Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 21/04/20 in all areas

  1. تمام فری ممبرز کے لیئے خوشخبری ہے کہ ہم نے فورم پر پردیس کا فائل سسٹم بھی سٹارٹ کر دیا ہے۔ اس فری ایڈیشن تھریڈ میں پوسٹ کہانی 1300 صفحات پر مشتمل ہے۔اور فائل سسٹم میں ہم نے کہانی کی پہلی 13 اقساط کو یعنی 1300 صفحات کو با لکل فری رکھا ہے۔جن ممبرز نے پردیس کو صرف فری سیکشن میں ہی پڑھا ہے اور پیڈ ممبرشپ نہیں لی وہ کہانی کے اگلے صفحات قسط خرید کر پڑھ سکتے ہیں۔قسط 14 سے آپ کو ادائیگی کرنا ہو گی۔ہر فائل کی قسط 100 صفحات پر مشتمل ہے اور اس کی قیمت صرف 2 پاونڈ رکھی گئی ہے۔امید ہے ممبرشپ کی بجائے یہ سسٹم آپ کو بہت فائیدہ دے گا۔ پڑھنے کے لیئے اس لنک پر جا کر مطلوبہ قسط جوائن کی ریکوسٹ سینڈ کریں۔ریکویسٹ کچھ دیر میں اپروو ہو جائے گی اور آپ کو نوٹیفیکیشن آئے گا۔ پھر آُپ کہانی ریڈ کر سکیں گے۔
  2. سعدیہ كے منہ سے اپنی انگلیاں نکالی اور اسے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا ، جس سے اس کا چہرہ میرے قریب آ گیا ، میں اس کی ہوس سے بھری آنکھوں میں آخری بار اپنے لیے محبّت ڈھونڈ رہا تھا ، لیکن ہوا وہی ، میرے ارمانوں کا حقیقت سے نہ تو پہلے کوئی واسطہ تھا اور نہ ہی اب تھا اور جب مجھے یقین ہوگیا کہ وہ وہی پرانی سعدیہ ہے جس نے محبّت کو ہمیشہ ہوس کی پیاس سے نیچے سمجھا ہے ، تو میں اس کو ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں بری طرح جکڑ لیا . . . . " جانور بن گئے ہو کیا . . . " مجھے دکھا دے کر وہ بولی اور اپنے ہونٹ ہاتھ سے سہلانے لگی . . . . " سوری . . . " میں وآپس اس کے قریب گیا اور اس کی کمر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس کی براہ کو اس کے سینے سے الگ کیا اور ایک بار پھر اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں بری طرح جکڑ لیا . . . سعدیہ نے اِس بار بھی پوری کوشش کی مجھے دور کرنے کی ، لیکن وہ اِس بار ناکام رہی . . . لیکن کچھ دیر كے بَعْد مجھے اس کی پرواہ ہونے لگی ، اس کا درد میرا درد بن گیا ، اور میں نے اس کے گلابی ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے الگ کر دیا اور اس کی گانڈ کو پکڑ لیا اور اس کی گانڈ پر ہاتھوں سے دباؤ ڈالا . . . . . " گندے بچے . . . . " میرے طرف جھک کر میرے کانوں كے پاس آ کر وہ بولی . میں نے سعدیہ سے کچھ نہیں کہا اور اسے پکڑ کر اُلٹا گھوما دیا ، اب اس کی پیٹھ میرے سینے سے اور اس کے کولہے میرے لنڈ سے ٹچ ہو رہے تھے ، . . سعدیہ شاید جان چکی تھی کی اب میں کیا اور کیسے کرنے والا ہوں ، اور ویسے بھی جس لڑکی کو ہر دن اپنے بستر کا ساتھی بدلنے کی بیماری ہو ، وہ کم سے کم سیکس كے پوزیشن تو جان ہی جاتی ہے . . . . سعدیہ نے میرے بولنے سے پہلے ہی اپنے دونوں ہاتھ سامنے کی طرف بستر پر تیکاے اور اپنی گانڈ میری طرف کرکے تھوڑا جھک گئی اور بولی . . . " اس کو کہتے ہے زبردست چودائی کرنا . . . اب کیوں روکے ہو ، ڈال دو اندر اور ایسا