Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 07/09/19 in all areas

  1. توبہ۔۔ توبہ۔۔ توبہ۔۔ ڈاکٹر خان۔۔ آپ کی کہانی نے تو مجھے تجسس میں مبتلا کر دیا ہے۔۔ واقعی ایسی تصوراتی عکس بندی کر رہے ہین لگتا ہے کہ قاری وہاں خود موجود ہے۔۔ سر مجھے اب پیڈ ممبر بننا ہے۔۔ کس طرح بن سکتا ہوں اور کیا ایک بار پیڈ ممبر بن کر سب کہانیاں پڑھ سکتا ہوں یا ایک ایک کر کے خریدنی پڑے گی۔۔ شکریہ
  2. شمسہ نے مسکراتے ہوئے اپنے نرم و ملائم،، نازک ہاتھوں سے میرے لن کو پکڑا جو کہ اس کی مٹھی میں سمانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔۔۔شمسہ میرے لن کی ٹوپی پر زبان پھیرتی ہوئے اسے منہ میں لیکر چوسنے لگی۔۔۔میرے جیسا تجربہ کار کھلاڑی بھی اس کی تاب نہ لا سکا اور میرے منہ سے بے اختیار سسکاریاں نکلنے لگیں۔ شمسہ نے جو میرے منہ سے مزے کی سسکاریاں سنیں تو وہ اور جوش سے میرے لن کی ٹوپی کو چوسنے لگی اور چوستے چوستے اس نے میرا لن ہاتھ سے چھوڑ کر جیسے ایک غوطہ مارتے ہوئے کمال خوبصورتی سے میرے پورے لن کو منہ میں لیتے ہوئے لن کی ٹوپی کو اپنے حلق سے ٹچ کیا اور واپس لن باہر نکال کر پھر سے ٹوپی چوسنے لگی۔۔۔میرے منہ سے بے اختیار ایک آہہہ نکلی۔۔۔یا حیرت یہ شمسہ اور جمیل تو بہت پہنچے ہوئے لگتے ہیں۔ اب اس نے لن کو ایک سائیڈ پر جیسے لٹا دیا اور قلفی کی طرح چوسنے لگی۔۔۔میرے برداشت کی حد ایک دم ختم ہو گئی اور میں نے شمسہ کے منہ کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑتے ہوئے پورا لن اس کے منہ میں گھسا کر اس کے منہ کو پھدی کی طرح چودنا شروع کر دیا۔۔۔شمسہ کی زبان شہوت کی شدت سے شعلہ و جوالہ بنی ہوئی تھی۔۔۔میں نے بے اختیار اس کے بالوں کو اپنی مٹھیوں میں جھکڑ کر ایک زور کا گھسہ مارا تو میرا پورا لن جڑ تک اس کے منہ میں غائب ہو گیا اور ٹوپہ اس کے حلق سے ٹکرانے لگا۔ شمسہ کو ایک دم کھانسی نما ابکائی آئی۔۔۔اس نے اپنا منہ پیچھے کر کے میرا لن باہر نکالا تو ساتھ ہی ڈھیر سارا تھوک برآمد ہوا۔۔۔شمسہ اس تھوک کے ساتھ ہی آدھے لن کو پھر سے منہ میں لیکر چوستی گئی۔۔۔میری برداشت ختم ہوتی جا رہی تھی۔۔۔مجھے لگا کہ چند سیکنڈ اور میرا لن اس کے منہ میں رہا تو میں چھوٹ جاؤں گا۔۔۔میں نے شمسہ کو بتایا کہ میں چھوٹنے والا ہوں تو اس کی چوپے لگانے کی رفتار اور بڑھ گئی اور وہ بڑی سپیڈ سے لن کو اندر باہر کرنے لگی۔۔۔وہ میرا لن منہ میں لیے ہوئے مسلسل میری آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔ مجھے اس کی خوبصورت بلوری آنکھوں میں شہوت کے ساتھ ساتھ پیار کا ایک سمندر موجزن دکھائی دیا۔۔۔میں بڑے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیر رہا تھا۔۔۔شمسہ میرا لن چوسنے میں مگن تھی جبکہ اس کی آنکھیں میری آنکھوں میں پیوست تھیں۔۔۔