Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 01/03/16 in all areas

  1. محبت حلال یا حرام رات کا آخری پہر تھا ، وہ دونوں مزے کی نیند سوۓ ھوئے تھے ، کیف و مستی میں ڈوبے ھوئے ، ، ، نوجوان کی آنکھ کھلی ،اس نے کمرے میں جلتی مدھم لائٹ میں کلاک کو دیکھا ، ، اوہ ،،،! بہت لیٹ ھو گئے ، ، اس نے سوچا ، ، ، ابھی اور آرام کر لیں !! نہیں ، ،اس نے اس خیال کو جھٹکا اور اُٹھ کر باتھ روم کی طرف بڑھ گیا ، ، ، ، وہ غسل کر کے باہر نکلا تو اس نے ایک محبت بھری نگاہ اپنی منکوحہ پر ڈالی اور محبت بھری آواز سے اسے بیدار کرنا چاھا ، مگر وہ کامیاب نہ ھو سکا ، وہ دوبارہ باتھ روم میں داخل ھوا،اپنے ھاتھ گیلے کیے اور ایک چھینٹا اس پر مارا ،، اس نے کسمسا کر آنکھیں کھول دیں ۔وہ مسکرایا اور اسے تہجد کے لیے خبردار کیا ، ، !! یہ تھی وہ محبت بھری کوشش اس مبارک جوڑے کی کہ جس پر اللہ تعالی بھی فرشتوں پر فخر فرماتے ھیں اور ان کی بخشش کا اعلان فرماتے ہیں ، ان پر خاصی رحمتِ الٰہی کا نزول ھو رھا تھا ۔ ۔!!! ۔ ۔ایک پاکیزہ محبت چودہ فروری کی ایک تاریک شام ۔ ، ،۔ ۔ ۔! اسے بار بار لوّ میسج وصول ھو رھا تھا ، اس نے مسکرا کر اسے اوکے کر دیا اور گھر سے نکلنے کی ترکیب سوچنے لگی ۔ ۔ !۔ تھوڑی دیر بعد ۔ ۔ ۔ وہ اپنے یونیورسٹی فیلو کے ساتھ ایک جدید ھوٹل میں بیٹھی آئس کریم کھا رھی تھی ۔ ۔ ۔ ! ! ! ۔ ۔ غیر محرم ھوتے ھوئے اس ملاپ پر ان پر لعنت اللہ تعالی کی طرف سے برس رھی تھی ۔ ۔ لعن اللہ الناظر و المنظور الیہ ۔ ۔ ۔ ۔مگر وہ دونوں اس سے بے خبر تھے ۔ ۔ ۔ ۔ وہ اللہ تعالی کے غیر محرموں سے اجتناب کے احکامات کی دھجیاں اُڑا کر اللہ تعالی کے غضب اور قہر میں داخل ہو رھے تھے , ,اور اللہ کے عذاب کا کوڑا کسی بھی وقت ، کسی شکل میں ان پر برس سکتا تھا ۔ ۔ ۔ ، ، ، ، وہ اس کے حسن کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا رھا تھا ، شہوت اس کی آنکھوں میں ناچ رہی تھی ۔ ۔ ۔ آؤ ، ، ، ڈنر کے لیے میں نے ایک سیپریٹ کمرے میں بندوبست کروایا ھے ۔ ۔ ، ، اور وہ دونوں ایک خوبصورت ، ویل فرنشڈ کمرے میں داخل ہو رھے تھے ۔ ۔ ۔ مگر اسے معلوم نہ تھا کہ آج جو اس کا مدعی عشق ھے ، وہ کل کا بڑا بلیک میلر ثابت ہو گا ، اور کمرے میں لگے خفیہ کیمرے سے بنی ہوئی ایچ ڈی ویڈیو جہاں اس کے نام نہاد محبوب کے لیے کمائی کا ذریعہ ھو گی، وھیں وہ اس کی معصوم زندگی کو تلخ اور ناکام بنا دے گی ، ، ، مگر اس وقت تو اس کی آنکھوں پر جھوٹی محبت اور مغربی تہذیب کی نقل کا ایسا پردہ پڑا ھوا تھا کہ ۔ ۔ ۔۔اسے اپنی عزت ،اپنے خاندان کی عزت کے اُٹھتے ھوئے جناذے کا بھی احساس تک نہ تھا ۔ ۔ ۔ اور وہ ایک ایسی بند گلی میں پھنس چکی تھی جہاں سے واپسی ناممکن تھی ، ، ، ، مگر وہ خوش تھی ، ۔ ۔ ۔ ناجائز اظہار ِ محبت کی آزادی پر ۔ ۔ ۔ ایک بےحیاء دن # ویلنٹائن ڈے# کی یاد تازہ کرنے پر ۔ ۔ ۔ بہت بڑی قیمت چکانے کے باوجود ۔ ۔ ۔ !! کاش کوئی اس کو سمجھاتا تو آج اندھیروں اور ناکامیوں کے سفر سے وہ بچ جاتی ، ، ، ۔ ۔ یا اللہ اُمّتِ مسلمہ کی بچیوں کی حفاظت فرما ۔ ۔ ۔!!۔ ۔ آمین ، !!!
