Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 24/07/17 in all areas

  1. علی نے جب محسوس کیا ریحانہ فارغ ہونے والی ہے تو علی نے لن باہر نکالا اور اس کی کنواری گانڈ میں رکھتے ساتھ ہی اک زور کا دھکا مارا اور اس کے موٹے لن کی ٹوپی اس کی گلابی گانڈ کو روندتی ہوئی اندر داخل ہو گئی ریحانہ کو درد تو ہوا لیکن اتنا خاس نہیں جتنا ہونا تھا علی روکا اور ریحانہ اس کو گالیں دینے لگی کتے باہر نکال اسے ہرامخور زلیل انسان اپنی اوقات بھول گیا کیا علی کو اخری بات بہت بری لگی اس کی اوقات والی بات نے علی کو اور غصہ دلا دیا علی نے غصے میں کہا ہرامزادی تو مجھے گالی دیتی ہے رک تیرا وہ ہال کرو گا کہ تو درد سے بلبلا اٹھے اور تیرا چلنا بھی مشکل کر دو گا اس کے ساتھ ہی اس نے اک زوردار دھکا مارا لن اس کی گانڈ پھاڑ کر اس کی گانڈمیں رستہ بنانے لگا اس درد کو وہ برداشت نا کر سکی اور بے ہوش ہو گئی علی نے اگلا جھٹکا مارا اور پورا لن اند ڈال دیا ریحانہ بیہوشی میں بھی چلا رہی تھی علی پر ا س کا کوئی اثر نا ہوا اور وہ اپنی دھن میں لگا رہا اور جھٹکوں سے ریحانہ کی گانڈ پھاڑنے میں لگا رہا 55 منٹس لگاتار سیکس کرتا رہا بیچ بیچ اسے ہوش اتا اور وہ درد کی وجہ سے پھر بیہوش ہو جاتی 55 منٹ کی زبردست چدائی کے بعد علی اس کی گانڈ میں فارغ ہو گیا اور اس کے اوپر لیٹ کر سانس بحال کرنے لگا ریحانہ کو ہلکا ہلکا ہوش آ گیا کچ دیر ایسے ہی گزرنے کے بعد علی نےباتھ لیا اور ریحانہ کو کس کر کے جانے لگا تو ریحانہ بولی علی یہ چدائی مجھے ہمیشہ یاد رہے گی دوبارہ کب او گے اس کے ساتھ ہی ریحانہ نے انکھ ماری علی بولا جب بلاو گی اا جاوں گا اور اپنا نمر دے کر رخصت ہو گیا اگلے دن کالج ۔یں ریحانہ کہیں نظر نہیں ائی پتہ چلا اج ان کو بخار ہے اس لئےوہ نہیں آ سکتیں علی نے معمول کے مطابق کلاس لی اور گھر آ کر اپنی نئی طاقت کے بارے میں سوچنے لگا دوسری طرف جہاں علی نے شباب حیات تھوڑی عمر میں حاصل کر لیا وہی اک ایسا انسان بھی تھا جو چار سو سال سے شباب حیات حاصل کرنے کے لیے دن رات اک کیے ہویے ہے جیسے ہی اس کو پتہ چلا کے اک معمولی سے بندے نے شباب حیات حاصل کر لیا ہے تو وہ غصے سے بھڑک اٹھا اور ملکہ حسن سے بدلہ لینے کا سوچا اس کا نام شیوا تھا اور شیوا کالے علم کا بہت بڑا ماہر مانا جاتا تھا اسے پتہ تھا ملکہ حسن سے جنگ مطلب سارے دیوتاؤں سے جنگ ہو گی مگر شیوا اپنی دھن کا پکا تھا اس نے اپنی کالی طاقتوں سے اخری بار ملکہ حسن کو بلانے کی سوچی اسنے اپنے رمل کو تیز کر دیا اچانک ہی ملکہ حسن ائی اور بہت غصے سے شیوا کو اٹھایا ملکہ: کیوں بلایا مجھے شیوا تو جانتا ہے جو تو چاہتا ہے وہ کبھی نہیں ہو سکتا اور ویسے بھی شباب حیات جس تک پہنچنا تھا پہنچ گیا ہے شیوا: ملکہ تونے یہ اچھا نہیں کیا اس وردان کے پیچھے میں نے اپنی کیا 27 لوگوں کی زندگیاں بھی قربان کر دی مگر آخر میں تو نے مجھے مایوس کر دیا میں یہ کبھی برداشت نہیں کروں گا میں تم سے اس کا بدلہ لوں گا تجھے اپنے نیچے لٹا کر تیری پھدی مار کر تجھے اپنے بچے کی ماں بناوں گا یہ سن کر ملکہ غصے میں کانپنے لگی اس کے چہرے کی لالی اس کی انکھوں میں آ گئی اس نے دایاں ہاتھ شیوا