Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 21/05/17 in Posts

  1. سوشل میڈیا پر دوستی، شادی کا وعدہ، سندھ یونیورسٹی طالبہ کی خود کشی کا سبب بنا، ملزم گرفتار حیدرآباد (ویب ڈیسک) سندھ یونیورسٹی ہاسٹل میں طالبہ نائلہ رندکی خود کشی کا واقعہ فیس بک دوستی کا نتیجہ نکلا ،پو لیس نے بلیک میل کرنے والے عادی ملزم کو گرفتارکر کے اس کے موبائل سے مزید30طالبات کی تصاویر و قابل اعتراض وڈیوزبرآمد کر لیں۔ ملزم انیس خاصخیلی نجی کالج کا لیکچرار اور قائد عوام یونیورسٹی نوابشاہ کے رجسٹرار کا بیٹا ہے۔ڈی آئی جی حیدرآبادخادم حسین رند اور ایس ایس پی جام شوروکیپٹن طارق ولایت نے جمعہ کو مشترکہ ہنگامی پریس کانفرنس میں کہا کہ نائلہ خود کشی کیس میں گرفتاری کی رپورٹ اعلیٰ حکام کو ارسال کردی گئی ہے ،ملزم کی گرفتاری کے بعد نائلہ خود کشی کیس کا معمہ حل ہو گیا ہے۔ ڈی آئی جی آفس شہباز بلڈنگ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے ڈی آئی جی حیدرآباد خادم حسین رند نے کہا کہ یکم جنوری کو سندھ یونیو رسٹی کے ماروی ہاسٹل میں شعبہ سندھی سالِ آخر کی طالبہ نائلہ رند نے خود کشی کی تھی جس کے بعد آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے واقعہ کا نو ٹس لیتے ہو ئے تحقیقات کی ہدایت کی تھی۔ جس کے بعد پولیس نے دیانت داری سے تفتیش شروع کر کے خود کشی کا پس منظر جاننے کی کوشش کی، ہاسٹل کے کمرے سے ملنے والے نائلہ کے موبائل فون کے فرانزک ٹیسٹ سے معلوم ہوا کہ اسے قائد عوام یونیورسٹی نوابشاہ کے رجسٹرار کا بیٹا ،مہران گرامر کالج جام شورو کا لیکچرار انیس احمد خاصخیلی جو ایم اے انگریزی ہے، شادی کا جھانسہ دیکراسے بلیک میل کررہا تھا۔ پو لیس نے انیس خاص خیلی کا نام سامنے آنے پراس کے موبائل فون کا فرانزک ٹیسٹ کیا توفون ریکارڈ سے نائلہ کی تصویر ، کال ریکارڈ اوردیگر30سے زائد قابلِ اعتراض وڈیوز برآمد ہو ئیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ نائلہ رند دراصل انیس احمد خاصخیلی ولد غلام رسول خاصخیلی کی بلیک میلنگ کا شکار ہو ئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگرچہ نائلہ اور انیس دونوں نے اپنے اپنے موبائل فون کا بیشتر ڈیٹا ڈیلٹ کردیا تھا لیکن ڈی ایس آر کے زریعہ ہم نے یہ ڈیٹا بھی نکلوالیاتھا، جس کے مطابق خود کشی سے21منٹ قبل تقریباً 24منٹ تک نائلہ او ر انیس کی موبائل پر گفتگو ہو ئی تھی۔ انہوں نے کہاکہ موبائل فون کے ریکارڈ کے مطابق نائلہ اور انیس خاص خیلی میں تین ماہ سے تعلقات تھے۔ ان کی دوستی فیس بک کے ذریعہ ہو ئی تھی۔ ڈی آئی جی حیدرآبا د نے کہا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق یہ خود کشی کا واقعہ ہے، جو ایک ردِ عمل میں کی گئی ہے۔ انیس نے نائلہ کو استعمال کیا اور پھر شادی سے انکار کردیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں متوفی طالبہ کے حاملہ ہو نے سے متعلق کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ قتل،قتل شبِعمد،کہلاتا ہے،جس میں انسان ذہنی دباﺅ اورپشیمانی کی وجہ سے ایسا قدم اٹھاتا ہے۔ انیس خاصخیلی نے سائبر کرائم کیا، بلیک میل کر کے خوف و دہشت پھیلائی جس کے نتیجے میں ایک انسانی جان ضائع ہو ئی۔ انہوں نے کہاکہ نائلہ رند کے اہلِ خانہ کی مدعیت میں جام شورو تھانہ میں گرفتا ر ملزم انیس کیخلاف دفعہ نمبر پی پی سی ۳۱۶، ۵۰۹ اور اے ٹی اے ۶/۷ اور سائبر کرائم کی دفعات9،13کے تحت ایف آئی در ج کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ناقابلِ ضمانت جرم ہے جس پرانیس کو عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ ڈی آئی جی حیدرآبا د نے کہا کہ انیس احمد خاصخیلی ایک عادی مجرم ہے ،جس کے موبائل ڈیٹا سے30لڑکیوں کو بلیک میل کر نے اور ان کی قابلِ اعتراض وڈیوز اور تصاویر بھی ملی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جو بھی متاثرہ لڑکیا ں اورخواتین پولیس سے رابطہ کریں گی اور اپنے ساتھ ہو نے والے غلط سلوک کی شکایت کریں گی، انہیں مکمل تحفظ کے ساتھ انصاف دلوایا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ ہم نے تفتیشی رپورٹ آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ اور متعلقہ حکام کو ارسال کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں ہم نے تفتیش و تحقیقات کا عمل اس لیے کیا کہ معزز اساتذہ و طالبات کی حرمت کو ملحوظ رکھا جاسکے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ والدین اپنی بچیوں کو یونیورسٹی بھیجیں اور کسی قسم کے خوف کا شکار نہ ہوں۔انہوں نے کہاکہ گذشتہ روز کمشنر حیدرآباد نے یونیورسٹی کا دورہ کرکے ہماری تفتیش پر نہیں یونیورسٹی کی کمیٹی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا، تاہم اس دوران یونیورسٹی اور ہاسٹل انتطامیہ کی جو کمزوریاں سامنے آئی ہیں فی الحال اس پر بات نہیں کرنا چاہتا،دوران تفتیش یہ کمزوریاں یونیورسٹی انتظامیہ،اساتذہ اور نائلہ کی ساتھی طالبات سے انکوائری کے دوران سامنے آئیں ہیں، ہاسٹل میں سی سی ٹی وی کیمرے نہیں ہیں۔ ڈی آئی جی حیدرآباد خادم حسین رند نے اس مو قع پر اعلان کیا کہ ڈی آئی جی آفس میں ایک واچ یونٹ قائم کیا جارہا ہے جو کا م کے مقامات (ورک پیلس )پر خواتین کو ہراساں کرنے کے کیسز دیکھے گا۔ واچ یو نٹ میں پولیس کے علاوہ باہر کے لوگوں کو بھی لیا جائے گا۔ اس یونٹ میں یونیورسٹیز، بینک اور محکمہ پولیس سمیت دیگر اداروں میں کام کرنے والی خواتین کے معاملات دیکھے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کام کے مقامات( ورک پیلس) پر لڑکیوں کو ہراساں کرنے کا معاملہ محتسب کے دائرہ اختیار میں آتا ہے لیکن ڈی آئی جی آفس میں خصوصی طورپر اس یونٹ کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے، تاکہ مظلوم لڑکیوں اور خواتین کو فوری امد اد اور قانونی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔اس موقع پر ایس ایس پی جام شورو طارق ولایت نے کہا کہ ہمیں ہاسٹل سے نیند کی گولیوں کے خالی پتے بھی ملے ہیں،ثبوت بہت ہیں،یہ شواہد ہم عدالت میں پیش کریں گے۔
