پاکستان میں لڑکی کے ریپ کی فلم بنانے اورشیئر ہونے کی کہانی
پاکستان کے ایک دیہاتی علاقے میں نوجوان لڑکی سے جنسی درندگی اور اس کی ویڈیو بنائے جانے پر لڑکی خاموش رہی لیکن جب موبائل فون اور انٹرنیٹ پر ویڈیو کی بڑی تعداد میں شیئرنگ ہوئی تو انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کو مذکورہ ویڈیو شیئرنگ سے روکنے کیلئے کچھ کوشش کی گئی ۔ برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘نے پاکستان میں ایک ریپ کے کیس کو اجاگر کیا گیا جس کی ویڈیو عام کردی گئی تھی جس کے بعد انگریزی کہانی کاقارئین کی آسانی کیلئے اردومیں ترجمہ کیاجارہاہے۔ رپورٹ کے مطابق23سالہ سعدیہ (اصل نام نہیں )کاخیال تھاکہ اگر وہ خاموش رہی تواس سے اُس کی بدنامی نہیں ہوگی اور لوگ ریپ کا شکار ہونیوالی کے حوالے سے شناخت نہیں بنائیں گے لیکن کچھ دنوں یا ہفتوں بعد بدفعلی کی دوویڈیوز شیئرہوناشروع ہوگئیں ،ایک کا دورانیہ پانچ منٹ اور دوسری کا چالیس منٹ تھا۔ ویڈیو میں دکھایاگیاکہ چارافراد لڑکی کاباری باری ریپ کرتے ہیں اور جب وہ رحم کی اپیل کرتی ہے توجلدہی پنجاب کے قصبوں اور دیہاتوں میں ویڈیو پھیلناشروع ہوجاتی ہے ۔ سعدیہ کے والد نے بتایاکہ ’خاندان میں ویڈیو دیکھنے والا پہلا شخص بڑا بھائی تھاجس نے ویڈیو دیکھ کر سعدیہ کو پہچانا اور پھر اُن کے پاس آیا، سعدیہ بہت شرمند ہ تھی اور باپ ہونے کی وجہ سے اُس نے مجھے نہیں بتایا، اگرا ُس کی والدہ زندہ ہوتیں تو یقین ہے کہ وہ اُنہیں لازمی بتاتی ‘۔معاملہ علم میں آنے کے بعد رپورٹ درج کرائی اور چھوٹے سے علاقے میں ملزمان کو شناخت کرنا مشکل نہیں تھااور چاروں کو گرفتارکرلیاگیا۔ لڑکی کی عمر ابھی 23سال ہے لیکن وہ اس سے کہیں کم عمر دکھائی دیتی ہے ، والدہ کی وفات کے بعد اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی وہ ماں کی طرح پرورش کررہی ہے ۔ سعدیہ نے بتایاکہ’ وہ اپنی چھوٹی بہن کا سکول یونیفارم خریدنے دکان پر جارہی تھی کہ اسلحہ کے زور پر چارافراد نے اُسے کارمیں ڈال لیاگیا، ایک ویران گھر میں لے جاکر جنسی زیادتی کی جبکہ ایک موبائل فون سے ویڈیو بناتے رہے ، رحم کی اپیل کرنے پر ملزموں نے مزید تشددکا نشانہ بناناشروع کردیا،ملزمان کاکہناتھاکہ اگر اُن کی بات نہ مانی گئی تو وہ ویڈیو انٹرنیٹ پر ڈال کر پھیلادیں گے اور اُس کے بہن بھائیوں کو بھی نقصان پہنچائیں گے “۔ سعدیہ کاکہناتھاکہ اُسے اپنی فکر نہیں لیکن وہ نہیں چاہتیں کہ اُس کی وجہ سے اُس کے بہن بھائیوں کو نقصان پہنچے اوریہی وجہ تھی کہ کسی سے ذکر نہیں کیا، وہ بڑے پیمانے پر ویڈیو پھیلنے سے باخبرہے،بہت سے لوگ صرف تفریح کیلئے یہ ویڈیو دیکھ رہے ہیں ‘۔ بی بی سی کے مطابق فیس بک سمیت سوشل میڈیا اور بلوٹوتھ کے ذریعے موبائل فون پر بڑی تعداد میں شیئرہوئیں اور تاحال شیئرنگ ہورہی ہے کیونکہ اِسے روکنے کیلئے پاکستان میں قانون ہی موجود نہیں ۔ سعدیہ پنجاب کے ایک روایتی گاﺅں میں رہتی ہے جس کے کچے گھر کے اردگرد گنے کے کھیت ہیں ۔ بی بی سی کی نمائندہ نے لکھاکہ جب وہ تھانے میں ریمانڈ پر موجود ملزموں سے ملنے گئی تواُنہوں نے خبر عام کرنے سے روکنے کے لیے ہاتھ جوڑ لیے ، اُن کا مقدمہ تاحال زیرسماعت ہے ۔ ملزموں پر اغواء، گینگ ریپ او رفحاشی پھیلانے کا الزام عائد کیاگیاہے جبکہ ویڈیو تاحال آن لائن موجود ہے لیکن پولیس کا موقف ہے کہ وہ ویڈیو کوہٹانے کیلئے کوشش کررہے ہیں ، جہاں تک گینگ ریپ کا تعلق ہے تو ویڈیو کی موجودگی کی وجہ سے سعدیہ کا کیس کافی مضبوط ہے ۔ ویڈیو کی موجودگی کی وجہ سے سعدیہ اپنے ہی گھر میں قیدی بن کر رہ گئی ہیں۔ سائبرکرائم سے متعلق ماہروکلاءکا کہناہے کہ پاکستان میں ایساکوئی مخصوص قانون موجود نہیں جس کے تحت ویب سائیٹس کو حکم دیاجائے کہ ویڈیو ہٹائی جائے ، سیاسی عدم دلچسپی کی وجہ سے مستقبل قریب میں بھی ایسی کوئی پیش رفت دکھائی دیتی نظر نہیں آرہی ۔ بی بی سی نے لکھاکہ یہ معاملہ عالمی نشریاتی ادارے کے علم میں اس وقت آیا جب ایک شہری نے فیس بک پیج پر ویڈیو کے ساتھ اپیل کی تھی ، دلخراش مناظر دیکھنے کے بعد معاملے کی تحقیقات کا فیصلہ کیا۔