اس نے حامی بھر لی تو میں خوش ہوگیا اس رات ہم نے دو بھرپور سیشن کئے اور ہم دونوں کی گرم جوشی میں پہلے کی نسبت کئی گنا اضافہ ہوگیا تھا سیکس کے بعد لیٹے لیٹے میں سوچنے لگا کہ اس کام کے لئے کس کو منتخب کیا جائے اب میرا امتحان تھا کسی بھی شخص کے ساتھ ایسی بات کرنے کا مطلب اپنی بدنامی تھا بہت سوچ بچار کے بعد اگلے روز میں نے ایک سیکسی سٹوریوں کی ویب سائٹ پر فرضی نام سے Gang Bng کے لئے جوڑوں کو دعوت دی تو کئی لوگوں نے مجھے کنٹیکٹ کیا میں نے آشا کے ساتھ مل کر کراچی کے ہی ایک بزنس مین ارشد کو منتخب کیا اور اس سے میل پر رابطہ کیا اگلے روز اس کا جواب آیا اور اس نے ملنے کو کہا میں نے پہلے اس سے کہا کہ وہ اپنی تصویریں مجھے SEND کرے تو اس نے اگلے روز مجھے اپنی اور اپنی بیوی کی تصویریں میل کردیں ان تصویروں میں چہرے واضح نہیں تھے اب اس نے بھی مجھ سے تصویرں مانگیں تو میں نے بھی اس کو چہرے دھندلے کرکے تصویریں میل کردیں اس کے بعد اس نے اپنا فون نمبر مجھے میل کیا میں نے بازار سے ایک نئی سم خریدیں اور اس سے اس کو فون کیا فون پر اس سے بات چیت ہوئی اور اگلے روز اس سے ہوٹل میں ملاقات کا وقت طے ہوگیا میں نے اس سے کہا کہ وہ اپنی بیوی کو بھی ساتھ میں لے کر آئے میں بھی لے آوں گا تو اس نے حامی بھر لی اگلے روز شہر کے ایک بڑے ہوٹل میں ہم چاروں کی ملاقات ہوئی پہلے میں نے اپنی بیوی آشا کا ان دونوں سے تعارف کروایا اور پھر اس نے اپنی بیوی ارم کے بارے میں ہمیں بتایا ارم نے برقعہ پہن رکھا تھا اور اس کا رنگ صاف گورا چٹا ‘ قد درمیانہ تھا برقعے کی وجہ سے اس کی فگر نظر نہیں آرہے تھے میں نوٹ کررہا تھا کہ آشا اور ارم دونوں نگاہیں نیچی کئے بیٹھی تھیں جبکہ میں اور ارشد آپ میں ادھر ادھر کی باتیں کررہے تھے ارشد بار بار آشا کو دیکھ رہا تھا جبکہ میں ارم کو ‘ کھانے کے بعد ہم لوگوں نے طے کیا کہ کسی دوسرے ریسٹورنٹ میں جاکر چائے پی جائے اور ایک گاڑی میں دونوں خواتین جبکہ دوسری گاڑی میں ہم دونوں مرد جائیں گے آشا اورارم نے چپ چاپ ہاں میں سر ہلایا اور ایک گاڑی میں بیٹھ گئیں آشا ڈرائیونگ سیٹ پر جبکہ ارم اس کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی جبکہ دوسری گاڑی کو ارشد چلا رہا تھا اور میں اس کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا راسے میں ارشد نے بتایا کہ ارم بیڈ پر بہت سیکسی ہے لیکن Gang Bang کے لئے تیار نہیں تھی بڑی مشکل سے تیار کیا ہے میں نے بھی اسے بتایا کہ آشا بھی بڑی مشکل سے مانی ہے ہم لوگوں نے طے کیا کہ دو دن بعد ویک اینڈ ہے اس روز ہم لوگ ارشد کے گھر آئیں گے تھوڑی دیر بعد ہم لوگ ایک ہوٹل پر پہنچے جہاں ہم نے چائے پی اس دوران دونوں خواتین آپس میں کبھی کبھی ادھر ادھر کی بات کررہی تھیں اس کا مطلب تھا کہ گاڑی میں دونوں آپس میں کسی حد تک گھل مل گئی ہیں واپسی پر میں نے تجویز دی کہ آشا ارشد کے ساتھ گاڑی میں بیٹھے گی اور ارم میرے ساتھ میری تجویز پر آشا نے غصے سے میری طرف دیکھا لیکن بولی کچھ نہ میں نے اس کو آنکھ سے اشارہ کیا تو وہ تھوڑا شانت ہوگئی جبکہ دوسری طرف ارم نے بھی ارشد کی طرف دیکھا تو اس نے کہا ہاں ہاں یہ ٹھیک رہے گا پروگرام کے مطابق پہلے ہم نے ارشد وغیرہ کے گھر جانا تھا اس کے بعد میں اور آشا اپنے گھر چلے جاتے میں پہلے اپنی گاڑی میں بیٹھا اور ارشد نے فرنٹ ڈور کھول کر ارم کو بیٹھنے کی دعوت دی ارم نے ایک بار پھر ارشد کی طرف دیکھا اور پھر جھجکتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گئی میں نے گاڑی چلا دی اور پیچھے ارشد کے ساتھ آشا گاڑی میں آرہی تھی راستے میں ارم مسلسل گاڑی سے باہر دیکھ رہی تھی اس کے دونوں ہاتھ اس کی گود میں تھے میں نے اس خاموشی کو توڑتے ہوئے اس کو کہا
آپ بہت خوب صورت ہیں آشا کی نسبت آپ کا چہرہ بہت ہی خوب صورت ہے
جی۔۔۔۔۔۔۔ اس نے ایک دم سے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا
میں نے کہا ہے کہ آپ بہت خوب صورت ہیں “ وہ میری بات سن کر خاموش رہی اور نیچے دیکھنے لگی میں نے اس کو پھر مخاطب کیا اور پوچھا کہ آپ کی گھر میں کیا مصروفیت ہے تو کہنے لگی
کچھ خاص نہیں بس تھوڑا بہت گھر کا کام کاج کرکے ٹائم گزارتی ہوں
آپ کی آشا کے ساتھ بات چیت ہوئی آپ کو کیسی لگی آشا
