آہ ڈاکٹر صاحب!!
آپ کے قلم کی کاٹ کا کوئ جواب نہیں. ماروی کا دردناک ریپ آپ نے جس انداز سے تحریر کیا داد کے مستحق ہیں. خاص طور پر آخری لائن کہ ماروی کے ننگے جسم پر وار کرنے کے لیے ہاتھ بلند کیا ایسا لگا کہ ماروی میرے سامنے موجود ہے.
ماروی بہرام کو گھاس نہیں ڈال رہی تھی تو بہرام طیش میں تھا کہ مزہ چکھاؤں گا میں سوچ رہا تھا کہ بہرام ماروی کے ریپ کے وقت موجود ہوگا بعد میں اِسی بات کو لے کر وہ ماروی کے جسم سے کھیلے گا بلیک میل کرے گا لیکن یہاں تو سوچ کے برعکس ہوا. سلام سمیحو شک میں پڑ کر ڈھونڈنے نکل پڑا. اف. ڈاکٹر صاحب جہاں ہماری سوچ ختم ہوتی ہے وہاں سے آپ سوچنا شروع کرتے ہیں.
ماروی کا جسم کا جو نقشہ کھینچا ہے وہ بلاشبہ کمال ہے. جس باریک بینی سے ہمارے احساسات کو کاغذ پر لاتے ہیں میں آپ کا تہہ دل سے مشکور ہوں.
ایک دو جگہ املا کی غلطی تھی بھوسے کو بوسا لکھا گیا بعد میں دیکھ لیجیے گا
کراچی کے ٹھنڈے موسم میں درد بھرا مزہ آیا......