آخرکار میرا لن شمسہ کی گرم جوانی سے شکست کھانے کے قریب پہنچ گیا اور میرے جسم کو جھٹکا لگا۔۔۔جھٹکا محسوس کرتے ہی شمسہ نے میرے چوتڑوں پر اپنے ہاتھ ٹکاتے ہوئے انہیں دبا دیا اور میں جو اپنا لن اس کے منہ سے باہر نکالنے کی سعی میں مصروف تھا اپنے چوتڑوں پر اس کے ہاتھوں کے دباؤ کو محسوس کرتے ہی وہیں رک گیا۔ پھر ایک جھٹکے کے ساتھ منی کی پہلی پچکاری شمسہ کے حلق سے ٹکرائی تو اس نے اپنے ہونٹوں کی گرِپ میرے لن کی ٹوپی پر مضبوط کر لی۔۔۔پھر دوسری پچکاری پہلے سے بھی ذیادہ طاقت سے شمسہ کے حلق سے ٹکرائی۔۔۔میرے ہاتھوں کی گرفت شمسہ کے بالوں پر مضبوط ہوتی چلی گئی۔۔۔پھر تیسری پچکاری،، اس کے بعد چوتھی پچکاری،، میرا لن مسلسل شمسہ کے منہ میں پچکاریاں مار رہا تھا۔۔۔لیکن شمسہ نے میری منی کا ایک بھی قطرہ اپنے ہونٹوں سے باہر نہیں نکلنے دیا۔ ************************ (64) میری منی کو وہ ساتھ ساتھ ہی اپنے حلق سے نیچے اتارتی جا رہی تھی۔۔۔میرا اپنے پیروں پر کھڑا ہونا دوبھر ہو گیا اور میں شمسہ کو لیے ہوئے بیڈ پر گر پڑا۔۔۔میرا لن اتنی منی نکلنے کے بعد بھی ابھی تک تنا ہوا تھا۔۔۔لن ابھی تک شمسہ کے منہ میں تھا جسے وہ چوستی جا رہی تھی۔۔۔شمسہ نے میرا لن چوس چاٹ کر اچھی طرح صاف کرنے کے بعد اپنے منہ سے باہر نکالا اور مسکرا کر میری طرف دیکھا تو میں نے بھی مسکراتے ہوئے اپنی بانہیں کھول دیں۔۔۔اس نے ایک جست لگائی اور میری بانہوں میں سما گئی۔۔۔شمسہ کا سر میرے چوڑے چکلے سینے پر تھا اور میں بڑے پیار سے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہا تھا۔ شمسہ اٹھی اور ابھی آئی کا کہہ کر ننگی ہی کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔تھوڑی دیر بعد جب وہ واپس آئی تو اس کے چاند سے مُکھڑے سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔۔۔میں نے پوچھا۔۔۔میری جان کیا ہوا کہاں گئی تھی تو وہ بولی منہ صاف کرنے گئی تھی واش روم میں۔۔۔اتنا کہہ کر وہ جھکی اور اپنی پینٹی اتار دی۔۔۔پھر کھڑے ہو کر اس نے اپنی برا بھی اتار دی۔ میں اس کے ہوشربا جسم کو دیکھ کر مبہوت رہ گیا۔۔۔گول مٹول ممے،، صاف شفاف پیٹ،، گلابی نرم و نازک سی چوت جو کہ کسی کھلے ہوئے گلاب کی مانند چمک رہی تھی۔۔۔اس کا چاندی جیسا بدن۔آج تک میں نے ان لڑکیوں کی ہی پھدی ماری تھی جو کہ پہلے ہی مختلف مردوں سے چدائی کر چکی تھیں۔۔۔لیکن شمسہ پہلی لڑکی تھی جس نے اپنا سارا جسم صرف اپنے خاوند کیلئے سنبھال کر رکھا تھا۔۔۔مجھے اس طرح سکتے کی حالت میں دیکھ کر شمسہ کے ہونٹوں پر ایک شریر مسکراہٹ نمودار ہوئی اور اس نے ایڑھیوں کے بل گھوم کر اپنی پشت میری جانب کر لی۔۔۔جب میری نظر اس کی پتلی کمر سے ہوتی ہوئی اس کی ابھری ہوئی بے داغ دودھیا گانڈ پر پڑی میں تو جیسے سانس لینا ہی بھول گیا۔ شمسہ کو ایک اور شرارت سوجھی اور وہ مزید جھک گئی۔۔۔جس سے اس کی گانڈ کا سوراخ واضح ہو گیا۔۔۔مجھ پر تو جیسے مسلسل سکتے کی کیفیت طاری ہو گئی۔۔۔ہر مرد کی طرح ممے اور گانڈ میری بھی کمزوری تھی لیکن یہ نظارہ واقعی دیکھنے لائق تھا۔۔۔شمسہ سیدھی ہوئی اور بڑی ادا سے میرا اکڑا ہوا لن اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا تو اس کے ہاتھ کا لمس محسوس کر کے میں بھی ہوش میں آ گیا۔۔۔میں جیسے خواب سے چونک گیا۔۔۔مجھے احساس ہی نہیں تھا کہ میرا لن ایک بار پھر اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ اکڑ چکا ہے۔۔۔پھر مجھ پہ جیسے جنونیت کا دورہ پڑ گیا۔۔۔میں نے شمسہ کو کھینچ کر اپنے پہلو میں لٹایا اور اس پہ ٹوٹ پڑا۔ ہونٹ، کان، ناک، آنکھیں، گردن، لویں، بال، سینہ، ممے، پیٹ، ناف، رانیں، پنڈلیاں، ہاتھ، ہاتھوں کی انگلیاں،، غرض کے اس کے جسم کا ایک ایک ذرہ چومتا گیا۔۔۔میں شمسہ کی حالت سے بے خبر تھا جو بے چینی سے اپنا سر زور زور سے پٹخ رہی تھی،، آہیں بھر رہی تھی،، اس کی پھدی مسلسل پانی چھوڑ رہی تھی مگر میں اپنے جنون میں مگن اسے چومتا چاٹتا جا رہا تھا۔۔۔پھر میں نے شمسہ کو اپنی بانہوں میں بھرتے ہوئے اس کی زبان چوسنا شروع کر دی۔۔۔میرا انداز بے حد جنونی تھا جو کہ شمسہ کے جزبات کو اور بھی بھڑکا گیا۔۔۔اب معاملہ شمسہ کی برداشت سے بھی باہر ہوتا جا رہا تھا۔۔۔وہ میرے لن کو پکڑ کر اپنی پھدی کی طرف کھینچ رہی تھی۔ وہ اب لن سے چدنا چاہتی تھی۔۔۔اس لمحے کیلئے اس نے بہت انتظار کیا تھا۔۔۔ہمیشہ اپنے آپ سے کیا ہوا خاموش عہد نبھایا اور اپنے جسم کو صرف اپنے خاوند کیلئے سنبھال کر رکھا تھا۔۔۔یہ الگ بات تھی کہ جو لن اس کے نصیب میں آ رہا تھا وہ اس کے خاوند جمیل کا نہیں بلکہ میرا یعنی کمال عرف جمیل کا تھا۔۔۔میں شمسہ کی بےتابی کو محسوس کرتے ہوئے اٹھ کر اس کی ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گیا۔۔۔اور اپنے ہاتھ کی دو انگلیاں اس کی بھیگی ہوئی پھدی میں ڈال کر اسے انگلیوں سے چودنا شروع کر دیا۔۔۔شمسہ لن لینے کیلئے مری جا رہی تھی جبکہ میں اس کی آگ کو مزید ہوا دے رہا تھا۔ اب میں نے ذیادہ دیر کرنا مناسب نہ سمجھا اور اپنے لن کو شمسہ کی نازک پھدی کے ہونٹوں میں رگڑنے لگا۔۔۔شمسہ مزے سے تڑپتے ہوئے اپنی پھدی کے سوراخ کو میرے لن کی رینج میں لانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔میں نے آرام سے اپنے لن کو شمسہ کی پھدی کے سوراخ پر سیٹ کیا۔۔۔اس سے پہلے کہ میں گھسہ مارتا،، شمسہ نے پوری جان سے اپنی پھدی کو لن پر دبایا تو میرا لن اس کی پھدی کی دیواروں کو رگڑتا ہوا پھدی کی گہرائیوں تک اتر گیا۔۔۔شمسہ کے منہ سے ایک تیز سسکاری نکلی۔۔۔آہ۔ہ۔ہ۔ہ۔ شمسہ کی پھدی کی گرِپ کافی ٹائٹ تھی۔۔۔