Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 03/12/20 in all areas

  1. ❤لاجواب❤ آج سے پہلے کافی کہانیاں پڑھی بھی اور دیکھیں بھی ان میں بہت سی لاجواب تھیں مگر آج سے پہلے کسی لکھاری کا اس طرح اپنی ہر کہانی پر گرفت اور منظر نگاری میں کمال شاید بہت کم ہیپڑھنے کو ملا جنس کا موضوع ادب میں ایک مشکل موضوع ہے میری ناقص رائے میں خاص کر اگر میں اسے اپنے معاشرے کے حوالے سے دیکھوں جہاں یہ آج بھی شجر ممنوعہ ہے اور ہماری ذہنی پسماندگی کی کئی وجوہا ت میں سے ایک بھی ڈاکٹر صاحب اور اس فورم سے "ایک بھولی داستان "کا تعاقب کرتے ہوئے تعارف ہوا تو مجھے ایک طرح سے حیرانگی کا جھٹکالگا جب ڈاکٹر صاحب نے اسکہانی کو نئی زندگی دی اور اس کے چلتے کچھ تنازعات میں ڈاکٹر صاحب کی عموم سے ہٹ کر رائے بھی پڑھنے کو ملی جو کہ میں سمجھتا ہوں کہ ایک بونس تھا "اسکے بعد "پردیس " اور پھر" کھپرو کی ملکہ"ہرایک شاندار اور شاہکارتحریر ہے ڈاکٹر صاحب اور ایڈمن صاحبکو قارئین سے ایک گلہ رہتا ہےکہ اکثر قارئین اپنی رائے کا اظہار نہیںکرتے بس چپ چاپ کہانی پڑھتے ہیں .آج سے پہلے میں نے بھی کبھی کسی کہانی پر اپنی رائے نہی دی کیونکہ یہ ایک مشکل کام ہے خاص طور پر ہمارے معاشرے میں جہاں اظہار کا نا ہونا ہی آزادی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے اور ویسے بھی اگر لکھنا آسان کام ہوتا تو اس فورم پر بھی بہت سے ڈاکٹر فیصل ہوتےجبکہ ایساکچھ نہیں ہے مجھے بہت افسوس ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی بہت سی تحریریں اس فورم کی مالی مجبوریوں میں بندھی ہیں اورمجھ سمیت بہت سے خاموش قارئین کی دسترس سے بہت دور ہیں بہرحال اس فانی دنیا میں ہر کوئی چاہے شاہ ہو یا گدا اپنی اپنی مجبوریوں کا اسیر ہے
  2. Pahli bat k mere pas se ap ka data jata rha ha num etc or dusri bat k ap reply bhot kam dete han or phr ma bhot bar comments kar chuka hun lekin ap koi reply ni de rahy the is liye mafi chahta hun mujy apni tarf tawajuh k liye ase bolna para sorry
  3. 1 like
    بالکل آگے بڑھے گی یہ کہانی ابھی کافی لمبی چلیں گی لیکن آپ لوگوں کے سپورٹ کی ضرورت ہے .
  4. 1 like
    Update 003 یہ میرا پہلا سیکس ایکسپیرینس تھا اِس لیے اب مجھ سے اور زیادہ صبر نہیں ہو رہا تھا اور آگے بڑھتے ہوئے دَر بھی لگ رہا تھا کے کہیں سارا کام ہی نا بگڑ جائے میرا لنڈ کسی روڈ کی طرح کھڑا تھا اور آنٹی کی ٹانگوں کے بیچ پھنسا ہوا تھا میں نے اب اپنے لنڈ کو آنٹی کی ٹانگوں کے بیچ سے آگے پیچھے کرنا شروع کر دیا آنٹی اب اپنی ٹانگوں کو کبھی ڈھیلا چھوڑ دیتیں اور کبھی ٹائیٹ کر لیتین اب بار میرے برداشت سے باہر ہو گئی تھی لنڈ کی حالت ایسی تھی کے اگر مجھے کوئی دیوار ملتی تو اس میں بھی سوراخ کر دیتا میں نے اپنے ہاتھ آنٹی کے مموں اور گند سے ھٹائے اور آنٹی کی قمیض کے اندر ڈال دیئے اور آنٹی کے پیٹ پر تھوڑی دیر ہاتھ پھیرنے کے بعد اک ہاتھ مموں پر لے گیا جہاں آنٹی کے برا میں قید ممے میرے ہاتھوں کا انتظار کر رہے تھے اور اک آنٹی کی لاسٹک والی شلوار کے اندر ڈال دیا اور دھیرے دھیرے نیچے کرنے لگا شلوار میں ہاتھ ڈالتے ہی میری انگلیاں آنٹی کے چھوٹے چھوٹے بالوں