ڈالنا کہ اندر تک دستک دے جائے . . . . " دِل کر رہا تھا کہ سعدیہ کا قتل کر دوں اور پھر اس کی لاش كے پاس بیٹھ کر زندگی بھر رونا شروع کر دوں ، دِل کر رہا تھا کہ سامنے كے دیوار پر سعدیہ کا سَر اتنی زور سے دے ماروں کی اس کا سَر ہی نہ رہے . . . . وہ مجھ سے ایسے بات کیسے کر سکتی ہے ، جب کے میں اسے . . . . . . . . . . اور ایک بار پھر دِل كے ارمان ہوس میں دھول گئے ، یہ میرے لیے پہلی بار نہیں تھا . . . . . " چلو ارمان ، چودو مجھے . . . آئی ایم ویٹنگ . . . " اپنی گانڈ ہلاتی ہوئی سعدیہ بولی . . . میں نے اپنے کپڑے اتارے اور سعدیہ كے گانڈ پر اپنے ہاتھ سے دبائو بڑھانے لگا وہ ابھی سے مستی بھری آوازیں نکالنے لگی ، اس کی پینٹی کو نیچے کھسکا کر اپنے ہاتھوں سے اس کی چوت کو پھلایا ، اور اپنے لنڈ کو اس کی چوت سے لگایا اور آہستہ آہستہ سے اندر کی طرف دھکہ دیا . . . . " آہ ہ ہ ہ ہ . . . . . . . " سعدیہ کی سیسکاریاں شروع ہوگئی ، اب کی بار خود میرے منہ سے بھی مستی بھری آوازیں باہر نکل رہی تھی . میرا آدھا لنڈ اس کی چوت میں دستک دے چکا تھا ، جب کہ سعدیہ اپنے کہولوں کو آگے پیچھے ہلا کر مزہ لے رہی تھی ، میں نے ایک اور دھکہ مارا اور پورا لنڈ اس کی چوت میں سماں گیا ، اس کے بَعْد میں نے اپنے ڈھکے تیز کر دیئے ، میرے تیز ڈھکوں كے وجہ سے اس کا پورا جسم بری طرح ہل رہا تھا ، میں جب بھی اپنا لنڈ اندر ڈالتا وہ اپنی کمر کو میری طرف پوش کرتی اور سامنے کی دیوار کی طرف اپنا چہرہ کرکے ایک لمبی سسکی بھرتی اور اس کے بَعْد جیسے ہی میں اپنا لنڈ باہر نکلتا ، وہ پھر مستی میں چار چاند لگا دینے والی آوازوں كے ساتھ پہلے والے پوزیشن پر آ جاتی . . . . . ایک پل كے لیے میں روکا اور اس کے گانڈ کے ابھاروں کو اپنے ہاتھوں سے مسلتے ہوئے اور پھر تیز رفتاری سے اسے چودنے لگا ، سعدیہ سے ایک لگاؤ سا ہوگیا تھا مجھے اس وقت ، اس لیے جب وہ چیختی تو میں تھوڑی دیر كے لیے روک جاتا اور پھر جب وہ وآپس نارمل ہو جاتی تو میں پھر سے شروع ہو جاتا . . . اور کبھی کبھی جب وہ درد سے چیختی تو میں اپنا لنڈ ایک تیز جھٹکے كے ساتھ اس کے چوت میں ڈال دیتا اور پھر اس کے مموں کو زور سے سے دباتے ہوئے اپنا لنڈ کو اس کی پھدی كے اندر ہی ہلانے لگتا ، میرا ایسا کرنے پر سعدیہ میری کمر کو پکڑ کر مجھے دور کرنے کی کوشش کرتی . . . . " آہ ہ ہ ہ ہ . . . . اوئی ی ی ی ی. . . . . ارمان تھنکس اس کے لئے . . . " وہ یہ بولتے بولتے اِس بار بھی مجھ سے پہلے فارغ ہوگئی ، میرا لنڈ اب بھی اس کی چوت میں تھا ، جس کی وجہ سے اس کی چوت سے نکلتا گرم پانی مجھے اپنے لنڈ پر محسوس ہوا . . . . میں بھی اب گیم ختم کرنے والا تھا ، اس لئے میں نے سعدیہ کی کمر کو پکڑ کر اس کی طرف جھک گیا اور اسے بستر پر پورا الٹا لیٹا کر اس کے اوپر آ گیا ، اس کی چوت کا پانی پورے بستر میں پھیل رہا تھا ، میں نے اس کی گانڈ کے ابھاروں کو الگ کیا اور اپنے لنڈ کو ایک ہی جھٹکے میں اندر تک گھسہ دیا ، اور اپنی پوری طاقت كے ساتھ سعدیہ کو