اس کا چہرہ شہوت ملی تکلیف سے ٹماٹر کی طرح سرخ ہو چکا تھا۔۔۔لیکن ساتھ ہی خوشی کی ایک جھلک اس کے چہرے پر نظر آ رہی تھی۔۔۔میں نے آہستہ آہستہ سے اس کی پھدی میں لن اندر باہر کرنا شروع کر دیا۔۔۔میں چار انچ تک لن کو باہر نکالتا اور پھر سے شمسہ کی پھدی میں جڑ تک گھسا دیتا۔۔۔اسی دوران شمسہ کی ہمت جواب دے گئی اور اس کا جسم اکڑنا شروع ہوا تو میں نے اپنے گھسوں کی رفتار بڑھا دی۔۔۔لیکن لن ابھی بھی میں نے پورا باہر نہیں نکالا تھا۔۔۔بلکہ کسی پسٹن کی طرح اس کی پھدی میں اندر باہر کرتا گیا۔۔۔شمسہ نے اپنی ٹانگیں اٹھا کر میری کمر پر باندھ لیں اور اپنے ناخنوں سے میرے کندھوں کو ادھیڑنے لگی۔ میں سمجھ گیا کہ شمسہ چھوٹنے لگی ہے تو میں نے اس کی زبان کو چوستے ہوئے گھسے مارنے چالو رکھے۔۔۔اچانک شمسہ کے جسم کو جھٹکے لگنے شروع ہو گئے اور اس کی پھدی سے پانی ایک پریشر کے ساتھ میرے لن سے ہوتا ہوا میرے ٹٹوں کو بھگو گیا۔۔۔اب میرا لن پوری آسانی سے اس کی پھدی کے اندر باہر ہو رہا تھا۔۔۔شمسہ میرے ہونٹوں کو چوم رہی تھی۔۔۔ہر طرف کیف تھا، مستی تھی ، مزہ تھا،، میرے گھسے مسلسل جاری تھے اور کمرہ پچک۔پچک کی آوازوں سے گونج رہا تھا۔ یہ آوازیں ہم دونوں کے ہیجان میں اضافہ کر رہی تھیں۔۔۔میرا لن شمسہ کی پھدی کی گہرائیوں کی سیر کرنے میں مصروف تھا۔۔۔اب میرے دھکوں میں تیزی آتی جا رہی تھی۔۔۔ساتھ ساتھ ہی پچک۔پچک کی آوازوں میں بھی۔۔۔ نیچے سے شمسہ بھی گانڈ اٹھا اٹھا کر لن کو اپنی پھدی کی آخری سرحد تک لینے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔میں اب پورا لن باہر نکال کر اتنی زور سے گھسہ مارتا کہ میرا لن سیدھا اس کی بچہ دانی سے جا ٹکراتا۔۔۔دس منٹ تک اسی طرح گھسے مارنے کے بعد مجھے لگنے لگا کہ اب میں چھوٹنے لگا ہوں۔۔۔میں کپکپاتے ہوئے بولا: شمسہ میں چھوٹنے لگا ہوں تو وہ بھی مزے سے سرشار بولی۔۔۔اندر ہی چھوٹ میری جان میں بھی نکلنے والی ہوں۔۔۔تبھی میرے لن سے منی کا سیلاب نکلا اور شمسہ کی پھدی کو سیراب کرتا گیا۔۔۔شمسہ بھی کانپتے ہوئے پانی چھوڑ گئی۔۔۔اس کے چہرے پر ایک اطمینان تھا،، سکون تھا۔۔۔وہ میرے سینے پر سر رکھ کر لیٹ گئی۔ ************************ (65) کچھ دیر بعد اچانک بولی۔۔۔جمیل تم کچھ بدل گئے ہو۔۔۔میں اندر سے تو تھوڑا پریشان ہوا لیکن بظاہر ہنستے ہوئے پوچھا۔۔۔شمسہ ایسا تمہیں کیوں محسوس ہوا۔۔۔وہ کہنے لگی: جمیل تمہارا پیار کرنے کا انداز بدل گیا ہے اور پہلے تم سیکس میں اتنا ٹائم نہیں نکالتے تھے۔۔۔اب ٹائمنگ بہت بڑھ گئی ہے اوپر سے تمہارا لن بھی تو کتنا موٹا اور لمبا لگتا ہے نا۔۔۔میں نے اس کے سر پر چپت لگاتے ہوئے کہا: نہیں پگلی ایسی کوئی بات نہیں یہ سب تمہارا وہم ہے۔ اتنی دیر بعد ملی ہو نا تو اس لیے ایسا محسوس ہو رہا ہے۔۔۔