اچھی ہے
اور آپ بھی بہت اچھی ہیں
وہ پھر خاموش ہوگئی اب میں نے اپنا ایک ہاتھا اس کے ہاتھ پر رکھ کر تھوڑا دبایا تو اس نے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی اس کا چہرہ شرم سے سرخ ہورہا تھا اس نے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی لیکن پھر مزاحمت ترک کردی وہ مسلسل اپنے پاوں کی طرف دیکھ رہی تھی میں نے اس کا ہاتھ چھوڑ کر اس کی ٹھوڑی کو پکڑ کر اس کا چہرہ اپنی طرف کیا تو بھی اس نے نگاہیں نیچی ہی رکھیں میں گاڑی آہستہ آہستہ چلا رہا تھا جبکہ میری گاڑی کے پیچھے پیچھے ارشد بھی آہستہ آہستہ آرہا تھا میں نے ایک دو بار ارم سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن اس نے کوئی بھی جواب نہ دیا جس پر میں سمجھ گیا کہ ابھی شرمندگی سے چپ ہے خیر تھوڑی دیر بعد ارشد کا گھر آگیا میں نے ارم کو ڈراپ کیا اور آشا دوسری گاڑی سے اتر کر میرے ساتھ آبیٹھی راستے میں آشا چپ چپ رہی میں نے ایک دو بار بات کرنے کی کوشش کی لیکن اس نے کوئی جواب نہ دیا گھر جاکر بھی آشا چپ چاپ بیڈ پر جالیٹی میں نے اس کو بلایا تو کہنے لگی
رام۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھ سے یہ سب کچھ نہیں ہوگا مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے
کچھ نہیں ہوگا میں تمہارے ساتھ ہوں
نہیں رام۔۔۔ یہ سب غلط ہے مجھ سے نہیں ہوگا پلیز
کچھ بھی غلط نہیں ہے
میری بات سن کر آشا چپ ہوگئی میں نے اس کو تیار کرنا چاہا تو اس نے پہلے سرد مہری دکھائی لیکن پھر تیار ہوگئی اس رات میں نے اس کو کہا کہ وہ ارشد کو ذہن میں رکھ کر کرے تو وہ پہلے انکار کرنے لگی پھر مان گئی اور دوران سیکس ارشد کو پکارنے لگی اس رات بھی ہم لوگوں نے دو بھرپور سیشن کئے اور دو دن بعد میں آفس سے جلدی گھر آگیا اور آشا کو تیار ہونے کو کہا تو ایک بار پھر سے آشا نے کہا کہ اس سے یہ سب کچھ نہیں ہوگا لیکن میرے اصرار پر چپ چاپ باتھ روم میں گھس گئی میں اسے یہ کہہ کر کہ بازار جارہا ہوں باہر نکل گیا جب واپس آیا تو آشا پنک کلر کی شلوار قمیص میں ملبوس تھی اس نے ہلکا سا میک اپ کیا تھا اور غضب ڈھا رہی تھی پہلے میرا دل کیا کہ پروگرام جائے بھاڑ میں پہلے میں آشا کے ساتھ کچھ کرلوں لیکن پھر میں نے سوچا کہ بڑی مشکل سے مانی ہے کہیں آڑ نہ جائے میں نے اس سے پوچھا کہ چلیں تو کہنے لگی رام ایک بار پھر سوچ لو مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے
ڈر کیسا میں بھی تو تمہارے ساتھ ہوں
میری بات سن کر وہ چپ چاپ باہر کو چل دی اور میرے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی پندرہ منٹ کی ڈرائیو کے بعد ہم لوگ ارشد کے گھر پہنچ گئے گاڑی کے ہارن پر ارشد نے دروازہ کھولا اور ارم اس کے ساتھ کھڑی تھی ارم نے ریڈ کلر کی شلوار قمیص پہن رکھی تھی اور ہلکا سا میک اپ کیا تھا اور قیامت ڈھا رہی تھی میں نے گاڑی پورچ میں پارک کی ارشد نے آشا کی طرف والا دروازہ کھولا اور آشا گاڑی سے باہر نکل آئی اس نے آشا کے ساتھ ہاتھ ملایا اور پھر ارم نے اسے گلے لگایا اور پھر میں ارشد اور ارم سے ملا ہم چاروں ڈرائنگ روم میں چلے آئے جہاں ایک صوفے پر میں اور آشا جبکہ سامنے والے پر ارشد بیٹھ گیا ارم چائے وغیرہ لینے کچن میں چلی گئی تھوڑی دیر بعد چائے اور بسکٹس وغیرہ لے کر آگئی اور سب کو چائے سرو کرنے کے بعد ارشد کے ساتھ بیٹھنے لگی تو ارشد نے اس کو کہا کہ سامنے رام جی کے ساتھ بیٹھ جاو اور آشا آپ میرے ساتھ ادھر صوفے پر آجاو “ اس نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا تو میں نے بھی اس کی بات کی تائید کی ارم نے ارشد اور آشا نے میری طرف دیکھا اور پھر دونوں نے ایک دوسری کی جگہ لے لی چاروں نے مل کر چائے پی اور پھر تھوڑی دیر باتیں کرنے کے بعد ارشد نے آشا سے کہا کہ ہم دونوں تھوڑی دیر باہر تازہ ہوا کھالیں اتنی دیر رام جی ارم کے ساتھ باتیں کرتے ہیں آشا نے میری طرف دیکھا تو میں نے ہاں میں اشارہ کردیا آشا جھجکتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی اور ارشد نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال لیا اور دونوں باہر چلے گئے جبکہ ارم ان کو دیکھتی رہی ان کے جانے کے بعد میں نے ارم کی کمر کے