  2. وسعت اللہ خان ایک بہت منجھے ہوئے کالم نگار ہیں جس موضوع پر لکھتے ہیں کمال لکھتے ہیں
  3. بہت ہی معلوماتی آرٹیکل ہے۔ واقعی ریپ پر نہایت عمدہ اور جامع مضمون ہے۔ پڑھ کر کئی باتوں کی وضاحت ہو گئی۔
  4. ریپ اور ریپسٹ تحریر: وسعت اللہ خان جولائی 22، 2014 انگریزی میں ریپ کی اصطلاح موجودہ معنوں میں پندرھویں صدی سے استعمال ہونی شروع ہوئی۔اس سے قبل ریپ سے مراد لوٹ مار اور استحصال وغیرہ ہوتا تھا۔لیکن آج ریپ کا ایک ہی مطلب ہے یعنی کسی کے جسم پر طاقت و تشدد کے ذریعے جنسی قبضہ۔ضروری نہیں کہ یہ طاقت جسمانی ہی ہو۔نفسیاتی طور پر شکار کا ذہنی کنٹرول حاصل کرکے اس کی رضامندی کے بغیر یا اس کی وقتی بے بسی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جنسی مقاصد پورے کرنا بھی ریپ ہی کے زمرے میں آتا ہے۔جیسے کسی ہم جنس یا جنسِ مخالف سے دوستی کرنا اور پھر نشے کی حالت میں یا سوتے ہوئے یا بہلا پھسلا کر دھونس، دھمکی اور تصاویر سمیت بلیک میلنگ کا کوئی بھی طریقہ استعمال کرتے ہوئے اس کا جسمانی کنٹرول جنسی مقاصد کے لیے حاصل کرلینا۔ ریپ کے شکار اور شکاری کے لیے عمر کی قید نہیں۔لیکن عام طور سے ریپ کا شکار کم سن بچے یا بچی سے لے کر پچاس برس تک عمر کی خواتین ہوتی ہیں۔جب کہ شکاری پرائمری اسکول کے جسمانی طور پر طاقتور بچے سے لے کر ساٹھ پینسٹھ برس تک کا آدمی کوئی بھی ہوسکتا ہے۔ضروری نہیں کہ ریپ کا شکاری مرد ہی ہو اور شکار عورت ہی۔ایک ہی جنس کے لوگ بھی شکار اور شکاری ہوسکتے ہیں اور مرد بھی عورت کے ہاتھوں ریپ ہوسکتا ہے۔ زیادہ تر وارداتوں کے مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کم ریپسٹ یا ریپ کے شکار ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہوتے ہیں۔زیادہ تر جاننے والے ہی شکار اور شکاری بنتے ہیں۔ان میں قریبی رشتے داروں سے لے کر محلے اور شہر داروں تک کوئی بھی ہوسکتا ہے۔اس طرح کی وارداتوں میں سے زیادہ تر پوشیدہ رہ جاتی ہیں یا رکھی جاتی ہیں اور بعض معاشروں میں تو ان وارداتوں کو چھپانے کا تناسب اسی سے نوے فیصد تک پایا جاتا ہے۔ گویا بہت کم وارداتیں سامنے آنے کے سبب بہت کم سزا ملتی ہے اور بہت کم زخم خوردگان کی جسمانی و نفسیاتی بحالی ممکن ہوتی ہے۔مگر دیکھا گیا ہے کہ وارداتیں چھپانے یا نظر انداز کرنے یا بھول جانے سے ریپ کم نہیں ہوتے بلکہ اور بڑھ جاتے ہیں۔لیکن چھپانے اور ظاہر کرنے کا دار و مدار بھی اس پر ہے کہ معاشرے کی ثقافتی ، مذہبی ، سیاسی و اقتصادی ساخت کیا ہے اور قانون کی عمومی عمل داری کتنی ہے یا نہیں ہے۔عموماً ریپسٹ تین طرح کے ہوتے ہیں۔وہ جو کسی غصے یا انتقام کے جذبے کے تحت یہ کام کرتے ہیں۔