی ہوٹل سے تھوڑا پیچھے انکی جیپ روکی جہاں پہلے تھی وہاں سے بائیک نکالی اور نکل گئے نمواب میرے ساتھ لگ کر بیٹھی تھی اس کے نرم ممے میری کمر پر لگ رہے تھے نمو بولی تم نے ان کے ساتھ کیا کیا میرے باہر آنے کے بعد میں بولا کچھ نہیں صر ف یہ بولا کسی کو نہ چھیڑنا اس نے بولا افی کیا میں تم کو نہیں جانتی میں بولا بے شک جا کر دیکھ لو وہ چپ ہوگئی میں بولا وہاں کیا ہوا تھا جب میں واش رو م گیا تھا بولی تم گئے تو تھوڑی دیر بعد مجھے اکیلا دیکھ کر میرے پاس آگئے اور تنگ کرنے لگے میں بولا تم تو ان کو بھگانے کے چکر میں تھی وہ بولی مجھے پتہ تھا تم نے دیکھ لیا تو ان کی خیر نہیں تو میں بولا تو نہ کرتا ایسا کیا بولی اچھا لگا تم نے ان کو مجھ سے بد تمیزی کی سزا دی۔ اور مجھ سے چپک گئی اس کے ممے میری کمر میں دھنس گئے اس نے مجھے پیچھے سے گلے لگالیا پھر گھر پہنچے نمونے اپنا بریسلٹ دیکھایا جو میں نے دلوایا تھا تو نور اور عائشہ بولی ہاں نمرہ تمہاری سگی بہن ہے ہم تو جیسے ہے ہی نہیں میں بولا ایسی بات نہیں آپ کو بھی دلوا دوں گا بولی ہمیں تھوڑی لے کر جاؤ گے تم اپنی لاڈلی کو ہی لے کر جاؤ گے میں بولا ابھی کچھ دن پہلے ہی تو سب کو لے کر گیا اور شاپنگ کروائی نور آپی بولی اس کو بھی تو کروائی تھی میں نے بولا اچھا بابا ناراض نہ ہو میں تم کو بھی لے جاؤں گا اپنی پسند کا لے لینا جو بھی لینا ہوا۔ پھر کھانہ کھایا اور اپنے روم میں آگیاتھوڑی دیر دروازے پرناک ہوئی میں نے بولا آجاؤ تو چھوٹی ماں اندر آگئی اور میرے پاس بیڈ پر بیٹھ گئی اس وقت انہوں نے ایک سفید کلر کا سوٹ پہنا تھا جس میں ان کی نیلی برا وا ضح محسوس ہورہی تھی ان کا بھاری سینہ ان کا ڈوپٹہ بھی نہ چھپا پارہا تھا وہ میرے قریب بیٹھی تو ان کی جسم کی خوشبو مجھے محسوس ہونے لگ پڑی جیسے تازہ کھلے گلاب کی ہو۔میں نے بولا کیسی ہیں بولی بہت اچھی بولی رات کیسی گزری میں بولابہت مست گزری چھوٹی ماں بولی تم کو تو مست گزری لیکن تم نے ناز بیچاری کی چال ہی بگاڑ دی میں بولا میں تو ابھی سیکھ رہا ہوں کیا چال بگاڑوں گا بولی اس میں کسی نے کیا سیکھنا یہ تو قدرت خود سیکھا دیتی ہے پھر میں نے سائیڈ ٹیبل سے وہ بریسلٹ نکالااور ان کو دیا اور کہا کہ یہ ہماری دوستی کے نام بولی تو خود پہنا دوانہوں نے ہاتھ آگے کیا میں نے بریسلٹ پہنا دیا بولی اب دوست نے تحفہ دیا ہے مجھے بھی دوست کو کوئی تحفہ دینا پڑے گامیں بولا آپ نے دیا تو ہے ناز والا بولی وہ تحفہ خان جی کی طرف سے تھا اور وہ ویسے بھی بس تم کا اناڑی پن ختم کرنے کے لیے تھا اب میری طرف سے تحفہ ہوگا وہ زرا سپیشل ہوگا میں یہ بات سن کر چونگ گیا مطلب کوئی لڑکی ملنے والی تھی تحفے میں یہ سن کر میرا لن نے انگڑائی لینی شروع کردی۔