  2. شوق ہے یونہی چھیڑ خانی کا کون عاشق ہے کس مرانی کا آتشک ہوگئی ہے لوڑے کو خوب چرکا لگا ہے پانی کا اس زمانے میں گانڈ کا مرنا ہو گیا واقعہ کہانی کا حسن نے امتحان دل کے لیے روپ دھارا ہے مہترانی کا وہ بھی رکھتے ہیں گالیوں سے شوق یہ بھی عاشق خوش بیانی کا ہو اجازت تو بانہہ کھسکا لیں لو یہ تکیہ ہے شیروانی کا اس کی آب رواں کی چولی پر کیا دوپٹہ ہے کامدانی کا میرے دادا کے وقت میں کیا کیا نام چمکا ہے ان کی نانی کا
  3. ﻣﺎﺋﯿﮟ ﺩﻭﺍﺋﯽ ﺳﮯ ﮐﺐ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﯾﮏ ﻓﮑﺮ ﺍﻧﮕﯿﺰ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺖ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﻓﮑﺮ ﺍﻧﮕﯿﺰ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﺑﮭﯿﺠﯽ ﮨﮯ۔ ﺳﻮﭼﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﺷﯿﺌﺮ ﮐﺮﻭﮞ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺻﻞ ﺭﺍﺋﭩﺮ ﮐﺎ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮐﺲ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭘﯿﺶ ﺍٓﯾﺎ ﮨﮯ۔ ﮨﺎﺋﯽ ﺳﭩﺮﯾﭧ ﺳﺎﮨﯿﻮﺍﻝ ﭘﺮ ﻣﻮﭨﺮ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﮐﻮ ﭘﻨﮑﭽﺮ ﻟﮕﻮﺍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﺮ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮨﻔﺘﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺒﯿﺮﻭﺍﻻ ﻧﮧ ﮨﯽ ﺟﺎﻭﮞ ﺗﻮ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﮯ ،ﺩﯾﺮ ﺗﻮ ﻭﯾﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭﺟﮩﺎﮞ ﭘﭽﮭﻠﮯﺗﯿﻦ ﮨﻔﺘﮯ ﮔﺰﺭ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﮔﺰﺍﺭ ﮨﯽ ﻟﻮﮞ ﺗﻮ ﮔﺮﻣﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﭼﮭﭩﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﺑﺎﺭ ﭼﻼ ﺟﺎﻭﮞ ﮔﺎ۔ ﺍﺳﯽ ﺳﻮﭺ ﺑﭽﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﮈ ﭘﺮ ﮐﮭﮍﮮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﻨﺪﺭﮦ ﺳﻮﻟﮧ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﺘﻮﺟﮧ ﭘﺎﯾﺎ۔ﻭﮦ ﻋﺠﯿﺐ ﺳﻮﺍﻟﯿﮧ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺟﺎﻧﺐ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ،ﺟﯿﺴﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮦ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ۔ﻟﯿﮑﻦ ﺭﺵ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﭘﺎ ﺭﮨﺎﺗﮭﺎ۔ﺟﺐ ﭘﻨﮑﭽﺮ ﻟﮓ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﮐﻮ 100 ﺭﻭﭘﮯ ﮐﺎ ﻧﻮﭦ ﺩﯾﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ 20 ﺭﻭﭘﮯ ﮐﺎﭦ ﮐﺮ ﺑﺎﻗﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮ ﺩﯾﮯ۔