Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 25/12/16 in all areas

  1. Poet: جون ایلیا جی ہی جی میں وہ جل رہی ہوگی چاندنی میں ٹہل رہی ہوگی چاند نے تان لی ہے چادرِ ابر اب وہ کپڑے بدل رہی ہوگی سو گئی ہوگی وہ شفق اندام سبز قندیل جل رہی ہوگی سرخ اور سبز وادیوںکی طرف وہ مرے ساتھ چل رہی ہوگی چڑھتے چڑھتے کسی پہاڑی پر اب وہ کروٹ بدل رہی ہوگی پیڑ کی چھال سے رگڑ کھا کر وہ تنے سے پھسل رہی ہوگی نیلگوں جھیل ناف تک پہنے صندلیں جسم مل رہی ہوگی ہو کے وہ خوابِ عیش سے بیدار کتنی ہی دیر شل رہی ہوگی
  2. اب گناہ و ثواب بکتے ہیں مان لیجیے جناب بکتےہیں پہلے پہلے غریب بکتےتھے اب توعزت مآب بکتے ہیں بے ضمیروں کی راج نیتی میں جاہ و منصب،خطاب بکتےہیں شیخ،واعظ،وزیر اور شاعر سب یہاں پر جناب بکتے ہیں دور تھا انقلاب آتے تھے آج کل انقلاب بکتے ہیں دل کی باتیں حبیب جھوٹی ہیں دل بھی خانہ خراب بکتے ہیں؟ ‏ ( حبیب جالب)
  3. ہجر کرتے یا کوئی وصل گوارا کرتے ہم بہرحال بسر خواب تمہاراکرتے ایک ایسی بھی گھڑی عشق میں آئی تھی کہ ہم خاک کو ہاتھ لگاتے تو ستارہ کرتے اب تو مل جاؤ ہمیں تم کہ تمھاری خاطر اتنی دُور آگئے دُنیا سے کنارہ کرتے محوِ آرائشِ رُخ ہے وہ قیامت سرِ بام آنکھ گر آئینہ ہوتی تو نظارہ کرتے ایک چہرے میں تو ممکن نہیں اتنے چہرے کس سے کرتے جو کوئی عشق دوبارہ کرتے جب ہے یہ خانۂ دل آپ کی خلوت کے لئے پھر کوئی آئے یہاں، کیسے گوارا کرتے کون رکھتا ہے اندھیرے میں دیا، آنکھ میں خواب تیری جانب ہی ترے لوگ اشارہ کرتے ظرفِ آئینہ کہاں اور ترا حُسن کہاں ہم ترے چہرے سے آئینہ سنوارا کرتے (عبید اللہ علیم)
  4. اب کے سفر ھی اور تھا ، اور ھی کچھ سراب تھے دشتِ طلب میں جا بجا ، سنگِ گرانِ خواب تھے حشر کے دن کا غلغلہ ، شہر کے بام و دَر میں تھا نگلے ھوئے سوال تھے ، اُگلے ھوئے جواب تھے اب کے برس بہار کی , رُت بھی تھی اِنتظار کی لہجوں میں سیلِ درد تھا ، آنکھوں میں اضطراب تھے خوابوں کے چاند ڈھل گئے ، تاروں کے دم نکل گئے پھولوں کے ہاتھ جل گئے ، کیسے یہ آفتاب تھے ؟ سیل کی رھگزر ھُوئے ، ھونٹ نہ پھر بھی تر ھُوئے کیسی عجیب پیاس تھی ، کیسے عجب سحاب تھے عمر اسی تضاد میں , رزقِ غبار ھو گئی جسم تھا اور عذاب تھے ، آنکھیں تھیں اور خواب تھے آنکھوں میں خون بھر گئے ، رستوں میں ھی بِکھر گئے آنے سے قبل مر گئے ، ایسے بھی انقلاب تھے ساتھ وہ ایک رات کا ، چشم زدن کی بات تھا پھر نہ وہ التفات تھا ، پھر نہ وہ اجتناب تھے ربط کی بات اور ھے ، ضبط کی بات اور ھے یہ جو فشارِ خاک ھے ، اِس میں کبھی گلاب تھے اَبر برس کے کھُل گئے ، جی کے غبار دھل گئے آنکھ میں رُو نما ھوئے ، شہر جو زیرِ آب تھے درد کی رھگزار میں چلتے تو کِس خمار میں چشم کہ بے نگاہ تھی ، ھونٹ کہ بے خطاب تھے ”امجد اسلام امجد“
  5. 1 like
