آج کل حلالہ ایک دلچسپ موضوع بن گیا ہے - لوگ اس موضوع کو دلچسپی سے سنتے ہیں اور چسکے لیتے ہیں
پچھلے دنوں تو حلالہ سے ملتے جلتے موضوعات پر کئی ڈرامے بھی آئے ہیں
ایسا محسوس ہوا جیسے حلالہ کو پروموٹ کیا جارہا ہو
میں اس بات پر حیران ہوتا ہوں کہ بہت سے لوگ حلالہ کو جائز سمجھتے ہیں
کئی مولوی حضرات حلالہ کو جائز بتاتے ہوئے حلالہ کرنے کی خدمات مہیا کرنے کے لیے بھی تیار رہتے ہیں
میں نے اس پر بہت تحقیق کرنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ حلالہ کرنے والوں کی سخت مذمت کی گئی ہے ہمارے مذہب میں۔ کہ جو شخص حلالہ کرتا ہے اور جس کے لیے حلالہ کیا جاتا ہے ، ان دونوں پر خدا کی لعنت۔ دوسرے خلیفۃ راشد ایسے لوگوں کو زانیوں کے برابر سمجھتے تھے۔ اور ان کا فرمان تھا کہ مجھے کوئی ایسا کیس نظر آیا تو میں دونوں کو سنگسار کروا دوں گا - کیونکہ ایسے شخص کا مقصد وہ نہیں ہوتا جو شارع نے نکاح سے مراد لیا ہے
فقہہ کے تمام مذاہب میں بھی سازشی حلالہ کے بارے میں ایسی ہی رائے ہے - مطلقہ سے نکاح کرتے وقت اگر یہ شرط رکھی جائے کہ مباشرت کے بعد طلاق دیگا تاکہ پہلے خاوند سے نکاح کرلے یہ طریقہ تمام آئمہ کے نزدیک حرام ہے۔البتہ امام شافعی امام مالک امام حنبل کے نزدیک عورت پہلے خاوند کے لیے حلال ہی نہیں ہوتی جبکہ امام ابو حنیفہ کے نزدیک عمل حرام ہے لیکن پہلے خاوند سے نکاح کےلیے عورت جائز ہو جاتی ہے
خیر اس بحث سے قطع نظر میرے نزدیک حلالہ کا مسئلہ اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں لوگوں سمجھتے ہیں کہ طلاقیں جب تک تین نہ دی جائیں صحیح طلاق نہیں ہوتی
میں نے کتنے ہی لوگوں سے گفتگو کی اور معلوم ہوا کہ سب کے پاس یہی غلط تصور ہے کہ اگر ایک طلاق دی جائے تو مکمل علیحدگی نہیں ہوسکتی اور عورت کسی دوسرے سے تب تک نکاح کرنے کے لیے آزاد نہیں ہوگی جب تک تین طلاقیں نہ دی جائیں -حالانکہ تما م فقہیں اس بات پر متفق ہیں کہ ایک طلاق دینے کے بعد اگر عورت کے اگلے تین حیض آنے تک اس سے رجوع نہ کیا جائے تو حقیقی طلاق واقع ہو جاتی ہے اور عورت کسی دوسرے مرد سے نکاح کر سکتی ہے
اور احسن طریقہ طلاق کا یہی ہے کہ صرف ایک طلاق دی جائے
ایک یا دو طلاقوں کے بعد یہ گنجائش رہتی ہے کہ اگرعدت کے اندر رجوع کیا جاسکتا ہے اور اگر عدت گذر بھی جائے تو دوبارہ نکاح کیا جاسکتا ہے حلالہ کی نوبت نہیں آئے گی --- اور اگر نکاح نہ کرنا چاہیں تو عورت عدت کے بعد آزاد ہوگی کہ کسی اور سے نکاح کرلے
میرے خیال میں تو حلالہ کو پروموٹ کرنے کی بجائے اس بات کو پروموٹ کرنا چاہیے کہ اگر عورت سے علیحدہ ہی ہونا ہے تو ایک طلاق دے کر علیحدہ ہوا جائے --- تین طلاقیں بیک وقت دینے والے طریقے کی تو سختی سے حوصلہ شکنی ہونی چاہیے اور حکومت کی طرف سے سزا ملنی چاہیے