Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 29/09/20 in all areas

  1. قسط نمبر6۔ جم پہنچا ابو پہلے سے موجود تھے اور ایکسرسائز کر ررہے تھے انہوں نے مجھے دیکھا اور بولے تم کا چہرہ رات کا حال بیاں کررہا ہے میں ہنس کیا کہ آپ کی ہی کرم نوازی ہے بولے کیسا لگا میرا تحفہ میں بولا بہت اچھا بولے ہاں اب تو مرد بن گئے ہو میں ہنس دیا پھر ہم نے ساتھ ہی نشانہ بازی کی پریکٹس کی اور گھر چلے گئے ناشتے پر سب بیٹھے تھے سب نے ناشتہ کیا میں چھوٹی ماں کے کمرے میں چلا گیا ناک کیا بولی آجاؤ میں اندر داخل ہوا وہ بیڈ پر پاؤں پھیلا کر بیڈ کے بیک سے ٹیک لگا کر بیٹھی تھیں میں نے سلام کیا انہوں نے لان کا فٹنگ والا سوٹ پہنا ہوا تھا اور تنگ پاجامہ تھا لیکن آج عجیب بات ہوئی پہلے جب میں ان کمرے میں آتا تھا تو وہ ڈوپٹہ پہن لیتی تھیں آج ان کا ڈوپٹہ اُترا ہوا تھا میرے نظر سیدھے ان کے سینے پر پڑی تو دھیان دیا کہ ان کی چھاتی بہت بھاری ہے کم سے کم 38تو ہوگی پہلے کبھی ایسا خیال ہی نہ آیا تھا لیکن پتہ نہیں کیا تھا ناز کا اثر تھا یا شاہد پہلے ایسا کچھ کیا نہ تھا خیر انہوں نے بھی میری نظروں کا پیچھا کیا کہ میری نظریں کہا ں ہیں لیکن کچھ کہا نہیں بس مسکرا دی۔ بولی خیر ہے آج صبح ہی میرے پاس آگئے پہلے تو کبھی نہیں آئے میں بولا کیوں نہیں آسکتا چھوٹی ماں بولی آسکتے ہوپہلے تم نمرہ کے پاس جاتے ہو پھر کہیں اور میں بولا آج وہ گھر پر نہیں ہے سہلیوں کے ساتھ باہر گئی ہے۔ خیر ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ لیکن میری نظر ناجانے کیوں بار بار ان کے بھاری سینہ پر جاتی کئی بار انہوں نے محسوس کیا بولی لگتا ہے لڑکا اب جوان ہوگیا ہے میں شرمندہ سا ہو کر منہ نیچے کرلیا اور کچھ نہ بولا وہ ہنس پڑی میرے ٹراؤزر میں بھی حرکت شروع ہوچکی تھی اس سے پہلے وہ دیکھ لیتی وہاں سے رخصت لے لی۔وہاں سے نکلا تو نور اور عائشہ باہر ٹی وی لاؤنج میں بیٹھی تھیں کسی بات پر جھگڑ رہی تھیں میں جیسے ہی ان کے پاس پہنچا وہ چپ ہوگئی ناجانے کیا بات تھیں ان سے حال چال پوچھی اور پھر بیٹھک میں چلاگیا جو حویلی کے ساتھ تھی وہاں پر ایک مسئلہ آیا ہوا تھا ایک گاؤں کی لڑکی کو دوسرے گاؤں کے لڑکے نے بھگا لیا تھا کچھ دن اس کے ساتھ رہا پھر اس کو چھوڑ دیا اور شادئی نہ کی جس کی وجہ سے دونوں گاؤں میں کافی تناؤ تھا یہ میرا پہلا معاملا تھا ابوبھی میرے ساتھی ہی تھے ان کو کئی فیصلہ کرتے دیکھا تھا آج میں نے فیصلہ کرنا تھا خیر لڑکے اور لڑکی کو پیش کیا گیا لڑکے کا نام زمان خان تھا اور لڑکی کا نام پلوشے تھا لڑکا بھی ٹھیک تھا لیکن لڑکی تو کمال تھی پانچ فٹ قد تھا بھاری سینہ سرخ و سفید رنگ باہر کو نکلی ہوئی گانڈ جو کہ ڈوپٹہ میں بھی گانڈ اور سینہ محسوس ہورہا تھا۔میں نے لڑکے سے پوچھا کیا معاملہ ہے تو اس کے والد نے بولنا شروع کیا تو میں نے بولا آپ سے جب پوچھا جائے تو بولیں میں نے آواز زرا سخت رکھ جس سے آواز گونجی لڑکا بولا کہ میں اس سے پیار کرتا ہوں یہ بھی مجھ سے پیار کرتی تھی ہم بھاگ گئے وہاں ایک دوست کے گھر رہے تو ایک ہفتہ بعد دیکھا تو یہ میرے دوست کے ساتھ ناجائز حالت میں تھی پیار کا دعویٰ یہ مجھ سے کرتی ہے اور بھاگی میرے ساتھ سو میرے دوست کے ساتھ رہی تھی۔ میں نے بولا تم نے اس سے شادی کی تو وہ بولا کرنی تھی اس لیے تو بھاگایا تھا تو میں بولا کی کیوں نہیں۔تو بولا جب کسی اور کیساتھ سورہی تھی تو کیوں کرتا۔ میں بولا ایک ہفتہ کیا کرتے رہے ہو۔ وہ چپ پھر میں نے لڑکی سے پوچھا ہاں تم بولو وہ بولی سردار صاحب میں اس سے پیار کرتی تھی اور پیار میں ہی اپنے ماں پاب کی عزت کی پرواہ کیے اس کے ساتھ چلی گئی لیکن ایک ہفتہ گزر گیا مجھ سے شادی نہ کی لیکن باقی سب کرتا رہا۔ جب وہ یہ بول رہی تھی تو میری اور اس کی نظریں ٹکرائی تھی میں نے بہت بار کہا شادی کرلو اس نے کہا کر لیں گے مجھے اس کی نیت میں شعبہ پتہ لگ گیا کہ یہ صرف مجھے استعمال کرے گا اور کہیں بیچ جائے گا۔ تو میں نے اس کے دوست کے ساتھ سیٹنگ کر لی اور وہاں نے جانے کا پلان بنا لیا لیکن جب میں اس کی قیمت ادا کررہی تھی تو یہ اوپر سے آگیا پھر ان دونوں نے مجھے کئی بار زیادتی کا نشانہ بنایا میں وہاں کسی طرح بھاگ نکلی گاؤں والے بھی ہماری تلاش میں تھے بس میں بیٹھنے لگی تو گاؤں کے لوگ بھی اڈے پر کھڑے تھے جو ٹھونڈ رہے تھے انہوں نے دیکھ لیا اور پکڑ لیا پھر انہوں نے زمان کے بارے میں پوچھا تو میں نے بتا دیا پھر یہ گاؤں لے آئے۔وہ چپ ہوگئی۔ میں نے لڑکی کو بولا کہ ایک ہفتہ میں تم کا پیار اتر گیا اور تم نے ایک ہفتہ میں شادی کیوں نہ کی۔ تم دونوں ایک ہفتہ تک شادی کے بغیر رہے تم کی سزا تو یہ ہے کہ تم کو سنسار کردیا جائے لیکن میں اتنا ظالم نہیں ہوں۔ کیا تم دونوں شادی کرنے کو تیارہو لڑکا بولا میں نہیں کروں گا یہ میرے دوست کے ساتھ سوتی رہی ہے میں بولا تو تم کیا کرتے رہے ہولڑکی بولی میں تیار ہوں جی۔ میں بولا زمان خان کو گنجا کر کے منہ کا لا کر کے گدے پر بیٹھا کر گاؤں گھمایا جائے اور بچوں کو اس کو پتھر مارنے کو بولا جائے۔ اور پلوشے جرم میں تم بھی برابر کی شریک ہو اس لیے تم کو چالیس ہنٹر لگائے جائیں۔ اور پھر چالیس روز تک آٹے والی چکی چلاؤ گی۔ (ہاتھ والی چکی جس سے آٹا پیستے ہیں)دونوں کو سزا سناتے ہی میں اٹھ گیا۔ کیونکہ کہ سزا پر عمل تو لشکر نے کروانا تھا جو میرے گارڈ وغیرہ کہہ لیں۔وہاں سے فارغ ہو کر میں گاڑی میں بیٹھا اور تمام گاؤں کی سیر کرنے نکل گیا مختلف گاؤں میں گھومتا رہا جہاں بھی جاتا سردار زندہ باد نے نعرے لگنے لگ جاتے۔حویلی واپس آیا کھانے کی میز پر سب بیٹھے تھے ناز کھانہ سرو کروا رہی تھی۔ جب وہ جارہی تھی لنگڑا کر چل رہی تھی امی بولی پتہ نہیں ناز کو کیا ہو ا صبح سیٹرھیوں سے گر گئی او ر چوٹ لگوا بیٹھی میں نے بولا بھی ریسٹ کرے لیکن بولی سارا دن ریسٹ کیا اب کام کروں گی۔ ناز کی جیسے ہی نظر ملی تو ہلکی سے سمائل پاس کی میں بھی مسکرا دیا یہ سب چھوٹی ماں دیکھ رہی تھی۔ میری ان سے نظر ملی تو میں شرمندہ ہوگیا اور نظریں جھکا لیں۔ پھر جلدی جلدی کھا نا کھایا اور اپنے کمرے میں آگیا نمرہ بھی میرے پیچھے آگئی صبح سے وہ بھی باہر تھی سہیلیوں کے ساتھ اب گھر آئی تھی اس نے ایک تنگ چوڑی دار پاجامہ اور لانگ شرٹ پھولوں والی پہنی تھی کاسنی ڈوپٹہ لیا ہوا تھا دوستوں بتا دوں کہ نمو کا قد پانچ فٹ اورچار انچ ہے ممے اتنے بڑے نہیں ہیں 32کے ہونگے لک پتلا سا ہے اور سفید رنگ ہلکا کلابی پن ہے لمبے بال ہیں گانڈتھوڑی باہر کو نکلی ہوئی جس کی وجہ سے کمر میں خم سا لگتا ہے چلتی پھرتی بوم ہے تھوڑی دیر پہلے بولی کیسا رہا آج کا دن میں بولا اچھا گزرا میں نے اس سے پوچھا تم کا کیسا گزرا بولی اچھا گزرا کافی عرصہ بعد سب دوستوں سے ملاقات ہوئی ایک دوست کی سالگرہ تھی تو سب وہاں اکٹھی ہوئی تھیں۔ اس نے بولا آج تم نے کیا کیا میں بولا کچھ نہیں گھومتا رہا اور آج ایک فیصلہ کیا پھر میں نے سب بتایا بولی کتنے ظالم ہو لڑکی کو اتنی سخت سزا دی ایک تو بیچاری کی عزت لوٹی گئی میں بولا گئی کیوں تھی بولا جب پیار ہوتا ہے تو کچھ نظر نہیں آتا میں نے بولا تم کو پیار کا بڑا پتہ ہے کہیں کیا تو نہیں تو پہلے تو تھوڑا گبھرا گئی جیسے چوری پکڑی گئی ہو پھر بولی میں نے کس سے کرنا ہے تم نے کبھی کسی کو میرے ساتھ دیکھا ہے میں بولا میں تو سوا سال یہاں تھا ہی نہیں ٹریننگ پر گیا تھا ہوسکتا ہے کسی کے ساتھ ہو گیا بولی ماروں گی ایسی بات بولی میں بولا کیوں پیار کرنا جرم ہے بولی جرم ہی ہے آج ایک پیار کرنے والی کو خود ہی سزادے کر آرہے ہو میں بولا میں بولا جب تم پیار کروں گی تو تم کو سزا نہیں دوں گا بس مجھے بتا دینا اس کو تمارا بنادوں گابولی یاد رکھنا جس پر میں ہاتھ رکھوں گی اس کو میرا بنا دو گے میں بولا ہاں۔ پھر بولی یہ ناز کا کیا چکر ہے آج تمیں غور رہی تھی میں تھوڑا سا گھبرا گیا بولا مجھے کیا پتہ بولی تم نے مجھے گارڈ بنایا ہے اپنا یاد رکھنا میں بولا یا ہے۔ اتنے میں میرے نظر اس کے کھلے گلے پر پڑی تو اس کی مموں کی لکیر نظر آرہی تھی میرے جسم میں چنونٹیاں دوڑنے لگ پڑی حالانکہ کئی بار اس کو ایسے دیکھا تھا لیکن اب میری نظر شاہد بدل چکی تھی مجھے ہر لڑکی میں ناز نظر آنے لگ پڑی تھی دل میں سوچا کاش ناز کے ساتھ رات نہ گزارتا تو یہ سب بھی نہ ہوتا۔ خیر پھر وہ چلی گئی جاتے وقت اس کی گانڈمٹک رہی تھی اور میں سونے کے لیے لیٹ گیا۔ تو دروازہ پر ناک ہوئی میں بولا آجاؤ تو دروازے پر چھوٹی ماں تھیں۔ وہ آگئی اور میرے بیڈ پر میرے ساتھ بیٹھ گئی۔بولی کیسے ہو میں بولا ٹھیک ہوں بولی ناز کیسی لگی میرے تو ایک بار سانس ہی خشک ہوگیا میں بولا جی کیا مطلب بولی زیادہ نہ بنو یہ جو اس کی حالت ہے نہ سیٹرھی سے نہیں گری تمہاری وجہ سے ہے میری تو آنکھوں کے آگے اندھیراسا چھا گیا میری حالت ایسی ہو گئی جیسے جان ہی نا ہو وہ ہنس پڑی بولی بدھو میں سب جانتی ہوں اور خان جی کو میں نے ہی ناز کا تم کے لیے بولا تھا چھوٹی اور بڑی امی ابو کو خان جی ہی بولیتں ہیں۔وہ مجھ سے کچھ نہیں چھپاتے انہوں نے مجھ سے پوچھا تو میں نے ناز کا نام بولا کہ وہ ایک تو عرصہ سے ہمارے گھر میں ہے اور وہ راز ہی رکھے گی اور تم کو پسند بھی آئے گی۔ میں اب ان سے نظریں نہیں ملا پارہا تھا وہ بولی ادھر میری طرف دیکھو صبح تو بڑے غور سے دیکھ رہے تھے مجھے میں جھینپ گیا بولی یاد رکھنا عورت پر جب نظر پڑتی ہے تو وہ جان جاتی ہے مرد کی نگاہ کیسی ہے بولی مجھ سے کیوں شرما رہے ہو میں تم کی چھوٹی ماں ہو میں نے ہی تم کا پالا یاد کرو میں بولا جی آپ نے ہی پالا ہے لیکن بس وہ بولی بس کیا میں بولا آپ سے ایسی بات کرتے اچھا نہیں لگتا بولی دیکھتے اچھا لگتا ہے۔میرا رنگ سرخ ہوگیا میں سردار تھا لیکن ان کے سامنے بھیگی بلی بنا بیٹھا تھا بولی فکر نہ کرویہ راز۔راز ہی رہے گا۔ اگر دوبارہ بھی طلب ہو تو اس کو بلا لینا منع نہیں کرے گی میں بولا مجھے ضرورت نہیں ہنس پڑی بولی تم کی ضرورت تو میں جان چکی ہوں ایک رات گزارنے کے بعد تم کی نظریں اب بھٹکنے لگ پڑی ہیں بولی تھوڑا احتیاط کروں اور جیسے مرضی عیش کرو تم نے بہت محنت کی ہے اب پھل کھانے کا وقت ہے۔ مجھے دوست بنا لو فائدہ میں رہو گے میں بولا جی آپ کو کیسے دوست بنا لوں آ پ ایک تو مجھ سے بڑی ہیں اوپر سے ہمارا رشتہ ایسا ہے بولی میں تم کی چھوٹی ماں ہوں میں نے تم کو پالاآج سے ہم دوست ہیں دوسری بات دوستی میں رشتہ داری یا عمرنہیں دیکھی جاتی دوستی دیکھی جاتی ہے میں نے ہاتھ آگے کیا انہوں نے بھی کیا اور ہمارے ہاتھ مل گئے بولی یاد رکھنا دوستی کو میں بولا جی بولی دوستی کا مطلب پتہ ہے نا میں بولا جی بولی کہ جو بھی ہو مجھ سے مت چھپانا میں تم کا ہرطرح سے ساتھ دوں گی۔ پھر پوچھا ناز کیسی لگی میں چپ رہا بولی اب تو ہم دوست ہیں میں نے دھیرے سے بولا اچھی لگی بولی کھل سے بولا نا کیسی لگی مجھ سے مت شرماؤ میں بولا بہت مست تھی بولی ہاں یہ ہوئی نہ بات۔ بولی کچھ بھی چاہیے تو مجھے بولنا میں بولا ٹھیک ہے۔ پھر وہ جانے لگی دروازے کے ساتھ جا کر بولی میں ناز کو بھیجتی ہوں کہ تم کی تھکان اتارے اور ہنس کر باہر چلی گئی۔
  2. 1 like
    Ohh sorry. Sorry Arif bhai Main apki mujbori samj gya hoon Baqi update k liye thanks Or good luck for next update Samj sakta hoon k insan ko or bhi kam hoty hain Bus apki itni achi reality base story read ker k saber nahi hova toooooooooo ...................... Best wishes
  3. 1 like
    janab jutt saheb ek updat aur post kar dee ab to khush ho jaeen ager light nay zeyada tang na keya to haftay tak ek upfate aur mil jai gee aur janab yeh koi copied story nahi hay orignal hay ab ager aap jaida graet writter jaldbazi karay to mujh jaisay biggner ki to hosla shikni hee ho gee na yeh koi shikayat nahi hay bus request hay k suprt karain aap jaisay logon ki support aur rehnumai ki zarurat hay
  4. 1 like
    Update ====5 doosri taraf saira ki ammi uss ko lay kar apnay ghar pohoncheen to uss k abba nay uss ko dekh kar apna moo doosri taraf kar liya au uth kar doosray kamray may chalay gae khair uss k bhaiyon nay saman uterwaya wo apnay kamay may chali gai saira ki ammi kamray may dakhil hoi aur uss say boleen "ab apnay kamay may hee rehna aglay haftay damaad g aarahay hain ab tumhari harkaton ki wajah say hee unn ki baatain sir jhuka kar sunni parain gee tumharay suser bhi kal tumharay abba ko baatain suna kar gae hain keh rahay thay k wo to ab tum ko apnay gher ki dehleez bhi paar nahi karnay dain gay aur udher tumharay mian nay saaf keh diya hay k ab saira ko meray ammi abba k sath hee rehna paray ga ab main kabhi uss ko alag ghar lay kar nahi rakhoon ga aur yeh sub tumhari laparwahi ki wajah say huwa hamid k bhi 10 phone aachukay hain wo bhi keh raha hay k meray paisay wapas karo deal tum nay kharab kee hay 6 nai chooton ki baat hoi thee mujhay sirf 4 hee mili hain 2 abhi baaqeen hain. Saira : bhaar may gaya wo harami hamid sub uss ki jald baazi ki wajah say hee huwa uss harami say bolo wo jo 4 saal say mujhay chod raha hay wo kiss khatay may gaya mujhay kiya uss ki maa apnay jaheze may laai thee uss ko bulwao main khud uss say baat karoon gee aur tum sirf abba jan ko sunbhalo wo mujhay ghoorna band kar dain" saira nay apni maa ko aankhain dikhatay huway kaha Saira ki maa : " acha acha ab apna mood theek kar main unn say baat karloon gee" unho nay saira ko behlaatay huway kaha aur kamray say baher chali gai unn k jaatay hee saira apnay bed per lait gai. saira ki ammi apnay kamray may pohonchi to uss k abba palang per laitay huway thay unho nay apni biwi ki taraf dekha aur aahista say bolay "shahida tum maa beti jo khail ab tak khail rahi ho na ab wo band kardo badnami ab hamaray darwazay tak aagai hay yeh 5wan ghar hay jo main nay tum dono ki wajah say badla hay ab mujh may himmat nahi bachi logon ki sargoshiyaan sunnay ki" Shahida : " ghafoor saheb ab mera moo to khulwana nahi tum yeh tum nay jo 4 nikammay betay paida keyeh hain na unn ka sara kharcha main aur meri beti hee ab tak uthatay aarahay hain ager aap nay 5 ghar badlay hain na to uss ka sara kharcha hum maa beti hee uthatay aae hain aap fiker na karo ab bhi hum sunbhal lain