سے ٹکرائیں میں نے کچھ دیر بالوں پر ہاتھ پھیرنے کے بعد ہاتھوں کو مزید نیچے آنٹی کی چوت کے پاس لے گیا جب میں نے آنٹی کی چوت پر ہاتھ رکھا تو کچھ گیلا محسوس ہوا مجھے اس وقت یہ نہیں پتہ تھا کے لڑکی جب گرم ہوتی ہے تو اس کی چوت سے پانی نکلتا ہے اِس لیے مجھے لگا کے آنٹی کا شاید پیشاب نکل گیا ہے خیر میں نے اِس بات پر زیادہ دھیان نہیں دیا اور تھوڑی دیر آنٹی کی چوت کو نرم ہاتھوں سے مساج کرنے کے بعد آنٹی کی شلوار نیچے کر دی آنٹی کی لاسٹک والی شلوار ان کے گھٹنوں تک آ گئی آنٹی نے اِس بار بھی کوئی مزاحمت نہیں کی بلکہ اُلٹا اپنے ہاتھوں سے میری شلوار کا زارباند کھول نے لگیں آنٹی کی اِس حرکت کو دیکھ کر اب میرا سارا دَر ختم ہو گیا تھا میں نے آنٹی کی قمیض کو اتارنے کے لیے اوپر کیا تو آنٹی نے بھی ہاتھ اوپر اٹھا ڈائی ابھی میں آنٹی کی قمیض اوپر کر ہی رہا تھا کے آنٹی کے گھر کے دروازے پر کسی نے دستک دی آنٹی نے فوراً اپنے ہاتھ نیچے کیے اور اپنی شلوار کھینچ کر اوپر کر لی میں نے بھی فوراً اپنے کپڑے ٹھیک کیے اور اپنی قسمت کو گلیاں دیتا ہوا دروازے کے پاس چلا گیا جب دروازہ کھولا تو آنٹی کی بڑی بیٹی تھی جو میرے گھر سے اپنے گھر آئی تھی جب وہ اندر آ گئی تو میں اس کے ساتھ اندر جانے کے بجائے سیدھا اپنے گھر چلا لنڈ تو میرا پہلے ہی مُرجھا چکا تھا لیکن چین اب بھی کسی کروٹ نہیں مل رہا تھا میں نے گھر جاتے ہی باتھ روم میں جا کر مٹھ ماری مٹھ مرنے کے بعد کچھ سکون ہوا تو میں آج کی ادھوری چدائی کے بڑے میں سوچنے لگا اور کل کے بارے میں پلان بنانے لگا اب مجھے کل ہر حال میں آنٹی کو چھوڑنا تھا میں سونے کے لیا لیتا لیکن نیند آنے کا نام ہی کہاں لے بار بار ذہن میں آنٹی کو کس اور ان کے ساتھ ہوئی ادھوری چدائی کے خیالات ذہن آ رہے تھے خیر کسی طرح سے رات کٹی اور اب اگلے دن میرا پِھر سے آنٹی کے گھر جانے کا وقت آ ہی گیا کل کی نسبت آج میری زیادہ گند پھٹ رہی تھی کے آنٹی پتہ نہیں کیا بولیں کل جو ہوا اس کا بارے میں اک طرف سے یہ تسلّی بھی تھی کے آنٹی کل خود بھی تو میرا ساتھ دے رہی تھیں لیکن جب دِل میں چور ہو تو دَر تو لگتا ہی ہے میں ان ہی سوچوں کے ساتھ آنٹی کے گھر پوحچا اور دروازے پر دستک دی آنٹی نے فوراً ہی دروازہ کھول دیا اور مجھے دیکھ کر دروازہ کھلا چھوڑ کر اندر چلی گئیں آنٹی کے چہرے پر ہمیشہ اک پیاری سی مسکراہٹ رہتی تھی جو آج غائب تھی میں بھی اندر چلا گیا اور جاتے وقت دروازہ بند کر دیا جب آنٹی کے کمرے میں پہنچا تو آنٹی اپنے بیڈ پر لیتی ہوئی تھیں میں بیڈ پر آنٹی کے پاس ہی بیٹھ گیا اور سوچنے لگا کے کیا بولوں ابھی میں کچھ بولنے ہی والا تھا کے آنٹی اچانک سے اٹھیں اور اپنے دونوں ہاتھوں سے میرے سَر کو پکڑ کر اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ ڈائی اور میرے نیچلے ہونٹ کو چوسنا شروع کر دیا مجھے بھی اب سمجھ آ گیا تھا کے لائن کلیئر ہے اور میں کل کی طرح دیر نہیں کرنا چاہتا تھا اِس لیے میں نے فوراً آنٹی کی شلوار میں ہاتھ ڈالا اور آنٹی کی چوت کو زور زور سے اپنی انگلیوں سے مسلنے لگا آنٹی کی چوت آج بھی پانی چور رہی تھی اور میں آج بھی یہی سمجھ رہا تھا کے آنٹی کا پیشاب نکل گیا ہے میں نے اب دیر نا کرتے ہوئے آنٹی کی