Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 06/09/15 in all areas

  1. مجھے بچپن سے ہی انگریزی میں فیل ہونے کا شوق تھا لہٰذا میں نے ہر کلاس میں اپنے شوق کا خاص خیال رکھا ۔ ویسے تو مجھے انگریزی کوئی خاص مشکل زبان نہیں لگتی تھی ، بس ذرا اسپیلنگ ، گرائمر اور Tenses نہیں آتے تھے ۔ مجھے یاد ہے جو ٹیچر ہمیں کلاس میں انگریزی پڑھایا کرتے تھے وہ بھی کاٹھے انگریز ہی تھے ۔ . دو سال تک سی-یو-پی "سَپ" پڑھاتے رہے ۔ مشین کو مچین اور نالج کو کنالج کہتے رہے ۔ ایسی تعلیم کے بعد میری انگریزی میں اور بھی نکھار آ گیا ۔ . کالج میں داخلہ کے وقت فارم کے پہلے کالم میں اپنا نام انگریزی میں لکھنا تھا لیکن انگریزی سے نابلد ہونے کی وجہ سے مجھے یہ نام لکھنے کے لئے اسلام آباد کا سفر کرنا پڑا کیونکہ فارم پر لکھا ہوا تھا "Fill in Capital"۔ انگریزی فلمیں دیکھتے ہوئے بھی مجھے کہانی تو سمجھ آ جاتی تھی ، اسٹوری پلّے نہیں پڑتی تھی ۔ سِکس مِلین ڈالر مَین ، نائٹ رائڈر ، چِپس ، ائیر وُولف اور کوجیک جیسی مشہورِ زمانہ فلمیں میں نے صرف اور صرف اپنی ذہانت سے سمجھیں اور انجوائے کیں ۔ . آج سے کچھ سال پہلے تک مجھے یقین ہو چکا تھا کہ میں فارسی ، عربی ، پشتو اور اشاروں کی زبان تو سیکھ سکتا ہوں لیکن انگریزی نہیں ، لیکن اب جو حالات چل رہے ہیں اُن کو مدِ نظر رکھ کر میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ یا تو مجھے انگریزی آ گئی ہے یا سب کو بھول گئی ہے ۔ کچھ بھی ہو ، میری خوشی کی انتہا نہیں ۔ . اب سارے اسپیلنگ بدل گئے ہیں اور دو تین لفظوں میں سما گئے ہیں ۔ اب Coming لکھنا ہو تو صرف cmg سے کام چل جاتا ہے ۔ گَرل فرینڈ GF ہو گئی ہے اور فیس بُک FB بن گئی ہے ۔ اب کوئی انگریزی کا لمبا لفظ لکھنا ہو تو اُس سے پہلے کے چند الفاظ لکھ کر ہی ساری بات کہی جا سکتی ہے ۔ میں نے ساڑھے تین سال کی ٹیوشن با مشقت کے بعد Unfortunately کے اسپیلنگ یاد کئے تھے ، آج کل صرف unfort سے کام چل جاتا ہے یعنی جیاں سے مشکل اسپیلنگ شروع وہیں پہ ختم ۔ . بات یہاں تک رہتی تو ٹھیک تھا لیکن اب تو اِس مختصر انگریزی میں بھی ایسی ایسی مشکلات آن پڑی ہیں کہ کئی دفعہ جملہ سمجھنے کے لئے استخارہ کرنا پڑتا ہے ۔ ابھی کل مجھے ایک دوست کا میسیج آیا ، لکھا تھا "u r inv in bk crmy" ۔ میں نے حیرت سے میسیج کو پڑھا ، اللہ جانتا ہے تین چار دفعہ مجھے شک گزرا کہ اُس نے مجھے کوئی گندی سی گالی لکھی ہے ۔ دل مطمئن نہ ہوا تو ایسی ہی انگریزی لکھنے اور سمجھنے کے ماہر ایک اور دوست سے رابطہ کیا ۔ اُس مردِ مجاہد نے ایک سیکنڈ میں ٹرانسلیشن کر دی کہ لکھا ہے "you are invited in book ceremony" ۔ . انگریزی سے نمٹنے کا ایک اور اچھا طریقہ میرے ہمسائے شاکر صاحب نے نکالا ہے ۔ جہاں جہاں انہیں انگریزی نہیں آتی ، وہاں وہ اطمینان سے اردو ڈال دیتے ہیں ۔ مثلاً اگر کھانا کھاتے ہوئے اُنہیں کسی کا میسیج آ جائے تو جواب میں لکھ بھیجتے ہیں "پلیز ، اِس ٹائم ناٹ ڈسٹرب۔ آئی ایم کھانا کھائینگ" ۔ . ایک دفعہ موصوف کو فیس بُک پر ایک لڑکی پسند آ گئی ، فوراً لکھا ... "آئی وانٹ ٹُو شادی وِد یو ۔ ۔ ۔ آر یُو راضی؟" ۔ . لڑکی کا جواب آیا... "ہاں ، آئی ایم راضی۔ بَٹ پہلے ٹرائی ٹُو راضی میرا پیو تے بےبے" ۔ . آج کل یہ دونوں میاں بیوی ہیں اور اکثر اسی انگریزی میں لڑائی جھگڑا کرتے ہیں ، تاہم اب وہ درمیان میں اردو کی بجائے پنجابی بولتے ہیں اور ایک جملہ بار بار دہراتے ہیں... . "آئی سَیڈ ، کھَصماں نُوں کھا ۔ یوور سارا خاندان اِز چَوَل"۔ . )بشکریہ گُل نو خیز اختر(
  2. 2 likes
