Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 17/01/21 in all areas

  1. welcome to urdufunclub dear
  2. UpDate..... اچانک باہر .....برتن گرنے کی آواز آئی پھوپھو باہر دیکھنے چلی گئی میں نے سوچا ایک اور بار سیکس کیا جائے کیا پتا پھر کب موقع ملے تب تک پھوپھو آگئی آتے ہی میرے گال پہ چیونٹی کاٹ کر بولی کن سوچوں میں کھو گئے ہو میں بولا جان دل پھوپھو ایک دفعہ اور آپکی لینے کو دل کر رہا ہے پھوپھو بولی یہ کیا لگا رکھا ہے پھوپھو آپ.....جو کچھ ہمارے درمیان ہو چکا ہے اس کے بعد بھی کچھ باقی ہے؟ خیر مجھے شرمندگی ہوئی میں نے کہا تو کی بولوں ؟پھوپھو بولی میرا نام لیا کرو جب اکیلے ہو جب سب ہوں تو پھر پھوپھو بول لیا کرو میں نے کہا اچھا شمیم جان پھوپھو بولی بڑی جلدی سدھر گئے ہو میں نے شمیم کے گالوں سے کس کر لی تو وہ ساتھ اکھٹی ہو گئی جیسے وہ اس کے لیے تیار نہیں تھی پھر میں نے ہونٹوں سے کس کی تو شمیم تھوڑا آگے آئی جیسے وہ اس دفعہ فل تیاری میں تھی میں نے ہونٹ چوسنے شروع کر دیے شمیم بھی ساتھ دینے لگ گئی اور اس کی زبان اس دفعہ گرم تھی مطلب فل گرم ہو چکی تھی دوستو شمیم بھی ننگی تھی میں بھی ننگا تھا جب وہ باہر گئی تھی تو اوپر چادر لے کے گئی تھی رات کی وجہ سے کونسا کچھ نظر آنا تھا آتے ہی چادر اتار دی تھی اب ہم مارد زاد ننگے ایک دوسرے کے ساتھ لیٹے تھےجب میراجسم شمیم کے ساتھ لگا تو میراے لن نے انگڑائی لی اور مجھے بتایا کہ میرا وی کج سوچ آپ ای مزے لئی جانا ایں میں آگے ہو کے لن کو پھدی کے ساتھ ٹچ کیا تو لن مزے سے جھوم اٹھا پھدی بھی لن کا انتظار کر رہی تھی لن کے ساتھ لگتے ہی اپنے گیلے ہونے کا احساس کروایا میں شمیم کو چوم رہا تھا اور ساتھ ہاتھوں سے ممے بھی دبا رہا تھا دوسرے ہاتھ سے گانڈ کو سہلا رہا تھا شمیم بولی ایک بات بتاو پہلے کسی کے ساتھ کیا ہے میں نے کہا نہیں تم پہلی ہو جس نے میرا لن لیا ہے...... شمیم بولی ایک وعدہ کرو مجھ سے میں نے کہا کیا ؟ بولی ایک تو یہ کہ کسی کو ہمارے بارے میں بتانا نہیں دوسرا مجھے سب کے سامنے تنگ نہ کرنا میں نے کہا جان جیسا تم بولو گی میں ویسا ہی کروں گا بولی گڈ میری جان اور مجھے چومنے چاٹنے لگ گئی اور ایک ہاتھ نیچے کر کے لن کو پکڑلیا جب لن کو پکڑتی تو ایسے جیسے اس کو کھا جانا ہو کچھ دیر بعد بولی سیدھا لیٹ جاو میں لیٹ گیا اور سوچا پتہ نہیں کیا کرنے لگی ہے اوپر آگئی ٹانگوں پہ بیٹھ کے ہاتھ پھیرنے لگ گئی پھر آگے ہو کے ممے میرے