    پاگل کسے کہتے ہیں؟؟.. جو ہوش گنوا بیٹھے! جو روڈ پہ جا بیٹھے! جو مانگ کے کھا بیٹھے! جو بھوک چھپا بیٹھے! کہتے ہیں اسے پاگل؟!! بے شرم پھرے جو وہ! ٹھوکر سے گرے جو وہ! شکوہ نہ کرے جو وہ! بے موت مرے جو وہ! ہے کون بھلا پاگل؟!! ننگا ہو بدن جس کا! گندا ہو رہن جس کا! آزاد ہو من جس کا! خالی ہو ذہن جس کا! کیا اس کو کہیں پاگل؟!! گھر بھول گیا ہو جو! در بھول گیا ہو جو! زر بھول گیا ہو جو! شر بھول گیا ہو جو! وہ شخص ہے کیا پاگل؟!! عزت سے ہو ناواقف! ذلت سے ہو ناواقف! دولت سے ہو ناواقف! شہرت سے ہو ناواقف! کیا اس کو کہیں پاگل؟!! تم بات مری مانو! جو سچ ہے اسے جانو! اس گول سی دنیا میں! صرف ایک نہیں پاگل! کچھ اور بھی ہیں پاگل!! جو ماں کو ستاتا ہے! دل اس کا دکھاتا ہے! جو باپ کے اوپر بھی! جھٹ ہاتھ اٹھاتا ھے! وہ شخص بھی ہے پاگل!! جو رب کو بھلا بیٹھا! جو کرکے خطا بیٹھا! دولت کے نشے میں جو! جنت کو گنوا بیٹھا! وہ شخص بھی هے پاگل! جو علم نہ سیکھے وہ! جو دین نہ جانے وہ! جو خود کو بڑا سمجھے! جو حق کو نہ مانےوه! ہے وہ بھی بڑا پاگل!! دنیا میں جو کھویا ہے! غفلت میں جو سویا ہے! جو موت سے ہے غافل! جو عیش کا جویا ہے! اس کو بھی کہو پاگل!!!
  6. Poet: Wasi Shah اداس راتوں میں تیز کافی کی تلخیوں میں وہ کچھ زیادہ ہی یاد آتا ہے سردیوں میں مجھے اجازت نہیں ہے اس کو پکارنے کی جو گونجتا ہے لہو میں سینے کی دھڑکنوں میں وہ بچپنا جو اداس راہوں میں کھو گیا تھا میں ڈھونڈتا ہوں اسے تمہاری شرارتوں میں اسے دلاسے تو دے رہا ہوں مگر یہ سچ ہے کہیں کوئی خوف بڑھ رہا ہے تسلیوں میں تم اپنی پوروں سے جانے کیا لکھ گئے تھے جاناں چراغ روشن ہیں اب بھی میری ہتھیلیوں میں جو تو نہیں ہے تو یہ مکمل نہ ہو سکیں گی تری یہی اہمیت ہے میری کہانیوں میں مجھے یقیں ہے وہ تھام لے گا بھرم رکھے گا یہ مان ہے تو دیے جلائے ہیں آندھیوں میں ہر ایک موسم میں روشنی سی بکھیرتے ہیں تمہارے غم کے چراغ میری اداسیوں میں
  7. Poet: Bulleh Shah جھلیا عشق کمانا اوکھا کسے نوں یار بنانا اوکھا پیار پیار تے ہر کوئی بولے کرکے پیار نبھانا اوکھا ہر کوئی دکھاں تے ہنس لیندا ای کسی دا درد ودانا اوکھا گلاں نال نئی رتبے مل دے جوگی بھیس وتانا اوکھا کوئی کسے دی گل نئی سن دا لوکاں نوں سمجھاناں اوکھا
  8. زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا تُو ملا ہے تو یہ احساس ہوا ہے مجھ کو یہ میری عمر محبت کے لیے تھوڑی ہے اک ذرا سا غمِ دوراں کا بھی حق ہے جس پر میں نے وہ سانس بھی تیرے لیے رکھ چھوڑی ہے تجھ پہ ہو جاؤں گا قربان، تجھے چاہوں گا میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا اپنے جذبات میں نغمات رچانے کے لیے میں نے دھڑکن کی طرح دل میں بسایا ہے تجھے میں تصور بھی جدائی کا بھلا کیسے کروں میں نے قسمت کی قسمت کی لکیروں‌ سے چرایا ہے تجھے پیار کا بن کے نگہبان تجھے چاہوں گا میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا تیری ہر چاپ سے جلتے ہیں خیالوں‌ میں چراغ جب بھی تو آئے جگاتا ہوا جادو آئے تجھ کو چھو لوں ‌تو پھر اے جانِ تمنا مجھ کو دیر تک اپنے بدن سے تری خوشبو آئے تو بہاروں کا ہے عنوان تجھے چاہوں گا میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا قتیل شفائی