چودنے لگا ، وہ بری طرح چییخی . . . تو میں نے کہا کہ ، بس کچھ دیر کی بات ہے ، برداشت کر لو . . . . اس نے ویسا ہی کیا . . . بستر كے سرہانے کو پکڑ کر اس نے اپنے جسم کو ٹائیٹ کر لیا وہ بستر کو جکڑنے لگی تھی . . . . اور میں اس کی کمر ، اس کی پیٹھ پر تیزی سے ہاتھ پھیرتے ہوئے فارغ ہوگیا ، میرا لنڈ سعدیہ کی چوت میں ہی تھا ، سعدیہ بہت تھک چکی تھی ، ساتھ میں میں بھی حانپ رہا تھا ، مجھے سعدیہ كے اوپر لیٹے لیٹے کب نیند آ گئی پتہ ہی نہیں چلا . . . . صبح میری آنکھ ایک گرم سرپرائز سے کھلی ، جسے اکثر لوگ بلوجاب کہتے ہے ، میں سعدیہ كے بستر پر ننگا لیٹا ہوا تھا اور وہ میرے لنڈ پر اپنے گرم گرم ہونٹ پھیر رہی تھی ، . . . " اسے اچھی اور خوشامد صبح کیا ھوگی ارمان ، جب کوئی تمہیں بلوجاب دے کر اٹھائے . . . " میرے لنڈ کو چُوسنا بن کرکے اپنے ہاتھ سے سہلاتے ہوئے سعدیہ بولی . . . تقریباً دس منٹ تک وہ میرے لنڈ کو چوستی رہی اور اس کے بَعْد میں اک بار پھر فارغ ہوگیا ، پچھلی رات تِین بار فارغ ہونے کی وجہ سے پیٹ میں بہت درد ہو رہا تھا ، کمزوری بھی محسوس ہو رہی تھی اور سَر بھی بہت بھاری ہو رہا تھا . . . . . " میں چلتا ہوں . . . " باتھ روم سے نکل کر میں نے اپنے کپڑے پہنے . . . " جاؤ ، اور اپنا خیال رکھنا . . . " میں اِس انتظار میں اب بھی کھڑا تھا کی کہی شاید اسے میری آنکھوں میں کچھ ایسا دِکھ جائے ، جسے وہ مجھے گلے لگا لے ، لیکن ایسا نہیں ہوا ، یہاں تک کہ اس نے میری آنکھوں کی طرف دیکھا تک نہیں ، اس کی نظر اب بھی میرے لنڈ پر تھی ، سعدیہ میرے لنڈ کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی . . . . . " تمہارا ہونے والا شوہر کیا کرتا ہے . . . . " " تم کیوں پُوچھ رہے ہو . . . " " جنرل نالج كے لیے ، کیا پتہ یہ سوال ، زندگی كے امتحان میں آ جائے " " یہ ’ مذاق نہیں ہے ارمان . . . تم جاؤ ، اور آج كے بَعْد سمجھ لینا كے ہم ایک دوسرے سے ملے ہی نہیں . . . " میں نے ایک جھوٹی مسکراہٹ سے سعدیہ کو دیکھا اور بولا . . . " تنہائی میں جینے والے لوگوں کو اکثر ان کے چھوٹے سے چھوٹے سہارے سے اتنی محبت ہو جاتی ہے کہ وہ ان کے لیے خود کو مٹا دیتے ہیں . . . . . تمہیں کبھی کسی سے محبّت ہو تو میری بات پر غور کرنا ، ورنہ لوگ تو اپنوں کو پل بھر میں بھول جاتے ہے ، میں تو ویسے بھی تمھارے لیے غیر ہوں . . . . " سعدیہ كے ذہن میں ہزاروں سوال چھوڑ کر میں اس کے گھر سے سیدھے باہر نکل گیا ، میں اپنے کواٹر کی طرف آ رہا تھا کہ کاشف نے مجھے کال کی . . . " کہاں ہے بھائی ، آنے کا ارادہ ہے یا اسی كے ساتھ ہی رہیگا . . . " میں نے کال ریسیو کی تو کاشف تانے مارتا ہوا بولا . . . " بس کواٹر میں ہی آ رہا ہوں . . . " " جلدی آ ، تیرے لیے سرپرائز ہے ، اور وہ سرپرائز اتنا بڑا ہے کہ ، تو . . . . " میں جہاں تھا وہی کھڑا ہو گیا اور کاشف سے بولا " کیا ہے وہ سرپرائز . . . " " ھممممممم . . . . تو پہلے کواٹر میں آجا ، . . " اور اس نے کال کاٹ دی " پاگل بنا رہا ہوگا