gay" unho nay tez lehjay may baat kartay huway kaha Ghafoor : " shahida begum beta ho ya beti unn ki tarbiyat maa ki zumaidaari hoti hay tum nay khud apnay beton ko bigara unn ki harkaton ki wajah say aaj main apnay khandaan say alag rehnay per majboor hoon aur tum mujhay unn ki gumrahi ka zumaidaar keh rahi ho tum may sharam naam ki koi cheez hay ya nahi" ghafoor saheb ki aankhon may aansoo aagae unho nay apni bheegi aankhain saaf kee aur baher chalay gae unn k jaanay k baad shahida begum nay apnay baray betay say kaha k wo hamid ko bula kar lae wo hamid ko bulaanay chala gaya doosray din uzma razia aur hina mumani k sath shopping k leyeh nikal gaeen bazar may teen nay shopping kee aur phir ghar chalee aaeen sub ko kapray dikhanay k baad wo saaray kapray samait kar apnay kamray may lay gai aur unn ko alag alag karnay lagi ashaf say apni mangni ka sun kar wo bohot khush thee ussay aisa lag raha thaa jaisay ussay uss k sapno ka shehzada mil gaya ho bus wo ussi k sapno khoi rehna chahti thee saira aur shahida dono waheen sehan may takhat per betheen theen jub ghar may hamid saira k bhai k sath daakhil huwa aur aatay hee shahida per baras para " dekho khala yeh sahee tariqa nahi hay mujhay iss tarah bulaanay ka yeh tumhara larka mujhay dosto k darmiyaan say gerebaan say pakar kar utha kar laya hay Shahida : ' wah mian wah tumhari wajah say saira talaq k kinaray per pohonch gai uss mohollay may hamari izzat do takkay ki ho gai tumhain uss ki zara bhi fiker nahi tum ko dosto ki mehfil say kiya lay aae tumhari izzat per bata lag gaya " unho nay hath nachatay huway kaha Hamid : " to kon sa pehli baar aisa huwa hay kitnay mohollo say tum log issi tarah nikalay gae ho tum nay aur saira nay mujh say 5 lakh rupay liyeh thay yeh keh kar k tum mujhay 6 kunwari chootain dilao gee jin ko main jub tak chahoo istaimaal karoo aur badlay may sirf 4 londiyaan mileen aur keh to aisay rahi ho jaisay koi izzatdaar aurat bolti ho Saira : uth kar uss k saamnay beth gai " chal theek teri baat maan lee mujhay jo tu 4 saal say apni rakhail bana ker betha hay uss ka hissab kon karay ga teray liyeh main nay keya nahi keya mohollay ki 4 larkiyon ko teray neechay litaya apnay ghar ki do aurton ko chudwaya phir bhi tu humain hee bayizzat kar raha hay bharway Hamid : uss ki gali na bardasht kar saka " zaban sunbhal apni randi tu ager 4 saal say chudwa rahi hay to maal bhi kharch keya hay main nay uss 5 lakh k alawa tujh per lakhon kharach keyeh hain aur ager teri 2 bhabhiyon ko choda hay to uss k badlay teray dono bhaiyon ko motercycle khareed kar dee hain ab ager gaali dee to main khud furqaan ko phone kar k saari kahani suna doon ga abhi to ho sakta hay tujhay talaaq na ho lekin meray phone k baad to pakki ho jae gee aur ab ager dobara mujhay iss tarah yeh tera beta lay kar aaya to main nay iss ki jo zamanat dee hay na wo main wapas lay loon ga phir police issay ghaseet kar yahan say lay jai gee Shahida : uss ki baat sun kar ghabra gai " aray keya hamid ab zara see baat per tum hum say ghairon ki tarah baat karo gay hain aur uss nay apnay betay ko apni chapal khainch kar maari " harami tujh say kaha thaa k bula kar laana iss tarah laanay k leyeh nahi kaha thaa beta phir wo saira ki taraf muri aur boli hamara aur hamid ka sath bohot purana hay apno ko ehsaan nahi jatatay samjhi Saira : amma ki baat samajhtay huway " sorry yaar hamid kisi aur ka ghussa main nay tum per utaara sorry jan furqaan ki to main naam ki hee biwi hoon asal shoher to tum ho meray meri jan ab ghussay ko jaanay do chalo aao kamray may main tumhara mood abhi theek kar deti hoon" uss nay chaploosi say kaha Hamid : jiss ka ghussa abhi bhi thanda nahi huwa thaa wo uthtay huway bola " bus bus ab yeh natak band karo aur ek haftay may meray 150000/= wapas karnay ka intaizaam karo warna jo main nay kaha hay wo sub main kar k dikhaoon ga yeh keh kar wo ghar say baher nikal gaya uss k jaatay hee saira aur shahida soch may par gaeen k ab keya karain. saira apnay kamray may bed pe laiti hoi thee k ek mard kamray may dakhil huwa saira ussay dekh kar chonk gai " akber tum