ان کی وارادت انفرادی و اجتماعی دونوں طرح سے ہوسکتی ہے۔پاکستان اور ہندوستان جیسے ممالک میں ریپ کی زیادہ تر وارداتوں کے پیچھے یہی محرک دیکھا گیا ہے۔ دوسری قسم کے ریپسٹ کو آپ چاہیں تو پاور ریپسٹ کہہ سکتے ہیں۔ان میں بیوی ، گرل فرینڈ ، گھریلو ملازمہ یا ملازم یا کسی ماتحت یا بے بس نظر آنے والے اجنبی وغیرہ کو اپنی جسمانی ، مالی و سماجی قوت سے زیر کرنے والوں سے لے کر بچوں اور عورتوں کی رکھوالی کے ذمے دار فلاحی رضاکاروں ، اساتذہ ، جیل کے قیدیوں ، باوردی سرکاری اہلکاروں اور کارپوریٹ و دفتری باسز سمیت کوئی بھی ہوسکتا ہے۔تھانوں اور عسکری اداروں کی تحویل میں ملزموں کے ریپ کے لیے قانون کی کتابوں میں کسٹوڈیل ریپ کی اصطلاح موجود ہے۔ ریپسٹ کی تیسری قسم سیڈسٹک یا شکار کی اذیت ناکی سے لطف اٹھانے والوں پر مشتمل ہوتی ہے۔آدمی اذیت پسند کیوں بنتا ہے ؟ اس کے انفرادی و اجتماعی محرکات ایک علیحدہ نفسیاتی و سماجی بحث کے متقاضی ہیں۔اس طرح کے ریپسٹ اپنے شکار کو طرح طرح کی من پسند جسمانی و ذہنی اذیت ناکی سے گذار کر جنسی تلذز حاصل کرتے ہیں۔وہ مار پیٹ سے لے کر شکار کے حساس و نازک اعضا اور چہرے تک کو مسخ کرسکتے ہیں اور قتل بھی کرسکتے ہیں اور بعد از قتل بھی جسم کو مسخ کرسکتے ہیں۔ان سب حرکتوں سے انھیں ایک طرح کا سکون حاصل ہوتا ہے اور اگر وہ کسی کی نظروں میں نہ آئیں تو اگلے شکار کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔عموماً سیڈسٹ ریپسٹ اپنا کام انفرادی طور پر کرتے ہیں لیکن ایسی بھی مثالیں ہیں کہ ایک سے زائد اذیت پسند ریپسٹ گروپ کی شکل میں واردات کرتے ہیں حالانکہ ایسی مثالیں کم کم ہیں۔ ریپ کسی دشمن گروہ کے خلاف بطور ہتھیار بھی استعمال ہوتا ہے۔اور آج سے نہیں پرانے زمانے سے ایسا ہورہا ہے۔عورتیں اور نو عمر بچے ہمیشہ سے مالِ غنیمت کے زمرے میں شامل رہے ہیں۔ریپ بطور ہتھیار حریف کو علاقے سے نکالنے یا اسے ذلیل و رسوا کرکے مسلسل زیر رکھنے کی کوشش کے طور پر استعمال ہوتا آیا ہے۔خانہ جنگی ہو کہ کھلی جنگ ریپ کا ہتھیار ہر ایسی صورتِ حال میں آزمایا جاتا ہے۔میری یا مجھ سے بڑی عمر کے لوگوں کی یادداشت میں جو بڑے بڑے واقعات ہیں، ان میں سن سینتالیس کی تقسیم کی خونریزی ، مشرقی پاکستان ، بوسنیا اور روانڈا کی خانہ جنگی اور کشمیر کا قضیہ شامل ہیں۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد سے بیسویں صدی کے تقریباً ہر بحران میں ریپ بطور ہتھیار استعمال ہوا۔جاپان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے پچھلی صدی کے پہلے نصف میں منظم طریقے سے کوریا اور چین کے علاقے منچوریا اور نانجنگ پر نوآبادیاتی قبضے کے دوران لاکھوں مقامی عورتوں کو حملہ آور فوج کی جنسی تسکین کے لیے قحبہ خانوں میں بٹھا دیا۔ان عورتوں کے لیے ’’ کمفرٹ ویمن ’’ کی اصطلاح وضع کی گئی۔ عجیب بات ہے کہ انیس سو انچاس کے جنیوا کنونشن سے پہلے ریپ جنگی جرائم کے فہرست میں شامل نہیں تھا۔