ویسے جب سعودی میں میرے ساتھ حادثہ ہوا تو میرے پورے جسم پر چوٹیں لگی تھیں۔۔۔بیرونی چوٹوں کے ساتھ ساتھ اندرونی طور پر بھی بہت ٹوٹ پھوٹ ہوئی تھی۔۔۔پورا جسم درد کرتا تھا۔۔۔شاید یہ ان دوائیوں کا ہی اثر ہو کہ پہلے جو کمی یا کمزوری تھی وہ دور ہو گئی اور اب میں پہلے سے ذیادہ فٹ ہوں۔ شمسہ کو اچانک کچھ یاد آیا تو وہ اٹھ کر بیٹھ گئی اور میرے سینے سے ناف تک ہاتھ پھیرتے ہوئے سوالیہ لہجے میں بولی۔۔۔جمیل تمہارے جسم پر تو کسی چوٹ کا نشان نہیں؟ میں نے کہا یار وہ لوگ بہت اعلیٰ قسم کی دوائیاں استعمال کرتے ہیں۔۔۔روزانہ تین ٹائم میرے جسم پر موجود نشانات پر کچھ خاص جڑی بوٹیوں کا لیپ کرتے تھے۔۔۔یہ اسی لیپ کا کمال ہے کہ سارے نشانات مٹ گئے۔۔۔وہ پیار بھرے انداز میں میرے سینے پر سر رکھتے ہوئے بولی: اب میں تمہیں کہیں نہیں جانے دوں گی۔۔۔میں بھی پیار سے اس کے سر کے بالوں میں انگلیاں پھیرتا رہا۔۔۔پھر ہم نے سیکس کا ایک اور دور چلایا اور کافی دیر بعد تھک کر سو گئے۔ اگلے دن صبح نادر گھر آ گیا تو شمسہ اسے دیکھتے ہی بولی: نادر اب تم یہ وڈے چوہدری کی نوکری چھوڑ دو۔۔۔جمیل گھر آ گیا ہے نا تو اس کے ساتھ مل کر کھیتی باڑی کیا کرو۔۔۔اس سادہ لوح،، معصوم کو کیا پتہ تھا کہ ہم لوگ کس گرداب میں پھنسے ہوئے ہیں۔۔۔اگلے دن نادر نے مجھے بتایا کہ سندھی مارواڑی کا ایک آدمی سٹین گنیں اور سارا ایمونیشن پہنچا گیا ہے۔۔۔نادر نے یہ سامان پتہ نہیں کس وقت رسیو کیا اور کیسے گھر کے اوپر والے کمرے میں پہنچا دیا۔۔۔میں نے نادر کے ساتھ اوپر جا کر گنیں چیک کیں تو بلکل ورکنگ آرڈر میں تھیں۔
  3. (61) ٹھیک گیارہ بجے گاڑی لاہور کیلئے روانہ ہو گئی۔۔۔ٹرین کو رات دو بجے لاہور پہنچنا تھا۔۔۔مجھے ایک بات یاد آئی تو میں نے نادر سے پوچھا لیا کہ نادر تم تو وڈے چوہدری کی ملازمت میں تھے۔۔۔اتنے دنوں سے غائب ہو تو اب کیسے اس غیر حاضری کو سنبھالو گے۔۔۔تو نادر بولا: میری جان فکر کیوں کرتا ہے۔۔۔جب تک تم ڈاکٹر کی کوٹھی میں رہے میں ساتھ ساتھ چوہدری کے کام بھی نبٹاتا رہا ہوں۔۔۔پھر وہ مجھے آنکھ مار کر بولا: سمجھا کر یار میں ابھی بھی آن ڈیوٹی ہوں وہاں جا کر میں چوہدری کو بتاؤں گا کہ اب میرا بھائی جمیل واپس آ گیا ہے تو میں پچھلے چار دن سے جمیل کے ساتھ اسلام آباد میں تھا مجھے بلکل نہیں پتہ کہ کراچی کے کیا حالات ہیں۔ ویسے بھی میرا کام کی نوعیت ایسی ہے کہ میرا صفدر کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں تھا۔ پھر موقع محل دیکھ کر چوہدری سے بات کر لوں گا کہ چونکہ اب جمیل آ گیا ہے تو میں اس کے ساتھ ہی کچھ کام دھندہ کر لوں گا۔۔۔تم فکر مت کرو کوئی نہ کوئی بات بن ہی جائے گی۔۔۔سفر کا زیادہ تر حصہ میں اور نادر نے سوتے ہوئے گزار دیا۔۔۔پروگرام کے مطابق سردار اور حنیف کو تین دن بعد بھیس بدل کر کسانوں کے روپ میں گاؤں پہنچنا تھا۔۔۔