ڈاکٹر ہما
قسط نمر 04
ڈاکٹر ہما لفٹ سے باہر نکلی اور آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی ہوئی آفس کی طرف بڑھی۔ پورے فلور پر ہُو کا عالم تھا کیونکہ اوپر کے تمام کمرے خالی تھے کوئی بھی مریض نہیں تھا۔ آفس کا دروازہ کھولنے کے لیے ہاتھ بڑھایا ہی
تھا کہ دروازہ کھل گیا اور زمان سامنے کھڑا تھا۔ ہما کو دیکھ کر خوش ہو گیا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے اندر کھینچ لیا اور دروازہ بند کر کے کنڈی لگادی۔
ہما۔۔ زمان یہ کیا کر رہے ہے۔۔ دروازہ بند نہیں کرو۔۔
زمان۔۔ نہیں پھر نہ کہیں وہ نرس اندر آجائے اور ہمیں ایسی ویسی حالت میں دیکھ لے۔
ہما مسکرائی۔۔ یاد رکھنا میں کچھ بھی ایسا ویسا کرنے کے لیے نہیں آئی اوپر۔۔ بس گپ شپ کریں گے اور کچھ نہیں ۔۔ آئی سمجھ
زمان مسکرایا اور جھٹکے سے ہما کو اپنے سینے سے لگاتے ہوئے بولا ۔۔ جی میڈم جی سب سمجھ گیا ہوں کہ مجھے کیا کرنے کی اجازت ہے اور کس بات کی نہیں۔
یہ کہتے ہوئے زمان نے ہما کو اپنے سینے کے ساتھ بھینچتے ہوئے اسکے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے اور اسکو چومنے لگا۔ ہما نے ہلکی سی مزاحمت کی مگر دھیرے دھیرے اسکی مزاحمت ختم ہونے لگی اور وہ زمان کا ساتھ دینے لگی۔۔ دھیرے دھیرے اپنے ہاتھ زمان کے بالوں میں ڈالے اور اسکے بالوں کہ سہلانے لگی۔ اور اسکے چہرے کو اپنی طرف کھینچنے لگی۔۔ اسکے ہونٹ بھی زمان کے ہونٹوں کہ چوم رہے تھے اور دوسری طرف زمان کے ہاتھ ہما کی کمر کو سہلانے لگے تھے۔۔
زمان اپنے ہاتھوں کو نیچے لایا اور ہما کی گانڈ کو آہستہ آہستہ سہلانے لگا۔۔ ہما کی خوب اُبھری ہوئی اور سڈول گانڈ زمان کے ہاتھوں میں تھی جسکو وہ بڑے مزے سے دبا رہا تھا ۔۔ لذت میں آکر اس نے ہما کی گانڈ کو زور سے دبا دیا تو ہما درد کے مارے اچھل ہی پڑی۔۔
ہما ۔۔۔ اُوئی ئی ئی۔۔۔۔۔ کیا کرتے ہو ۔۔ دھیرے نہیں کر سکتے کیا ۔۔ میں بھاگی جا رہی ہوں کیا کہیں۔۔
زمان نے مسکراتے ہوئے ایک بار پھر سے ہما کے ہونٹوں کو چوما اور بولا ۔۔ سوری سوری ۔۔ میری جان۔۔ بس برداشت ہی نہیں ہوا یہ مزہ۔۔
ہما مسکرائی۔۔ نہیں برداشت کر سکتے تو ہٹ جاؤ۔۔ کوئی زبردستی تو نہیں ہے نا۔۔
زمان نے ہما کا ہاتھ پکڑا اور اسے ایک سائیڈ پر بچھے ہوئے کاوچ پر لے آیا۔۔ ہما کو اس پر لٹایا اور خود بھی اس پر ایک سائیڈ سے جھک گیا اور اپنا چہرہ اسکے چہرے پر جھکاتے ہوئے اسے چومنے لگا۔۔ اسکا ہاتھ ہما کے ممے پر آگیا ۔۔ جسے اس نے آہستہ آہستہ سہلانا شروع کر دیا ۔۔ اور آہستہ آہستہ دبانے لگا۔۔ انکی گولائیوں کو محسوس کرنے لگا۔۔ نیچے سے پہنا ہوا ہما کا بریزیئر صاف محسوس ہو رہا تھا اسکو۔ اپنے مموں کو سہلائے جانے کی وجہ سے ہما بھی گرم ہونے اور زمان کا ساتھ دینے لگی۔۔وہ بھی زمان کے ہونٹوں کو چوم رہی تھی۔۔۔ زمان نے اپنی زبان ہما کے منہ کے اندر ڈالی تو ہما نے اسے چوسنا شروع کردیا۔۔ زمان کے ہاتھ نے ہما کے مموں پر سے نیچے کی طرف کا سفر شروع کر دیا۔۔ ہما کے سڈول پیٹ پر سے ہوتا ہوا اسکی چوت کی طرف بڑھنے لگا۔۔۔