کاشف . . . " یہی سوچتے سوچتے میں کواٹر میں آیا ، میں نے کاشف کو آواز دی لیکن اس نے کوئی جواب نہیں دیا اور پھر جب باتھ روم كے اندر سے مجھے شاور كے چلنے کی آواز آئی تو میں سمجھ گیا کہ کاشف اندر ہے ، میں نے ٹائم دیکھا ساڑے نو بج رہے تھے ، اب اتنا ٹائم نہیں تھا کہ میں آج ڈیوٹی پر جاتا ، اور ویسے بھی آج میرا موڈ نہیں تھا . . . . میں نے کمرے کی کھڑکی کھولی اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا . . . . تبھی مجھے ایک آواز سنائی دی جس نے مجھے اندر سے جھنجھوڑ كر رکھ دیا . . . . ایسا لگا کہ دِل کی دھڑکنیں روک گئی ہو . . . " کیا بات ہے یار، بہت دنوں سے حویلی میں نہیں آیا . . . " میری جگہ اس وقت کوئی اور ہوتا تو شاید نظر اندازِ کر دیتا اِس آواز کو ، لیکن میرے لیے یہ الفاظ، یہ جملے بہت اہمیت کی حامل تھی . . . . میں پیچھے دیکھے بنا ہی جان گیا تھا کہ میرے پیچھے کون ہے ، لیکن اتنے مہینوں بَعْد وہ کیسے یہاں آیا . . . . . ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ میرے سَر پر ایک زوردار تھپڑ پڑا ، مارنے والے نے اتنی زور سے مارا تھا جیسے کہ نسلوں کا بدلہ لے رہا ہو . . . . . وہ کوئی اور نہیں بلکہ میرا خاص نہیں میرا سب سے خاص دوست اظہر تھا ، اور میں بھی اس کا سب سے خاص دوست تھا . . . . . " اوے کمینے لڑکیوں کی طرح ادھر ہی دیکھتے رہیگا یا پھر گلے بھی ملے گا . . . . " اس کی آواز میں مجھے اپنے لیے وہی اپنایت محسوس ہوئی ، جو کالج كے دنوں میں ہوا کرتا تھی، میں ایک جھٹکے سے پیچھے مڑا اور اظہر کو گلے لگا لیا . . . . . میں اور اظہر ایک دوسرے كے لیے اتنے خاص تھے کہ ہم دونوں gay ہوتے ( جو کہ نہیں تھے ) تو آج ایک دوسرے سے شادی کر لی ہوتی. . . . . . اپنے غصے اور مجھ سے ناراضگی کا ایک اور اظھار کرتے ہوئے اس نے مجھے زور سے ایک لات ماری اور بولا " بہن چود گانڈ مروا رہا تھا تو یہاں ، تیرا نمبر تبدیل ہوگیا ، گھر سے بنا بتائے غائب ہے اور یہاں تک کہ . . . یہاں تک کہ . . . " مجھ پر ایک لات کا پیار اور کرتے ہوئے بولا " یہاں تک کہ تو نے مجھے بھی نہیں بتایا ، کہا گئی تیری وہ بڑی بڑی باتیں . . . " ہماری دُنیا میں ایک کہاوت بہت مشہور ہے کہ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ملے تو بھی بہت ہوتا ہے ، لیکن مجھے تو آج پورا کا پورا ایک جہاز مل گیا تھا اظہر كے روپ میں . . . . . " بھڑوے ، خود کو انجینئر بولتا ہے ، تو نے سب انجیرنز کا نام خاک میں ملا دیا . . . . " وہ اب بھی مجھ پر بہت غصہ تھا . . . . " چھوڑ پرانی باتوں کو اور بتا یہاں کیسے آیا اور کاشف کہاں ہے ، کہی تو نے اس کا قتل تو نہیں کر دیا . . . " " بلکل ، سہی سمجھا بے ، اس کی لاش باتھ روم میں پڑی ہے ، پلیز پولیس کو بتا دے . . . . " کچھ دیر تک ہم دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر ہنس پڑے . . . . " اب چال بتا ، تو یہاں کیوں ہے . . . " اپنی ہنسی روک کر اظہر بولا ، وہ اب سنجیدہ تھا . . . . " سب کچھ چھوڑ چھاڑ كے آ گیا میں ، گھر والے ملک سے باہر ہے ، نہ تو انہیں کوئی فرق پڑتا ہے اور نہ ہی مجھے . . . " " تیرے بھائی کی شادی ہونے والی تھی ، اس وقت جب تو گھر چھوڑ کر یہاں آ گیا تھا . . . " " کمینے میری غلطیوں کی فہرست پکڑ كے بیٹھ گیا ہے. . . اب جان نکال کر ہی دم لے گا " میں نے اندر ہی اندر سوچا . . . " وہ سب تو چھوڑ " اظہر کا چہرہ پھر لال ہونے لگا ، " مجھے یہ بتا کہ تو نے مجھے کال کیوں نہیں کی ، کالج میں تو میرا بیسٹ فرینڈ بنا پھرتا تھا . . . . " اظہر كے اِس سوال کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا اور میں اسے کچھ کہتا بھی تو کیا یہ کہتا کہ " مجھ میں اب جینے کی خوائش نہیں ہے . . . " یا پھر یہ کہتا کہ " سارہ كے جانے كے بَعْد جیسے میرے دِل نے دھڑکنا بند کر دیا ہے . . . " " کچھ بولے گا بھی یا نہیں . . . " وہ مجھ سے پھر مخاطب ہوا . . . . " وجہ جاننا چاہتا ہے ، تو سن . . . . جب میں اپنی بی۔ٹیگ کی خالی ڈگری لے کر گھر گیا تو جانتا ہے میرے ساتھ کیا سلوک ہوا . . . گھر میں بڑے بھائی کی شادی کی تیاری چل رہی تھی اس لئے گھر میں لوگوں کہ ہجوم سا رہتا تھا ، اور جب کوئی میرے بارے میں پوچھتا تو سب یہی کہتے کہ . . . . ہمارے خاندان میں سب سے خراب میں ہوں ، میں ہی ایک اکیلا شخص ہوں ، جس نے اپنے خاندان کا نام ڈوبا دیا . . . ایسا اس لئے ہوا کیوںکہ میرے پاس پیسہ نہیں تھا ، میرے پاس نوکری نہیں تھی . . . . . مجھ سے کہی بھی تھوڑی سی بھی غلطی ہو جاتی تو میری اس غلطی کو میرے پڑھائی سے جوڑ دیا جاتا . . . . میں اپنے ہی گھر میں رہ کر پاگل ہو رہا تھا ، اور پھر جس دن لڑکی والے ہمارے گھر آئے تو بھائی نے ایک چھوٹی سی بات پہ سب کے سامنے مجھ پر ہاتھ اٹھا دیا . . . . بس اسی وقت میرے دِل اور دماغ دونوں نے ایک ساتھ چلا کر کہا کہ بس بہت ہو گیا ، اور مجھے سب سے برا تب لگا جب مجھے کسی نے نہیں روکا . . . سب یہی چاھتے تھے کہ میں ان کی زندگی سے چلا جاؤں ، سو میں نے وہی کیا . . . . " یہ سب بولتے بولتے میں بہت غم زدہ ہوگیا تھا ، اظہر کو اپنی زندگی كے کچھ گزرے وقت سنا کر میں نے اپنے زخم پھر سے تازہ کر لیے تھے . . . . کاشف بھی تب تک آ چکا تھا اور دروازے پر چُپ چاپ کھڑا میری باتیں سن رہا تھا . . . . . . کچھ دیر تک ہم تینوں میں سے کوئی کچھ نہیں بولا ، اور پھر اظہر نے اپنا بیگ اپنی طرف کھیچ کر کھولا اور شراب کی ایک بوتل نکال کر بولا . . . " یہ لے تیرا گفٹ . . . " میری نم آنکھوں میں ایک ہنسی جھلک آئی " تو کمینے ابھی تک بھولا نہیں . . . " یہ ہم دونوں کی ایک خاص عادت تھی کہ ہم دونوں نے ایک دوسرے کو گفٹ كے طور پر ہمیشہ شراب ہی گفٹ کی تھی . . . اور سب سے بڑی بات یہ کی اظہر نے ہی مجھے شراب پینے کی عادت لگائی تھی . . . . . . " شباب سے زیادہ شراب اچھی . . . " یہ بولتے ہوئے میں نے اس کے ہاتھ سے بوتل چھینی اور کاشف کی طرف دیکھ کر بولا " آج رات کا جوگار ہوگیا بے . . . " میرے ایسا کہنے پر کاشف كے ساتھ ساتھ اظہر بھی ہنس پڑا . . . کاشف اور اظہر ہی میری موجودہ زندگی میں میرے اپنے تھے ، کاشف كے والد انسپیکٹر تھے اور اظہر ریلوے میں کسی اچھی پوسٹ پر تھا . . . " شادی ہو گئی تیری . . . " شراب کی بوتل کو ایک کنارے پر رکھ کر میں نے اظہر سے پوچھا . . . . " کہاں شادی ، ابھی تو زندگی کی انجویمنٹ باقی ہے . . . شادی کرتے رہینگے آرام سے . . . . " "کاشف ، لے پیگ تو بنا ، سَر دَرْد کر رہا ہے . . . . " " ارمان ، یہ سعدیہ کون بے " " ہے ، محلے میں رہنے والی ایک لڑکی . . . " میں نے بولا . . . . " میں نے سوچا نہیں تھا کہ اس کے جانے كے بَعْد تو کسی لڑکی كے ساتھ دوستی کرے گا . . . " اظہر جانتا تھا کہ مجھے اس کا نام لینا اب پسند نہیں ہے ، اس لئے اس نے اس کا نام نہیں لیا . . . . " سوچا تو میں نے بھی نہیں تھا ، لیکن معلوم نہیں یہ کیسے ہو گیا . . . . " " لو پکڑو . . . " اسی دوران کاشف نے ہم تینوں کا پیگ تیار کر دیا ، جسے پی کر کاشف بولا " یار اظہر ، میں نے اسے کتنی بار اس کی بیتے لمحوں كے بارے میں پوچھنے کی کوشش کی ، لیکن اس نے مجھے ایک بار بھی نہیں بتایا اور ہر بار کسی نہ کسی بہانے سے ٹال دیا . . . . " " دماغ مت کھا یار تو اب ایک اور گلاس بنا . . . شراب بہترین ہے . . " میں نے ایک بار پھر کاشف کی بات کو ٹالنے کی کوشش کی . . . . لیکن شاید آج میں کامیاب نہیں رہوں گا اس کا مجھے اندازہ ہو گیا تھا . . . . . " آج تو خلاصہ ہوکر ہی رہیگا کاشف . . . " اپنا پیگ گلے سے نیچے اتار کر اظہر بولا " فکر مت کرو ، آج یہ سب کچھ بتاۓ گا. . . . " " میں کچھ نہیں بتانے والا . . . " " نہیں بتائے گا . . . " " بلکل بھی نہیں . . . " " اک بار اور سوچ لے . . . " " میں نے بول دیا نہ ایک بار . . . " " پھر وہ باتھ روم والی بات میں کاشف کو بتا دونگا ، سوچ لے . . . " اظہر نے میری کمزوری کو پکڑ لیا تھا ، دو تین گلاس پینے سے دماغ بھی ایک دم ریلکس ہو گیا تھا ، ایک دم بہترین . . . . . . شراب کی بوتل خالی ہوچکی تھی اور میں بھی اب بلکل تیار تھا کاشف کو وہ سب بتانے كے لیے ، جو میں نہیں بتانا چاہتا تھا . . . . " ایک اور گلاس بنا . . . . " میں نے کہا
  3. ارے بھائی اتنا غصہ؟ کیا ہو گیا جناب؟ بات دراصل یہ ہے کہ جناب ایڈمن ان دنوں پردیس کی اپڈیٹ میں لگے ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ کل سے سفر میں ہیں ۔ میں اور وہ بھی فورم کی بجائے واٹس ایپ پہ رابطے میں ہیں۔ تاخیر کے لیے معذرت، پریشان مت ہوئیے، کہانی ملے گی اور اگر نہ ملی تو میں خادم ہوں آپ کا میں آپ کو کہانی دینے کا پابند ہوں۔
  4. Bilul bh nai Pardes ma suspense nai hota? wo lajwab shakar ha apka , r ya khani abi tak parh ky asa lagta ha Prdes ko bohat jald pechay chor day gi. Suspense ki khair ha lakin updates agar thori jaldi jaldi ain
  5. hmmmmmmmmmmmmm lgta hay student chor k ub teacher chudy gi
  6. thanks friends update hazir hai

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.