ضرورت کی چند چیزیں لانا بھی ان کے ذمہ لگائی تھیں۔۔۔قصہ مختصر لاہور پہنچنے کے بعد صبح چار بجے ہم لوگ گاؤں میں نادر کے گھر میں موجود تھے۔۔۔نادر مجھے گھر میں رہنے اور پوری طرح تیار ہونے کا کہہ کر اسی وقت شمسہ کے گاؤں کی طرف نکل گیا۔ شمسہ نے جب میرے آنے کی خبر سنی تو اس پہ شادی مرگ کی کیفیت طاری ہو گئی۔۔۔وہ اسی وقت نادر کے ساتھ وہاں سے واپس گھر آنے کیلئے مچل گئی۔۔۔دوپہر کے وقت گھر میں داخل ہوتے ہی شمسہ بھاگ کر میرے گلے لگ کر رونے لگی۔۔۔یہ منظر دیکھ کر نادر چپکے سے باہر نکل گیا۔۔۔میں کافی دیر تک شمسہ کو سمجھاتا اور سنبھالتا رہا۔۔۔آخر کافی دیر بعد جا کر وہ سنبھل گئی اور اس کو یقین ہو گیا کہ میں یعنی اس کا شوہر جمیل اس کے پاس موجود ہوں۔ باہر پاس پڑوس کے لوگوں کو بھی میرے (جمیل) کے آنے کی خبر ہو گئی تھی اس لیے آنے والوں کا تانتا بندھ گیا۔۔۔انہی لوگوں کی منہ زبانی مجھے کمال(اپنے) گھر کی بربادی کی داستان سننا پڑی۔۔۔گاؤں کے لوگوں کو بلکل بھی معلوم نہیں تھا کہ اس دشمنی میں ہم کہاں تک جا چکے ہیں۔۔۔ان کے مطابق کمال اپنی پوری فیملی سمیت ختم ہو چکا تھا۔۔۔نوشاد کے بارے نہ کسی نے ذکر کیا اور نہ ہی میں نے بات کرنا مناسب سمجھا۔ شام کو ٹونی اور ڈاکٹر امتیاز نادر کو ملنے آئے۔۔۔کافی دیر وہ لوگ باتیں کرتے رہے۔۔۔اس وقت میں اندر کمرے میں شمسہ کی دلجوئی میں مصروف تھا۔۔۔ان دونوں کے جانے کے بعد شمسہ سے چھپا کر نادر نے مجھے بتایا کہ وہ دونوں نادر سے میرے بارے میں پوچھ رہے تھے تو نادر نے آنکھوں میں جھوٹے آنسو لاتے ہوئے ایک ٹریفک حادثے میں میرے مر جانے کی جھوٹی کہانی سنا دی۔۔۔جسے سن کر وہ کافی غمگین ہو گئے تھے۔ حالانکہ ان جیسے دوستوں سے یہ بات چھپانا مناسب نہیں لگا لیکن پھر بھی یہ وقت اور حالات کا تقاضہ تھا اور ہمیں ہر وقت چوکس رہنا تھا۔۔۔اس لیے میں نے اس بارے نادر کو کچھ نہیں کہا بس سر ہلا کر چپ کر گیا۔ ************************ (62) دوستو یہاں ایک نہایت نازک موڑ آ گیا۔۔۔رات کا وقت تھا تو لازماً اتنے عرصے سے سیکس کو ترسی ہوئی شمسہ کے ساتھ مجھے خاوند کی حیثیت سے سیکس کرنا پڑتا اس لیے میں اور نادر ایک دوسرے سے نظریں چرا رہے تھے۔۔۔میں نے اشارے سے نادر کو باہر بلایا اور ایک سگریٹ سلگاتے ہوئے اسے کہا:نادر اب بھی وقت ہے میرا خیال ہے کہ شمسہ کو سب کچھ سچ سچ بتا دیتے ہیں۔۔۔نادر نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔۔۔یار جب یہ بات پہلے فائنل ہو چکی ہے تو پھر اس بات کا ذکر فضول ہے۔۔۔تم آرام سے اسے اس کے حصے کی خوشیاں دو۔۔۔اس کے آنسو پونچھو،، میں یہاں سے جا رہا ہوں۔۔۔اب کل صبح ملاقات ہو گی۔ اس سے پہلے کہ میں جواب دینے کیلئے منہ کھولتا۔۔۔نادر رخ پھیر کر وہاں سے چلا گیا۔۔۔