    اس آدمی نے 37 سال کی شادی کے بعد نوجوان محبوبہ کیلئے اپنی بیگم کو گھر سے نکال دیا، پھر بیوی نے کیسے انتقام لیا...؟ جان کر آپ ہنسی روک نہ پائیں گے جیک اور ایڈیتھ 37 سال سے خوشحال اور پرسکون ازدواجی زندگی گزار رہے تھے مگر جب جیک کی نوجوان سیکرٹری نے اس پر اپنے حسن کا جادو کیا تو اس نے نہ صرف ایڈیتھ کو طلاق دے دی بلکہ اسے اپنے کروڑوں ڈالر کے محل نما گھر سے بھی محض تین دن میں نکل جانے کا حکم دے دیا۔ بیچاری ایڈیتھ نے ایک دن اپنا سامان پیک کرنے میں صرف کیا، دوسرے دن مزدور بلوا کر سارا سامان نئی جگہ منتقل کروایا اور اس گھر میں اپنے آخری دن کے موقع پر ایک بہت ہی خاص کام کیا۔ . ایڈیتھ نے جھینگوں اور چٹنی کے ساتھ اپنی آخری دعوت خود ہی کی اور پھر جھینگے کے خول، اور مچھلی کے انڈوں اور نمک سے تیار کردہ چٹنی میں ڈبوئے اور یہ خول تمام گھر میں پردے لٹکانے والے پائپوں کے اندر ڈال دئیے۔ . اگلے دن جیک اور اس کی محبوبہ اپنے محل میں رہنے کیلئے آگئے۔ . کچھ دن تو بہت مزے میں گزرے لیکن پھر سارے گھر میں عجیب سی بو پھیلنا شروع ہوگئی جو آہستہ آہستہ اس قدر تیز ہوگئی کہ گھر میں رہنا ناممکن ہوگیا۔ . جیک نے سارے گھر میں خوشبو کا چھڑکاؤ کروایا، پردے اور قالین تبدیل کروائے، ہر طرح کے ماہرین سے مشورہ لیا، لیکن بو کا کوئی علاج نہ ہوا۔ آخر کار بیچارے نے گھر بیچنے کا فیصلہ کیا لیکن اس کی بدبو کی کہانی سارے شہر میں مشہور ہوچکی تھی اور کوئی اسے خریدنے کو تیار نہیں تھا۔ . جب یہ خبر ایڈیتھ تک پہنچی تو اس نے جیک سے کہا کہ جس گھر میں اس نے زندگی گزاری ہے وہ جیسا بھی ہے وہ اسے خریدلے گی، اور پھر اصل قیمت کے دسویں حصے میں گھر ایڈیتھ نے خریدلیا۔ . جیک اور اس کی محبوبہ بہت خوش تھے کہ انہوں نے بہت بڑی مصیبت سے جان چھڑوالی۔ . ایک ہفتے بعد جب ان کا سارا سامان پیک کرکے نئے گھر لے جایا جارہا تھا تو وہ خوشی سے پھولے نہیں سمارہے تھے۔ نئے گھر لے جائے جانے والے سامان میں ہر چیز شامل تھی۔ . . . پردے لٹکانے والے پائپ بھی۔
  3. سترہ ﺳﺘﻤﺒﺮ 2005 ﺀ ﮐﻮ ﻭﺍﮨﮕﮧ ﺑﺎﺭﮈﺭ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﺑﮭﺎﺭﺗﯽ ﺣﮑﺎﻡ ﻧﮯ ﻗﯿﺪﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﮔﺮﻭﭖ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﺣﮑﺎﻡ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﮐﯿﺎ -ﺍﺱ ﮔﺮﻭﭖ ﻣﯿﮟ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻧﻮﻋﯿﺖ ﮐﮯ ﻗﯿﺪﯼ ﺗﮭﮯ - . ﺍﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﭩﮭﮍﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﺷﮑﻞ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﺷﺎﯾﺪ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺗﮭﮯ - ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﮔﺮﻭﭖ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﭨﮫ ﭘﯿﻨﺴﭩﮫ ﺳﺎﻟﮧ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﺑﮭﯽ ﺷﺎﻣﻞ ﺗﮭﺎ - ﺟﺲ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﭩﮭﮍﯼ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ - . ﺟﺴﻢ ﭘﺮ ﮨﮉﯾﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮨﮉﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﻤﭩﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮐﮭﺎﻝ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﮔﻮﺷﺖ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ - ﺍﻭﺭ ﺟﺴﻢ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﮍﺍ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﭘﺘﻨﮓ ﮐﯽ ﺍﻭﭘﺮ ﻭﺍﻟﯽ ﮐﺎﻥ ﻣﮍﯼ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ - ﺧﻮﺩﺭﻭ ﺟﮭﺎﮌﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﺮﮐﮯ ﺑﮯ ﺗﺮﺗﯿﺐ ﺑﺎﻝ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻃﻮﯾﻞ ﻋﺮﺻﮯ ﺗﮏ ﺍﻥ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﻧﮯ ﺗﯿﻞ ﯾﺎ ﮐﻨﮕﮭﯽ ﮐﯽ ﺷﮑﻞ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ - . ﺍﻭﺭ ﺩﮐﮫ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﮧ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﺱ ﻗﯿﺪﯼ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﮐﭩﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻥ ﺳﺎﺭﮮ ﻣﺼﺎﺋﺐ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺍﺱ ﻗﯿﺪﯼ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﭼﯿﺰ ﺑﮍﯼ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻋﺠﯿﺐ ﺳﯽ ﭼﻤﮏ ﺗﮭﯽ - ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﺣﮑﺎﻡ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﺑﺘﺪﺍﺋﯽ ﮐﺎﺭﺭﻭﺍﺋﯽ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻥ ﺳﺎﺭﮮ ﻗﯿﺪﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﻓﺎﺭﻍ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ - ﺳﺎﺭﮮ ﻗﯿﺪﯼ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ - ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﺑﻮﮌﮬﺎ ﻗﯿﺪﯼ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺍﯾﮏ ﻋﺠﯿﺐ ﻣﻨﺰﻝ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟ ﻧﮑﻞ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﺍ - . ﮐﺎﻧﭙﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﺗﻮﺍﮞ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﻭﮦ ﭨﻮﭨﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻟﮑﮫ ﻟﮑﮫ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﻨﺰﻝ ﮐﺎ ﭘﺘﮧ ﭘﻮﭼﮭﺘﺎ ﺭﮨﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻏﺮﯾﺐ ﺳﺎﺋﻞ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﮨﻨﻤﺎﺋﯽ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ - ﺍﻭﺭ ﯾﻮﮞ 2005 ﺀ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﻮﮌﮬﺎ ﺷﺨﺺ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺁﺭﻣﯽ ﮐﯽ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺸﻤﯿﺮ ﺭﺟﻤﻨﭧ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﯿﺎ ﻭﮨﺎﮞ ﭘﮩﻨﭻ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻋﺠﯿﺐ ﺩﻋﻮﯼ ﮐﺮﺩﯾﺎ - ﺍﺱ ﺩﻋﻮﮮ ﮐﮯ ﭘﯿﺶ ﻧﻈﺮ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺭﺟﻤﻨﭧ ﮐﻤﺎﻧﮉﺭ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺩﯾﺎ - . ﮐﻤﺎﻧﮉﺭ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭘﯿﺶ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯽ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﺍﺱ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﻧﺎﺗﻮﺍﮞ ﺷﺨﺺ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﺁﮔﺌﯽ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻓﻮﺟﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﻤﺎﻧﮉﺭ ﮐﻮ ﺳﻠﯿﻮﭦ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﮐﺎﻏﺬ ﭘﺮ ﭨﻮﭨﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺎ... . ” ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﻧﻤﺒﺮ 335139 ﮈﯾﻮﭨﯽ ﭘﺮ ﺁﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻤﺎﻧﮉﺭ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﮐﺎ ﻣﻨﺘﻈﺮ ﮨﮯ “ . ﮐﻤﺎﻧﮉﺭ ﮐﻮ ﮐﭩﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﮯ ﺍﺱ ﻻﻏﺮ , ﻧﺎﺗﻮﺍﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﺪﺣﻮﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺩﻋﻮﮮ ﻧﮯ ﭼﮑﺮﺍ ﮐﮯ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ - ﮐﻤﺎﻧﮉﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﺱ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﺱ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﺑﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻓﻮﺟﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﮭﺮﭘﻮﺭ ﺳﻠﯿﻮﭦ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ - . ﮐﻤﺎﻧﮉﺭ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﭘﺮ ﻗﯿﺪﯼ ﮐﮯ ﻟﮑﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻧﺎﻡ ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺒﺮ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﺟﺐ ﻓﻮﺟﯽ ﺭﯾﮑﺎﺭﮈ ﮐﯽ ﭘﺮﺍﻧﯽ ﻓﺎﺋﻠﻮﮞ ﮐﯽ ﮔﺮﺩ ﺟﮭﺎﮌﯼ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﺭﺷﺘﮧ ﺩﺍﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﮈﮬﻮﻧﮉ ﮐﮯ ﻻﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺩﻝ ﮨﻼ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺩﺍﺳﺘﺎﻥ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁﺋﯽ - ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺩﺍﺳﺘﺎﻥ ﺟﺎﻧﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺏ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ , ﻓﯿﺘﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺳﭩﺎﺭﺯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﺱ ﻻﻏﺮ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺳﻠﯿﻮﭦ ﻣﺎﺭ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ - . ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﺗﮭﺎ.. پینسٹھ ﺀ ﮐﯽ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﯿﭙﭩﻦ ﺷﯿﺮ ﮐﯽ ﻗﯿﺎﺩﺕ ﻣﯿﮟ ﺩﺷﻤﻦ ﮐﮯ ﻋﻼﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﻠﺤﮧ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﮈﭘﻮ ﮐﻮ ﺗﺒﺎﮦ ﮐﺮﮐﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺩﺷﻤﻦ ﺳﮯ ﺟﮭﮍﭖ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ - ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﭘﺸﺖ ﭘﺮ ﻭﺍﺋﺮﻟﯿﺲ ﺳﯿﭧ ﺍﭨﮭﺎﺋﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻓﺴﺮﺍﻥ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﺭﺳﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﻓﺮﺍﺋﺾ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺍﭨﮭﺎﺋﯽ ﮔﻦ ﺳﮯ ﺩﺷﻤﻦ ﮐﺎ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﺑﮭﯽ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺯﺧﻤﯽ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ - . ﺳﭙﺎﮨﯽ ﺍﺳﮯ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﻻﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺗﻮ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﻧﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎﮐﮧ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﺯﺧﻤﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺑﻮﺟﮫ ﺑﻨﻮﮞ , ﻣﯿﮟ ﺩﺷﻤﻦ ﮐﺎ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺁﭖ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﻣﮩﯿﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ - . ﺳﺎﺗﮭﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﺻﺮﺍﺭ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﭼﺎﻝ ﭼﻠﯽ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﮐﮭﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﺍ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮭﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺍﻭﺟﮭﻞ ﮐﺮﻟﯿﺎ - ﺩﻭﺳﺖ ﺗﻼﺵ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﻮﭦ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﭘﮭﺮ ﺩﺷﻤﻦ ﮐﮯ ﻓﻮﺟﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺁﮌﮮ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻟﯿﺎ - ﺍﺳﯽ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺩﺷﻤﻦ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﮔﻮﻟﮯ ﻧﮯ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﻮ ﺷﺪﯾﺪ ﺯﺧﻤﯽ ﮐﺮﺩﯾﺎ - ﻭﮦ ﺑﮯ ﮨﻮﺵ ﮨﻮ ﮐﺮ ﮔﺮﭘﮍﺍ ﺍﻭﺭ ﺩﺷﻤﻦ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮐﺮﻟﯿﺎ - . ﺟﻨﮓ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﻝ ﭼﮭﭩﮯ ﺗﻮ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻣﻠﮑﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﻗﯿﺪﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﻓﮩﺮﺳﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺗﺒﺎﺩﻟﮧ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﻧﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﺎ ﺫﮐﺮﻧﮧ ﮐﯿﺎ - ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻓﻮﺝ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﻮ ﺷﮩﯿﺪ ﺗﺼﻮﺭﮐﺮﻟﯿﺎ - ﺑﮩﺎﺩﺭ ﺷﮩﯿﺪﻭﮞ ﮐﯽ ﺑﻨﺎﺋﯽ ﮔﺌﯽ ﺍﯾﮏ ﯾﺎﺩﮔﺎﺭ ﭘﺮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﮐﻨﺪﮦ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ - . ﺍﺩﮬﺮﺑﮭﺎﺭﺗﯽ ﻓﻮﺝ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﮐﮍﯾﻞ ﺟﺴﻢ ﮐﮯ ﻣﺎﻟﮏ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﮭﻠﻮﺍﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻇﻠﻢ ﮐﮯ ﭘﮩﺎﮌ ﺗﻮﮌﻧﮯ ﻟﮕﯽ - ﺍﺳﮯ چاربائی چار ﻓﭧ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﭘﻨﺠﺮﺍ ﻧﻤﺎ ﮐﻮﭨﮭﮍﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺪ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ - ﺟﮩﺎﮞ ﻭﮦ ﻧﮧ ﺑﯿﭩﮫ ﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻧﮧ ﻟﯿﭧ ﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ - ﺩﺷﻤﻦ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺳﻮﺯ ﻣﻈﺎﻟﻢ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﺍﮔﻠﻮﺍﻧﮧ ﺳﮑﺎ ﺗﮭﺎ - ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﯽ ﺑﮩﺎﺩﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﺛﺎﺑﺖ ﻗﺪﻣﯽ ﻧﮯ ﺑﮭﺎﺭﺗﯽ ﻓﻮﺟﯽ ﺍﻓﺴﺮﺍﻥ ﮐﻮ ﭘﺎﮔﻞ ﮐﺮﺩﯾﺎ - . ﺟﺐ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﻮﺋﯽ ﺭﺍﺯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﻮ ﺗﺸﺪﺩ ﮐﺎ ﻧﺸﺎﻧﮧ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﮐﮩﺘﮯ ” ﮐﮩﻮ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﺮﺩﮦ ﺑﺎﺩ “... . ﺍﻭﺭ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺗﻮﺍﻧﺎﺋﯽ ﺍﮐﭩﮭﯽ ﮐﺮﮐﮯ ﻧﻌﺮﮦ ﻣﺎﺭﺗﺎ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺯﻧﺪﮦ ﺑﺎﺩ ... . ﺟﻮ ﺑﮭﺎﺭﺗﯽ ﻓﻮﺟﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﮭﻼ ﮐﮯ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺘﺎ - ﻭﮦ ﭼﻼﻧﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﮐﻮ ﭘﺎﮔﻞ ﭘﺎﮔﻞ ﮐﮩﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯾﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺘﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﻓﻮﺟﯽ ﭘﺎﮔﻞ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻥ ﮐﺎ ﺩﺷﻤﻦ ﮨﮯ... ﺍﻭﺭﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﮔﻞ ﮨﻮﮞ - ﮨﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﮔﻞ ﮨﻮﮞ - ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻠﮏ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﺫﺭّﮮ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ - ﮨﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﮔﻞ ﮨﻮﮞ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻠﮏ ﮐﮯ ﮐﻮﻧﮯ ﮐﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺩﻓﺎﻉ ﮐﯿﻠﺌﮯ - ﮨﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﮔﻞ ﮨﻮﮞ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻠﮏ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﻭ ﻭﻗﺎﺭ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ - ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﯾﮧ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﺩﺷﻤﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﺫﮨﻨﻮﮞ ﭘﺮ ﮨﺘﮭﻮﮌﻭﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻟﮕﺘﮯ - . ﺁﺧﺮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﺪﻟﮧ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﺎﭦ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﭘﮭﺮ چاربائی چار ﮐﯽ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﯼ ﮐﻮﭨﮭﮍﯼ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﮐﺮ ﻣﻘﻔﻞ ﮐﺮﺩﯾﺎ - . ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﻧﮯ 1965 ﺀ ﺳﮯ ﻟﯿﮑﺮ 2005 ﺀ ﺗﮏ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺳﺎﻝ ﺍﺱ ﮐﻮﭨﮭﮍﯼ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺍﺭ ﺩﯾﺌﮯ ﺍﺏ ﻭﮦ ﮐﭩﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺯﻧﺪﮦ ﺁﺑﺎﺩ ﮐﺎ ﻧﻌﺮﮦ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺴﻢ ﭘﺮ ﻟﺒﺎﺱ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﮯ ﭼﯿﺘﮭﮍﻭﮞ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ چاربائی چار ﻓﭧ ﮐﻮﭨﮭﮍﯼ ﮐﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺣﺼﮯ ﮐﻮ ﺻﺎﻑ ﮐﺮﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺍ ﭘﻨﮯ ﺟﺴﻢ ﺳﮯ ﺭﺳﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺧﻮﻥ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺯﻧﺪﮦ ﺑﺎﺩ ﻟﮑﮫ ﺩﯾﺘﺎ - . ﯾﻮﮞ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﺣﺴﯿﻦ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺩﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﻃﻦ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﮯ ﭘﺎﮔﻞ ﭘﻦ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺍﺭﺗﺎ ﺭﮨﺎ - . ﺁﺋﯿﮟ ﮨﻢ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺁﺝ ﺍﯾﺴﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﭘﺎﮔﻠﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﻠﯿﻮﭦ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ.