  9. ہم بھی صابر ہیں مگر ہم، سے بچھٹرنے والے ہم تیرے ضبط پہِ۔۔ حیران ہوا کرتے ہیں
  10. Poet: Allama Iqbal ہر اک مقام سے آگے گزر گیا مہ نو کمال کس کو میسر ہوا ہے بے تگ و دو نفس کے زور سے وہ غنچہ وا ہوا بھی تو کیا جسے نصیب نہیں آفتاب کا پرتو نگاہ پاک ہے تیری تو پاک ہے دل بھی کہ دل کو حق نے کیا ہے نگاہ کا پیرو پنپ سکا نہ خیاباں میں لالۂ دل سوز کہ سازگار نہیں یہ جہان گندم و جو رہے نہ ایبکؔ و غوریؔ کے معرکے باقی ہمیشہ تازہ و شیریں ہے نغمۂ خسروؔ
  11. Poet: hamid raza khan اقبال کےبارے میں کیا کہیں ہم لوگ شاعری انکی ادب پر کر رہی ہے راج دنیا کو دے رہے ہیں وہ پیغام انقلاب اور انہوں نےاردو کو بخش دی معراج
  12. Poet: Allama Iqbal اثر کرے نہ کرے سن تو لے مری فریاد نہیں ہے داد کا طالب یہ بندۂ آزاد یہ مشت خاک یہ صرصر یہ وسعت افلاک کرم ہے یا کہ ستم تیری لذت ایجاد ٹھہر سکا نہ ہوائے چمن میں خیمۂ گل یہی ہے فصل بہاری یہی ہے باد مراد قصوروار غریب الدیار ہوں لیکن ترا خرابہ فرشتے نہ کر سکے آباد مری جفا طلبی کو دعائیں دیتا ہے وہ دشت سادہ وہ تیرا جہان بے بنیاد خطر پسند طبیعت کو سازگار نہیں وہ گلستاں کہ جہاں گھات میں نہ ہو صیاد مقام شوق ترے قدسیوں کے بس کا نہیں انہیں کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہیں زیاد
  13. Poet: Allama Iqbal کریں گے اہل نظر تازہ بستیاں آباد مری نگاہ نہیں سوئے کوفہ و بغداد یہ مدرسہ یہ جواں یہ سرور و رعنائی انہیں کے دم سے ہے مے خانۂ فرنگ آباد نہ فلسفی سے نہ ملا سے ہے غرض مجھ کو یہ دل کی موت وہ اندیشہ و نظر کا فساد فقیہہ شہر کی تحقیر کیا مجال مری مگر یہ بات کہ میں ڈھونڈتا ہوں دل کی کشاد خرید سکتے ہیں دنیا میں عشرت پرویز خدا کی دین ہے سرمایۂ غم فرہاد کئے ہیں فاش رموز قلندری میں نے کہ فکر مدرسہ و خانقاہ ہو آزاد رشی کے فاقوں سے ٹوٹا نہ برہمن کا طلسم عصا نہ ہو تو کلیمیؑ ہے کار بے بنیاد
  14. Poet: John Elia اُس کے پہلو سے لگ کے چلتے ہیں ہم کہیں ٹالنے سے ٹلتے ہیں میں اُسی طرح تو بہلتا ہوں اور سب جس طرح بہلتے ہیں وہ ہے جان اب ہر ایک محفل کی ہم بھی اب گھر سے کم نکلتے ہیں کیا تکلف کریں یہ کہنے میں جو بھی خوش ہے، ہم اُس سے جلتے ہیں ہے اُسے دور کا سفر در پیش ہم سنبھالے نہیں سنبھلتے ہیں ہے عجب فیصلے کا صحرا بھی چل نہ پڑیے تو پاؤں جلتے ہیں ہو رہا ہوں میں کس طرح برباد دیکھنے والے ہاتھ ملتے ہیں تم بنو رنگ، تم بنو خوشبو ہم تو اپنے سخن میں ڈھلتے ہیں
  15. ڈسنے لگے ہیں خواب مگر کس سے بولیے، میں جانتی تھی، پال رہی ہوں سنپولیے! بس یہ ہوا کہ اس نے تکلف سے بات کی، اور ہم نے روتے روتے دوپٹے بگھو لیے. پلکوں پہ کچی نیندوں کا رس پھیلتا ہو جب، ایسے میں آنکھ دھوپ کے رخ کیسے کھولیے. تیری برہنہ پائی کے دکھ بانٹتے ہوئے، ہم نے خود اپنے پاوں میں کانٹے چھبو لیے. میں تیرا نام لے کے تذبذب میں پڑ گئی، سب لوگ اپنے اپنے عزیزوں کو رولیے. " خوشبو کہیں نہ جائے" یہ اصرار ہے بہت، اور یہ بھی آرزو کہ ذرا زلف کھولیے. پروین شاکر...