گرد ہاتھ ڈال کر اس کو نزدیک کیا اور اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا اور چہرہ اپنی طرف کرلیا ارم بدستور نگاہیں نیچی کئے ہوئے دیکھ رہی تھی اس کا چہرہ اور کان شرم کے مارے سرخ ہورہے تھے میں نے اس کو ہونٹوں پر کس کیا پہلے اس نے اپنے ہونٹ بھنچ لئے لیکن میںنے کو کس کرتا رہا پھر اس نے اپنے ہونٹ ڈھیلے چھوڑ دیئے اور میں نے اس کا نیچے والا ہونٹ اپنے ہونٹوں میں لے کر چوسنا شروع کردیا اس کے ہونٹ بہت رسیلے تھے تھوڑی دیر بعد اس نے بھی میرا ساتھ دینا شروع کردیا میں نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں سے چھوڑ دیا اور کسنگ کرتے ہوئے اس کے دونوں ہاتھ پکڑ کر اپنے گردن کے گرد لپیٹ دیئے اور اپنے ہاتھ بھی اس کی گردن کے گرد لپیٹ کر اس کو کسنگ کرنے لگا تھوڑی دیر کے بعد میں نے اپنی زبان اس کے منہ میں ڈال دی اور وہ میری زبان کو چوسنے لگی چند منٹ کی کسنگ کی تھی کہ مجھے کسی کے کھانسنے کی آواز آئی میں نے دیکھا تو دروازے پر ارشد ہنستے ہوئے ہمیں دیکھ رہا تھا جبکہ آشا اس کے ساتھ کھڑی ہوئی تھی وہ دونوں بھی سامنے والے صوفے پر بیٹھ گئے اور آپس میں کسنگ کرنے لگے ارشد کا ایک ہاتھ آشا کی چھاتی پر تھا اور دوسرا اس کے گلے میں وہ ایک ہاتھ سے آشا کے ممے کو دبا رہا تھا میں بھی ارم کے ساتھ کسنگ کرنے لگا ارم نے ایک بار پھر میرا ساتھ دینا چھوڑ دیا تھا لیکن تھوڑی دیر کے بعد پھر میرا ساتھ دینے لگی چند منٹ کے بعد ارشد کھڑا ہوگیا اور اس نے آشا کو بھی بازو سے پکڑ کر کھڑا کرلیا اور اس کی
قمیص اتارنے لگا آشا نے تھوڑی ہچکچاہٹ دکھائی لیکن پھر شانت ہوگئی اب آشا شلوار اور بریزئیر میں کھڑی تھی اس کے بعد ارشد نے آشا کے بریزئیر کی ہک بھی کھول دی اور بریزئیراتار کر صوفے پر پھینک دیا آشا نے اپنے دونوں ہاتھ اپنی چھاتی پر رکھ لئے ارشد نے نیچے کی طرف جھک کر اس کی شلوار بھی آدھی سے زیادہ ٹانگوں سے نیچی کردی پھر اس نے اس کی دونوں ٹانگیں ایک ایک کرکے شلوار سے نکالیں آشا شرم سے سرخ ہورہی تھی ارشد نے آشاکو صوفے پر بٹھایا اور اس کے ایک ممے کو منہ میں لے کر چوسنے لگا اور ایک ہاتھ سے دوسرا مما دبانے لگا پھر اس نے اس کا دوسرا مما اپنے منہ میں لے لیا اور چوسنے لگا جبکہ میں اور ارم یہ سارا منظر اپنا کام چھوڑ کر دیکھ رہے تھے کچھ دیر بعد میں نے بھی ارم کو کھڑا کیا اور اس کے کپڑے اتارنے لگا پہلے اس کی قمیص اتاری پھر برا اتار دیا اف کیا منظر تھا ارم کے ممے 38 سائز کے ہوں گے اور ایک دم ٹائٹ ‘ جبکہ اس کے مقابلے میں آشا کے ممے 34 سائز کے تھے اور وہ اس کی نسبت کم ٹائٹ تھے میں نے ایک بھرپور نظر ارم کے مموں پر ڈالی اور پھر اس کی شلوار اتار دی آشا کی پھدی بالوں سے پاک تھی ایسا لگ رہا تھا چند گھنٹے پہلے ہی اس نے نیچے سے بال صاف کئے تھے جبکہ آشا اپنی پھدی کے بال صاف نہیں کرتی تھی میں نے ارم کی بالوں سے بغیر پھدی پر ہاتھ پھیرا تو وہ اتنی چکنی تھی کہ میرا ہاتھ پھسلتا جارہا تھا اس کی پھدی سے ہلکا ہلکا سا پانی بھی نکل رہا تھا ارم ایک دم نیچے بیٹھ گئی اور اس نے اپنی ٹانگیں سکیڑ لیں اور اپنے ہاتھ اپنے مموں پر رکھ لئے میں بھی اس کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گیا اور اس کے ہونٹوں پر ایک کس کی پھر اس کے ایک ممے کے پنک نپل کو اپنے منہ میں لے لیا اور اس کو چوسنے لگا جبکہ دوسرے کے نپل کو اپنی انگلیوں میں پکڑ کر مسلنے لگا
آہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آشا کے منہ سے آہ نکل گئی
اس کے مموں کے نپلز سخت ہوتے جارہے تھے اور ہر لمحے یہ سختی بڑھتی جارہی تھی