  4. سیکولر اور لبرل گائے ... . ایک نوبیاہتا جوڑا شام کی سیر کے لئے قریبی گاؤں کی طرف نکلا۔۔ دونوں میاں بیوی سر سبز لہلہاتی فصلوں کو دیکھ دیکھ کر محظوظ ہو رہے تھے۔ . اچانک خاتون نےایک کھیت میں ایک کسان کو دیکھا جس نے زمین میں ہل چلانے کے لئے ایک بیل کے ساتھ ایک گائے کو بھی جوت رکھا تھا۔ خاتون اس ظلم پر بہت سٹپٹائی۔ اور اپنے شوہر سے پوچھنے لگی... بھلا یہ کیا بات ہوئی، اب گائے "ہل بھی چلایا کرے گی؟" . شوہر نے بے نیازی سے جواب دیا... بھئی اس میں حیران ہونے والی کونسی بات ہے۔ یہ ایک "سیکولر اور لبرل" گائے ہے۔۔ اس کو بھی بہت شوق تھا برابری کا
  5. فوجی یونٹ میں ایک سپاہی شرطیں لگانے اور حیرت انگیز طور پرجیت جانے میں بڑی شہرت رکھتا تھا ۔ ایک یونٹ سے دوسرے یونٹ میں اس کا تبادلہ ہوا تو اس کی سابقہ یونٹ کے کما نڈر آفیسر نے اس کے نئے یونٹ کے کمانڈر آفیسرکو ٹیلی فون پر بتا یا کہ ہماری یونٹ سے آپ کے ہاں ایک پوسٹ ہو کر ٓانے والا فالاں سپاہی شر طیں لگانے اور ہر بار جیت جانے میں بڑا ما ہر ہے ،تم احتیاط کرنا ۔ . احتیاط کی تلقین پانے والے کمانڈر آفیسر کو نئے آنے والے سپاہی کے باتے میں تجسس بڑھا اور اس نے اپنے پرسنل اسسٹنٹ سے کہا... یہ باکمال سپاہئ جونہی یو نٹ پہنچے مجھے اس سے ملوا دینا ۔ . اگلے دن نئی کلف شدہ وردی پہنے یہ سپاہی کما نڈر آفیسر کے سامنے کھڑا تھا ۔ صاحب کے استفسار پر اس نے کہا... سر ایسی کوئی بات نہیں ، میں یونہی بات بات پر شرط نہیں لگاتا ۔ بس جب بات ہی ایسی ہو تو شرط لگا نا پڑتی ہے اور ہار جیت تو مقدر کی بات ہے۔ جیسے اب مجھے معلوم ہے کہ آ پ کی پیٹھ پر تل ہے آپ اگر پانچ سو روپے کی شرط لگاتے ہیں تو میں اس کیلئے تیار ہوں۔ . کما نڈر آفیسر کو بھی کبھی نہ ہارنے والے کو ہرانے کا اشتیاق تھا ، اس نے فورا اپنی شرٹ کے بٹن کھولے اور پیٹھ دکھا دی۔ . سپا ہی نے اپنی جیب سے فورا پانچ سو روپے نکال کر میز پر رکھے اور کہا... سر میں یہ شرط ہار گیا ہوں ، یہ پانچ سو روپے آپ کے ہوئے۔ . کما نڈر آفیسر نے فاتحانہ انداز سے فون پر اس کے سا بقہ کمانڈر آفیسر سے کہا... تم تو کہتے تھے کہ وہ کبھی شرط نہیں ہارتا ، اور پھر تمام واقعہ سنایا۔ . سپاہی کے سابقہ کما نڈر آفیسر نے کہا ... جناب آپ نے مجھے مروا دیا اس نے جاتے ہوئے مجھ سے ہزار روپے کی شرط لگا ئی تھی کہ میں نئی یونٹ میں جاتے ہی کمانڈنگ آفیسر کی شرٹ اتروا دوں گا