  16. اندھیری رات ٹھکانے لگا کے آتے ہیں چلو کہ اپنی صبح کو جگا کے آتے ہیں سبھی جو مان رھے ہیں، بہت اندھیرا ھے چراغ جوڑ کے سورج بنا کے آتے ہیں ہجومِ شہر پہ سکتہ کہ پہل کون کرے صلیبِ شہر کو آؤ سجا کے آتے ہیں یہ رات روز جو ہم سے خراج مانگے ھے ہزار سر کا چڑھاوا، چڑھا کے آتے ہیں نہیں ھے کچھ بھی بچا اب، بجز یہ زنجیریں اُٹھو یہ مال و متاع بھی، لٹا کے آتے ہیں
  17. ﺑﺎﺩﺑﺎﮞ ﮐﮭُﻠﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﺎ ﺍﺷﺎﺭﺍ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﺗﻢ ﮐﻨﺎﺭﺍ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﯾﻮﮞ ﺑﭽﮭﮍﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﺁﺳﺎﮞ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﻣﮕﺮ ﺟﺎﺗﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﻭﮦ ﻣﮍ ﮐﺮ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﮐﺲ ﺷﺒﺎﮨﺖ ﮐﻮ ﻟﯿﮯ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﮧ ﭼﺎﻧﺪ ﺍﮮ ﺷﺐِ ﮨﺠﺮﺍﮞ! ﺫﺭﺍ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﺘﺎﺭﮦ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﮐﯿﺎ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﻦ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﭘﺴﭙﺎ ﮨﻮﺋﮯ ﺍُﻥ ﮨﯽ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﻘﺎﺑﻞ ﻣﯿﮟ ﺻﻒ ﺁﺭﺍ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﺟﺐ ﺑﻨﺎﻡِ ﺩﻝ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﮨﻢ ﺳﮯ ﻣﺎﻧﮕﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﺧﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﮈﻭﺑﺎ ﮨﻮﺍ ﭘﺮﭼﻢ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﺟﯿﺘﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺟﮩﺎﮞ ﺟﯽ ﮐﺎ ﺯﯾﺎﮞ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﮯ ﮨﮯ ﺍﯾﺴﯽ ﺑﺎﺯﯼ ﮨﺎﺭﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺧﺴﺎﺭﮦ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﺁﺋﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮫ ﮨﯽ ﮐﭽﮫ ﮐﻢ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﺍﺏ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺎ ﺩﮐﮭﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﺍﯾﮏ ﻣﺸﺖِ ﺧﺎﮎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺍ ﮐﯽ ﺯﺩ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺑﮯ ﺑﺴﯽ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﺎﺭﮦ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ (پروین شاکر)
  18. ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں، ہر کام کرنے میں. ضروری بات کہنی ہو، کوئی وعدہ نبھانا ہو، اسے آواز دینی ہو، اسے واپس بلانا ہو، ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں. مدد کرنی ہو اس کی، یار کی ڈھارس بندھانا ہو، بہت دیرینہ رستوں پر، کسی سے ملنے جانا ہو، بدلتے موسموں کی سیر میں، دل کو لگانا ہو، کسی کو یاد رکھنا ہو، کسی کو بھول جانا ہو، ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں. کسی کو موت سے پہلے، کسی غم سے بچانا ہو، حقیقت اور تھی کچھ، اس کو جا کے يہ بتانا ہو، ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں. ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں. شاعر: منیر نیازی. انتخاب: عاطف رانجھا.
