Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 23/10/15 in all areas

  1. 1 like
    پیاسا کو ّا ایک کو ّاشدید پیاس کے عالم میں ادھر ادھر مارا مارا پھررہا تھا مگر پانی کا کہیں نام و نشان تک دکھائی نہ دیا، اچانک نیچے اسے پانی اور کچھ کنکر نظر آئے اس کی جان میں جان آئی اور دل ہی دل میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا شکرادا کرنے کے بعد نیچے اترآیا۔ جونہی وہ بے چارہ پانی میں کنکر ڈالنے کے لئے لپکا تو نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا۔ پولیس نے پرچہ درج کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ بہت جلد قاتلوں کو گرفتار کرلے گی۔ نتیجہ جس ملک میں کوے ہی محفوظ نہ ہو وہاں عام شہریوں کو بھلا کون پوچھتا ہے۔ لالچی کتا ایک کتا جو شکل و ہ شباہت سے ہی بلا کا خبیث دکھائی دیتا تھا ،قصائی کی دکان سے گوشت کا ایک ٹکڑا چرا لایا، ابھی اس نے ایک قریبی نالے میں اپنا عکس دیکھ کر اترانے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ سیلابی ریلا اسے بہا کر لے گیا۔ نتیجہ، پاکستان میں موت ،مارشل لاء اور سیلاب کا کوئی وقت متعین نہیں۔ کچھوا اور خرگوش ایک مکار اور تیز طرار خرگوش نے کئی دن سے اپنے ہمسائے کھچوے کاجینا حرام کر رکھا تھا۔ وہ اٹھتے بیٹھتے اسے ریس لگانے کی دعوت دیتا اور زچ کرتا۔ ایک اور کچھوے نے سوچا کہ یہ بیہودہ شخص (مراد خرگوش) ضرورت سے کچھ زیادہ ہی تنگ کرنے لگا ہے چنانچہ پہلی فرصت میں ہی اس گستاخ کو نہایت عبرتناک سزادینے کی اشد ضرورت ہے۔ اس نے خرگوش کا چیلنج قبول کیا اور مقررہ وقت پر یہ ریس شروع ہوگئی۔فتح کے نشے میں سرشار خرگوش چار قلانچیں بھرنے سے ہی سست رفتار کچھوے کو بہت پیچھے چھوڑ گیا۔ ایک شجر سایہ دار تلے بیٹھ کر اطمینان سے چرس وغیرہ کا لطف اٹھاتے اٹھاتے یہ بدنصیب سچ مچ خواب خرگوش کے مزے لینے لگا۔ اتنے میں کچھوا موقع پر پہنچا اور خرگوش کو سوتا دیکھ کر اطمینان کے ساتھ اس کے قریب گیا اس کی جیب سے نہایت قیمتی موبائل اور نقدی نکالی اور فرار ہوگیا۔ پورے شہر کی پولیس جگہ جگہ چھاپے ماررہی ہے مگر متعلقہ کچھوے کا کوئی نام و نشان تک نہیں ملا۔ نتیجہ کھیل کے دوران چرس سے لطف اندوز ہونا نہایت گھٹیا حرکت ہے۔ الہ دین کا چراغ الہٰ دین کا نام تو منشیوں اور محرروں جیسا تھا مگر کہتے ہیں کہ یہ بھی ایک مشہور عربی لوک داستان کا ہیرو ہوا کرتا تھا۔ ایک روز اچانک راہ چلتے چلتے اسے ایک چراغ مل گیا۔ اس نے اسے رگڑا تو وہ زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔ بے چارہ الہٰ دین اپنے چار ساتھیوں سمیت جاں بحق ہوا جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔ نتیجہ، جب کوئی چیز پھٹنے پر آجائے تو بہر صورت پھٹ کر دکھاتی ہے۔
  2. یہ گزشتہ سال کی بات ہے۔ میں اپنے آفس میں کام کررہا تھا کہ میرے کولیگ وقاص کا موبائل فون بج اٹھا۔ اس نے کال ریسیو کی، فون رکھنے کے بعد وہ خاصا پریشان نظر آرہا تھا۔ میں نے پوچھا کہ” کیا ہواوقاص! کوئی پریشانی ہے؟“ کہنے لگا کہ” ہاں یار!بہت بڑی مصیبت میں پھنس گیا ہوں۔“ ”اوہ، اللہ خیر کرے، کچھ بتائیں تو سہی۔“ میرے استفسار پر وقاص نے انتہائی پریشانی کے عالم میں مختصراًبتایا کہ” میری بیوی کا فون تھا، میرے بیٹے عمران کو کسی نے گولی ماردی ہے اور وہ شدید زخمی حالت میں جناح ہسپتال میں ایڈمٹ ہے، مجھے فوراًجانا ہوگا۔“ وقاص صاحب فوراً آفس سے نکلے اور گاڑی کی طرف لپکے۔ اُنہیں کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ سب اتنا اچانک کیسے ہوا؟