ڈاکٹر صاحب ایک بات بتائیں یہ منظر یہ تخیل یہ عکس بندی یہ آپ کس طرح سے لکھ لیتے ہیں کہاں سے الفاظ لاتے ہیں کاش میں کوئ لکھاری ہوتا تو تعریف کے لائق الفاظ آپ کی خدمت میں پیش کرتا. ڈاکٹر صاحب آپ نے تو کمال کردیا, کمال کمال, لاجواب
وڈیرہ نواز کا میرا کو پہلو میں بٹھانا اس کے کوہلوں پر سب کے سامنے ہاتھ پھیرنا پھر اس کادوپٹہ کا گرنا اس کے اندر سے لنڈ کو پکڑوانا میرا کا شرم کے باوجود پکڑنا ساتھ ہی نواز کا لوگوں سے باتیں کرنا واہ کیا منظر کشی کی ہے ایسا لگ رہا تھا کہ میں وہیں موجود ہوں
پھر کمرہ میں لے کر جب اس نے ننگی ہونے کا کہا تو اس کا شرمانا پھر باسو کو اس لڑکی کے ساتھ مجبور کرنا ساتھ ہی میرا کے ممے پکڑنا, باسو کے تو بیٹھے بٹھائے وارے نیارے ہوگئے جب اس کے پستان ننگے کرتا ہے تو ساتھ ہی وڈیرہ اس کے ممے ننگے کردیتا ہے میرا چپھاتی ہے لیکن وڈیرہ اس کے نپل منہ میں لے لیتا ہے. افففففف آپ نے یہ جو سیکس سین قلم بند کیا ہے کچھ نہ پوچھیں کہ جزبات کی کن بلندیوں پر آپ لے گئے ہیں. کیا جملے آپ نے لکھے ہیں اس کے اندر کیا کیا بیان کروں
عورت کی کشمکش کا آپ نےاچھا تفصیل سے ذکر کیا میں تو اس کا مختلف مواقع پر عینی شاہد ہوں. ایک بار ایک لڑکی کو اپنی جگہ پر لایا اسے کہا کہ صحن میں آجاؤ لیکن اس نے کہا کھلے آسمان کے نیچے نہیں یہ گناہ ہے یہ وہ . اسی طرح کمرہ میں جب کسی رنڈی کو لے کر جاؤ تو لائٹ بند کردیتی ہیں انہیں بے حیائ لگتی ہے حالاں کہ لنڈ ڈلوارہی ہیں ننگی ہورہی ہیں اس میں کچھ نہی. آپ نے بہت اچھے طریقہ سے بتایا. ویسے آپ سے اس کی وجہ جاننا چاہوں گا کہ کیا وجہ ہے ؟؟
امجد نے بڑی چالاکی سے چال چلی اور سانول کو حاصل کرلیا دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے محسوس ہوتا ہے کہ سلطان کھوڑو انتہائ سمجھدار ہے وہ پہلے سے چاہتا تھا کہ کہ کسی طرح سانول کو حاصل کرے جو اس نے حاصل کرلیا. سانول کیا رویہ رکھے گا آگے چل کر معلوم ہوگا
مراد لانگڑی کی بیوی صیبی اور سدو کی باتیں کیا ہی ہیجان خیز تھیں. سدو کے مموں کا چھلکنا پھر صیبیی کا سانول کے سیکس کے بارے میں پوچھنا شلوار کا گیلی ہوجانا ...آہ ہ ہ ہ ہ. لگتا ہے صیبی کوئ راستہ ڈھونڈے گی سانول کا لنڈ لینے کے لیے. سدو بھی کمال کی چیز ہوگی
امید کرتا ہوں کہ کیپرو کی اپنے ہونے والے ماٹھ کے ساتھ پہلی رات کا نقشہ بھی آپ لاجواب کھینچیں گے. اس کہانی میں اب تک آپ نے جتنے بھی سیکس سین پیش کیے وہ ایک سے بڑھ کر ایک تھے جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے
ڈاکٹر صاحب آپ یقین مانیں میرے پاس وہ الفاظ نہیں جس سے آپ کو خراج تحسین پیش کروں. آپ نے جو انداز رواں رکھا ہے جس طرح سے وڈیروں ہاریوں کی زندگی سے پردہ اٹھا رہے ہیں وہ کمال لاجواب ہے
طویل کمنٹ کے لیے معذرت پر مجبور تھا