شلوار نیچے کر دی اور آنٹی نے اپنی ٹانگوں کو اٹھتے ہوئے اک اک کر کے اپنے دونوں پاؤں شلوار سے نکل ڈائی میں نے آنٹی کی قمیض کو اٹھایا تو آنٹی نے ہاتھ اوپر اٹھا ڈائی اور میں نے آنٹی کی قمیض بھی ان کا جسم سے الگ کر دی اب آنٹی صرف برا میں میرے سامنے کھڑی تھیں کل کی نسبت آج آنٹی کی چوت پر اک بھی بال نہیں تھا میں نے آنٹی کے مموں کو آنٹی کے اسکن کلر کے برا کے اوپر سے کچھ دیر دبایا اور پِھر برا بھی اُتَر دیا آنٹی کے بارے بارے ممے بالکل ننگی حالت میں میرے سامنے تھے جس عورت کو میں صرف خیالوں میں سوچ کر مٹھ مارا کرتا تھا آج میرے سامنے ننگی کھڑی تھی آنٹی کے مموں پر لائٹ برائون کلر کے نپلز دیکھ کر مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں نے فوراً آنٹی کا اک نپل منہ میں لیا اور دوسرا اک ہاتھ سے دابانے لگا آنٹی پیار سے میرے سَر کے بالوں میں انگلیاں پھر رہی تھیں آنٹی کے دونوں مموں سے انصاف کرنے کے بعد میں نے اپنے کپڑے اترے اور آنٹی کو بیڈ پر لٹا کر انکی ٹانگوں کے بیچ بیٹھ گیا اور اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے آنٹی کو چوت کے ہونٹوں کو کھول کر دیکھنے لگا آنٹی آنکھیں بند کیے لیتی رہیں میں نے چوت کے اندر دیکھا تو انکی ملائم سفید بے داغ چوت کے اندر لال رنگی کی اک جھلی نظر آئی اس کے اوپر اک دانہ جیسا کچھ تھا میں نے دیر نا کرتے ہوئے اپنے لنڈ کو آنٹی کی چوت پر سیٹ کیا اور پوری جان سے دھکہ لگا دیا آنٹی کے منہ سے اک زوردار آہ نکلی اور میں مزے کی انتہا تک پھنچ گیا آنٹی کی چوت کافی گیلی تھی جس کی وجہ سے میرا پورا لنڈ اک ہی بار میں آنٹی کی چوت میں گھاس گیا تھا اِس کے بعد میں نے بغیر رکے زور زور سے آنٹی کی چوت مارنی شروع کر دی اور اور آنٹی نے آہیں بھرنا شروع کر دن مجھے اپنا لنڈ کسی گرم بھٹی میں محسوس ہو رہا تھا میں بنا رکے آنٹی کی چوت مرتا رہا لیکن تھوڑی دیر بعد مجھے اپنی رانوں میں درد ہوتا محسوس ہوا مستقل اک ہی پوزیشن سے چودتے ہوئے میری رانوں میں درد ہو گیا تھا میں رک گیا تو آنٹی نے آنکھیں کھول کے میری طرف دیکھا اور سمجھ گئیں کے میں کیوں رکا ہواں آنٹی فوراً اٹھیں اور میرے سامنے گھوڑی بن گئیں میں نے بھی دیر نا کرتے ہوئے فوراً اپنا لنڈ آنٹی کی چوت میں ڈال دیا اور چھوڑنا شروع کر دیا اِس اسٹائل میں مجھے کچھ زیادہ ہی مزہ آ رہا تھا کیوں کے آنٹی کی چوت پہلے سے زیادہ ٹائیٹ لگ رہی تھی اور انکی گند کا سوراخ بھی میرے آنکھوں کے سامنے تھا میں زیادہ دیر تک خود کو روک نہیں پایا اور آنٹی کے چوت میں فارغ ہو گیا فارغ ہوتا ہی میں بیڈ پر لیٹ گیا اور لمبی لمبی سانسیں لینے لگا ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی نے جسم کا سارا خون نچوڑ لیا ہو آنٹی کی حالت بھی مجھ سے مختلف نہیں تھی کچھ دیر یوں ہی لیتا رہنے کے بعد میں اپنے کپڑے پہن کر اپنے گھر چلا گیا میں نے آنٹی کو چود دیا تھا اور اِس چُدائی کی دوران ہم دونوں نے کوئی بات نہیں کی تھی
  5. Dear writer g kahan gum hain apne khair khaireat say he aagaah ker dayty r kio update ka atta pata to day dayty. Wasy is dunia k ghum to kam hone ka nam he nahe lyty

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.