  19. شیطان کی نسل میں وفاداری نہیں ھوتی سچ کہوں توبریلویت میں بیداری نہیں ھوتی لاکھ عشق رسول ؐ کا دعوی کرے باطل بغیراطاعت رسولؑ کےطرف داری نہیں ھوتی بڑے شوق سےکہتےہوہم عاشق رسول ؐ ہیں عاشقوں کی زبان یوں بازاری نہیں ہوتی
  20. اپنے مرکز سے اگر دور نکل جاؤ گے خواب ہو جاؤ گے افسانوں میں ڈھل جاؤ گے اپنے پرچم کا کہیں رنگ بھلا مت دینا سرخ شعلوں سے جو کھیلو گے تو جل جاؤ گے دے رہے ہیں تمہیں جو لوگ رفاقت کا فریب ان کی تاریخ پڑھو گے تو دہل جاؤ گے اپنی مٹی ہی پہ چلنے کا سلیقہ سیکھو سنگِ مرمر پہ چلو گے تو پھسل جاؤ گے خوابگاہوں سے نکلتے ہوئے ڈرتے کیوں ہو دھوپ اتنی تو نہیں ہے کہ پگھل جاؤ گے تیز قدموں سے چلو اور تصادم سے بچو بھیڑ میں سست چلو گے تو کچل جاؤ گے ہمسفر ڈھونڈو، نہ رہبر کا سہارا چاہو ٹھوکریں کھاؤ گے تو خود ہی سنبھل جاؤ گے تم ہو ایک زندہ و جاوید روایت کے چراغ تم کوئی شام کا سورج ہو کہ ڈھل جاؤ گے صبحِ صادق مجھے مطلوب ہے میں کس سے کہوں تم تو بھولے ہو چراغوں سے بہل جاؤ گے
  21. مرے جنوں کا نتیجہ ضرور نکلے گا اسی سیاہ سمندر سے نور نکلے گا گرادیا ھے تو ساحل پہ انتظار نہ کر اگر وہ ڈوب گیا ھے تو دور نکلے گا اسی کا شہر وہی مدعی وہی منصف ہمیں یقیں تھا ہمارا قصور نکلے گا یقیں نہ آئےتواک بات پوچھ کر دیکھو جو ہنس رھا ھے وہ زخموں سے چور نکلے گا اس آستین سے اشکوں کو پوچھنے والے اس آستین سے خنجر ضرور نکلے گا ✍?....محمد عمران
  22. *چنگاریاں نہ ڈال میرے دل کے گھاؤ میں* *میں خود ہی جل رہا هوں دکھوں کے الاؤ میں* *ھے کوئی اہلِ دل جو خریدے میرا مزاج* *میں زخم بیچتا ھـوں محبّت کے بھاؤ میں* ✍?.... محمد عمران
  23. Mirza Galib Latest* *************** *Hazaroun Note The Aise Ki Har Note Pe Dam Nikle,* *Bahot Nikle Mere Ghar Se Magar Phir Bhi Kam Nikle !* *Nikalna Bank Se Notoun Ka Sunte Aaye Hain Lekin,* *Bahot Be-Abro Ho kar State Bank* *Se Hum Nikle !* *Bacha Nahi Jeib Mein Sau Ka Note Ek Bhi Ab,* *Hui Subha Aur Ghar Se ATM Khojte Hum Nikle !* *Is Daur Me Koi Toh Uss Bank Ka Pata Bata De,* *Jahan Bina Line Me Lage Paise Le Ke Hum Nikle !* *Is Muflisi Me Nahi Hai Farq Jeene Aur Marne Ka,* *Usi Ko Dekh Kar Jeete Hain Jis Dhan Pe Dam Nikle !* *Khuda Ke Waaste ATM Me Kuch Toh Daal De Zaalim,* *Kahin Aisa Na Ho Yahan Se Bhi Khaali Jeib Hum Nikle !* ★

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.