yahan kaisay pohonchay wo mard koi aur nahi saba ka mangater akber thaa saira uss k nazdeek aai aur uss nay akber ko apni banhon may bhar liya "aaaahhhhh akber tum andaza bhi nahi laga saktay k main tum ko yahan dekh kar kitni khush hoon aur ussay dewanawar choomnay lagi akber nay ussay khud say alag keya aur bola "pehlay mujhay ek baat batao k yeh hamid kon hay aur tum say iss ka keya rishta hay main nay abhi ek taraf ki kahan suni hay ab mujhay poori baat tum batao" Saira : apni aankhon may aansoo laati hoi " tum mujh per apni saira per shak kar rahay ho acha poori baat suno hamid meray mamoo ka larka hay wo akser mujh say milnay meray ghar aata thaa wahan tumhari couson uzma bhi aati thee silai k bahanay ek din mujhay pata chala k uzma aur hamid k darmiyan kuch chal raha hay main nay dono ko khoob danta iss leyeh k main jaanti thee k tumhari behan razia bhi hamid ko pasand karti hay ab wo tumhari behan hay to main to ussi ka sath doon gee na bus meray moo say nikal gaya k hamid tum to razia say piyaar kartay ho phir yeh uzma say keya chakar hay uss per hamid nay kaha k uzma kehti hay k wo mujhay apnay sath sex karnay day gee lekin razia nahi maan rahi hay main nay ussay samjhaya k razia ek achi aur shareef larki uss per uzma ko ghussa aagaya aur uss nay meray khilaaf apnay ghar may jhooti suchi baatain phaila deen aur mujhay badnaam kar diya tum to jantay hee ho na k furqaan k baad meri zindagi may aanay walay pehlay mard tum hee ho na keya ab bhi tum apni saira per aitabaar nahi karo gay yeh keh ka wo phoot phoot kar ronay lagi " akber uss ki chalaki samajh nahi saka aur uss k pass aaker beth gaya uss nay uss ko lipta liya aur bola acha to yeh baat hay "I am sorry saira jan main nay tum per shak kiya mujhay maaf kar dena" uss nay sairak aansoo saaf keyeh Saira : apnay aansoo saaf karti hoi " tum ko keya pata k main kitni mushkil may hoon furqaan nay mujhay 3 maheenay say kharcha nahi bheja mujh per achi khasi raqam udhaar charh gai ussi ka gham kam thaa jo tum nay bhi mujh per ilzaam laga diya Akber : pareshan hotay huway "yaar ab sorry to bol diya hay na acha yeh batao k tum per kitna udhaar ho chuka hay main ada kardoon ga bolo" Saira : adakari karti hoi " nahi mujhay nahi chahyeh tumharay paisay bus mujhay akaila chor do main hee pagle hoon jiss nay tumhari mohobbat may apnay shoher say baywafai kee apna badan tumhain sounp diya aur uss ka badla tum nay mujhay iss tarah diya Akber : uss ka hath paker kar choomtay huway " acha na ab maan bhi jao dekho abhi mera pass sirf 2 lakh hain wo tum lay kar apna qarz ada karo aur kuch apnay kharchay k leyeh apnay pass rakho plz ab inkaar nahi karna main uss uzma ki bachi say nimat loon ga jiss nay meri jaan ko rulaya hay Saira : dil hee dil may khush hoti hoi akber say lipat gai aur zor say onay lagi uss ki awaz sun kar shahida bhagti hoi kamray may dakhil hoi aur saira ko dekhtay huway " hi hi saira keyon ro rahi hay meri bachi tu ab tera nuqaddar hee kharab hay to keya karain ab akber mian tum nay meri phool see bachi ko keyon rula diya" Akber : baychargi say " nahi khala main to iss ka dukh bantnay aaya thaa uss nay jaldi say apnay beg say paisay nikaalay aur saira k hath nay day kar wahan say nikal gaya uss k jaatay hee saira nay aansoo saaf keyeh aur ek zor ka qehqaha lagaya aur apni maa say boli " dekha kaisa chootya banaya ussay ab wo kanjer hamid aae to uss k paisay uss k moo per maarna aur apnay harami beton ko uss say door rakhan inn kutay k bachon ki wajah say achi khasi aasami hath say nikal gai hay saalay khud to kisi kaam k hain nahi bharway salay Shahida : uss k sir per hath phairti hoi " chal ab chor inn jaramiyon ko waisay kabhi kabhi kaam to aa hee jatay hain wo to hamid hum say zeyada kamina thaa jo jaal say nikal gaya warna koi aur hota to dar k maaray gand phat jaati saalay ki chal dafa kar ek hamid gaya hay doosra aajai ga phir wo dono maan beti hunsnay lageen.
  5. قسط نمبر5:۔ ناز نے بستر سے اٹھنا چاہا لیکن لڑکھڑا کر گر پڑی میں نے اُٹھ کر اسے سنبھالہ اور کمرے کے اٹیچ واش روم تک لے گیا کیونکہ میرا گاڑھا مال اس کے پورے جسم پر تھا کیونکہ اس نے پینے کی کافی کوشش کی لیکن سارا نہ پی سکی تو باقی اس کے جسم پر مموں پر، پیٹ پر گرا۔ تھوڑی دیر بعد ناز لنگڑاتی ہوئی باتھ سے ننگی ہی باہر آئی اور اپنے کپڑے اٹھا کر پہننے لگی بولی آج کے لیے اتنی تعلیم بہت ہے تم نے میرا برا حال کردیا آج تو پہلی بار تھا پتہ نہیں تم کے ہاتھ کوئی لڑکی لگی تو اس کی کیا حالت ہو گی اس کو دیکھ کر میرا لن پھر سے کھڑا ہونے لگا جس کو دیکھ کر ناز بولی یہ تو پھر کھڑا ہوگیا اب شیر کے منہ خون لگ گیا ہے یہ کہاں سکون سے رہنے والا ہے لیکن اب مجھ میں اتنی جان نہیں بچی باقی تعلیم کل دوں گی اور ویسے بھی صبح ہونے والی ہے میں نے ٹائم دیکھا تو صبح کے چار بج رہے تھے اور رات تقریباً 12بجے ناز آئی تھی۔خیر صبح اٹھا اور جم گیا وہاں پر ابو پہلے ہی موجود تھے بولے کیسی رہی رات میں نے سرجھکا لیا تو ابو بولے تم کی شرم نہیں اتاری اس نے میں بولا ایسی بات نہیں آپ میرے ابو ہیں اس لیے آپ سے ایسی بات کرتے ہوئے عجیب لگ رہا ہے تو بولے ہم دوست بھی تو ہیں نا اس لیے تو دوست نے تحفہ دیا ہے تم کی جیت کا پھر ہم ہنسنے لگے جم سے فارغ ہو کر میں نے یوگا کیا اور پھر سٹیمنا بڑھانے والی مشقیں کیں پھر جسم پر مالش کی اور آج لن پر تیل لگاتے ہی کھڑا ہوگیا پہلے کبھی کبھی ایسا ہوتا لیکن آج تو تیل لگتے ہی لن تیر کی طرح سیدھا ہوگیا خیر میں نے ایسے ہی واش روم گیا نہایا اور ایک فارمل شلوار قمیض پہن کر باہر ناشتے کی ٹیبل پر اگیا نہانے سے لن میں سختی ختم ہو گئی سب ناشتے میں موجود تھے۔نور آپی بولی افی تم ٹریٹ کب دے رہے ہو میں بولا آپی جب آپ بولوں عائشہ بولی تم تو ہروقت نمرہ کے ساتھ رہتے ہو ہم تو جیسے تم کی بہنیں ہی نہ ہو وہ ایک تم کی بہن ہو میں بولا ایسا نہیں آپ بھی میری اتنی ہی بہنیں ہو تو عائشہ بولی آج کا پورا دن ہمارا تم سرداربن گئے ہو لیکن گھر میں ہمارے وہی افی ہو میں بولا ڈن چلو کہیں گھومنے چلتے ہیں کافی عرصہ ہوگیا کہیں گھومے ہوئے ٹریننگ کی وجہ سے کہیں گھومنے نہیں جاسکے۔ ابھی ہم یہ بات کرہی رہے تھے کہ پتہ نہیں جو ملازمہ کھانہ ٹیبل پر رکھ رہی تھی سلپ ہوئی اور اس کا ہاتھ پانی کے بھرے ہوئے جگ پر پڑا اور سارا پانی چھوٹی ماں پر گر گیا پانی گرنے کی وجہ سے چھوٹی ماں کے سارے کپڑے گیلے ہوگئے اور ان کی بھاری مموں پر کالی برا واضح نظر آنے لگ پڑی میرے نظر جیسے ہی ان کے گیلے جسم پر پڑی تو میرے لن نے سر اٹھانہ شروع کردیا وہ بھی مجھے بتائے بغیر میں چور نظروں سے چھوٹی ماں کے گیلے جسم کو دیکھی جارہا تھا کہ اچانک ہمارے نظریں ٹکرائی میں نے فوراً نظر جھکا لی نیچے دیکھا تو لن تمبو بنا ہوا تھا۔ مجھے بہت سخت شرم آئی کہ وہ میری چھوٹی ماں ہے ایسے کیسے ہوسکتا ہے پہلے کبھی ایسا نہیں ہو لیکن پہلے ایسا کبھی خیال کیا بھی نہیں لیکن کل رات ناز کے ساتھ گزاری رات نے میری دنیا ہی بدل دی تھی جو چیز مجھے سے 22سال دور رہی اب اچانک ملنے پر مجھے پر قابو نہ رہا تھا میں نے خود کو بہت کوسا کہ وہ میری چھوٹی ماں ہیں ایک بار پھر نظر اٹھائی تو چھوٹی ماں مجھے ہی دیکھ رہی تھی میں نے جلدی جلدی ناشتہ کیا اور وہاں سے اپنے کمرے میں آگیا اور بیڈ پر لیٹ گیا کہ چھوٹی ماں میرے بارے میں کیا سوچ رہی ہوں گی۔ خیر تھوڑی دیر گزری تو نور آپی اور عائشہ آگئی میں نور کو آپی بولتا لیکن عائشہ کو عائشہ ہی بولتا اور نمرہ کو تو نمو بولتا تھا لیکن گھر میں سب مجھے افی کہتے تھے۔ ہم نے اسلام آبا د جانے کا پروگرام بنایا جو کہ ہمارے گاؤں سے 70کلو میٹر دور تھا سب کو تیار ہونے کا بول کرخود بھی تیار ہوگیا لیکن میں نے ایک پنڈلی میں وہ ٹاٹینیم والا خنجر جو ابو نے دیا تھا اور دوسری میں پسٹل جو شر خان کے والد نے دیا تھاباند ھ لیا۔ یہ اب میری زندگی کا حصہ بن چکے تھے۔ میں نے گاڑی نکالی تو گارڈبھی گاڑیاں نکالنے لگے مجھے ڈرائیو کرنے کا شوق تھا اس لیے میں اپنی گاڑی خود چلاتا تھا میں نے گارڈ کو رکنے کو بولا تو جو گارڈ کا انچارج تھا بولا صاحب ہمیں ہماری ذمہ داری پوری کرنے دیں اب آپ سردار ہیں میں نے بولا میں اپنے پرائیوٹ کام سے جارہا ہوں فیملی کے ساتھ اس لیے گارڈ کی ضرورت نہیں لیکن وہ بولا بڑے صاحب نے خاص حکم جاری کیا ہے کہ اب آپ کو اکیلے کہیں جانے نہ دیں میں بولا میں سردار ہوں تم کا میں حکم دیتا ہوں کہ رک جاؤ وہ سب واپس چلے گئے میں نے پراڈو نکالی جو کہ چاچو نے گفٹ کی تھی اتنے میں سب بہنیں آگئیں نور، عائشہ، اور نوشے، نمرہ لیکن ساتھ چھوٹی ماں بھی تھیں جنہوں نے ایک ہلکے نیلے رنگ کا سوٹ پہنا ہوا تھا جس میں وہ بہت پیاری لگ رہی تھیں انہوں نے خود کو بہت فٹ رکھا ہوا تھا بڑی امی اتنی پرھی لکھی نہیں تھیں لیکن وہ بہت پڑھی لکھی اور ماڈرن تھیں سوٹ انہوں نے فٹنگ والا پہنا ہوا تھا۔ جن کو دیکھ کر پتہ نہیں کیوں نیچے ہل چل ہونے لگی میں نے جلدی سے سامنے کی طرف دیکھنا شروع کرددیا باقی سب پیچھے بیٹھ گئے اور چھوٹی ماں آگے فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی انکے جسم سے گوچی پرفیوم کی خوشبوآرہی تھی خیر ہم نکلے میں نے درمیانی سپیڈ ہی رکھی کیونکہ اتنی جلدی تو تھی نہیں ایک گھنٹے تک ہم شہر پہنچے وہاں سارا دن ہلہ گلہ کیامیں سردار تھا لیکن تھا تو میں بھی ابھی جوان ہوا خیر سب نے شاپنگ کی جو کہ اسلام آباد کے ایک بڑے مال سے کی جو کہ ہمارا ہی تھامینجر نے خود سامان گاڑی میں رکھوایا پھر ایک ریسٹورینٹ میں کھانا کھایا ہم سب نے بہت انجوائے کیا لیکن جب بھی میری اور چھوٹی امی کی نظریں ملتی تو میری ڈھرکن تیز ہوجاتی پتہ نہیں کیابات تھی رات کا اثر تھا یا ان کے دیکھنے کا یا ان کے جسم کا حالانکہ میں نمرہ سے جتنا فری تھا اس کو کبھی ایسی نظر سے نہیں دیکھا یا دوسری کسی لڑکی کو ایسی انظر سے نہیں دیکھا۔ جب کھانہ کھارہے تھے تو مجھے صبح والا منظر بار باریاد آرہا تھا۔ میری نظر بار بار چھوٹی امی کی طرف جارہی تھی۔جب بھی چھوٹی امی سے میری نظر ملتی تو میری نظریں جھک جاتی۔ خیر ہم واپس آگئے اور میں اپنے کمرے میں اگیا۔جب کے سب اپنی اپنی شاپنگ دیکھ رہی تھیں۔ کچھ مہمان آئے مبارک باد ینے اور کچھ شکایت لے کر آئے جس کو میں نے سنا جتنی بھی شکایتں ہوتی سن کر جمعہ والے دن شام کے وقت ان کا فیصلہ کیا جاتا تھا۔ یہ وہ فیصلہ جات ہوتے جو گاؤں کے سربراہ نہ کرسکتے یا کوئی بڑا مسئلہ ہوتا۔ رات کھانا کھایا پھر کمرے میں جم میں جا کر واک کرنا میری روٹین میں شامل تھیں پھر میں روم میں آگیا آج صبح سے میں نے ناز کو نہیں دیکھا تھا۔ حالانکہ وہ ہیڈ تھی خیر میں نے نہا کر سونے کے لیے لیٹا تھا کہ دروازے پر ناک ہوئی میں نے بولا آجاؤ تو ناز آگئی اور دروازہ بندکرتے ہوئے میرے پا س آگئی اور بیڈ پر بیٹھ گئی آج تو قیامت بن کر آئی تھی بہت ہی ٹائیٹ فٹنگ والا سوٹ پہناتھا جس سے اس کے ابھار واقع ہورہے تھے۔ اس کو دیکھتے ہی میرے لن میں حرکت ہوئی۔ ناز بولی آج تم کی باقی تعلیم پوری کروں گی میں ہنس دیا میں بے بولا آج سارادن نظر نہیں آئی بولی کل جو حالت تم نے میری کی تھی توکیسے نظر آتی سارادن آرام کیا بخار رہا اب بھی طبیعت ٹھیک نہیں لیکن تم کے کو تعلیم دینے کی ذمہ داری میری ہے تو میں آگئی میں بولا کوئی بات نہیں تم کل آجانا بولی نہیں ایسا نہیں ہوسکتا کیونکہ بڑے صاحب نے اتنے لوگوں میں مجھے چنا اور آپ کا کنوارہ پن مجھے ملاپھر بولی آج جو کل میں نے سکھایا تھا تم کرو مجھے پتہ چلے کہ تم کتنا سیکھ چکے ہو میں فوراً اٹھا اور اس کو پکڑ کر اپنے ساتھ لگادیا اور کسنگ کرنا شروع کردی اور ساتھ ہی ہاتھ اس کی باہر کی نکلی ہوئی گانڈ پر رکھدیااور زور سے کسنگ کرنے لگے کبھی اوپر والے ہونٹ کو چوستا کبھی نیچے والے کو وہ بھی میرا بھر پور ساتھ دے رہی تھی پھر میں نے اس کی قیمض کو پکڑا کر اوپر اٹھانا شروع کردیا تو انے بازو اوپر کردیے میر اقد لمبا تھا اس لیے میں نے قیمیض پکڑ کر باہر نکالنے لگا لیکن قمیض بہت ٹائیٹ تھی اس کے مموں پر اٹک گئی لیکن میں نے زور لگا کر گلے سے نکال لی اس کی ہلکی سی چیخ نکل گئی۔ پھر میں اس کے 38سائز کے مموں پر ٹوٹ میں نے برا کو بھی اتار دیااور اس کے مموں کے ساتھ کھیلنا شروع کردیا۔ ناز نے بھی سسکنا شروع کردیا میرا لن پورا کھڑا ہو کر اس کے پیٹ پر لگ رہا تھا کیونکہ میرا قداس سے لمبا تھا۔ میں نے پکڑ اس کو گھمایا اور اس کی کمر اور کندھوں کو چومنا شروع کردیا اس نے ہاتھ میرے لن پر رکھ لیا اور ٹراؤز ر کے اوپر سے ہی آگے پیچھے کرنا شروع کردیا میں نے اس کی شلوار بھی اتاردی اور اس کے پاؤں سے نکال دی اب وہ پوری ننگی تھی میں نے بھی اپنے کپڑے اتارے اور اس کو لے کر بیڈ پر آگیا اور اس کے اوپر لیٹ کر چومنا شروع کردیا پھر مموں کو پکڑ کر چوستا کبھی ایک کو کبھی دوسرے کو پھر میں نیچے آگیا اور اس کی پھدی پر زبان پھیر ی پھر اس کو چوسنا شروع کردیا جس سے وہ بار بار اچھل جاتی پھر اس کی سسکیاں بلند ہوگئی پھر ایک بار اچھلی و ساخت ہوگئی اس کی پھدی نے گرم گرم پانی بہانا شروع کردیا جو میں نے پی لیا اس کو سانس لینے دیا پھر اس کے مموں سے کھیلنا شروع کردیا وہ پھر سے گرم ہوگئی میں نے اپنے لن کو اس کے منہ کے قریب کیا جو اس نے منہ میں لے لیا اور چوسنا شروع کردیا آج اس نے ٹوپی پوری منہ میں لے لی تھی اور اس کو چوم رہی تھی زبانی کی نوک سے سوراخ میں داخل کررہی تھی میں مزے کی بلندیوں پر تھا پھر جب براداشت نہ ہوا تو میں نے اس کو بیڈ پر لیٹا دیا اور اس کی پھدی پر لن کی ٹوپی پھیر جو کہ لیس دار مادے سے چکنی ہوگئی کچھ پہلے ہی اس کے تھوک سے چکنی تھی میں نے اس کی پھدی پر لن رکھا تو ناز بولی پلیز آرام سے کرنا میں نے بولا فکر نہ کرو آج میں تم کو زرا بھی درد نہیں ہونے دوں گا۔ میں نے ایک گھسا ہلکا مارا میرے لن کی ٹوپی اندرگھس گئی اس کے منہ سے لمبی سی سسکاری نکلی میں نے پھر ایک گھسا مارا تو میرا آدھا لن اند ر گھس گیا اس کے منہ سے چیخ نکلی میں وہیں رک گیا اور اس کے مموں کو چوسنے لگا اور کسنگ کرنے لگا اور آہستہ آہستہ لن اتنا ہی اند ر باہر کرنے لگا اس کو بھی جو ش آنے لگا اور وہ بھی مزے سے انجوائے کرنے لگی بولی تیز کرو میں نے سپیڈ بڑھا دی اور تیزی سے اندر باہر کرنے لگا اس کے بڑے خربوزے سائز کے ممے اوپر نیچے ہو رہے تھے جس سے میر ا جوش بڑھ رہا تھا پھر اس کا جسم اکڑنے لگا اور میں نے اپنے لن پر گرم گرم پانی محسوس کیا تو لن اندر پوری روانی سے چلنے لگا میں نے باہر نکا ل کر زور سے گھسا مار ا تو میرا پورا لن ناز کے اند ر تھا اوراس کے پیٹ کے اندر کسی چیز سے ٹکرایا ناز نے زور سے چیخ ماری لیکن میں رکا نہیں اسی سپیڈ سے لگا رہا اس کی چیخیں بلند ہونے لگی تو میں رک گیا اور باہر نکا ل لیا اور اس کے منہ کے قریب لن کیا اس نے فوراً منہ میں بھر لیا اور چوسنا شروع کردیا پھر میں اس کے برابر لیٹ گیا تو ناز بولی تم تو اب کافی ماہر ہوچکے ہو آج سب تم نے کیا میں ہنس دیا کہ استا د اتنی اچھی ہو تو کیسے نا سیکھتا میں پھر اس کے اوپر آگیا ایک ہی گھسے میں آدھے سے زیادہ اس کے اندر کردیا اور دوسرے گھسے میں سارا اند ر وہ زور سے چیخی بولی تم میری جان لے کر رہو گے تم کا میرے اند ر کسی چیز سے ٹکراتا ہے مجھے بہت در د ہوتا ہے۔ میں آہستہ آہستہ دھکے لگانے لگا اس کو پھر جوش آنے لگا میں نے سپیڈبڑھا دی میں زور سے دھکے لگانے لگا۔ اس نے چیخنا شروع کردیا میں نے پرواہ نہ کی پھر اس کا جسم اکڑ گیا اور وہ فارغ ہوگئی لیکن میں ابھی فارغ نہ ہوا تھا میں نے دھکے جاری رکھے اور تیزی سے دھکے مارتا رہا وہ چیختی رہی مجھے اس پر ترس آگیا میں رک گیا مجھے خود پر کنٹرول تھا۔ وہ لمبے لمبے سانس لینے لگی میں نے اس کی آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کو پیااور اس کو پیار سے سہلایا تھوڑی دیر بعد بولی اب آخری راستہ بچا ہے منہ کا بھی استعمال سیکھ لیا اور پھدی کا بھی اب گانڈ کی باری ہے گانڈکا نام سن کر میرے لن نے جھٹکا گیا کیونکہ اس کی گانڈ باہر کو نکلی ہوئی تھی اور پٹھانوں میں گانڈ نہ ماری جائے یہ تو ہونہیں سکتا۔ وہ بولی بات تو مرنے والی ہے لیکن کیا کروں بڑے صاحب سے وعدہ کیا ہے کہ اب مروں یا جیوں بولی پلیز آرام سے کرنا میں نے بولا ٹھیک ہے پھر اس نے بولا تیل اُٹھا لاؤ میں سائیڈ ٹیبل پر پڑا تیل اٹھایا اور اپنے لن پر لگایا جو کہ پھدی کے پانی سے پہلے ہی گیلاتھا پھر اس الٹی ہو کر لیٹ گئی اور پھدی کے نیچے تکیہ رکھ لیا جس سے اس کی گانڈ واضح ہوگئی اس کی گانڈ کا سوراخ ہلکا براؤن تھا میں نے سائیڈ پر چوما اورپھر اس کی گانڈ میں تیل لگایا اور انگلی سے تیل اند ر کیا اور انگلی داخل کی تو چکنی انگلی آرام سے داخل ہوگئی جس کا مطلب تھا اس کی گانڈ کافی لوز تھی میں نے اچھی طرح تیل لگایا پھر میں نے لن کی ٹوپی اس کی گانڈ کی سوراخ رکھی اور ایک ہلکا سا کھسا مارا جس سے میرے لن کی ٹوپی اندر چلی گئی اس کے منہ سے سسکی نکلی پھر دوسرا گھسا مارا تو آدھا لن اندر گھس کیا اس نے ہلکی سی چیخ ماری لیکن کوئی خاص حرکت نہ کی میں نے یہ دیکھتے ہوئے ایک جاندار گھسا مارا میرا سارا لن اس کے گانڈ میں گھس گیااس نے زور سے چیخ ماری لیکن اس کو اتنا در د نہ ہوا اور میرا لن آرام سے اندر جانے لگا اور میں زور سے دھکے لگانے لگا وہ بھی اپنی گانڈ کو پورا میرے لن کی طرف کرتی لگتا ہے پھدی سے زیادہ اس کی گانڈ بجی ہے میں نے بھی جان دار گھسے مارنے شروع کردیا اور اس کو گھوڑی بنا لیا اور اس کی کمر سے پکڑ کر اس کی گانڈ مارنے لگا اور وہ بھی جوش میں مروانے لگی لگتا ہے پھدی سے زیادہ گانڈ شوق سے مرواتی ہے۔ آخر کار مجھے اپنے لن میں پورے جسم کی جان محسوس ہوئی اور میں اس کی گانڈ میں فارغ ہونے لگا ساتھ ہی اس کا جسم بھی اکڑا اور وہ بھی فارغ ہو گئی میں اس کے اوپر ہی لیٹ گیا اور وہ میرے نیچے میرے لن سے منی اس کے اندر خارج ہورہی تھی پھر میں سائیڈ پر ہوا تو لن پھک کی آواز سے باہر نکلااور میرا مال اس کی گانڈ سے بہنے لگا۔ اس کے جسم میں جان ہی نہ بچی تھی میں اٹھا اس کو پانی پلایا اور واش روم لے گیا اور صاف کیا کپڑے پہنائے اس کو جوس کا گلاس دیا فریج سے نکا ل کر میرے کمرے میں چھوٹی فریج تھی جس میں فروٹ اور جوس اور پانی وغیرہ ہوتا میرا اس طرح اس کا خیال کرنا اچھا لگا اس کو میں نے ناز کو بولا تم پہلی عورت ہو جو میری لائف میں آئی اور مجھے مرد بنایا میرا کنوارہ پن ختم کیا میں تم کا شکریہ ادا کرتا ہوں اس نے مجھے چوم لیا بولی میں تم کی خادم ہوں جب بولا حاضر ہو جاؤں گی۔ پھر ہم کافی دیر باتیں کرتے رہے جب گھڑی نے 5بجائے تو وہ جانے لگی بولی اب تم عورت کے جسم سے آشنا ہوچکے ہو اور تم کے نیچے ایک بار جو آگئی وہ پاگل ہوجائے گی عورتوں کو ظالم مرد زیادہ پسند آتے ہیں تم تو جان نکال دیتے ہو میں نہایا اور کپڑے پہنے اور جم میں چلا گیا۔

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.