علی نے جب محسوس کیا ریحانہ فارغ ہونے والی ہے تو علی نے لن باہر نکالا اور اس کی کنواری گانڈ میں رکھتے ساتھ ہی اک زور کا دھکا مارا اور اس کے موٹے لن کی ٹوپی اس کی گلابی گانڈ کو روندتی ہوئی اندر داخل ہو گئی ریحانہ کو درد تو ہوا لیکن اتنا خاس نہیں جتنا ہونا تھا علی روکا اور ریحانہ اس کو گالیں دینے لگی کتے باہر نکال اسے ہرامخور زلیل انسان اپنی اوقات بھول گیا کیا علی کو اخری بات بہت بری لگی اس کی اوقات والی بات نے علی کو اور غصہ دلا دیا علی نے غصے میں کہا ہرامزادی تو مجھے گالی دیتی ہے رک تیرا وہ ہال کرو گا کہ تو درد سے بلبلا اٹھے اور تیرا چلنا بھی مشکل کر دو گا اس کے ساتھ ہی اس نے اک زوردار دھکا مارا لن اس کی گانڈ پھاڑ کر اس کی گانڈمیں رستہ بنانے لگا اس درد کو وہ برداشت نا کر سکی اور بے ہوش ہو گئی علی نے اگلا جھٹکا مارا اور پورا لن اند ڈال دیا ریحانہ بیہوشی میں بھی چلا رہی تھی علی پر ا س کا کوئی اثر نا ہوا اور وہ اپنی دھن میں لگا رہا اور جھٹکوں سے ریحانہ کی گانڈ پھاڑنے میں لگا رہا 55 منٹس لگاتار سیکس کرتا رہا بیچ بیچ اسے ہوش اتا اور وہ درد کی وجہ سے پھر بیہوش ہو جاتی 55 منٹ کی زبردست چدائی کے بعد علی اس کی گانڈ میں فارغ ہو گیا اور اس کے اوپر لیٹ کر سانس بحال کرنے لگا ریحانہ کو ہلکا ہلکا ہوش آ گیا کچ دیر ایسے ہی گزرنے کے بعد علی نےباتھ لیا اور ریحانہ کو کس کر کے جانے لگا تو ریحانہ بولی علی یہ چدائی مجھے ہمیشہ یاد رہے گی دوبارہ کب او گے اس کے ساتھ ہی ریحانہ نے انکھ ماری علی بولا جب بلاو گی اا جاوں گا اور اپنا نمر دے کر رخصت ہو گیا
اگلے دن کالج ۔یں ریحانہ کہیں نظر نہیں ائی پتہ چلا اج ان کو بخار ہے اس لئےوہ نہیں آ سکتیں علی نے معمول کے مطابق کلاس لی اور گھر آ کر اپنی نئی طاقت کے بارے میں سوچنے لگا دوسری طرف جہاں علی نے شباب حیات تھوڑی عمر میں حاصل کر لیا وہی اک ایسا انسان بھی تھا جو چار سو سال سے شباب حیات حاصل کرنے کے لیے دن رات اک کیے ہویے ہے جیسے ہی اس کو پتہ چلا کے اک معمولی سے بندے نے شباب حیات حاصل کر لیا ہے تو وہ غصے سے بھڑک اٹھا اور ملکہ حسن سے بدلہ لینے کا سوچا اس کا نام شیوا تھا اور شیوا کالے علم کا بہت بڑا ماہر مانا جاتا تھا اسے پتہ تھا ملکہ حسن سے جنگ مطلب سارے دیوتاؤں سے جنگ ہو گی مگر شیوا اپنی دھن کا پکا تھا اس نے اپنی کالی طاقتوں سے اخری بار ملکہ حسن کو بلانے کی سوچی اسنے اپنے رمل کو تیز کر دیا اچانک ہی ملکہ حسن ائی اور بہت غصے سے شیوا کو اٹھایا
ملکہ: کیوں بلایا مجھے شیوا تو جانتا ہے جو تو چاہتا ہے وہ کبھی نہیں ہو سکتا اور ویسے بھی شباب حیات جس تک پہنچنا تھا پہنچ گیا ہے
شیوا: ملکہ تونے یہ اچھا نہیں کیا اس وردان کے پیچھے میں نے اپنی کیا 27 لوگوں کی زندگیاں بھی قربان کر دی مگر آخر میں تو نے مجھے مایوس کر دیا میں یہ کبھی برداشت نہیں کروں گا میں تم سے اس کا بدلہ لوں گا تجھے اپنے نیچے لٹا کر تیری پھدی مار کر تجھے اپنے بچے کی ماں بناوں گا یہ سن کر ملکہ غصے میں کانپنے لگی اس کے چہرے کی لالی اس کی انکھوں میں آ گئی اس نے دایاں ہاتھ شیوا کی ترف کیا تو شوا کے جسم کو آگ لگ گئی اور اس کی چیخیں اس کے درد کا اندازہ کروانے لگیں ملکہ نے بھڑک کر کہا توں مجھ سے مقابلہ کرے گا تیری اتنی مجال توں مجھے چودے گا ہاہاہاہا اس کے ساتھ ہی ملکہ کے دماغ میں اک عجیب سی سوچ ائی اور ملکہ نے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا شیوا کا بدن کافی ہد تک جل چکا تھا اور وہ کسی خارشی کتے کی طرح تڑپ رہا تھا ملکہ نے شیوا کو مخاطب کیا اور کہا شیوا کیا تم مجھے چودنا چاہتے ہو
شیوا ۔ ہاں ملکہ میں اپنی ضد کا پکا ہوں میں وردان حاصل نہیں کر سکا تو کیا ہوا میں تجھ سے کسی بھی حال میں بدلہ لوں گا
ملکہ۔ مسکرا کر اچھا تو توں مجھ سے ضد لگاے گا ملکہ حسن سے ہاہاہاہاہا اگر تو مجھے چودنا چاہتا ہے تو ابھی اجا میں تیری یہ خواہش ابھی پوری کر دیتی ہوں میں بھی دیکھو شیوا میں کتنا دم ہے
شیوا ۔ ملکہ یاد رکھ میں کالیا کا داس ہوں اور کالیا نے تجھے زیر کیا تھا یاد ہے یا بھول گئی
ملکہ غصے سے غضبناک ہو گئی اور اسے پطھلے وقت کی یاد آ گئی
مگر ملکہ نے غصے کو برداشت کرتے ہوے کہا ہاں یاد ہے کیسے اس نے میرے وشنو کا روپ دھارن کر کے مجھے دھوکا دینے کی کوشش کی تھی مگر وشنو نے مجھے اس سے بچا لیا تھا خیر اس قصے کو چھوڑ اور آجا اپنا اور اپنے گرو کا بدلہ پورا کر لے
یہ سن کر شیوا نے کچھ پڑھ کر خود پر پھونکا اس کے ساتھ ہی شوا کے سارے زخم ٹھیک ہو گئے اور اگلے لمحے ہی شوا کا لن بڑھنے لگا شیوا کا لن کالا ناگ بن رہا تھا اس کا لن پورا تن کر 8 انچ موٹا اور 2 انچ موٹا ہو گیا ملکہ جانتی تھی یہ اس کے جادو کا کمال ہے جو اس کو اک خاص علم سے حاصل ہوئی تھی