ٹینشن کی وجہ سے اُن کادماغ ماﺅف ہوا جارہا تھا۔ آندھی طوفان کی طرح گاڑی چلاتے ہوئے وہ تیزی سے ہسپتال پہنچنا چاہتے تھے۔وہ برق رفتاری سے شہر کی سڑکوں پر گاڑی دوڑارہے تھے۔ اُن کا ذہن ڈرائیونگ کی بجائے اپنے بیٹے کی طرف الجھاہواتھا۔ اچانک سامنے سے آنے والی ایک بس سے ان کی گاڑی بری طرح ٹکرائی اور سڑک پر لڑھکتی گئی۔ کچھ دیر بعد ایمبولینس وقاص صاحب کی لاش لیے جناح ہسپتال کی طرف جارہی تھی۔ جب اُن کے گھر والوں کوفون کرکے ایکسیڈنٹ کے متعلق بتایا گیا تو ان کے بوڑھے والدین اس صدمے کو برداشت نہ کرسکیں اور فوری ہارٹ اٹیک کی وجہ سے دونوں موت کے منہ میں چلے گئے۔ دوسری طرف وقاص کی بیوی پھٹی پھٹی آنکھوں سے یہ منظر دیکھ رہی تھی جہاں اس کا منایا گیا "چھوٹا سا" اپریل فول اس کی زندگی میں قیامت برپا کر چکا تھا۔
  3. ایمن ان دنوں بری طرح ٹوٹ رہی تھی ۔ جم جیسی محبت کا یہ روپ کس نے دیکھا ھو گا آج تک? کیا مغرب میں محبت ایسے کی جاتی ھے? وہ کء بار اپنے آپ سے یہ سوال پوچھ چکی تھی? ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ عامر اس سے کوئی بات نا کرتا تھا اور پورے آفس کو علم ہونے کے باوجود وہ اس پورے معاملے سے قطعی لا تعلق نظر آتا تھا۔ ایک لفظ بھی ہمدردی کا نہیں بولا اورنا اس نے ایک بار بھی ایمن سے اس پورے معاملے کے بارے میں ایک لفظ بھی پوچھا تھا۔ الٹا وہ ان دنوں ہر وقت کسی نہ کسی کام میں بہت مصروف نظر آتا تھا ۔ عامر شاید اس لئے خود کو ہر وقت بہت مصروف ظاہر کرتا کہ اسکو بھی بےکار جان کر جاب سے فارغ نا کر دیا جائے۔ آجکل وہ "ڈو نتھینگ لک بزی" کی عملی تصویر بنا ہوا تھا۔ وہ سارا سارا دن فائل روم میں گھسا ہزاروں فائلیں الٹتا پلٹتا رہتا۔ اسکو تو جیسے ایمن کے ہونے نا ہونے کا احساس تک مٹ چکا تھا۔ کبھی کبھار فائلوں کے پلندے اٹھا کر گھر لے آتا اور ساری ساری رات ان میں پتہ نہیں کیا چھانا کرتا۔ آخر وہ فرائڈے آ ہی گیا جس کے آنے کے خوف سے ایمن کا وجود کانپ رہا تھا۔ اسکو آفس میں بلوا لیا گیا اور ساتھ ہی اس کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے صرف "لےآف" کیا گیا اور جیل بھیجنے کا ارداہ ترک کر دیا گیا تھا۔ وہ کانپتے ہاتھوں سے ان کاغذات پر سائن کر رہی تھی جب عامر ہاتھ میں ہزاروں فائلوں کے پلنڈے پکڑے بلا اجازت زبردستی آفس میں گھس آیا اور بولا "میں بلا اجازت اندر آنے کی معافی بعد میں مانگ لوں گا مگر پلیز آپ لوگوں کے لئے جو اہم معلومات لایا ہوں انکو پہلے غور سے دیکھ لیں۔ وہ سب لوگوں کو کچھ ہینڈ آؤٹس پکڑانے لگا۔ یہ سب قصور دراصل جم کا ہے اور اس نے اپنی جاب بچانے کی خاطر کاغذات میں رد وبدل کر کے اسے ایمن کی غلطی بنا دیا ہے" یہ سن کر جم نے آفس سے بھاگنے کی کوشش کی مگر عامر نے پہلے ہی ڈور لاک کر دیا تھا۔ ------------------------------------------------- ایمن نے تشکر سے بھیگی آنکھوں سے عامر کو دیکھا۔ اب اسکی سمجھ میں یہ راز بھی آ گیا کہ عامر صبح شام ان فائلوں میں سر کھپا کر ایمن کی بے گناہی کے ثبوت ڈھونڈ رہا تھا۔ اسکا دل عامر کے لئے پیار سے لبالب بھر گیا اور بے اختیار اسکی طرف لپکی تو راستے میں ٹھوکر کھا کر گر پڑی۔ عامر نے آگے بڑھکر اسکو زمین سے اٹھایا اور بولا "ایک دن ایک سبق تم نے مجھے دیا تھا،" کوا چلا ہنس کی چال والا " جب میری سمجھ میں اسکا مطلب آنے لگا تو تم خود اسکا مقصد بھولنے لگی تھیں۔ میرا خیال ہے اب وہ تو ہم دونوں کی سمجھ میں اچھی طرح آ گیا ہے۔ ھیپی اینڈ

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.