اسی لیے نازیوں کے خلاف نورمبرگ ٹرائل اور جاپانی جنگی مجرموں کے خلاف ٹوکیو ٹرائل میں ریپ کی فردِ جرم عائد نہیں ہوسکی۔ البتہ جنگی جرائم کی بین الاقوامی عدالت نے روانڈا میں نسل کشی کے مقدمے کی سماعت کے دوران انیس سو اٹھانوے میں یہ تاریخی رولنگ دی کہ دورانِ جنگ ریپ بھی انسانیت کے خلاف جرائم کی فہرست میں شامل ہے۔ عام طور سے ریپ کے شکار کے ساتھ وقتی ہمدردی تو کی جاتی ہے لیکن پھر اسے اپنے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔حالانکہ جتنی نفسیاتی مدد کی اسے ضرورت ہوتی ہے شائد ہی کسی کو ہو۔ریپ کے تجربے سے گذرنے والا نفسیاتی و جسمانی طور پر بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتا ہے۔اس پر کبھی غصہ غالب آجاتا ہے ، کبھی دشمنی کا جذبہ عود کر آتا ہے اور کبھی کنفیوژن تو کبھی خوف کی کیفیت میں مبتلا ہوجاتا ہے۔وہ اچانک چیخ اور دھاڑ بھی سکتا ہے اور سکتے کی کیفیت میں بھی مبتلا ہو سکتا ہے۔اسے نہ تو اپنے جذبات پر قابو رہتا ہے نہ ہی اعصابی نظام پر۔اس کی بھوک اور نیند بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ اگر اسے بروقت نفسیاتی مدد اور قریبی لوگوں کی توجہ نہ ملے تو خود کو زندگی سے الگ تھلگ کرتا چلا جاتا ہے اور انتہائی قدم کے طور پر اپنی جان بھی لے سکتا ہے۔یہ تمام مسائل ریپ کے شکار کی نفسیاتی و جسمانی بے بسی سے جنم لیتے ہیں۔اور یہی وہ وقت ہے جب اس کے پیارے اسے گلے لگا کر اور اپنے قریب رکھ کے بتائیں کہ جو کچھ بھی ہوا اس میں وہ بے قصور ہے اور ان حالات میں جو بھی ہوتا اس کے ساتھ یہی ہوتا۔ اسے اشد ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی ہو جو زندگی پر اس کا اعتماد پھر سے بحال کرے۔ان حالات میں اسے معنی خیز نگاہوں سے دیکھنا ، رویہ بدل لینا ، اسی کو بار بار قصور وار ٹھہرانا اور پھر کٹہرے میں کھڑا کرکے مزے لے لے کر سوال و جواب کرنا اور اس کے نام کی تشہیر کرنا۔یہ سب حرکتیں دراصل ایک اور ریپ کے مترادف ہیں۔ ریپ ختم تو نہیں ہوسکتا البتہ کم ضرور کیا جاسکتا ہے۔اس کے لیے قوانین کو کاغذ پر سخت کرنے سے زیادہ ان پر واقعی عمل درآمد کی ضرورت ہے۔اپنے بچوں اور بچیوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ وہ گھر کے اندر اور باہر کس سے کس حد تک تعلق رکھ سکتے ہیں اور حد عبور ہونے کی صورت میں کون کون سے خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔انھیں عمر کے ساتھ ساتھ بدلتی جسمانی و جذباتی تبدیلیوں کے اسباب کے بارے میں بااعتماد بنانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ لاعلمی و تاریکی میں کسی اپنے یا پرائے کا شکار نہ بن جائیں۔ انھیں ان لالچی ترغیبات کے بارے میں کھل کے بتانے کی ضرورت ہے جو ان کے لیے پھندہ ثابت ہو سکتی ہیں۔انھیں یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ زندگی نہ تو بالکل تاریک ہے نہ ہی مکمل روشن۔دنیا نامی اس جنگل میں محتاط بھی رہنا ہے ، خونخوار جانوروں کی بھی پہچان رکھنی ہے اور زندگی کا لطف بھی اٹھانا ہے۔انھیں یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ ناگہانی مصیبت کبھی بھی کسی بھی وقت آسکتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم حوصلہ ہار جاؤ۔ہم ہیں نا…