میں چپ چاپ وہیں بیٹھا سگریٹ پہ سگریٹ پیتا رہا۔۔۔کافی دیر بعد میں نے دل میں سوچا۔۔۔چل بھئی کمال اب تو جو ہے سو ہے۔۔۔چڑھ جا شمسہ پر بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی۔۔۔میں نے واپس گھر میں داخل ہو کر دروازہ بند کیا اور چلتے ہوئے اندر شمسہ کے کمرے میں پہنچ گیا۔۔۔شمسہ کمرے میں بےتابی سے ادھر ادھر گھوم رہی تھی مجھے اندر آتے دیکھ کر وہ ایک جگہ رک گئی اور سر جھکا کر اپنی انگلیوں کو چٹخانے لگی۔۔۔میں نے اور دیر کرنا، اسے ترسانا مناسب نہ سمجھا اور اس کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے اپنے بازو کھول دیے۔ مجھے ایسے بانہیں کھولتے دیکھ کر اس نے ایک لمحے کیلئے میری آنکھوں میں دیکھا اور پھر کٹی ہوئی پتنگ کی طرح میری بانہوں میں سما گئی۔۔۔شمسہ میرے گلے لگتے ہی پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے بولی۔۔۔جمیل تم نے مجھے کہیں کا نہ چھوڑا۔۔۔بتاو مجھے چھوڑ کر کیوں چلے گئے تھے۔۔۔میں پل پل جئی اور پل پل مری ہوں۔۔۔تمہارے بغیر یہ دنیا پھیکی پھیکی لگتی تھی۔۔۔بتاؤ مجھے چھوڑ کر کیوں گئے تھے۔۔۔یہ کہتے ہی وہ روتے روتے میرے سینے پر مکے مارنے لگی۔۔۔میں اسے اپنے ایک بازو میں سمیٹے دوسرے ہاتھ کو اس کی کمر پر پھیرتے ہوئے بولا: نہ رو پگلی نہ رو،، دیکھ اب تو میں آ گیا ہوں نا۔ ہر وقت تیرے ساتھ رہوں گا۔۔۔مجھے احساس ہے کہ بھری جوانی میں یہ دن کیسے گزرے ہوں گے۔۔۔یہ راتیں تم نے کیسے تڑپ تڑپ کر گزاری ہوں گی لیکن میری جان میں بھی تو ترسا ہوں۔۔۔تیرے بغیر میری کیا حالت تھی یہ میں ہی جانتا ہوں۔۔۔بس چپ کر جا اب میں آ گیا ہوں نا تو تیری آنکھوں سے آنسو نہیں نکلنے چاہیئے۔ اس کے ساتھ ہی میں نے جھک کر اپنے ہونٹوں سے اس کی آنکھوں سے نکلنے والے آنسوؤں کو چوس کر صاف کر دیا۔۔۔میرے ہونٹ لگنے کی دیر تھی کہ جیسے اس کو کرنٹ سا لگا۔۔۔شمسہ نے نظریں اٹھا کر میری طرف دیکھنے کی کوشش کی تو میں نے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھ دیے۔۔۔اتنے عرصے بعد اپنے محبوب کا پیار پاتے ہی وہ کانپ اٹھی اور پورے جوش کے ساتھ میرے ہونٹ چوسنے لگی۔۔۔شمسہ گاؤں کی پلی بڑھی لڑکی تھی۔۔۔قد کاٹھ میں وہ مجھ سے تھوڑی چھوٹی تھی۔ گاؤں کی باقی لڑکیوں کی طرح اس پر بھی رنگ روپ خوب چڑھا تھا۔۔۔اس کے بڑے بڑے ممے میرے سینے میں دھنسے جا رہے تھے۔۔۔اس کے چہرے کا رنگ گورا لیکن اس کے نین نقوش میں شیشے کی سی جاذبیت پائی جاتی تھی۔۔۔میں نے شمسہ کے نرم و نازک ہونٹوں کو ایک لمحے کیلئے خود سے جدا کیا اور اس کے چہرے کی طرف دیکھا جو اس وقت شہوانی جذبات سے سرخی مائل ہو رہا تھا شمسہ کی سانسیں تیز تیز چل رہی تھیں۔۔۔اسی وقت شمسہ نے اچک کر دوبارہ میرے ہونٹوں سے ہونٹ ملا دیے۔۔۔میں نے بھی دل سے شمسہ کا شوہر بننے کا فیصلہ کر لیا۔ ************************ (63) میں نے اس کے گلابی ہونٹ چوستے چوستے جھک کر اسے اپنی گود میں اٹھایا اور لیجا کر بیڈ پر لٹاتے ہوئے اوپر جھک گیا۔۔۔شمسہ جنونی انداز میں میرے گالوں، آنکھو، لبوں کو چوم رہی تھی۔۔۔میں اوپر اٹھا اور شمسہ کے کپڑے اتار دیے۔۔۔نیچے اس نے لال رنگ کی برا کے ساتھ میچنگ لال رنگ کا ہی انڈر وئیر پہنا ہوا تھا۔۔۔شمسہ لال رنگ کی برا، پینٹی میں بلکل پری لگ رہی تھی۔۔۔اس کا حسین و جمیل بدن اپنی پوری رعنائیوں کے ساتھ میرے سامنے آ گیا۔۔۔میں بغیر پلک جھپکائے اس کے حسین جسم کو تکے جا رہا تھا۔۔۔وہ بےتابی سے اٹھی اور میرے سارے کپڑے اتار دیے۔ اب میں فقط انڈروئیر میں اس کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔شمسہ نے ایک ادا سے میرے نیم کھڑے لن کو انڈروئیر کے اوپر سے ہی پکڑ لیا اور دھیرے دھیرے سہلانے لگی۔۔۔وہ بیڈ پر بیٹھی ہوئی جبکہ میں بیڈ کے پاس زمین پر کھڑا ہوا تھا۔۔۔دراصل میں کسی قسم کی پیش قدمی نہیں کرنا چاہتا تھا وہ اس لیے کہ ایک عورت اپنے جیون ساتھی کی ہر رمز سے واقف ہوتی ہے۔۔۔اس کے پیار کرنے کا انداز عورت کے ذہن کی اتھاہ گہرائیوں میں موجود ہوتا ہے۔۔۔اب میں تو میں نہیں تھا بلکہ میں جمیل تھا اس لیے پیش قدمی سے کترا رہا تھا۔۔۔شمسہ مسلسل میرے لن کو سہلاتے ہوئے اپنا ایک ہاتھ میرے سینے کے بالوں میں پھیر رہی تھی جبکہ اس کے ہونٹ میری ناف کو چوم رہے تھے۔ میں نے بڑے پیار سے شمسہ کی طرف دیکھا اور مزے کی شدت سے آنکھیں بند کر لیں۔۔۔شمسہ کا چہرہ سیکس کی حدت سے گلنار ہو رہا تھا۔۔۔ہھر وہ تھوڑا نیچے جھکی اور انڈروئیر کے اوپر سے ہی میرے لن کی ٹوپی کو اپنے دانتوں سے پکڑ کر ہلکا سا کاٹ لیا۔۔۔کیف و مستی کی ایک لہر میرے بدن میں دوڑ گئی اور میں نے آنکھیں کھولتے ہوئے سوچا کہ اچھا تو جمیل صاحب چوپا لگوانے کے بھی شوقین تھے۔ شمسہ ہر چیز سے بے نیاز اپنے کام میں مگن تھی اس کی زبان مسلسل میرے اکڑے ہوئے لن کا انڈروئیر کے اوپر سے ہی مساج کر رہی تھی اور میرا انڈروئیر اس کے تھوک سے گیلا ہو چکا تھا۔۔۔میں اس کے والہانہ انداز پر فدا ہو گیا۔۔۔شمسہ نے میرے انڈروئیر کو دونوں سائیڈوں سے پکڑ کر نیچے اتار دیا تو ساتھ ہی میرا موٹا تازہ، لمبا لن شمسہ کے منہ کے سامنے لہرانے لگا۔۔۔شمسہ میرے لن کو دیکھ کر بولی کیا بات ہے جمیل تمہارا لن پہلے سے کافی موٹا اور لمبا لگ رہا ہے تو میں بات بناتے ہوئے بولا: میری جان پہلے یہ تیری جدائی میں سوجا رہا اور اب تجھے ملنے کی خوشی میں پھول گیا ہے۔
  4. کہانی بہترین جا رہی ہے ٹیمپو تھوڑا سا تیز ہے کہانی میں ایک کردار ایسا ہونا چاہیے جیسا پنڈی کی گشتیاں میں سدرہ کا تھا ایک خاص ایسی لڑکی ہونی چاہیے جس کے ساتھ جب بھی سیکس سین ہو مزہ آ جائے

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.