ﻣﯿﮟ ﻣﻮﭨﺮ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﭘﺮ ﺳﻮﺍﺭ ﮨﻮﮐﺮ ﺟﻮﻧﮩﯽ ﻭﺍﭘﺲ ﺷﮩﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﮍﻧﮯ ﻟﮕﺎﺗﻮ ﻭﮦ ﻟﮍﮐﺎ ﺟﻠﺪﯼ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺁﮐﺮ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ " ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺟﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﻣﺰﺩﻭﺭﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﺎ ،ﺁﺝ ﺩﯾﮩﺎﮌﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﯽ ﺁﭖ ﻣﺠﮭﮯ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮐﺎ ﮐﺮﺍﯾﮧ 20 ﺭﻭﭘﮯ ﺩﮮ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ " ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﭼﭩﺘﯽ ﺳﯽ ﻧﮕﺎﮦ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮈﺍﻟﯽ ،ﺳﺎﺩﮦ ﺳﺎ ﻟﺒﺎﺱ،ﻣﺎﺗﮭﮯ ﭘﺮ ﺗﯿﻞ ﺳﮯ ﭼﭙﮑﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﺎﻝ ،ﭘﺎﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﻤﻨﭧ ﺑﮭﺮﺍﺟﻮﺗﺎ۔ﻣﺠﮭﮯ ﻭﮦ ﺳﭽﺎ ﻟﮕﺎ،ﻣﯿﮟ ﻧﮯ 20 ﺭﻭﭘﮯ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﺮ ﺭﮐﮫ ﺩﺋﯿﮯ ،ﻭﮦ ﺷﮑﺮﯾﮧ ﺍﺩﺍ ﮐﺮ ﮐﮯ ﭼﻠﻨﮯﻟﮕﺎ ﺗﻮ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻝ ﮐﯿﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﺁﯾﺎ ،ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ،ﺳﻨﻮ ،ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﯾﮩﺎﮌﯼ ﮐﺘﻨﯽ ﻣﻠﺘﯽ ﮨﮯ،ﺍﺱ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﻨﮯﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﺎﻗﯽ ﮐﮯ 60 ﺭﻭﭘﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮬﺎ ﺩﯾﮯ۔ﻭﮦ ﮨﭽﮑﭽﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮨﭩﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ " ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺟﺎﻥ ! ﻣﯿﺮﺍ ﮔﮭﺮ ﻣﻨﮉﮬﺎﻟﯽ ﺷﺮﯾﻒ ﮨﮯ،ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺪﻝ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﻞ ﺳﮯﻣﺎﮞ ﺟﯽ ﮐﯽ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﭨﮭﯿﮏ ﻧﮩﯿﮟ ،ﺍﻭﭘﺮ ﺳﮯ ﺩﯾﮩﺎﮌﯼ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﯽ،ﺳﻮﭼﺎ ﺁﺝ ﺟﻠﺪﯼ ﺟﺎ ﮐﺮ ﻣﺎﮞ ﺟﯽ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﮐﺮ ﻟﻮﮞ ﮔﺎ " ۔ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﯾﮧ ﭘﯿﺴﮯ ﻟﮯ ﻟﻮ ﻣﺎﮞ ﺟﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺩﻭﺍﺋﯽ ﻟﮯ ﺟﺎﻧﺎ۔ﻭﮦ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ " ﺩﻭﺍﺋﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﮐﻞ ﮨﯽ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ﺁﺝ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﺍ ﺩﻥ ﻣﺎﮞ ﺟﯽ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺭﮨﻮﮞ ﮔﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﮨﯽ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﯽ،ﻣﺎﺋﯿﮟ ﺩﻭﺍﺋﯽ ﺳﮯ ﮐﮩﺎﮞ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺑﺎﺑﻮﺟﯽ "! ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮ ﮐﺮﭘﻮﭼﮭﺎ ،ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﻧﺎﻡ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟ ﺍﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﺲ ﺑﮭﯽ ﺁﮔﺌﯽ،ﻭﮦ ﺑﺲ ﮐﮯ ﮔﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﻟﭙﮏ ﮐﺮ ﭼﮍﮪ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﻣﺴﮑﺮﺍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ ﺑﻮﻻ " ﮔﻠﻮ " ۔