نیچے ہاتھ لے جا کر زمان نے ہما کی شرٹ کو اوپر کی طرف پلٹتے ہوئے اسکی ٹائٹ لیگی میں ایکسپوز ہوتی ہوئی اسکی ٹانگوں اور رانوں کو اپنی نظروں کے سامنے کر لیا۔۔ اپنا ہاتھ ہما کی سڈول ران پر رکھا اور آہستہ آہستہ اسکی رانوں کو سہلانے لگا۔۔۔ اسکا ہاتھ ہما کی چوت کی طرف بڑھ رہا تھا۔۔ جسکے دونوں لب اسکی ٹائٹ لیگی میں سے صاف صاف نظر آرہے تھے۔۔ جیسے ہی زمان کے ہاتھ نے ہما کی لیگی کے اوپر سے اسکی چوت کو چھوا تو ہما کا جسم تڑپ اٹھا۔۔ اسکے منہ سے ایک سسکاری سی نکل گئی ۔۔۔ اور پورا جسم کانپ کر رہ گیا۔۔ اسکی حالت کو دیکھ کر زمان مسکرایا اور اسکی چوت کے دونوں لبوں کو اپنی انگلیوں کے بیچ میں پکڑلیا۔۔ اور آہستہ آہستہ مسلنے لگا ۔۔۔ ہما کی حالت خراب ہونے لگی ۔۔۔ وہ مچلنے لگی۔۔ زمااااااااااااااااان ن ن ن ن ن نہیں کرو پلیززززززززززز۔۔۔ مگر زمان کہاں سننے والا تھا۔۔ وہ تو بے دردی سے اسکی چوت کے لبوں کو مسل رہا تھا ۔۔۔ اور اسے ہما کی چوت میں سے اسکا چوت کا پانی رِس رِس کر باہر آکر اسکی لیگی کو گیلا کرتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔ پھر زمان نے اپنی ایک انگلی ہما کی چوت کے لبوں کے درمیان بن رہی ہوئی لکیر پر پھیرنی شروع کر دی ۔۔۔ اوپر سے نیچے ۔۔ اور نیچے سے اوپر کی طرف۔۔۔ لذت کے مارے ہما کا برا حال ہو رہا تھا۔۔۔زمان نے ہما کو سیدھا کرکے بیٹھایا اور اسکی شرٹ کو پکڑ کر اوپر کی طرف کھینچنے لگا۔۔ ہما نے ایک بار زمان کی آنکھوں میں دیکھا اور پھر اپنی دونوں بازو اوپر اٹھا دیئے۔۔۔ اور اگلے ہی لمحے زمان نے اسکی شرٹ اسکے جسم پر اوپر کی طرف سرکنے لگی۔۔ دھیرے دھیرے ہما کا جسم ننگا ہونے لگا۔۔ سب سے پہلے اسکا گورا گورا ۔۔ سپاٹ ۔۔ شفاف پیٹ ننگا ہوا۔۔ اور پھر شرٹ کے اور اوپر کی طرف سرکنے پر ہما کی گوری گوری چھاتیوں پر لپٹی ہوئی۔۔ بلکہ چپکی ہوئی۔۔ گلابی کلر کی برا ننگی ہو گئی۔۔ ہما کی بہکتی ہوئی سانسوں کے ساتھ اسکی چھاتیاں اوپر نیچے ہو رہی تھیں۔۔۔ اب زمان سے بھی اور برداشت نہیں ہو رہا تھا۔۔ اس نے ایک ہی جھٹکے میں ہما کی شرٹ اسکے سر سے باہر نکال کر کاؤچ پر ایک طرف پھینک دی۔۔
زمان آنکھیں کھول کر ہما کے ہوشربا حسن اور حسین جسم کو اپنے سامنے نیم برہنہ حالت میں دیکھتا رہ گیا۔۔ اسکی ہوسناک نظریں اوپر سے نیچے تک ۔۔ ہما کے جسم کا جائزہ لینے لگیں۔۔۔ شرم کے مارے ہما اپنے آپ میں ہی سمٹ گئی۔۔ اپنے بازو اپنے سینے کے ابھاروں پر لپیٹ کر خود کو زمان کی نظروں سے بچانے کی کوشش کرنے لگی۔۔ اسکی برا کے کلر کی طرح اسکے گالوں کا رنگ بھی گلابی ہو رہا تھا۔۔
زمان۔۔ واہ میری جان ۔۔ ہما جان۔۔ کیا غضب کا جسم ہے آپکا جسے آپ آجتک ہم سے چھپاتی رہی ہو۔۔