منہ کے آگے کر دیے جیسے کہ رہی ہو چوسو میرے منہ میں بھی پانی آرہا تھا میں بھی سٹارٹ ہو گیا چوسنے کبھی ایک آگے کرتی کبھی دوسرا اور اپنا منہ اوپر چھت کی طرف کر کے مختلف آوازیں نکال رہی تھی آہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہ ایییییییییییییییییییییییییییی اوہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہہ ہائےےےےےےےےےےےےےے سیییییییییییییییییییییییییی ساتھ کہ رہی تھی زرو سے چوسو جان زور سے چوووسسسسس کھا جا اینا نوں سارا کھا جا نیچے سے لن کو پھدی سے رگڑ رہی تھی پھر اچانک اوپر اٹھی اور لن کو پہ پکڑ کر پھدی پہ سیٹ کیا اور فل نیچے بیٹھ گئی میری سسکاری نکل گئی افففففف لن تو کسی بھٹی میں چلا گیا تھا بہت گرم شمیم کبھی پھدی کھولتی کبھی بھینچتی بہت مزہ آ رہا تھا شمیم بھی فل انجوائے کر رہی تھی پھر اس کی سپیڈ تیز ہوتی گئی اوپر نیچے تیز تیز ہو رہی تھی اچانک اس کا جسم اکڑنا شروع ہو گیا اور پھر ڈھیلا ہو گیا اور میں نےاپنے لن پہ کچھ گرم گرم محسوس کیا شمیم میرے ساتھ نیچے لیٹ گئی میرا لن اسکی منی کے ساتھ لتھڑا فل کھڑا تھا میں نے اس کے اوپر آ گیا اتے ہی لن زور سے گھسے کے ساتھ اندر کر دیا چونکہ پھدی گیلی تھی سو آسانی سے ٹوپی اندر چلی گئی شمیم کے منہ سے اھھھھھھھھ نکلا میں آگے کو ہو کے مموں کو چوسنے لگ گیا اور دوسرے ہاتھ سے دبانے لگ گیا اس نے ایک ہاتھ میرے سر پہ رکھا اور پھیرنے لگ گئی میں سمجھ گیا شمیم پھر گرم ہو گئی ہے مجھے اس کے چور سوئچ کا پتا لگ گیا تھا جہا ں سے وہ گرم ہوتی ہے خیر میرے دھکوں کی بھی سپیڈ تیز ہوتی گئی ساتھ اس نے بھی نیچے سے گانڈ اٹھا اٹھا کر ساتھ دینا شروع کر دیا ساتھ کئی آوازیں نکال رہی تھی اور کہ رہی تھی زور نال زور نال اینج ای اینج ای اھھھھ اھھھھ ھھھھ اھھھ افففف افففف اففففف اففف اااااااااااہہہہہہہہہہہہہ مجھے خون لن کی طرف جاتا محسوس ہوا اور پھر آخری جھٹکا جب لگایا تو شمیم کی پھدی نے پانی چھوڑ دیا اور میں نے لن باھر نکالا تو لن ساب نے بھی منی کا فوارا چھوڑا پہلا چھینٹا تو سیدھا شمیم کے منہ پہ گرا باقی اس کے پیٹ پہ لن نے سارا پانی نکال دیا شمیم چونکی اور بولی گندا یہ کیا کیا....... اور مسکرانے لگی اور ایک ہاتھ سے منہ صاف کر لیااور پیٹ سے بھی صاف کر لیا....میں بھی اوپر ہی گیا.....ادھر ہی سو گیا اتنا مزہ آج تک نہیں ملا تھا جتنا آج ملا تھا سو ہوش ہی نہیں تھی کہاں ہوں شمیم نے جنجھوڑ جنجھوڑ کے کپڑے پہنائے مجھے اور خود بھی پہنے.... شائد پھدی کے نشے سے ایسا ہال ہوا تھا ..........اچانک مجھے