ﮔﻠﻮ ﮐﯽ ﺑﺲ ﭼﻞ ﭘﮍﯼ ﻟﯿﮑﻦ ﮔﻠﻮ ﮐﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﯿﮯ ﮨﻮﺋﮯ 60 ﺭﻭﭘﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﮨﺘﮭﯿﻠﯽ ﭘﺮ ﭘﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭﻣﯿﮟ ﮨﺎﺋﯽ ﺳﭩﺮﯾﭧ ﮐﮯ ﺭﺵ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﯾﮏ ﺩﻡ ﺑﮩﺖ ﺍﮐﯿﻼ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔ﮐﭽﮫ ﺳﻮﭺ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﻮﭨﺮﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﮐﺎﺭﺥ ﺭﯾﻠﻮﮮ ﺍﺳﭩﯿﺸﻦ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﻮﮌ ﻟﯿﺎ۔ﻣﻮﭨﺮ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﮐﻮ ﺍﺳﭩﯿﻨﮉ ﭘﺮ ﮐﮭﮍﺍ ﮐﺮﮐﮯ ﭨﻮﮐﻦ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭨﮑﭧ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ 50 ﺭﻭﭘﮯ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻧﯿﻮﺍﻝ ﮐﺎ ﭨﮑﭧ ﻟﮯ ﮐﺮ ﮔﺎﮌﯼ ﮐﮯ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﻨﭻ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ۔ﮐﺐ ﮔﺎﮌﯼ ﺁﺋﯽ ،ﮐﯿﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺍﺭ ﮨﻮﺍ ﮐﭽﮫ ﺧﺒﺮ ﻧﮩﯿﮟ، ﺧﺎﻧﯿﻮﺍﻝ ﺍﺳﭩﯿﺸﻦ ﭘﺮ ﺍﺗﺮ ﮐﮯ ﭘﮭﺎﭨﮏ ﺳﮯ ﮐﺒﯿﺮﻭﺍﻻ ﮐﯽ ﻭﯾﻦ ﭘﺮ ﺳﻮﺍﺭ ﮨﻮﺍ،ﺁﺧﺮﯼ ﺑﭽﮯ ﮨﻮﺋﮯ 10 ﺭﻭﭘﮯ ﮐﺮﺍﯾﮧ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺟﺐ ﺷﺎﻡ ﮈﮬﻠﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﺳﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺻﺤﻦ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﺭﭘﺎﺋﯽ ﭘﺮ ﺍﻣﯽ ﺟﺎﻥ ﺳﺮ ﭘﺮ ﮐﭙﮍﺍ ﺑﺎﻧﺪﮬﮯ ﻧﯿﻢ ﺩﺍﺭﺯ ﺗﮭﯿﮟ۔ﻣﯿﺮﺍ ﺑﮍﺍ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺩﻭﺍﺋﯽ ﮐﺎ ﭼﻤﭻ ﺑﮭﺮ ﮐﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﭘﻼ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯽ ﺍﻣﯽ ﺟﺎﻥ ﺍﭨﮫ ﮐﺮ ﮐﮭﮍﯼ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﻧﭽﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﯿﮟ " ﺍﻭ ! ﻣﯿﺮﺍ ﭘﺘﺮﺧﯿﺮ ﺳﮯ ﮔﮭﺮ ﺁﮔﯿﺎ ﮨﮯ ! ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﻮﮞ " ۔ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮ ﺑﮭﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﻭﮌ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﺟﺎﻟﮕﺎ۔ ﺑﺲ ﮐﮯ ﮔﯿﭧ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍﮮ ﮔﻠﻮﮐﺎ ﻣﺴﮑﺮﺍﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﭼﮩﺮﮦ ﯾﮏ ﺩﻡ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ 60 ﺭﻭﭘﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﯿﮯﺗﮭﮯ۔ ﭼﺮﺍﻍ ﻟﮯ ﮐﮯ ﮐﻮﺋﯽ ،ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﻔﺮ ﻣﯿﮟ ﺟﮩﺎﮞ ﺭﺍﺕ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺗﮭﯽ
  4. چلتی ہو ہلا ہلا کے کیا مار ڈالو گی مجھے نہیں دو گی تو کیا اچار ڈالو گی

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.