میں بولا اچھا جی پھر کب مل رہا ہے تحفہ بولی زرا صبر کرو مل جائے گااور ہنس پڑی پھر اٹھ کر جانے لگی اور کہا آرام کرو میں نے بولا اب آپ کے تحفہ کے انتظار رہے گا بولی جلدی ملے گا پھر واپس جانے لگی تو ان کی گانڈ پر نظر پڑی جو کہ باہر کو نکلی ہوئی تھی پتلی کمر کے نیچے بڑی گانڈ کیا لگ رہی تھی کپڑوں سے اوپر سے دروازے پر پہنچ کر پیچھے دیکھا تو میری نظر اپنی گانڈ پر پا کر بولی بدمعاش یہ مال تم کا نہیں ہے خان جی کا ہے اور باہر چلی گئی میں ہنس پڑا۔1 like
-
عشق دیندا ہے رولا
1 likeقسط نمبر7:۔ تھوڑی دیر بعد پھر دروازے پر دستک ہوئی اور ناز اندر آگئی آج تو وہ شعلہ جان بنی ہوئی تھی شاہد خصوصی تیار ی کر کے آئی تھے جیسے اس کی سہاگ رات ہے ہلکا سا ریڈ فٹنگ والا سوٹ پہنا تھا جس میں اس کے جسم کا خاص کٹاؤ واضح نظر آرہے تھے اور ایسا محسوس ہورہا تھا کہ ابھی ممے اور گانڈ باہر نکلی آئے گی۔ میں نے بولا کیا بات ہے بولی چھوٹی بی بی نے بھیجا ہے کہ آپ نے بلایا ہے ساتھ ہنس رہی تھی۔ میں نے بولا تم کو ابو نے میرے لیے بولا تھا بولی نہیں مجھے چھوٹی بی بی نے بولا تھا تو میں بول تم نے کہا تھا کہ بڑے سردار نے بھیجا ہے بولی کہ بی بی نے بولا تھا ایسا کرنے کو میں بولا اچھا ٹھیک ہے وہ کمرے میں آئی ہی تھی کہ میرا لوڑے نے حرکت شروع کردی تھی۔ میں نے اس کو پکڑ کر بازوؤں میں کس لیااور اس کے گانڈ سے پکڑ کر اٹھا لیا اور کسنگ شروع کرلی آج اس کی کسنگ میں جنون تھا میں بھی پیچھے کہا رہنے والا تھا میں بھی اس کے ہونٹوں پر ٹوٹ پڑا جب اس کا سانس بہت زیادہ پھول گیا تو اس نے ہونٹ الگ کیے میں نے اس کو نیچے اتارا اور اس کی قمیض کو پکڑ کر اتار دیا اور ساتھی ہی برا بھی اتار دی اور اس کے خربوزے سائز مموں پرٹوٹ پڑا اس نے سسکنا شروع کردیا۔ میں کبھی اس کے مموں کو چوستا کبھی کاٹتا کبھی پکڑ کر مسلتا وہ فل مزے میں سسکیاں لے رہی تھی۔میں نے اسکوبیڈ پر گرایا اور اس کے اوپر بھوکے بھیڑیے کی طرح ٹو ٹ پڑا کسنگ کرتا پورے منہ پر چاٹ لیا اور دونوں ہاتھوں سے مموں کو مسل رہا تھا اس نے ہاتھ بڑھا کر میرے لوڑے کو ٹراؤزر کے اوپر سے پکڑ لیا اور مسلنے لگ پڑی جس سے میرے جسم میں کرنٹ دوڑ گیا وہ میرے نیچے پڑی ایک چھوئی موئی سے لڑکی لگ رہی تھی حالانکہ اس کے عمر 35سال تھی وہ پوری مست رانڈ تھی میں نے زبان اس کی ناف میں ڈالی تو وہ مچل گئی میں نے اس کی ناف کو پورا بھر دیا پھر میں نے ہاتھ نیچے لے جا کر اس کے تنگ پاجامہ کو پکڑ کر اتار دیا تو اس کی پانی سے بھر ی پھدی میرے سامنے آگئی میں نے پہلے تو ایک انگلی اس کی پھدی کے درمیان میں پھیری جو کہ پوری گیلی ہوگئی اس کو منہ میں لے کر چوسا پھر اس کی پھدی پرٹوٹ پڑا پتہ نہیں کیا تھا میرا دل کررہا تھا کہ پھدی کو کھاجاؤں اس کا ذائقہ مجھے بہت اچھا لگ رہا تھا ہلکا سالٹی سا میں جیسے جیسے اس کی پھدی کے دانے کو چوستا وہ مچلتی اور زورز زور سے سسکتی پھر اچانک اپنی