  3. 1 like
    doston aaj kal light bohot zeyada jaa rahi hay bus issi leyeh update late ho gai ab koshish karoon ga k aap ko zeyada wait na karna paray aap k comments ka intaizaar rahay ga
  4. ہیلو دوستو میں ہوں آپ کا شاہ جی۔۔۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہمارے ہاں زیادہ تر لڑکے سیشنل کھلاڑی ہوتے ہیں میں جب کبھی کرکٹ کا ورلڈ کپ ہورہا ہو تو سب سٹریٹ فیلوز کرکٹ کے دیوانے نظر آتے ہیں اور ہر طرف کرکٹ ہی کرکٹ چل رہا ہوتا ہے اسی طرح جب فٹ بال کا ورلڈ کپ ہورہا ہو تو سب لڑکے فٹ بال کیلئے ہی پاگل ہوتے ہیں یہ ایک نارمل بات ہے۔ یہ کہانی فٹ بال ورلڈ کے دنوں کی ہے جیسے جیسے ورلڈ کپ آگے بڑھتا جاتا لڑکوں کا کریز بھی بڑھتا جاتا اور تب ایک دن ہم دوستوں نے فیصلہ کیا کہ ہم بھی ایک فٹ بال ٹیم بناتے ہیں اور پھر نیو سٹار فٹ بال کلب کے نام سے ہماری ٹیم بن گئی۔ جس کا میں نائب کپتان اور میرا دوست کپتان بن گئے۔ پریکٹس کے لیے ہم نے میڈیکل کالج راولپنڈی کی گراؤنڈ پسند کی لیکن ابھی ہم نے ایک دو دن ہی پریکٹس کی تھی کہ وہاں سے ہم لوگوں کو بھگا دیا گیا تب ہم نے ایک دوسری گراؤنڈ پر کھیلنا شروع کردیا۔ لیکن پہلی کی طرح وہاں سے بھی بے دخل کردیا گیا۔ اسی طرح ہم تیسری گراؤنڈ پر پہنچ گئے۔ وہاں سے بے دخلی کے بعد ہم نے ایک گورنمنٹ سکول کے گراؤنڈ پر کھیلنا شروع کیا یہ گراؤنڈ ایک گورنمنٹ سکول کی ملکیت تھا۔ جہاں پر ہمارے دوست کے پاپا نے پرنسپل سے پرمیشن لے دی تھی۔ یہ سکول ائیر پورٹ کے قریب ہی تھا۔ ہمارے گراؤنڈ سے تھوڑا دور ہی آرمی آفیسران کے گھر تھے۔ میری ذمہ داری یہ تھی کہ میں گراؤنڈ میں فٹ بال اور کھلاڑیوں کی کٹس وغیرہ لایا بھی کروں اور کسی محفوظ جگہ پر رکھا بھی کروں۔ اب ہم نے ہر شام وہاں پریکٹس کرنا شروع کردی تھی کچھ دنوں کےبعد ایک لڑکا جو شکل سے کچھ سپیشل پرسن سا لگتا تھا ہمارے پاس آکر روزانہ گیم دیکھنے لگا اس سے ہماری خاص کر میری کچھ جان پہچان بھی ہوگئی اور پھر ایک دن اس نے بھی ہمارے ساتھ کھیلنے کی ریکوسٹ کی لیکن کپتان نے درخواست صرف اسی وجہ سے قبول نہیں کیونکہ وہ خاص دکھتا تھا۔ کپتان کے صاف انکار سے وہ کافی ناامید ہوا اور وہاں سے چلا گیا اگلے دن جب ہم کھیلنے آئے تو ہم نے اس لڑکے کے ساتھ ایک بیٹ مین(آرمی والا) اور ایک میچور عورت جو کہ اس کی بڑی بہن تھی، آئے ہوئے تھے۔ بیٹ مین نے آگے آکر ہم سے کہا کہ میڈم صاحبہ بولا رہی ہیں جب میں اور کیپٹن میڈم کے پاس گیا تو وہ غصے سے بولیں: دیکھو اگر تم لوگوں کو یہاں کھیلنا ہے تو اس کو بھی ساتھ کھیلانا پڑے گا نہیں تو آپ سب کی چھٹی کردی جائے گی اس کھلی بلیک میلنگ سے ہم دونوں کافی گھبرا گئے اور ہم فوراً ہی اس لڑکے کو اپنے ساتھ کھیلانے پر آمادہ ہوگئے۔ اب وہ لڑکا ہمارے ساتھ ہی کھیلنے لگا، گیم شیم تو اس کو تو بالکل ہی نہیں آتی تھی لیکن اس کی بہن کا ڈنڈا تھا تو اس لیے ہم اسے کھلانے پر مجبور تھے۔ لڑکے کی پہلے ہی میرے ساتھ کافی گپ شپ تھی اس لیے فیصلہ ہوا کہ وہ میرے ساتھ بیک پر کھیلے گا۔ ساتھ ہونے کی وجہ سے میری اور اس کی بات چیت تھوڑے ہی دنوں میں فارمل بات چیت سے دوستی میں تبدیل ہوگئی۔ گراؤنڈ سے کچھ ہی دور اس کا گھر تھا اس لیے اسی نے آفر کی کہ میں ٹیم کی کٹ، فٹ بال اور باقی سامان اس کے گھر رکھ دیا کروں اور وہاں سے لے آیا کروں ، کچھ دنوں بعد میں اس کے گھر با آسانی آنے جانے لگا۔یہ گھر اس کے جیجا کرنل گل کا تھا۔ کرنل صاحب کی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی اس لیے مسز گل نے اپنے والدین سے اپنا بھائی مانگ لیا تھا اور وہ ان کے ساتھ رہتا تھا۔ اس کی بہن مسز گل جس کا نام پل وشاہ مروت تھا لیکن سب اسے مسز کرنل گل کہتے تھے۔ وہ خاندانی پٹھان تھی جیسا کہ آپ لوگ جانتے ہیں کہ پٹھان خوبصورت اور گورے چٹے ہوتے ہیں اور ناجانے کیا کیا خوبیاں پائی جاتی ہیں۔ مسز گل ٹھنڈے دماغ اور سمارٹ عورت دکھتی تھی۔ فوجی کی بیوی اور اوپر سے پٹھانی عورت، ہونے کی وجہ سے سٹائلش اور کلاسی۔۔۔ اوپر سے جسم بھی مسز گل نے ویل شیپڈ بنا رکھا تھا۔ صراحی دار لمبی گردن خوبصورت آنکھیں اور گولڈن بال۔۔۔اور جب وہ اپنی آنکھوں پر خوبصورت گلاسسز لگاتی تو بس۔۔۔ قیامت ہی آجاتی۔۔۔ بڑے بڑے پستان۔۔۔ اف اس کے پورے جسم میں سب سے زیادہ خوشنما اس کی نرم اور بڑی سی گانڈ تھی۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ہ ہ وہ مرد مار خاتون تھی جس (گانڈ) کو جب وہ ہلاہلا کر مستانی چال چلتی تو دیکھنے والے اپنا دل پکڑ کر رہ جاتے۔ مسز گل تھوڑا سپشل پرسن ہونے کی وجہ سے اپنے چھوٹے بھائی فدا سے بڑا پیار کرتی تھی اور اس کا خاص خیال رکھتی تھی فدا کا دوست ہونے کی وجہ سے میرے ساتھ بھی کافی اچھا رویہ رکھا ہوا تھا۔ ان کے شوہر گھر پر بہت کم ملا کرتے تھے زیادہ تر پل وشاہ باجی ہی گھر پر موجود ہوتی تھیں۔ فدا کی طرح میں بھی ان کو بھی پل وشاہ باجی کہہ کر پکارتا تھا شروع شروع میں تو میں ٹیم کا سامان ان کے نوکر کو دے کر چلا جایا کرتا تھا۔ پر کچھ ہی دنوں کے بعد فدا نے مجھے اپنے گھر لے جانا شروع کردیا اور پھر آہستہ آہستہ حالات یہ ہوگئے کہ ہم دونوں گھر سے ہی تیار ہوکر (کٹ میں) جاتے تھے اور واپسی پر وہیں کپڑے تبدیل کرتا تھا۔ یہ سمر سیزن کی بات ہے ہم دونوں معمول کے مطابق گھر آئے پسینے کی وجہ سے ہم دونوں کا جسم بھیگا ہوا تھا بُری طرح سے پیاس لگی ہوئی تھی۔ اس دن ان کا نوکر بھی گھر پر نہیں تھا فدا بولا: آؤ شاہ جی فریج پر حملہ کرتے ہیں۔ اکثر نوکر ہی ہم کو ٹھنڈا پانی یا شربت سرو کرتا تھا لیکن اس دن وہ گھر پر نہیں تھا اس لیے ہم دونوں فوراً ہی کچن کی طرف چل دئیے چونکہ کچن کا راستہ ڈرائنگ روم سے ہوکرگزرتا تھا، جیسے ہی ڈرائنگ روم میں پہنچے تو باجی پل وشاہ کسی خاتون کے ساتھ بیٹھی باتیں کررہی تھیں۔ ان کے سامنے مشروب پڑے ہوئے تھے۔ جیسے ہی ان کی نظر ہم پر پڑی وہ بولی: فدا دیکھو تو ہمارے گھر کون آیا ہے؟ ہم تو ابھی تمہیں ہی یاد کررہے تھیں۔ فدا اس خاتون کو دیکھ کر بڑا خوش ہوا اور فوراً ہی اس طرف چلا گیا یہ مسز سلیم تھیں پل وشاہ کی دوست۔۔۔ میں نے بھی ان کو دور سے ہائے بولا اور پھر کچن کی طرف بڑھنے لگا تو پل وشاہ باجی بولیں: شاہ جی آپ بھی آؤ نا۔۔۔ آپ سے بھی مسز سلیم ملنا چاہتی ہیں یہ سن کر میں بھی ان کے پاس چلا گیا۔مسز سلیم تو پل وشاہ باجی سے بھی دو دو ہاتھ آگے تھیں اس نے بڑے ہی ٹرانسپیرنٹ کپڑے پہنے ہوئے تھے جس سے ان کا گورا بدن صاف نظر آرہا تھا جیسے ہی میں ان کے پاس پہنچا پل وشاہ باجی بولی: یہ ہیں مسٹر شاہ جس کا میں ذکر کررہی تھی فدا کا اس ٹاؤن میں اکلوتا دوست۔۔۔ مسز سلیم صوفے سے اٹھی اور میرے ساتھ مصافہ کیا۔ میں ویسے تو ان کے ساتھ مصافہ کررہا تھا پر میری آنکھیں نہ چاہتے ہوئے بھی ان کی اوپن ٹرانسپیرنٹ شرٹ سے جھانکتی ہوئی گورے گورے موٹی پستانوں پر تھی جن کے بس نپلز ہی برا میں چھپے ہوئے تھے۔ باقی وہ ٹوٹلی ننگی تھی اتنے خوبصورت پستانوں پر میری نظر جیسے چپک سی گئی تھی میرے خیال میں پل وشاہ باجی کو میری اس بدتمیزی کا اندازہ ہوچکا تھا اس لیے وہ فوراً بولی: شاہ جی یہ مشروب لے لو۔۔۔ جیسے ہی میں نے ڈرنک کا گلاس اُن کے ہاتھ سے لیا تو انہوں نے ہلکا سا میرا ہاتھ دبایا اور سرگوشی میں بولیں:بُری بات۔۔۔ آپ اپنی نظروں پر قابو رکھیں۔

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.