ٹاپک بھی مشکل ہے اور آپ نے لکھا بھی ہمیشہ کی طرح شاندار ہے لیکن مجھے فائزہ نور کی اس بات سے اختلاف ہے کہ سندھ میں حالات اس سے زیادہ برے ہیں سندھ کا بہت بڑا حصہ تقریباً پچاسی فیصد اس قسم کے وڈیروں کے چنگل سے آزاد ہے موبائل کیبل اسمارٹ فون اور میدیا نے بہت کچھ بدل دیا ہے سوشل میدیا بہت بڑی طاقت بن کے ابھرا ہے میرا شوق ہے سندھ گھومنا چپا چپا تو نہیں لیکن اپنی استطاعت کے مطابق بہت گھوما ہے اور گھومتا رہتا ہوں اس طرح کے حالات نہیں ہیں ہاں غربت افلاس ریپ گھر سے بھاگ جانا اور کزنز میں اپس میں سیکس یا کلاس فیلوز میں سیکس شہروں سے کچھ زیادہ ہے لیکن یہ حال نہیں ہے کہ وڈیرے جس کی لڑکی چاہے اٹھا لیں جس کو چاہے چود دیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہو۔ شاید کچے کے کچھ علاقے یا ںہت اندرون جیاں سڑکیں نہیں ہوں لوگوں کا شہر سے واسطہ نہیں ہو وہاں غلامی کی ایسی قسمیں پائی جاتی ہوں باقی آج کا ہاری ووٹر بھی ہے ہاریوں کا بھی بڑا ہوتا ہے آج اتنی غیرت آگئی ہے کہ کاروکاری کے نام پہ اپنی بیٹی مارنے کے بجائے وڈیرے کو مار کے اپنی جان قربان کر دیتے ہیں اور زمینیں سیاسی خاندانوں کی ملکیت ہو گئی ہیں تو وہ اتنا چند بھی نہیں چڑھاتے ان کو شہروں نیں ٹاپ ماڈلز میسر ہیں عیاشی کو پیٹرن بدل گیا ہے۔ باقی کہانی ایک الگ ہی دکھ سنسنی اور سسپنس لیے موجود ہے اور ہمیشہ کی طرح بہترین ہے لیکن انسانی حقوق کی اس قدر پامالی بھی نہیں ہے کہ اپنے انسان ہونے پہ شرم آنے لگے۔