  6. جدید تعلیم سے فارغ ہونے والے دو نوجوان دوستوں کو ایک ہی ملٹی نیشنل کمپنی میں اچھی ملازمت مل گئی۔ . ایک بار باس نے کمپنی کے ملازمین کو دعوت دی۔ دعوت کے دوران باس نے ان میں سے ایک نوجوان کے ادبی ذوق کا اندازہ کرنے کیلئے پوچھا... "عمر خیام کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟" . نوجوان نے جواب دیا... "اچھی جگہ ہے سر۔ لیکن ذاتی طور پر میں کے ایف سی میں جانا زیادہ پسند کرتا ہوں۔" . با س نے ناگواری سے منہ بنایا اور دوسرے مہمانوں سے باتیں کرنے لگا... دعوت سے واپسی پر راستے میں دوسرے دوست نے پہلے کو ڈانٹا... "بے وقوف آدمی...! اگر تمہیں معلوم نہیں تھا کہ عمر خیام کیا ہے تو بات بدل دیتے۔ احمقانہ جواب تو نہ دیتے۔ گدھے کہیں کے ...! تمہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ عمر خیام کسی ریسٹورنٹ کا نہیں بلکہ پرفیوم کا نام ہے۔ .
  7. ﺍﯾﮏ ﻣﻔﮑﺮ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻋﻈﯿﻢ ﺍﻧﻘﻼﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ۔ ﺗﻢ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﮔﮯ ﮐﮧ ﺯﺑﺮﺩﺳﺖ ﺗﺒﺪﯾﻠﯿﺎﮞ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺩﺑﮯ ﭘﺎﺅﮞ ﺁﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺗﺎﺭﯾﺨﯽ ﮐﯿﻠﯿﻨﮉﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﺫﮐﺮﻧﮩﯿﮟ۔ . ﺳﺐ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺳﮑﻨﺪﺭ ﻧﮯ ﮐﺲ ﺳﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﻥ ﺳﺎ ﺷﮩﺮ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺘﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮐﮧ ﺑﻦ ﻣﺎﻧﺲ ﮐﻮﻥ ﺳﮯ ﺳﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺑﻨﺎ۔ ﺍﺗﻨﺎ ﺗﻮ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﮟ ﮔﮯﮐﮧ ﺳﯿﻔﻮ ﮐﺐ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﻘﺮﺍﻁ ﻧﮯ ﮐﺐ ﺯﮨﺮ ﮐﺎ ﭘﯿﺎﻟﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﺳﮯ ﻟﮕﺎﯾﺎ... . ﻟﯿﮑﻦ ﺁﺝ ﺗﮏ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻮﺭﺥ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺘﺎ ﺳﮑﺎ ﮐﮧ ﻟﮍﮐﭙﻦ ﮐﺲ ﺩﻥ ﺭﺧﺼﺖ ﮨﻮﺍ۔ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﺲ ﺳﺎﻋﺖ ﻧﺎﯾﺎﺏ ﻣﯿﮟ ﻋﻮﺭﺕ ﺑﻨﯽ۔ ﺟﻮﺍﻧﯽ ﮐﺲ ﺭﺍﺕ ﮈﮬﻠﯽ۔ ﺍﺩﮬﯿﮍ ﭘﻦ ﮐﺐ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﮬﺎﭘﺎ ﮐﺲ ﮔﮭﮍﯼ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺍ.. . ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ... " ﺑﺮﺍﺩﺭ ...! ﺍﻥ ﺳﻮﺍﻻﺕ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﯾﻮﻧﺎﻥ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ, ﻃﺐ ﯾﻮﻧﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﮨﮯ۔ . ﭼﺮﺍﻍ ﺗﻠﮯ ﺍﺯ ﻣﺸﺘﺎﻕ ﺍﺣﻤﺪ ﯾﻮﺳﻔﯽ...

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.