  5. پاکستان میں لڑکی کے ریپ کی فلم بنانے اورشیئر ہونے کی کہانی پاکستان کے ایک دیہاتی علاقے میں نوجوان لڑکی سے جنسی درندگی اور اس کی ویڈیو بنائے جانے پر لڑکی خاموش رہی لیکن جب موبائل فون اور انٹرنیٹ پر ویڈیو کی بڑی تعداد میں شیئرنگ ہوئی تو انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کو مذکورہ ویڈیو شیئرنگ سے روکنے کیلئے کچھ کوشش کی گئی ۔ برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘نے پاکستان میں ایک ریپ کے کیس کو اجاگر کیا گیا جس کی ویڈیو عام کردی گئی تھی جس کے بعد انگریزی کہانی کاقارئین کی آسانی کیلئے اردومیں ترجمہ کیاجارہاہے۔ رپورٹ کے مطابق23سالہ سعدیہ (اصل نام نہیں )کاخیال تھاکہ اگر وہ خاموش رہی تواس سے اُس کی بدنامی نہیں ہوگی اور لوگ ریپ کا شکار ہونیوالی کے حوالے سے شناخت نہیں بنائیں گے لیکن کچھ دنوں یا ہفتوں بعد بدفعلی کی دوویڈیوز شیئرہوناشروع ہوگئیں ،ایک کا دورانیہ پانچ منٹ اور دوسری کا چالیس منٹ تھا۔ ویڈیو میں دکھایاگیاکہ چارافراد لڑکی کاباری باری ریپ کرتے ہیں اور جب وہ رحم کی اپیل کرتی ہے توجلدہی پنجاب کے قصبوں اور دیہاتوں میں ویڈیو پھیلناشروع ہوجاتی ہے ۔ سعدیہ کے والد نے بتایاکہ ’خاندان میں ویڈیو دیکھنے والا پہلا شخص بڑا بھائی تھاجس نے ویڈیو دیکھ کر سعدیہ کو پہچانا اور پھر اُن کے پاس آیا، سعدیہ بہت شرمند ہ تھی اور باپ ہونے کی وجہ سے اُس نے مجھے نہیں بتایا، اگرا ُس کی والدہ زندہ ہوتیں تو یقین ہے کہ وہ اُنہیں لازمی بتاتی ‘۔معاملہ علم میں آنے کے بعد رپورٹ درج کرائی اور چھوٹے سے علاقے میں ملزمان کو شناخت کرنا مشکل نہیں تھااور چاروں کو گرفتارکرلیاگیا۔ لڑکی کی عمر ابھی 23سال ہے لیکن وہ اس سے کہیں کم عمر دکھائی دیتی ہے ، والدہ کی وفات کے بعد اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی وہ ماں کی طرح پرورش کررہی ہے ۔ سعدیہ نے بتایاکہ’ وہ اپنی چھوٹی بہن کا سکول یونیفارم خریدنے دکان پر جارہی تھی کہ اسلحہ کے زور پر چارافراد نے اُسے کارمیں ڈال لیاگیا، ایک ویران گھر میں لے جاکر جنسی زیادتی کی جبکہ ایک موبائل فون سے ویڈیو بناتے رہے ، رحم کی اپیل کرنے پر ملزموں نے مزید تشددکا نشانہ بناناشروع کردیا،ملزمان کاکہناتھاکہ اگر اُن کی بات نہ مانی گئی تو وہ ویڈیو انٹرنیٹ پر ڈال کر پھیلادیں گے اور اُس کے بہن بھائیوں کو بھی نقصان پہنچائیں گے “۔ سعدیہ کاکہناتھاکہ اُسے اپنی فکر نہیں لیکن وہ نہیں چاہتیں کہ اُس کی وجہ سے اُس کے بہن بھائیوں کو نقصان پہنچے اوریہی وجہ تھی کہ کسی سے ذکر نہیں کیا، وہ بڑے پیمانے پر ویڈیو پھیلنے سے باخبرہے،بہت سے لوگ صرف تفریح کیلئے یہ ویڈیو دیکھ رہے ہیں ‘۔ بی بی سی کے مطابق فیس بک سمیت سوشل میڈیا اور بلوٹوتھ کے ذریعے موبائل فون پر بڑی تعداد میں شیئرہوئیں اور تاحال شیئرنگ ہورہی ہے کیونکہ اِسے روکنے کیلئے پاکستان میں قانون ہی موجود نہیں ۔ سعدیہ پنجاب کے ایک روایتی گاﺅں میں رہتی ہے جس کے کچے گھر کے اردگرد گنے کے کھیت ہیں ۔ بی بی سی کی نمائندہ نے لکھاکہ جب وہ تھانے میں ریمانڈ پر موجود ملزموں سے ملنے گئی تواُنہوں نے خبر عام کرنے سے روکنے کے لیے ہاتھ جوڑ لیے ، اُن کا مقدمہ تاحال زیرسماعت ہے ۔ ملزموں پر اغواء، گینگ ریپ او رفحاشی پھیلانے کا الزام عائد کیاگیاہے جبکہ ویڈیو تاحال آن لائن موجود ہے لیکن پولیس کا موقف ہے کہ وہ ویڈیو کوہٹانے کیلئے کوشش کررہے ہیں ، جہاں تک گینگ ریپ کا تعلق ہے تو ویڈیو کی موجودگی کی وجہ سے سعدیہ کا کیس کافی مضبوط ہے ۔ ویڈیو کی موجودگی کی وجہ سے سعدیہ اپنے ہی گھر میں قیدی بن کر رہ گئی ہیں۔ سائبرکرائم سے متعلق ماہروکلاءکا کہناہے کہ پاکستان میں ایساکوئی مخصوص قانون موجود نہیں جس کے تحت ویب سائیٹس کو حکم دیاجائے کہ ویڈیو ہٹائی جائے ، سیاسی عدم دلچسپی کی وجہ سے مستقبل قریب میں بھی ایسی کوئی پیش رفت دکھائی دیتی نظر نہیں آرہی ۔ بی بی سی نے لکھاکہ یہ معاملہ عالمی نشریاتی ادارے کے علم میں اس وقت آیا جب ایک شہری نے فیس بک پیج پر ویڈیو کے ساتھ اپیل کی تھی ، دلخراش مناظر دیکھنے کے بعد معاملے کی تحقیقات کا فیصلہ کیا۔
  6. واقعی بہت دلخراش ہوتی ہیں ایسی خبریں مگر لوگ ہیں کہ پھر بھی باز نہیں آتے۔ بس اب انھیں ہدایت کی ہی ضرورت ہے۔
  7. Holi ka din tha... Charon aur gulaal hi gulaal .... Sirf disha aur vani ke rang ude huye thhe... Disha ke to jaise haath pair hi kaam nahi kar rahe thhe.... Wah ab bhi shamsher ko maaf karne ko taiyaar thhi... Par kum se kum shamsher usse baat to kare... Aainda aisa na karne ka wada to kare... Par shamsher ne to usse baat tak karni chhod di... Uss din ke baad! Ye baat disha aur vani ko aur pareshan kar rahi thi. "arey kya ho gaya tujhe beti? Tyohar ke din kaisi shakal bana rakhi hai... Chal uthh naha dho le!" mami ne kaha! Disha aise hi padi rahi... Hili tak nahi... Mami: vani! Kya hai ye ... Dekh main tere sir ko bata doongi Disha sunte hi bilakh padi," bata do jisko batana hai mami... Mujhse nahi. chala jata.. Na mujhe ab padhna hai... Aur na hi kuchh karna hai!" Mami: achchha! Vani ja bulakar to la tere sir ko! Vani nahi uthhi... Mami: thahar ja! Tum donon shaitan ho gayi ho! Main bulakar lati hoon" Mama: ruk ja; main hi lata hoon bulakar; mujhe sarpanch ki ladki ke baare mein usse baat bhi karni hai! Disha ke kaan khade ho gaye," kya baat karni hai... Mama?" Mama: arey wo sarpanch aaya tha mere paas... Kah raha thaa... Uski ladki sarita ka rishta le lein to tumhare sir... Bahut bade kameedar hain... Kah rahe thhe.. Ghar bhar denge inka... Disha vichlit si ho gayi," kaheen shamsher sarita se to pyar nahi karta..." Ruko! Main bulakar lati hoon! Disha upar bhhag gayi... Peechhe peechhe vani! Disha ne tarare ke sath darwaja khola," tum... Tum jab sarita se pyar karte ho to mere saath aisa kyun kiya... Bolo... Bolo... Tumhe bolna padega! Shamsher kuchh na bola... Disha tadap uthhi," sarita ka rishta aaya hai tumhare liye... Kar lena shadi... Ghar bhar denge tumhara... Jao kar lo shadi..." wo rone lagi... Vani: sir, aapko mama bula rahe hain Shamsher ne disha aur vani ka haath pakda aur neeche chala gaya.... Disha ne haath chhudane ki koshish kari par na chhuta saki...! Neeche jakar usne mama se poochha," kya baat hai mama ji? Mama: arey wo sarpanch aaya tha..... ..........dahej bahut jyada denge.. Achchha rishta hai beta ... Aage tum jo kahoge main bata dunga.... Shamsher: main..... Disha se shadi karunga mama ji... Aap chahe ya na chahe ... Disha se... Mama ne disha ki aur dekha; uske chehre ke rang wapas aa gaye thhe... Wo ektak pyar se shamsher ko dekhe ja rahi thi... Mama: hamari Disha ke to bhag khul jaayenge beta... Disha sharmakar andar bhag gayi ... Aur vani bhi; sharmakar nahi... Apni didi ke chehre ki khushi maapne... Shamsher ke chehre par jahan bhar ki rounaq aa gayi... Uska vanvaas poora hua..! Uss din sabne jamkar holi kheli... Kuchh din baad shamser ne apna transfer boy's school mein kara liya... Aur apni jagah ek aur aashiq ko wahan bhej diya... Usse bhi jyada thharki.... Disha shamsher ke sath shahar chali gayi.... Padhne bhi aur khelne bhi... Apne shamsher ke saath... Vani ko bhi wo sathh hi le gaye... Khilane nahi... Padhane... Vani samajh chuki thi... Ishko khel nahi ishq kahte hain aur ye ishq aasan nahi hota. ... Aur ye bhi ki achchhe khandanon mein ye.... Ek ke sath hi hota hai....... Shamsher kabhi samajh hi nahi paya ki itne paap karne ke baad bhi bhagwan ne ye heera usko kIse de diya...... Shayad uske ek baar kiye huye sachche pyar ke liye... Shamsher ki life mein fir se pyar aa gaya .. aur usne sex sex aur sex ki theory chhod di... Tough ab bhi gaanv mein aata hai... Pata nahi usko koun sudharegi! Naye master ji ke kisse agle chapter se... Waise bata doon wo shadi shuda hai....

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.