تھوڑی دیر بعد میں نے اس کا دوسرا مما اپنے منہ میں لے لیا اور اس کو چوسنے لگا تو ارم سسکاریاں بھرنے لگی اس نے اپنے دونوں ہاتھ میرے سر پر رکھے ہوئے تھے اور وہ میرے بالوں میں کنگھی کررہی تھی میں نے ارشد اور آشا کی طرف دیکھا تو آشا صوفے پر لیٹی ہوئی تھی اور ارشد اس کے اوپر لیٹا ہوا تھا اور اس کے ہونٹوں پر کسنگ کررہا تھا میں نے ان کی طرف سے نظر ہٹائی اور ارم کے ساتھ لگ گیا چند منٹ کے بعد ارشد نے آواز دی اور کہنے لگا کہ اب اندر بیڈ روم میں چلتے ہیں اس نے آشا کو ہاتھ سے پکڑ کر اٹھا اور ساتھ لے کر چل پڑا اس کے پیچھے پیچھے میں اور ارم بھی چل پڑے بیڈ روم میں جاکر ارشد آشا کو چھوڑ کر ارم کے پاس آگیا اور اس کو ایک زور دار جپھی ڈالی اور اس کے ہونٹ چوسنے لگا پھر چند سیکنڈ کے بعد اس سے علیحدہ ہوکر کہنے لگا ”انجوائے ٹونائٹ ویری مچ“ اور آشا کے پاس چلا گیا اور ارم کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگا رام جی اور میں نے ابھی تک کپڑے پہنے ہوئے ہیں جس پر ارم نے جھجکتے جھجکتے میرے اور آشا نے ارشد کے کپڑے اتار دیئے ارشد کا رکن ایک عام سائز کا یعنی تقریباً5 انچ کے قریب ہوگا جبکہ میرا رکن 7 انچ سے بھی بڑا اور کافی زیادہ موٹا تھا ہم دونوں کے رکن پوری طرح کھڑے ہوئے تھے ارم کے علاوہ ارشد بھی میرے رکن کی طرف حیرت سے دیکھ رہے تھے خیر ارشد نے آشا کو بیڈ پر لٹا دیا اور خود اس کی ٹانگوں کے درمیان میں بیٹھ گئے اس کی ٹانگیں اپنی کمر کے گرد لپیٹ کر بیٹھ گئے اور ہمیں کہنے لگے کہ چلو آپ بھی آجاو اکٹھے ہی شروع کرتے ہیں میں نے بھی ارم کو جو ابھی تک میرے رکن کو حیرت سے دیکھ رہی تھی پکڑ کر بیڈ پر لٹایا اور اس کے ٹانگوں کو پھیلا کر اس کی بالوں سے پاک پھدی کے ہونٹ پھیلائے اور اپنا رکن اس کی پھدی پر فٹ کردیا ارشد نے میری طرف دیکھا اور کہنے لگا رام جی آپ کا رکن بہت بڑا ہے ذرا آرام سے میری بیوی کو تکلیف نہ ہو جس پر ارشد کے نیچے پڑی آشا مسکرانے لگی جبکہ ارم کے چہرے پر خوف تاری تھا ارشد نے آشا کے ہونٹوں پر کس کرتے ہوئے اپنا رکن آہستہ سے اس کے اندر کردیاآشا نے ایک آہ لی اور پھر اپنے دونوں ہاتھ ارشد کی کمر کے گرد لپیٹ کر اس کی کمر پر پھیرنے لگی میںان دونوں کی طرف اور ارم میرے چہرے کی طرف دیکھ رہی تھی ارشد نے چند سکینڈ کے بعد اپنا رکن آشا کے اندر باہر کرنا شروع کردیا اس کے دونوں ہاتھ آشا کی چھاتی پر تھے پھر اچانک وہ رک گیا اور مجھے دیکھ کر کہنے لگا رام جی کیا ہوا آپ نہیں کررہے آپ بھی کرو یہ کہہ کر اس نے اپنا رکن پھر سے آشا کے اندر باہر کرنا شروع کردیا جبکہ آشا نیچے سے اپنی پیٹھ کو اوپر کرکے اس کا ساتھ دینے لگی اس کے بعد میں نے ارم کے ہونٹوں پر ایک کس کی اور ہلکا سا زور لگا کر اپنا آدھا رکن ارم کی پھدی کے اندر کردیامیرا رکن بہت پھس کر اس کی پھدی میں گیا تھا ارم نے آہستہ سے آہ ہ ہ ہ ہ بھری اور آنکھیں بند کرلیں میں نے رک کر اس کے ہونٹوں پر ایک اور کس کی اور پھر سیدھا ہوکر اپنا رکن باہر لے آیا اس کے بعد میں نے تھوڑا زیادہ زور لگا کر جھٹکا دیا اور میرا رکن تھوڑا اور اندر چلا گیا لیکن پورا نہیں گیا تھا ارم نے ایک ہلکی سی چیخ ماری تو ارشد جو آشا کے ساتھ Bussy تھا رک کر دیکھنے لگا اور پھر مجھ سے اس نے کہا رام جی تھوڑا پیار سے پہلے پیار سے اندر کرلیں پھر جیسے مرضی کریں میں اپنی پیاری بیوی کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا میں نے ایک لمحے کے لئے اس کی طرف دیکھا اور مسکرا دیا ارشد پھر سے Bussy ہوگیا تو میں نے اپنا رکن ایک بار پھر سے باہر نکالا اور پہلے کی نسبت تھوڑا اور زور سے جھٹکا دیا میرا رکن جڑ تک ارم کی پھدی میں چلا گیا
”ہائے میں ں ں ں ں ں مرررررررر گئی ی ی ی ی ی ی “ارم کے منہ سے تکلیف کے مارے چیخ نکل گئی اس نے اپنے ہونٹ دانتوں تلے دبا لئے اور نیچے سے گھسک گئی جس سے میرا لن اس کی پھدی سے باہر نکل گیا اس سے پہلے کہ میں اپنا لن اس کی پھدی پر پھر سے سیٹ کرتا اس نے مجھے دونوں ہاتھوں سے اپنی چھاتی سے لگا لیاارم کی چیخ سن کرارشد ہماری طرف متوجہ ہوگیا
”رام لال جی۔۔۔تھوڑا سا خیال کریں “ ارشد نے پھر سے مجھے التجا کی
”سوری۔۔لیکن میں تو آرام سے کررہا تھا اگر تکلیف ہوئی ہے تو معافی چاہتا ہوں اب آہستہ کروں گا “
”اوکے“ ارشد نے کہا اور پھر سے آشا کو جھٹکے دینے لگا جبکہ آشا نیچے سے آہ ہ ہ ہ ہ اوئی ی ی ی ی ‘ آہ ہ ہ ہ ‘ تھوڑا اور اندر کرو نا‘ ہاں ں ںںںںں‘ ارشد تھوڑا اور ررررر‘ ہاںںںںں‘
چند سیکنڈ کے بعد ارم نے میری کمر پر اپنے ہاتھوں کی گرفت تھوڑا نرم کی تو میں نے پھر سے سیدھے ہوکر اپنا رکن اس کی پھدی پرتھوڑا سا رگڑا اور پھر اس کے دھانے پر سیٹ کیااور اس کو اشارے سے پوچھا کہ تیار ہے تو اس نے اپنا سر ہاں میں ہلا دیا
میں نے آہستہ آہستہ سے اپنے رکن پر دباو بڑھایا اور اس کو پورا پھدی کے اندر داخل کردیا اس کی پھدی اتنی گرم تھی کہ جیسے تندور ہو میں نے ارشد اور آشا کی طرف دھیان دیا تو وہ دونوں اپنے کام میں مست تھے آشا کی آنکھیں بند اور منہ سے سسکاریاں نکل رہی تھی جبکہ ارشد بھی ہر جھٹکے کے ساتھ اوں اوں ںںںں کی آواز نکال کر اپنے جھٹکے کو مزید تیز کرنے کی کوشش کرتا ان دونوں کی آوازوں سے میری شہوت بھی بڑھ رہی تھی میں نے ارم کے اوپر جھک کر اس کے رسیلے ہونٹوں کو ایک بار پھر سے کس کیا اور پھر کانوں کے قریب اپنا منہ لے جاکر سرگوشی کی
”کیا موڈ ہے “
”ہووووووں“اس نے اپنا سر ہلاتے ہوئے منہ سے نکالا
میں نے پھر سے خود کو سیدھا کیا اور اپنا رکن اس کی پھدی سے باہر نکال کر اس کو پہلے کی نسبت تھوڑا کم جھٹکے سے اندر کیا
”آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ‘ ‘ارم نے مزے کی ایک سسکاری لی
”تھوڑا اور تیزی سے “ساتھ ہی آشا کی آواز میرے کانوں میں پڑی
”آئی ایم کمنگ گ گ گ گ گ“ارشد نے آشا کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا
”چند سکینڈ اور“آشا بھی فارغ ہونے کے قریب تھی اس نے ارشد کو جواب دیا ”آخری جھٹکے پورے زور کے ساتھ “ ”ہاں اسی طرح۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں ں ںں ںںں آہ ہ ہ ہ ہ ہ “ اور آشا بھی فارغ ہوگئی ساتھ ہی ارشد اس کے اوپر لیٹ گیا جبکہ دوسری طرف ابھی تک میں نے اپنا کام شروع بھی نہیں کیا تھا
”کیوں بھئی آپ کہاں تک پہنچے“ارشد نے ہماری طرف دیکھتے ہوئے سوالیہ انداز میں پوچھا
”ہم تو ابھی سفر شروع کرنے کا سوچ رہے ہیں“ میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
”مجھے لگتا ہے آپ اگلے ایک گھنٹے میں منزل پر پہنچو گے“ آشا جو ابھی تک ارشد کے نیچے لیٹی ہوئی تھی کھلکھلاتے ہوئے بولی
”سفر شروع ہوگیا تو منزل دور نہیںہے“ میں نے جواب دیا
”تو کرو شروع‘ لیکن آہستہ آہستہ۔۔۔۔۔۔“ ارشد نے کہا
”کیا خیال ہے کریںسٹارٹ۔۔۔۔۔ میں نے ارم کی طرف دیکھتے ہوئے سوالیہ انداز میں پوچھا
”ہوںںںںںںںں۔۔۔۔۔۔۔ ارم نے سر ہلاتے ہوئے آواز نکالی
”آپ لوگ سٹارٹ کرو ہم تمہاری مدد کرتے ہیں“ آشا نے ارشد کے نیچے سے نکلتے ہوئے کہااور پھر وہ بیڈ پر اس طرح اوندھی لیٹ گئی کہ اس کا منہ ارم کی چھاتی کے قریب آگیا اور اس نے ارشد کو ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی لیٹ جائے اور اپنا منہ ارم کے منہ کے پاس لے جائے اور اس کی کسنگ شروع کرے ارشد نے ایسا ہی کیا اور وہ بھی اوندھا لیٹ گیا اور اس نے ارم کے ہونٹ اپنے ہونٹوں میں لے کر ان کو چوسنا شروع کردیا جبکہ آشا نے کہنیوں کے بل ہو کر ارم کا ایک مما اپنے منہ میں لے کر چوسنے لگی
”م م م م م م م م م م م م۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آشا نے چند سیکنڈ بعد ہی ارم کا مما منہ سے نکال دیا
”مزہ آگیا۔۔۔۔۔۔“اس نے فقرہ کسا تو ارشد جو ارم کے ہونٹ چوس رہا تھا وہ بھی اپنا منہ علیحدہ کرکے ہنسنے لگا اور ارم بھی مسکرا دی میں نے موقع کو غنیمت سمجھا اور آہستہ سے اپنا رکن اس کی پھدی کے اندر کردیا
س س س س س س س س س آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔۔۔۔۔ارم نے یک دم اندر کو سانس لیا اور پھر میں نے جیسے ہی اپنا رکن باہر نکالا ارم نے باہر کو سانس لیا
”مزے ے ے ے ے ے کرووووووو۔۔۔۔۔۔آشا نے ارم کا مما منہ سے نکالتے ہوئے کہا
ابھی تو تکلیف ہورہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ارم نے جواب دیا
تکلیف ختم ہونے والی ہے پھر مزے ے ے ے۔۔۔۔۔۔۔۔آشا نے ہنستے ہوئے کہا
جانو و و و و و و و انجوائے ئے ئے ئے ئے۔۔۔۔۔۔ارشد نے بھی لقمہ دیا
میں نے پھر سے اپنا رکن اندر باہر کرنا شروع کیا دو تین بار اندر باہر کرنے سے میرا رکن جو پہلے بہت مشکل سے اندر جاتا تھا اب آسانی کے ساتھ حرکت کرنے لگا آشا نے پھر سے ارم کا مما منہ میں لے لیا جبکہ ارشد اس کے ہونٹ چوسنے لگا میں نے اپنے جھٹکوں میں تیزی کردی اب ارم جس کے منہ پر ارشد کا منہ تھا اس کے ناک سے آواز آرہی تھی جس سے اندازہ ہورہا تھا کہ وہ اب مزے میں ہے میں اپنی رفتار بتدریج بڑھا رہا تھا اچانک ارشد نے اپنے ہونٹ ارم کے ہونٹوں سے علیحدہ کئے اور میرے پیچھے آکر کھڑا ہوگیا میں نے اپنا کام جاری رکھا جبکہ آشا اس کو دیکھنے لگی کہ کیا کرنے لگا ہے ارشد نے اپنے دونوں ہاتھ میری کمر پر رکھ دئےے اور جیسے ہی میں نے اپنا رکن باہر نکالا اور پھر جھٹکے سے اندر کرنے لگا ارشد نے مجھے پیچھے سے زور سے آگے کی طرف جھٹکا دیا میںنے بھی اپنی سپیڈ پہلے سے بڑھا دی تھی ارشد کے دھکا لگانے سے طاقت میں مزید اضافہ ہوگیا اور میرا رکن بڑی تیزی سے اندر کو گیا
ہائے میں مر گئی ی ی ی ی ی۔۔۔۔۔ارم کے منہ سے پھر چیخ نکل گئی
اب رکنا نہیں رام لال جی۔۔۔۔ ارشد نے پیچھے سے آواز دی
میرا رکن جتنی تیزی سے اندر کی طرف گیا تھا میں نے اسی تیزی سے اس کو باہر نکالا ارم نے نیچے سے کھسکنے کی کوشش کی لیکن آشا نے اس کے کولہے مضبوطی سے پکڑ لئے اور وہ نیچے سے ہل نہ سکی میں ابھی دوسرا جھٹکا مارنے کی تیاری میں تھا کہ ارشد نے پیچھے سے مجھے دھکا دیا اورساتھ میں میں نے بھی اپنا پورا زور لگایا
ہائے ئے ئے ئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ارم پھر چیخی
آشا نے اس کے کولہے مزید مضبوطی سے پکڑ لئے اور میرے جھٹکوں میں بھی تیزی آگئی لیکن جیسے جیسے جھٹکے تیز ہورہے تھے ارم کی ہائے میں نرمی آتی جارہی تھی چند جھٹکوں کے بعد اس نے تکلیف دہ آوازوں کی بجائے مزے کی سسکاریاں بھرنا شروع کردیںاس نے اپنی آنکھیں بند کررکھی تھی اور اپنا نیچے والا ہونٹ کبھی کبھی اپنے دانتوں کے نیچے لے کر چباتی اور پھر جیسے ہی اپنا ہونٹ چھوڑتی ایک لمبی سی آہ لے کر اپنی زبان اپنے ہونٹوں پر پھیرنے لگتی ارشد جو میرے پیچھے کھڑا مجھے دھکے دے رہا تھا اس کا رکن بھی متحرک ہورہا تھا اور مجھے محسوس ہورہا تھا کہ اس کو پھر سے شہوت ہورہی ہے چند منٹ تک ایسے ہی سفر کے بعد مجھے محسوس ہونے لگا کہ ارم کی منزل قریب آرہی ہے اچانک اس کا جسم اکڑنے لگا اور پھر یک دم میرے نیچے لیٹے لیٹے اس کے جسم نے ہلکے ہلکے سے چار پانچ جھٹکے لئے اور پھر اس کی پھدی سے ڈھیر سارا پانی نکل آیا میں نے اپنا سفر روک دیا لیکن میرا رکن ابھی تک اس کی پھدی کے اندر تھا ارشد جو میرے پیچھے کھڑا تھا وہ بھی بیڈ کے اوپر آکر بیٹھ گیا اور چند سکینڈ کے بعد میں نے اپنا رکن ارم کی پھدی سے نکالا اور ارم نے بیڈ شیٹ سے اپنی پھدی کو صاف کیا میں اپنا رکن پھر سے اس کے اندر کرنے لگا تو ارشد بول پڑا
” اب سٹائل چینج کرلو “
میں ‘ آشا اور ارم اس کی طرف سوالیہ انداز میں دیکھنے لگے توا س نے کہا کہ بہتر ہے کہ اب رام لال جی نیچے لیٹ جائیں اور ارم ان کے اوپر آجائے
” مجھ میں اوپر آکر کرنے کی ہمت نہیں ہے“ ارم نے نیچے لیٹے لیٹے کہا
ہمت کرو گی تو مزہ بھی آئے گا‘ ارشد نے جواب دیا
میں بیڈ کے اوپر سیدھا لیٹ گیا اور ارم ناگواری سے اٹھ کر میرے اوپر آگئی
”آشا جی آپ بھی میرے اوپر آجاو“ارشد نے میرے پہلو میں سیدھے لیٹتے ہوئے آشا کو بازو سے پکڑ کر کہا
آشا بھی شائد تیار ہوچکی تھی وہ فوری طورپر ارشد کے اوپر آ بیٹھی اور اس نے ارشد کے رکن کو دونوں ہاتھوں میں لے کر سہلانا شروع کردیا میں نے دیکھا کہ ارشد کا رکن جس کے ختنے ہوئے ہوئے تھے سفید رنگ کا اور بالوں سے پاک تھا اس کے علاوہ بالکل سیدھا تھا اس کے رکن کے نیچے دونوں ٹٹے بھی سفید کلر کے تھے اس کے برعکس میرا رکن ارشد کی نسبت لمبا اور موٹا ضرور تھا لیکن کالے رنگ کا تھا اور ٹیڑھا بھی تھا شائد اوائل عمری میں مشت زنی کی وجہ سے ٹیڑھا ہوگیا تھا اس کے علاوہ میرے ٹٹے بھی کالے رنگ کے تھے اور رکن کے اوپر اور ٹٹوں پر بال بھی بہت زیادہ تھے جس کی وجہ سے خوب صورت بھی نہیں لگتا تھا جبکہ میرے رکن کے ختنے بھی نہیں ہوئے تھے یہ بھی اس کی بدصورتی کی ایک وجہ ہوسکتی ہے
”دیکھو رام لال جی یہ کتنا خوب صورت دکھتا ہے “ آشا نے اپنے انگوٹھے اور انگلی کی انگوٹھی بنا کر ارشد کے لن کو جڑسے اوپر کرتے ہوئے کہا
میرا دھیان جو پہلے ہی ارشد کے رکن کی طرف تھا اپنی بیوی کا تبصرہ سننے پر میرے ذہن میں جیلسی سی فیل ہونے لگی جبکہ ارم جو میرے رکن کو ہاتھ میں پکڑ کر اپنی پھدی کے دہانے پر سیٹ کررہی تھی وہ بھی ان دونوں کی طرف متوجہ ہوگئی جبکہ ارشد جو آنکھیں بند کئے نیچے لیٹا تھا آنکھیں کھول کر فخر سے مسکراتے ہوئے میری اور ارم کی طرف دیکھنے لگا آشا نے دو تین بار اپنی انگلیوں کی انگوٹھی سے ارشد کے رکن کو جڑ سے نوک تک سہلایا اور اس کا منہ ارشد کے رکن کے بالکل قریب تھا یقینا اس کو ارشد کے رکن سے نکلنے والے مادے کی بو بھی آرہی ہوگی اچانک اس نے اپنی انگلیاں اس کے رکن کی جڑ پر کیں
