پسندیدگی کا بہت شکریہ۔ ہماری ہمیشہ سے ہی کوشش رہی ہے کہ کہانی کا مقصد سیکس نہ ہو بلکہ کوئی نہ کوئی سنجیدہ موضوع ہو۔ کوئی نفسیاتی مسلئہ، کوئی کوتاہی، کوئی غفلت، کوئی نظام یا کوئی سسٹم۔ سیکس کہانیوں میں ایکشن کا تڑکا بھی سب سے پہلے ہم نے ہی لگایا تھا اور اس کے بعد کافی سلسلے شروع ہوئے۔
بیوروکریسی پہ بھی سب سے پہلے ہم نے ہی لکھا اور آہنی گرفت مکمل ہو چکی ہے۔ گلی کوچوں کی نظرانداز کی جانے والی چیزوں کا متوسط طبقے کی ڈھکی چھپی ننگی سچائیوں کو ہم نے ہوس میں موضوع بنایا۔ اس بار ہم نے سندھ میں رائج وڈیرہ شاہی نظام پہ لکھا ہے۔ اگلا موضوع ہمارا تعلیمی نظام ہے۔ یعنی سیکس سبھی میں ہے اور ہو گا مگر اس کو پیش کرنے کا انداز جدا ہو گا۔ جو جو لوگ اس بات کو سمجھتے ہیں وہ اس کو پسند کرتے ہیں۔