کی ترف کیا تو شوا کے جسم کو آگ لگ گئی اور اس کی چیخیں اس کے درد کا اندازہ کروانے لگیں ملکہ نے بھڑک کر کہا توں مجھ سے مقابلہ کرے گا تیری اتنی مجال توں مجھے چودے گا ہاہاہاہا اس کے ساتھ ہی ملکہ کے دماغ میں اک عجیب سی سوچ ائی اور ملکہ نے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا شیوا کا بدن کافی ہد تک جل چکا تھا اور وہ کسی خارشی کتے کی طرح تڑپ رہا تھا ملکہ نے شیوا کو مخاطب کیا اور کہا شیوا کیا تم مجھے چودنا چاہتے ہو شیوا ۔ ہاں ملکہ میں اپنی ضد کا پکا ہوں میں وردان حاصل نہیں کر سکا تو کیا ہوا میں تجھ سے کسی بھی حال میں بدلہ لوں گا ملکہ۔ مسکرا کر اچھا تو توں مجھ سے ضد لگاے گا ملکہ حسن سے ہاہاہاہاہا اگر تو مجھے چودنا چاہتا ہے تو ابھی اجا میں تیری یہ خواہش ابھی پوری کر دیتی ہوں میں بھی دیکھو شیوا میں کتنا دم ہے شیوا ۔ ملکہ یاد رکھ میں کالیا کا داس ہوں اور کالیا نے تجھے زیر کیا تھا یاد ہے یا بھول گئی ملکہ غصے سے غضبناک ہو گئی اور اسے پطھلے وقت کی یاد آ گئی مگر ملکہ نے غصے کو برداشت کرتے ہوے کہا ہاں یاد ہے کیسے اس نے میرے وشنو کا روپ دھارن کر کے مجھے دھوکا دینے کی کوشش کی تھی مگر وشنو نے مجھے اس سے بچا لیا تھا خیر اس قصے کو چھوڑ اور آجا اپنا اور اپنے گرو کا بدلہ پورا کر لے یہ سن کر شیوا نے کچھ پڑھ کر خود پر پھونکا اس کے ساتھ ہی شوا کے سارے زخم ٹھیک ہو گئے اور اگلے لمحے ہی شوا کا لن بڑھنے لگا شیوا کا لن کالا ناگ بن رہا تھا اس کا لن پورا تن کر 8 انچ موٹا اور 2 انچ موٹا ہو گیا ملکہ جانتی تھی یہ اس کے جادو کا کمال ہے جو اس کو اک خاص علم سے حاصل ہوئی تھی
  2. dear itni choti update sari story ka kabara kr deti hy.......story achi hy lekin update thodi badi do
  3. لیکن علی کو محسوس ہوا کے ریحانہ کی بس ہو گیئ ہے علی نے ریحانہ کی پھدی سے لن نکالا اور صاف کر کے اس کو گھوڑی بنا خر اس کے پیچھے آ گیا اور ریحانہ کو پیچھے سے دھکے لگانے لگا پیچھے سے لن ڈالنے سے لن اور زیادہ پھنس کر جانےعلی نے ریحانہ کی بچہ دانی کو بھی چوٹ لگنے لگی ریحانہ پر اب اک عجیب سی غنودگی چھا رہی تھی اسی دوران ریحانہ تیسری بار فارغ ہو گئی گھوڑی سٹائل میں ریحانہ زیدہ دیر ٹک نھیں پائی اور پیٹ کے بل گر گئی اس دوران علی نے محسوس کیا اس کا لن اچانک اور لمبا اور موٹا ہو رہا ہے اورریحانہ کی حالت اور بگڑنے لگی اور چیخوں کا نا رکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا مگر علی نے اپنے دھکوں میں کوئ کمی نا لائی اچانک علی نے اور زور سے دھکے مارنے شروع کر دیےعلی کا لن ریحانہ کی بچہ دانی کے منہ سے ٹکرا کر واپس آ رہا تھا اچانک علی نے خون اور ریحانہ کےپانی سے بھرا لن نیکال کر اس کے منہ میں دے دیا اور اس کے منہ کو چودنے لگا اس کے ساتھ ہی علی نے ریحانہ کے منہ میں پانی کی دھار چھوڑ دی اس دوران علی کی منی نے ریحانہ کے پورے جسم کو بھگو دیا اور اس کے ساتھ لیٹ گیا کچھ دیر بعد اس نے ریحانہ کو اٹھا کر پانی گرم کر کے اس کی پھدی کو پانی سے سینک کر اس کو کچھ ارام پہنچایا اور اٹھا کر واپس بیڈ پر لٹا دیا ریحانہ نے اک ادا سے اسے کس کیا اور بولی زندگی میں پہلی بار ایسے انسان سے چدوایا ہے جو سچ میں چودنا جانتا ہے کچھ دیر بعد علی کے لن نے پھر سختی پکڑنی شروع کر دی یہ دیکھ ریحانہ گھبرا گی علی بولا میڈم کیا خیال ہے اک شوٹ اور ہو جائے مگر ریحانہ کی پھدی کا پہلے ہی کچومر بناپڑا تھا وہ اس حالت میں نہیں تھی اس لیے اس نے علی کو روکنے کی کوشش کی کہ علی اب بس کرو میری پھدی میں درد ہےاگلی بار کریں گے مگر تب تک بہت دیر ہو گئی تھی علی کا لن جوان ہو کر پورے جوبن میں جھٹکے کھا رہا تھا ریحانہ کے نازک ہاتھوں کا لمس پا کر اس کا لن اور بھی وحشی لگ رہا تھا اس پر غضب یہ کہ اس پر ریحانہ کی پھدی کا گرم گرم خون لگا تھا علی نے ریحانہ کا کوئی بہانہ نا سنا اور لن کو سیدھا اس کے منہ میں دے دیا اور اتنی زور سے منہ میں دھکا مارا کے کن سیدھا ریحانہ کے حلق میں چلا گیا اور اس کی انکھیں ابل ایئںمگر علی کو اس کی کوئی پروہ نہیں تھی اس نے اس کے منہ میں زور دار دھکے مارنے جاری رکھے اور ریحانہ کی آنکھوں سے انسو بہتے رہے جب علی کو لگا کے اس کا لن پورا گیلا ہو گیا ہے تو اس نے پورا زور لگا کر پہلے پورا لن اس کے حلق میں اتارا اور پھر جھٹکے سے باہر کھینچ لیااس سے ریحانہ کو بہت درد ہوا مگر علی نہ روکا اس نے ریحانہ کر لٹا کر لن کو اس کی پھدی کے منہ پر رکھا اور اک ہی جھٹکے میں پورا لن اس کی نازک پھدی میں ڈال دیااور ریحانہ کے منہ سے اک زوردار چیخ نکلی اور وہ بن آب کے مچھلی کی طرح تڑپنے لگی اسے یوں محسوس ہوا جیسے لوہے کا موٹا راڈ کسی نے اچانک اس کی پھدی میں دے دیا ہو علی اک پل کو رکا ریحانہ اس کو پیچھے ہٹانے کی نا کام کوشش کرنے لگی مگر علی نا روکا اس نے ریحانہ کی پھدی میں اپنا لن پورا ڈالا ہوا تھا اور زوردار دھکوں نے بیڈ کی چیخیں بھی نکلوا دی تھی علی کے ہر جھٹکے کے ساتھ ریحانہ کے منہ سے اہ ہ ہ ہ ہ نکلتی تو بیڈ بھی چررررر کی اواز نکلتی اس دوران ریحانہ کا درد کم ہو کر مزے میں بدلنے لگا اور اس نے اب گانڈ اٹھا اٹھا کر اس کا ساتھ دینا شروع کر دیا کچھ جھٹکوں کے ساتھ دیتے ہوئے ریحانہ کی پھدی ہار گئی اور ریحانہ نے پانی چھوڑ دیا علی کو یوں محسوس ہوا اس کی پھدی میں پانی کا سیلاب آ گیا ہے علی نے اس سب کے ساتھ ہی اپنا لن باہر نکالا اور لن کو دیکھا لن پوری طرح ریحانہ کی پھدی کے پانی سے لت پت تھا علی نے ریحانہ کو اچھانک سے مسکرا کر دیکھا اور ساتھ ہی اس کو گھوڑی بننے کو بولا اس دوران ریحانہ بھی سنبھل چکی تھی اس نے خود کو گھوڑی بنایا علی نے پیچھے آ کر لن کو اس کی پھدی پر رگڑا اور سختی سے ریحانہ کو پکڑ لیا اور ساتھ میں بولا تھوڈا سا درد ہوگا برداشت کرنا ریحانہ کو کچھ سمجھ نا ایا علی کا مطلب علی نے اپنے اک ہاتھ سے ریحانہ کے بالوں کو پکڑااور دوسرے ہاتھ سےاس کے کندھے کو پکڑا اور لن کا رخ پھدی کے سوراخ سے ہٹا کر ریحانہ کی گانڈ کا کر دیا ریحانہ پھر بھی نا سمجھی علی نے کچھ سوچ کر لن پھر سے اس کی پھدی میں ڈال دیا اور ساتھ میں اپنی انگلی کو ریحانہ کی گانڈ میں ڈال دیا ریحانہ تھوڑا سا ہلی مگر زیادہ نھی رکی اس کے ساتھ ہی علی نے دو انگلیاں ڈال دی اس کے ساتھ ہی علی نے انگلیاں اندر باہر کنا شروع کر دی

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.