مم مم م م م م ہ ہ ہ ہ ہ‘ آشا نے ارشد کے رکن کی نوک پر ایک ہلکی سی کس کردی
میں حیران رہ گیا آج تک اس نے میرے رکن کو اس طرح کس نہیں کیا تھا اور آج میں ایک غیر مرد کے رکن کے ساتھ ایسا کررہی تھی میرے تن بدن میں آگ لگ گئی لیکن میں کچھ نہ بولا اور منہ دوسری طرف کرلیا جبکہ ارشد جو پہلے مسکرا رہا تھا اب ہلکا سا ہنس پڑا۔
م م م م م ہ ہ ہ ہ ہ آشا نے ایک اور کس کردی میں نے جیسے ہی اس کی طرف دیکھا اس نے میری طرف دیکھے بغیر اپنی زبان منہ سے نکالی اور ارشد کے رکن کی نوک پر پھیرنے لگی ارشد کا رکن جو پہلے ہی پوری طرح اکڑا ہوا تھا اس کی نوک مزید پھول گئی میں نے پھر اپنا منہ پھیر لیا اور ارم کے ممے پکڑ کر دبانے لگا ارم نے اپنے ایک ہاتھ سے میرا رکن جڑ سے پکڑا اور میرے اوپر بیٹھے بیٹھے اپنی پھدی پر پھیرنے لگی پھر اس نے میرے رکن کی نوک اپنی پھدی کے سوراخ پر سیٹ کی اور میرا رکن چھوڑ کر اپنے دونوں ہاتھ میری چھاتی پر رکھ کر آرام سے پورا رکن اپنی پھدی کے اندر لے گئی اور میرے اوپر لیٹ کر دیوانوں کی طرح میرے ہونٹ چوسنے لگی میں نے اپنی آنکھیں بند کرلیں مجھے اس کی پھدی بہت ٹائٹ محسوس ہورہی تھی اس نے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں سے علیحدہ کئے اور پھر سیدھی ہوکر اپنے ہاتھ میری چھاتی پر رکھ کر آہستہ سے اوپر کو ہوئی میرا رکن اس کی پھدی سے باہر نکلا اور پھر اس نے قدرے تیزے کے ساتھ نیچے کو حرکت کی میرا رکن پھر اس کی پھدی میں چلا گیا
”اس کو لالی پاپ کی طرح چوسو۔۔۔۔۔ارشد کی آواز میرے کانوں میں پڑی تو میں نے ان کو دیکھنے کے لئے اپنا منہ دوسری طرف کرنا چاہا لیکن ارم جو میرے اوپر بیٹھی تھی اس نے میرا رکن اپنی پھدی کے اندر کیا اور اپنے ہاتھ میری چھاتی سے اٹھا کر میرے دونوں گالوں پر رکھ کر میرے اوپر ہوگئی اور میرے ہونٹ چومنے لگی میری نظر تو ارشد اور آشا کی طرف نہ جاسکی لیکن خیال ان کی طرف ہی تھا
ہاں ں ں ں ں ں اس کو پورا اپنے منہ میں لے لو۔ ارشد کی آواز پھر میرے کانوں میں پڑی میں نے اپنا منہ ان کی طرف کرنے کی کوشش کی لیکن ارم نے اپنے ہاتھ میں میرا چہرہ لیا ہوا تھا اپنی زبان میرے منہ میں ڈال دی میں نے اس کو چوسنا شروع کردیا
آ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں ہواوں میں اڑنے لگا ہوں “ ارشد پھر بولا اب میں نے ان کی طرف دیکھنے کی کوشش ہی نہ کی
ارم نے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں سے علیحدہ کئے اور میرے رکن پر سیدھی ہوکر بیٹھ گئی اس نے دوبارہ اپنے ہاتھ میری چھاتی پر رکھے اور اوپر نیچے ہونے لگی میں نے اپنی آنکھیں بند کرلیں اور اپنی انگلیوں سے اس کے مموں کے نپلز کو مسلنے لگا ارم کی سپیڈ بتدریج بڑھ رہی تھی وہ اوپر ہوتی تو میرے رکن کی نوک کا کچھ حصہ ہی اس کی پھدی کے اندر ہوتا جب وہ نیچے ہوتی تو جڑ تک اندر چلا جاتا وہ اوپر نیچے ہوتے ہوئے سسکاریاں بھی بھر رہی تھی جب وہ میرا رکن اپنے اندر لیتی تو ساتھ میں میرے چھاتی پر دونوں ہاتھوں سے چٹکیاں بھی لیتی پھر اوپر ہوتی تو چٹکیاں چھوڑ دیتی
”آج مزے کی ایک نئی دنیا میں آگیا ہوں۔۔۔ ارشد کی آواز پر میں نے اپنا منہ ان کی طرف کیا تو ارم رک گئی اور غصے سے میری طرف دیکھتے ہوئے بولی میں نیچے آجاتی ہوں آپ ان کی طرف دیکھ لیں جب وہ کرلیں گے تو پھر ہم شروع کریں گے
میں نے اپنا چہرہ اس کی طرف کیا اور پھر سے اس کے مموں پر ہاتھ رکھ کر اپنی آنکھیں بند کرلیں ارم پھر سے اوپر نیچے ہونے لگی چند منٹ بعد اس نے پھر جھٹکے لئے اور فارغ ہونے لگی جب مکمل ہو کر آہستہ ہوئی تو میں نے اس کے مموں سے پکڑ کر اس کو تیز ہونے کا اشارہ کیا اور ساتھ میں کہا سپیڈ کم نہ کرنا میں بھی آرہا ہوں
میرے اندر نہ فارغ ہوجانا۔۔۔۔۔۔اس نے التجا کی
کچھ نہیں ہوتا۔۔۔۔۔ میں نے جواب دیا تو وہ رک کر میری طرف دیکھنے لگی
اندر ہی فارغ ہوجاو۔۔۔۔۔۔۔ ارشد جو آنکھیں بند کئے ہوئے لیٹا تھا اس نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا
نہیں رام لال جی ایسا نہ کرنا۔ ارم نے پھر کہا
میں نے جو کہا وہی کرنا میں بھی تو آشا جی کے اندر ہی چھوٹا ہوں۔ارشد کاجواب سن کر ارم چپ ہوگئی اور اس نے پھر سے اوپر نیچے ہونا شروع کردیا