ہما نے شرما کر اپنا جسم موڑا اور زمان کی طرف اپنی پیٹھ کر دی۔۔۔ اپنی طرف سے تو اس نے خود کو زمان کی نظروں سے بچا لیا تھا۔۔ مگر اب ایک اور ہی ۔۔ الگ ہی نظارہ زمان کا منتظر تھا۔۔۔ ہما کی گوری گوری ۔۔ بے داغ کمر پر اسکی گلابی برا کے سٹریپس اور ہکس۔۔ زمان کی آنکھوں کے سامنے تھے۔۔ اس سے نیچے ہما کی پتلی سی بل کھاتی ہوئی کمر تھی۔۔ جس میں پتلی سی ۔۔ گہری سی ایک لکیر بن رہی تھی جو کہ ایک ندی کا منظر پیش کر رہی تھی۔۔ اس سے نیچے۔۔ ٹائٹس میں پھنسی ہوئی ہما کی ابھری ہوئی ۔۔ سڈول گانڈ کا ابھار۔۔ اُف ف ف ف ف ف۔۔۔ کیا قیامت کا منظر تھا۔۔۔ ہوش اُڑا دینے والا۔۔۔
زمان زیادہ دیر تک خود پر قابو نہیں رکھ سکا ۔۔ اس نے ایک ہی جھٹکے میں اپنی ٹی شرٹ اتار پھینکی۔
اور آگے بڑھ کر اپنے بازو اسکی کمر سے آگے کو لے جاتے ہوئے ہما کے پیٹ پر کس دیئے۔۔ ہما کی پوری ننگی کمر زمان کے ننگے سینے سے چپک گئی۔۔
جیسے ہی ہما کا ننگا جسم ۔۔ زندگی میں پہلی بار ۔۔ کسی غیر مرد کے ننگے جسم سے لگا تو اسکا جسم کانپ گیا۔۔ لیکن اسکے ساتھ ہی اسکے پورے جسم میں ایک عجیب سی لہر دوڈ گئی۔۔ لذت سے بھرپور۔۔ جس نے اسکے پورے کے پورے جسم کو گرم کر دیا۔۔ جیسے ہی زمان نے اپنے تپتے ہوئے ہونٹ ہما کے ننگے کاندھے پر رکھے اور اسکو کس کیا تو۔۔ ہما کا جسم زمان کی بانہوں میں کانپنے لگا۔۔ آخر اسکی زندگی کا پہلا موقع تھا کہ وہ کسی غیر مرد کی بانہوں میں تھی ۔۔ اور وہ بھی نیم برہنہ حالت میں۔۔ اسکی آنکھیں بند ہونے لگیں ۔۔ جیسے جیسے زمان اسکے ننگے جسم کو چومے جا رہا تھا ویسے ویسے ہی ہما کی حالت خراب ہوتی جا رہی تھی۔۔
ہما کے پیٹ پر سے اسکے ہاتھ اوپر کو جانے لگے۔۔ اور اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کو ہما کی برا کے اوپر سے اسکی چھاتیوں پر رکھ دیا۔۔ اور جیسے ہی انکو آہستہ سے دبایا تو ہما کے منہ سے سسکاری نکل گئی۔۔۔ سی ی ی ی ی ی ۔۔۔۔ ہما کے خوبصورت مموں کو زندگی میں پہلی بار ہاتھوں میں لے کر زمان بھی پاگل ہو رہا تھا۔۔ وہ انکو کبھی زور سے اور کبھی ہولے ہولے دبانے لگا ۔۔ نیچے سے اسکی پینٹ میں اکڑتا ہوا اسکا لوڑا ہما کی گانڈ پر چبھ رہا تھا۔۔ جسے زمان نے خود بھی آہستہ آہستہ ہما کی گانڈ پر رگڑنا شروع کر دیا ۔۔ ہما کو بھی یہ سب محسوس ہورہا تھا۔۔ مگر وہ کچھ بھی نہیں کر پارہی تھی۔۔
زمان کا ایک ہاتھ ہما کی ایک چھاتی پر سے نیچے کی طرف سرکنے لگا۔۔ نیچے اسکی ٹائٹس پر آکر رک گیا۔۔ اور ہما کے پیٹ کو اندر کی طرف دباتے ہوئے زمان نے اپنا ہاتھ ہما کی ٹائٹس کے اندر سرکانا چاہا۔۔ مگر ہما نے فوراََ ہی اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔۔ مگر زمان نے اپنے دانت ہما کے ننگے کاندھے پر گاڑتے ہوئے اسکو آہستہ سے کاٹا تو ایک سسکاری کے ساتھ ہی ہما نے زمان کا ہاتھ چھوڑ دیا۔۔ اور زمان نے اپنا ہاتھ ہما کی ٹائٹس میں گھسا دیا۔۔ اسکا ہاتھ نیچے کو سرکنے لگا۔۔ ہما کی چوت کی طرف۔۔ ہما کے منہ سے نکلنے والی سسکاریاں تیز ہوتی جا رہی تھیں۔۔