دونو ں ٹانگیں اوپر کو اٹھا دیں جس سے اس کی پھدی کا منہ میرے منہ سے سٹ گیاپھر ایک فوراہ نکلا جو سیدے میرے منہ میں گیا اور باقی میرے چہرے پر پھر وہ پرسکون ہوگئی تھوڑی دیربعد بولی اب تم ماسٹر بنتے جارہے ہو میں بول ٹیچر ایسی ہو تو بندہ ماسٹر بن جاتا ہے پھر میں نے اپنا ٹراؤزر اتار ا تو وہ بھی بھوکی کتیا کی طر ح میرے لن پر ٹوٹ پڑی او ر جتنا ہوسکتا تھا چوسنے لگ پڑی میں آرام سے بیڈ پر لیٹ گیااور مزے کی وادیوں میں گم ہوگیا کچھ دیر بعد اس نے میرے لن پر کافی سارا تھوک پھینکا اور میرے اوپر آگئی پہلے کسنگ کرتی رہی پھر میرے لن کو پکڑ کر اپنی پھدی پر سیٹ کیا اور اس پر آہستہ آہستہ بیٹھتی گئی جب میرا آدھا لن اندر چلا گیا تو رک گئی پھر اوپر نیچے ہونے لگ پڑی اور آہستہ آہستہ لن اندرلیتی رہی پھر تھوڑا سا جب رہ گیا تو ایک جھٹکا مارا جس سے سارا اس کے اندر تھا آج اس نے خو د ہی میرا سارا لوڑا اپنے اند ر اتار لیا تھا مجھے اس کی گرم پھدی محسوس ہو رہی تھی جب اس کی گرم اور لیسدار پھدی کی رگڑ میرے لن پر لگتی تو میری مزے کے مارے سسکاری نکل جاتی اس کے آواز میں جوش بڑھتا جارہا تھا پھر مجھے لن پر گیلا پن محسوس ہوا اور وہ میرے اوپر چیختی ہوئی لیٹ گئی کچھ دیر بعد میں نے اس کو بازوؤں میں کسا اور گھمایا تو اب میں اس کے اوپر تھا اور وہ میرے نیچے تھی میں نے دھکے لگانے سٹارٹ کردیے میں نے سپیڈ سلو رکھی کچھ دیر بعد اس نے بھی گانڈ کو میری طرف کرنا شروع کردیا میں نے سپیڈ بڑھا دی اس نے سسکنا شروع کردیا آرام سے کرو ہاں مزا آرہا ہے زور سے کرو میں بھی فل سپیڈ میں دھکے لگا رہا تھا اب میں طوفانی دھکے لگا رہا تھا اس نے چیخنا شروع کردیا ہائے مر گئی روکو میں نہیں رکا پھر اس نے پانی چھوڑ دیا وہ اب بے جان ہوگئی میں نے اس کو پکڑ کر گھمایا اور اس کی کانڈ پر تھوک پھینکا اور لن کی ٹوپی اوپر رکھی تو ناز بولی پلیز آرام سے کرنا مجھ میں زیادہ جان نہیں بچی میں نے ایک دھکا مارا تو میرا آدھا لن اس کے اندر تھا پھر دوسرا اور تیسرا دھکا مارا تو اس کے منہ سے چیخ نکلی میں نے اب بنا رکے اس کے گانڈ کا بھرتا بنانا شروع کردیا تھا اور آہستہ آہستہ میں بھی منزل کی طرف آرہا تھا اب وہ بس برداشت کررہی تھی کہ کسی طرح میں فارغ ہوں اس کی شدید درد ہورہا تھا اور وہ درد سے چیخ رہی تھی میں نے اب اس کی گانڈ کو پکڑ کر او ر رفتار تیز کردی پھر مجھے اپنی جان لن میں جاتی ہوئی محسوس ہوئی اس کے ساتھ ہی میں نے اس کی گانڈ میں جھٹکے کھانے شروع کردیا نیچے جب میرا گرم پانی اس کی گانڈ میں گیا تو وہ پھر ایک بار فارغ ہوگئی۔ میں اس کے اوپر ہی لیٹ گیا اور لمبے سانس لینے لگ پڑا وہ نیچے ایسے پڑی تھی کہ جیسے اس میں جان ہی نہ ہو۔ میں نے اس کی گانڈ سے لن نکالا تو پھک کی آواز آئی اس کی گانڈ کا سوراخ کافی کھلا ہوا تھا پھر آہستہ ااہستہ بند ہو رہا تھا میرا لن ابھی بھی سیمی حالت میں تھا میں ایسے ہی ننگا فریج تک گیا ملک شیک پیا اور ایک گلاس اس کو دیا بولی میری جان نکال دی ہے میں نے بولا نہیں نکلتی تم کی جان آج تک کوئی مرا ہے اس سے بولی تم نے مجھے ضروری مار کے چھوڑ نا ہے مجھے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ میرا سارا اندر زخمی ہوگیا ہے ایک تو تم کا اتنا بڑا ہے اور دوسرا تم فارغ ہی نہیں ہوتے بڑے سردار بھی جوانی میں ایسے ہی تھے میں اس کی یہ بات سن کے حیران ہوگیا بولا کیا مطلب بولی تم اپنے ابو کی جوانی کی کاپی ہو وہ بھی ایسے ہی تھے جب انہوں نے پہلی بار کیا تھا تو ایسی ہی حالت ہوئی تھی میری تم تو ان سے بھی ایک ہاتھ آگے ہومیں بولا کیا تم ابو کے ساتھ بھی وہ بولی بہت سے راز ہیں اس حویلی کے یہ بھی میرے منہ سے نکل گیا۔ ابھی وہ اور میں ننگے ہی تھے اور میرے لن سے پھر سے انکڑائی لی اس نے دیکھا تو بولی کیوں مجھے مارنے پے تلے ہوئے ہو میں بولا کچھ نہیں ہوتا بولی نہ بابا نہ پہلی بار تم نے اتنا ٹائم لگایا دوسرے بار تو تم مارکے ہی دم لو گے لیکن میں نے ایک نہ سنی اور اس کو پکڑ کر گرا دیا اور اس سے کسنگ شروع کردی ساتھ ممے مسلنے لگا اور پھر میں نے لن کو اس کے 38سائز کے ممو ں کے درمیان میں رکھا اور آگے پیچھے کرنے لگ گیا اس نے منہ کھول لیا میرا لن اس کے چکنے مموں کی لکیر سے رگڑ کھا کر اس کے منہ کی طرف جاتا جس کو وہ اپنے منہ میں لیتی پھر نے اس کو گھوڑی بنا دیا اور لن اس کی پھدی کے منہ پر رکھا جس سے پانی بہ رہا تھا ایک جاندار دھکا مارا اس کی چیخ نکل گئی میں نے پروا ہ نہ کرتے ہوئے دوسرا دھکا مارا سارااندر کردیا بولی آرام سے کرو کیوں میرا اندر پھاڑنا ہے میں بولا کچھ نہیں ہوتا بولی جس میں جاتا ہے اس کو پتہ لگتا ہے کہ کچھ ہوتا ہے یا نہیں میں نے شروع سے ہی رفتار تیز رکھی میری سٹیمنا والی ٹریننگ کام آرہی تھی میں کبھی اس کی پھدی میں ڈالتا کبھی گانڈ میں وہ بہت بری طرح تھک چکی تھی اور چیخ رہی تھی اس دوران وہ کئی بار فارغ ہوئی مجھے اس کو چودتے ہوئے 70منٹ ہوچکے تھے اس کے تینوں سوراخ میں نے باری باری چودے منہ کو بھی چودا اورآخر کار اس کی گانڈ میں فارغ ہوگیا اور لیٹ گیا اور ایسے ہی نیند کی وادیوں میں چلا گیا صبح دروازہ زور زور سے بجا یہ پہلی بار تھا کہ کوئی اٹھانے آیا ہو ورنہ میں خود اٹھ جاتا تھا اٹھ کر دیکھا تو ایسے ہی ننگا پڑا تھا اور ساتھ میں ناز بھی ایسے ہی بے سد ھ پڑی تھی میں نے پوچھا کون ہے تو چھوٹی ماں کی آواز آئی دروازہ کھولو میں ہوں میں نے جلدی سے چادر ناز پر ڈالی اور خود ٹراؤزرپہن کر دروازہ کھولا بولی کیا بات ہے آج جم نہیں گئے میں بولا تھوڑی طبیعت خراب ہے بولی ایسا کبھی نہیں ہوا تم کی طبیعت خراب بھی ہو تو تم جاتے ہو پھر اندر آئی اور بولی مجھے پتہ وہ ناز ابھی تک یہیں خان جی اٹھ کر گئے تو میں بھی اٹھ جاتی ہوں آج تم نہیں نکلے تو مجھے لگا تم کو اٹھا دوں کوئی اور نہ اٹھ جائے بولی لگتا ہے رات بھر نہیں سوئے میں بولا سوگیا تھا بس آج نیند سخت آئی چھوٹی ماں بولی آئے گی رات بھر جو اس بیچاری کا ستیاناس کیا ہوگا اتنے میں ناز بھی اٹھ بیٹھی اور جب بیڈ سے اٹھنے لگی تو گر پڑی چھوٹی ماں نے سنھبالہ بولی لگتا ہے اس کی اچھی خاطر مداری کی ہے تم نے میں ہنس دیا ناز کو بولی جلدی چلو کوئی اور اٹھ گیا تو غضب ہوجائیگا۔ ناز کپڑے پہن رہی تھی تو میرا لن ٹراؤزر میں تمبو بننا شروع ہوگیا جس کو چھوٹی ماں نے بھی محسوس کرلیا میں جلدی سے گھوم گیا ناز کو بولی جلدی چلو یہ نہ ہو پھر اندر ہی رہنا پڑے اور ہنس پڑی ناز بھی جلدی سے گدم باہر کی طرف بڑھائے میں جلدی سے جم کی طرف گیا ابو بولے کیا بات ہے آج لیٹ آئے میں بولا بس زرا طبیعت خراب تھی بولے آرام کرلینا تھا اب تم سردار ہو اب تم ایک دن ناجم آؤ تو کچھ نہیں ہوگا میں بولا نہیں اب تو بچپن کی عادت ہے رہا نہیں جاتا بولے یہ بات تو ہے خیر اسی طرح جم ختم کی اور گھر کی طرف چل پڑا۔1 like
-
پردیس ۔۔۔ اردو ادب کی لازوال سیکس کہانی
یار کہانی کی تعریف کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔ بس اتنا کہوں گا لاجواب ہے۔ 2،3 باتیں کہنا چاھتا ہوں 1 تو ڈاکٹر صاحب کے لیے ۔ آپ نے شکوہ کیا کے 500لوگ ریڈ کرتے ہیں ریپلائے 3،4 ۔ بھائی اس کا یہ مطلب نہیں کہ آ پ کی کہانی اچھی نہیں ہے بس میرے جیسے لوگ ڈرتے ہیں ہم ان فورمز پر تو چھپ کے آ جاتے ہیں لیکن پرائیویسی کے خوف سے ریپلائے نہیں کرتے آ پ کی کہانی کے بارے میں صرف اتنا کہوں گا کے کل دوپہر سے نان اسٹاپ پڑھ رہا ہوں اور پلاٹ اتنا اچھا ہو گیا ہے کہ سیکس سین پر دھیان ہی نہیں دے رہا جب کے فورم پر سیکس اسٹوری پڑھنے ہی آ یا تھا۔ لاجواب تحریر ہے۔ 1سوال ایڈمن سے ہے کیا اردو ۔۔۔۔۔ادھر شامل ہو گئی ہے کیوں کے ایک تو وہ فورم گم ہو گیا ہے دوسرا وہاں کے تمام چیتے یہاں نظر آ رہے ہیں جیسے آ پ شاہ جی اسٹوری میکر دوسرا یہ اتنا پرانا فورم ہے میں نے کبھی وزٹ نہی کیا لیکن میری وہی آ یڈی یہاں چل رہی ہے بس پاسورڈ رینیو کیا ہے۔ ایک اور چیز لاجواب طریقہ نکالا ہے پیسے لینے کا اب اتنی اچھی کہانی ہے تو دیں گے پیسے بالکل دیں گے تھوڑا غصہ بھی آ یا کے یہ اچھا طریقہ نہیں ہے پھر سوچا تو صحیح لگا اب کوئی پیکج بتائے کہ ممبر شپ لیں اور ہو سکے تو جواب بھی دے دیں۔1 like
-
میرے شریف سمدھی
1 like
-
پردیس ۔۔۔ اردو ادب کی لازوال سیکس کہانی
Thankyou doctor sb. Its very excellent story and you are a very good writer. Your story covering a complete life up and down. i am totally speachless. Tusi great ho ta cha ga ho1 like
- پردیس ۔۔۔ اردو ادب کی لازوال سیکس کہانی