آہ آہ آہ آہ ارم کی آوازیں اور ساتھ میں ایک دو تین اور میرے رکن نے جھٹکے لئے اور ساتھ میں اس کی پھدی میں ہی چھوٹ گیا ارم مسلسل اوپر نیچے ہورہی تھی میرے رکن کی سختی ابھی تک برقرار تھی ارم نے اپنی حرکت کم کی اور پھر میرے اوپر لیٹ کر لمبے لمبے سانس لینے لگی اس کا جسم ٹھنڈا ہوگیا تھا میں نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا اور اس کے ہونٹوں کو چومنے لگا اس کے ہونٹ خشک ہوچکے تھے میرا رکن ابھی تک اس کی پھدی میں ہی تھا اس نے اپنی ٹانگیں بھی سیدھی کرلیں اور میرے اوپر اوندھی لیٹی رہی میرا رکن ابھی بھی اس کے اندر تھا اب اس کی سختی کم ہونے لگی تھی
اب تم لیٹو میں کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔ ارشد کی آواز آئی
میں نے ان کی طرف نہ دیکھا اور ارم بھی اسی طرح لیٹی رہی ہم دونوں نے آنکھیں بند کی ہوئی تھی میرے رکن سے نکلنے والا مادہ اور ارم کی پھدی سے خارج ہونے والا پانی مکس ہوکر میرے ٹٹوں پر سے ہوکر نیچے بیڈ پر جارہا تھا جس کے قطرے مجھے ٹھنڈے ٹھنڈے محسوس ہورہے تھے اور بیڈ شیٹ بھی گیلی ہوگئی تھی
ہاہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔۔۔ مار ڈالا۔۔۔۔۔ اور اندر کرو۔آشا کی آواز میرے کانوں میں پڑی میں نے ان کی طرف نہ دیکھا
اپنی پوری زبان میری پھدی کے اندر کردو۔۔۔۔۔۔ اس نے پھر کہا
ہاں اور اندر ررررر۔۔۔۔۔۔۔ اور اندر۔۔۔۔۔۔۔ بس س س س س س۔۔۔۔۔۔ میں مرررررررر گئی ی ی ی ی۔۔۔۔ بس س س س س س س س س س س۔۔۔۔۔۔ آشا کی آوازوں سے میں ان کی طرف دیکھنے کو بے چین تھا لیکن جس طرف یہ دونوں لیٹے تھے اس طرف کے کندھے پر ارم کا سر تھا اس نے اپنا سر اوپر اٹھا کر ان دونوں کی طرف دیکھا تو میں نے بھی گردن گھما کر ادھر کی آشا کے دونوں ہاتھ اس کے پیٹ کے ساتھ لگے ہوئے تھے اور وہ اپنا سر ادھر ادھر مار رہی تھی جبکہ ارشد نظر نہیں آرہا تھا میں نے سر کو تھوڑا اوپر اٹھایا اور دھیان کیا تو ارشد کا منہ آشا کی پھدی پر تھا اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے آشا کی ٹانگیں علیحدہ کررکھی تھی اور وحشیوں کی طرح اس کی پھدی چاٹ رہا تھا
ام م م م م م م م۔۔۔۔۔۔ آشا کے منہ سے پھر نکلا
ارشد نے تیزی سے منہ مارنا شروع کردیا آشا نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کے بال پکڑ رکھے تھے
بس س س س س س س س س س۔۔۔۔۔۔۔۔ میں گئی ی ی ی ی ی ی ی۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن ارشد نے اپنا منہ اوپر نہ اٹھایا
آشا نے ادھر ادھر سر مارنا بندکردیا اور اس کے بال بھی ہاتھوں سے چھوڑ کر بیڈ پر ڈھیلے کردیئے اس کی ٹانگیں بھی ڈھیلی ہوگئیں ارشد نے منہ اوپر کیا اور بیڈ پر پڑا تولیہ لے کر اپنا منہ صاف کرنے لگا میں سمجھ گیا آشا کی پھدی سے نکلنے والا پانی ارشد کے منہ پر گرا ہے میں تھوڑا اور اوپر ہوا اور دیکھا آشا کی پھدی کے گرد گھنے بال گیلے ہوچکے تھے
اخ خ خ خ تھو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ارم نے نفرت سے بیڈ کی دوسری طرف تھوک دیا
تم کو کیا معلوم سیکس کیا ہوتا ہے‘ ارشد نے ارم کو تھوکتے ہوئے دیکھا تو کہنے لگا
میں نے آشا کے چہرے کی طرف دیکھا تو اس کے ایک گال پر کچھ مادہ لگا ہوا تھا میں سمجھ گیا یہ مادہ ارشد کے رکن سے نکلا ہوا ہے ارشد کا رکن ڈھیلا پڑ گیا تھا اور سکڑ کر صرف دو اڑھائی انچ کا ہوگیا تھا میرا رکن ابھی تک ارم کی پھدی کے اندر تھا اور مکمل طورپر ڈھیلا ہوچکا تھا مگر ارم کی پھدی سے ابھی تک ہلکا ہلکا سا پانی نکل رہا تھا وہ پھر میرے اوپر لیٹ گئی چند سیکنڈ بعد اٹھی اور بیڈ پر میرے ساتھ میرے کندھے پر سر رکھ کر لیٹ گئی
دوسری طرف ارشد اور آشا بھی لیٹے ہوئے تھے ارشد آشا کے مموں سے کھیل رہا تھا جبکہ آشا کے ہاتھ ارشد کے سر پر تھے اور وہ اپنی انگلیوں سے اس کی کنگھی کررہی تھی میں ارم کے ساتھ لیٹا ہوا تھا لیکن میرا ذہن کہیں اور تھا میں اپنی بیوی کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ جس نے اپنے پتی کے رکن کو کبھی منہ میں نہیں لیا آج کسی غیر مرد کے رکن کو منہ میں لے کر لالی پاپ کی طرح چوس رہی تھی جبکہ ارم جو میری چھاتی پر ہاتھ پھیر رہی تھی وہ بھی خیالوں میں کھوئی ہوئی