October 7, 201114 yr Author دن ہفتوں اور ہفتے مہینوں میں ڈھلنے لگے۔ سب کو دکھانے کے لیے تحریم نے اپنے آپ کو کافی حد تک سنبھال لیا تھا۔ تایا تائی کے لیے بھی یہ بہت بڑا صدمہ تھا اور وہ ان کے سامنے رو کر انہیں اور تکلیف نہیں دینا چاہتی تھی۔ اس لیے اس نے سب کے سامنے رونا چھوڑدیا تھا مگر اس کی جامد چپ اب بھی نہ ٹوٹی تھی۔ تایا ابو اور چھوٹے تایا بھی ریٹائرڈ آرمی افسر تھے اس لیے ان کا زیادہ تر وقت گھر میں ہی گزرتا تھا۔ تحریم ان دونوں کے سب سے چھوٹے بھائی کی بیٹی تھی۔ اس سے بڑی بہن اور ماں باپ ایک ٹریفک حادثے کا شکار ہوگئے تھے۔ خوش قسمتی سے تحریم زخمی ہونے کے باجود بچ گئی تھی اور گیارہ سالہ تحریم کو تائی امی نے اسی دن اپنی بیٹی بنالیا تھا کہ ان کا صرف ایک بیٹا اسد ہی تھا۔ چھوٹی تائی کا بڑا بیٹا آذر، اسد کی عمر کا ہی تھا اور اس سے چھوٹی بیٹی تحریم کے برابر کی تھی۔ تحریم کو ان سب سے اتنی محبت ملی تھی کہ ماں باپ اور بہن کے چھن جانے کا دکھ بہت حد تک کم ہوگیا تھا۔ مگر اب اسد کی جدائی نے جیسے اسے ایک بار پھر توڑ پھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ گھر میں ہر وقت سناٹا چھایا رہتا تھا۔ لگتا ہی نہیں تھا یہاں کوئی رہتا بھی ہے۔ تحریم اپنے خیالوں میں گم اور تائی امی بھی چپ چاپ کسی نا کسی کام میں لگی رہتی تھیں۔ مگر ہر دفعہ فون کی اور گھر کی بیل بجنے پر وہ چونک کر دیکھا کرتی تھیں اور ہر دفعہ مایوسی سے پھر اپنے کام میں مگن ہوجاتی تھیں۔ پتہ نہیں انہیں اب کس کا انتظار تھا۔ شروع شروع میں آذر نے کوشش کرکے چھٹیاں لے لی تھیں تاکہ وہ سب بالکل تنہا نہ رہ جائیں۔ تب پھر بھی آذر سب کو باتوں میں لگائے رکھتا تھا۔ علی کو بھی باہر گھما لاتا تھا مگر پچھلے ماہ اس کی پوسٹنگ بھی دوسرے شہر ہوگئی تھی۔ تب سے گھر میں خاموشی چھائی رہتی تھی۔ جانے سے ایک دن پہلے آذر کچن کے سامنے سے گزرتا ہوا وہیں رک گیا تھا۔ تحریم کچن میں کھڑی علی کے لیے کچھ بنارہی تھی اور ساتھ ساتھ آنسو بھی بہہ رہے تھے۔ "تحریم تمہاری ایک امانت ہے میرے پاس۔ میں لے کر آتا ہوں۔" اس نے بغیر کسی تمہید کے کچن کے دروازے کے پاس رک کر کہا تھا اور اہنے کمرے میں چلاگیا۔ تحریم یہی سوچتی رہی کہ اس کی کونسی امانت؟ چند منٹ بعد آذر ہاتھ میں ایک ڈائری لیے واپس آیا تھا۔ "میں اتنے دنوں سے سوچ رہا تھا کہ یہ تمہیں دوں۔ مگر تمہاری کنڈیشن ایسی نہیں تھی اور میری بھی ہمت نہیں ہورہی تھی۔ اب اتنے دن گزر چکے ہیں۔ اپنے آپ کو سنبھالو تحریم، اپنا نہیں تو علی کا ہی سوچو۔ وہ مسلسل اگنور ہونے کی وجہ سے بہت چڑچڑا ہوگیا ہے۔" آذر نے ڈائری تحریم کو پکڑاتے ہوئے کہا۔ "یہ کیا ہے؟" اس نے نا سمجھی سے ڈائری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔ "اسد کی ڈائری ہے۔ وہ جب سے وزیرستان آیا تھا روز اس میں کچھ نہ کچھ ضرور لکھتا تھا۔ اور آخری دن۔" آذر کو اپنی بات جاری رکھنا مشکل لگ رہا تھا۔ "آخری دن اسد نے اس میں لکھنے کے بعد مجھ سے وعدہ لیا تھا کہ یہ مجھے تم تک پہنچانی ہے۔ مجھے نہیں معلوم وہ اس میں کیا لکھا کرتا تھا۔ اور نہ ہی میں ابھی تمہیں دینا چاہتا تھا۔ مگر اسد سے کیے ہوئے وعدے نے مجبور کردیا۔" اس نے ایک گہری سانس لیتے ہوئے کہا تھا۔ تحریم نے خاموشی سے ڈائری پر ہاتھ پھیرا اور اس پر گرے اپنے آنسو کو دوپٹے کے کونے سے صاف کرنے لگی۔ "اب سنو۔ یہ میں نے دے تو دی ہے۔ مگر ایسا نہ ہو کہ تم دن رات رو رو کر اپنی طبیعت پھر خراب کرلو۔ میں اسی لیے ابھی نہیں دینا چاہ رہا تھا۔ بہادر بنو تحریم، اگر تم ہی ہمت ہار دو گی تو سوچو تایا تائی کا کیا ہوگا۔" اس نے بہت دیر تک تحریم کو سمجھایا تھا اور وہ خاموشی سے بیٹھی سنتی رہی تھی۔ *----------*----------*----------* اس نے کمرے میں آتے ہی ڈائری کھولی تھی۔ دھڑکتے دل کے ساتھ پہلے صفحے پر نظر دوڑائی اور پڑھتی چلی گئی۔ میں اکثر ماں سے کہتا تھا ماں! دعا کرنا کہ کبھی تیرا یہ بیٹا خاکی وردی پہنے سینے پہ تمغے سجائے مجاہدوں کا سا نور لیے تیرے سامنے فخر سے کھڑا ہو، اور میری ماں میری ماں یہ سن کر ہنس دیا کرتی تھی ـ ـ ـ کبھی جو تمہیں میری ماں ملے تو اُس سے کہنا وہ اب بھی ہنستی رہا کرے، کہ شہیدوں کی مائیں رویا نہیں کرتیں۔ ۔ ۔ ۔ میں اکثر ماں سے کہتا تھا اس دن کا انتظار کرنا، جب دھرتی تیرے بیٹے کو پکارے گی، اور ان عظیم پربتوں کے درمیان بہتے اشو کے دریا کا نیلا پانی، اور سوات کی گلیوں میں بارش کے قطروں کی طرح گرتی روشنی کی کرنیں پکاریں گی۔ ۔ ۔ اور پھر اس دن کے بعد، میرا انتظار نہ کرنا، کہ خاکی وردی میں جانے والے اکثر، سبز ہلالی میں لوٹ کر آتے ہیں۔ ۔ ۔ مگر میری ماں۔ ۔ ۔ آج بھی میرا انتظار کرتی ہے، گھر کی چوکھٹ پہ بیٹھی لمحے گنتی رہتی ہے، میرے لیے کھانا ڈھک رکھتی ہے۔ ۔ ۔ کبھی جو تمہیں میری ماں ملے تو اس سے کہنا، وہ گھر کی چوکھٹ پہ بیٹھ کر میرا انتظار نہ کیا کرے۔ ۔ ۔ ۔ خاکی وردی میں جانے والے لوٹ کر کب آتے ہیں؟ میں اکثر ماں سے کہتا تھا یاد رکھنا! اس دھرتی کے سینے پہ میری بہنوں کے آنسو گرے تھے، مجھے وہ آنسو انہیں لوٹانے ہیں۔ ۔ ۔ میرے ساتھیوں کے سر کاٹے گئے تھے اور ان کا لہو پاک مٹی کو سرخ کر گیا تھا۔ مجھے مٹی میں ملنے والے اس لہو کا قرض اتارنا ہے۔ ۔ ۔ اور میری ماں یہ سن کر نم آنکھوں سے مسکرا دیا کرتی تھی۔ ۔ ۔ کبھی جو تمہیں میری ماں ملے تو اس سے کہنا اس کے بیٹے نے لہو کا قرض چکا دیا تھا اور دھرتی کی بیٹیوں کے آنسو چن لیے تھے۔ ۔ ۔ میں اکثر ماں سے کہتا تھا میرا وعدہ مت بھلانا، کہ جنگ کے اس میدان میں انسانیت کے دشمن درندوں کے مقابل یہ بہادر بیٹا پیٹھ نہیں دکھائے گا اور ساری گولیاں سینے پہ کھائے گا اور میری ماں یہ سن کر تڑپ جایا کرتی تھی کبھی جو تمہیں میری ماں ملے تو اس سے کہنا، اس کا بیٹا بزدل نہیں تھا، اس نے پیٹھ نہیں دکھائی تھی، اور ساری گولیاں سینے پہ کھائیں تھی۔ ۔۔ ۔ میں اکثر ماں سے کہتا تھا، تم فوجیوں سے محبت کیوں کرتی ہو؟ ہم فوجیوں سے محبت نہ کیا کرو، ماں! ہمارے جنازے ہمیشہ جوان اٹھتے ہیں۔ ۔ ۔ اور میری ماںـ ـ ـ میری ماں یہ سن کر رو دیا کرتی تھی ـ ـ ـ کبھی جو تمہیں میری ماں ملے تو اس سے کہنا، وہ فوجیوں سے محبت نہ کیا کرے۔ ۔ ۔ اور دروازے کی چوکھٹ پہ بیٹھ کر میرا انتظار نہ کیا کرے سنو۔ ۔ ۔! تم میری ماں سے کہنا وہ رویا نہ کرے ۔ ۔ ۔ آنسؤوں نے سب کچھ اتنا دھندلا کردیا تھا کہ بہت دیر تک اس سے آگے تحریم سے کچھ پڑھا ہی نہیں گیا۔ اسے لگا کہ وہ بہت خودغرض ہے۔ اب تک صرف اپنے غم اور اپنی تکلیف کا سوچتی رہی۔ تائی امی اور تایا ابو کے چہروں پر چھائی اداسی اسے نظر کیوں نہ آئی؟ غم تو سب کا برابر تھا۔ دکھ تو سب جھیل رہے تھے پھر سب اس کی دل جوئی میں کیوں لگے ہیں؟ تائی کی آنکھوں میں بھی تو ہر وقت آنسو چمکا کرتے تھے۔ وہ اب بھی قیمہ نہیں پکاتی تھیں، اسد کو پسند جو نہیں تھا۔ ڈائننگ ٹیبل پر اب بھی آٹھ پلیٹیں رکھتی تھیں اور ہمیشہ ایک خالی کرسی کے آگے ایک پلیٹ رکھی ہوتی تھی۔ تحریم نے ایک دو دفعہ نوٹ کیا مگر اس کے اپنے اندر بھی اتنی ہمت نہ تھی کہ ٹیبل پر اسد کی جگہ پلیٹ نہ رکھے۔ وہ خود غیر محسوس طور پر کھانا نکالنے کے بعد اپنے برابر والے کے آگے رکھ دیتی تھی۔ جہاں کتنے ہی دن سے کوئی نہیں بیٹھتا تھا۔ وہ دونوں غیر محسوس طریقے سے اسد کی جدائی کو ماننا نہیں چاہتی تھیں۔ گھر کے باقی افراد نے بھی یہ محسوس کیا تھا۔ مگر شاید وقت کے ساتھ اس غم کے مدھم ہوجانے کا انتظار کررہے تھے۔ مگر کب تک؟ تحریم کو لگا کہ وہ اتنے مہینوں سے صرف اپنے بارے میں سوچ رہی ہے۔ لیکن اب اسے سب کا سوچنا تھا۔ اسد نے اس سے بھی تو کتنی دفعہ سب کا خیال رکھنے کا وعدہ لیا تھا۔ وہ پوری رات تحریم نے ڈائری پڑھتے گزاری تھی۔ ہر لفظ کو پڑھتے وہ بارہا تڑپی تھی۔ جب آنسو پونچھتے نظر اٹھاتی سامنے ہی اسد کی تصویر پر نظر پڑتی۔ اسے لگتا وہ اس کے سامنے کھڑا یہ سب کہہ رہا تھا۔ اور وہ پھر پڑھنے لگتی۔ آخر تک پہنچتے پہنچتے اس کے آنسو تھم گئے تھے۔ آخری سطریں اس نے ایک، دو۔ ۔ ۔بے شمار بار پڑھیں اور بے یقینی سے اگلا صفحہ پلٹا جہاں بس اتنا لکھا تھا۔ "تحریم مجھے مایوس مت کرنا!" جاری ہے*----------*----------*----------*
October 7, 201114 yr Buhat Buhat Khoob Guru G Really Very Nice UpDate Janb... Very Nice Story G...... Thanks And Keep IT Upp Update Ka Intazar Rahe ga
October 7, 201114 yr گرو جی کہانی بہت اچھی لکھ رہے ہیں اپ یہ والی اپڈیٹ پڑ کر تو میری آنکھوں میں بھی آنسو آگے. ایک خوبصورت ذہن کی ایک خوبصورت تحریر ہے. مزید کا انتظار ہے
October 7, 201114 yr بہت ہی عمدہ جناب۔۔۔ آپ کو اس پہ داد دیتا ہوں۔۔۔ آپ میں سے کوئی اگر لاہور کا ہے تو کیا اس نے آرمی سلیکشن سنٹر دیکھا ہے شامی روڈ پہ؟
October 7, 201114 yr بس یوں سمجھ لیجیے گرو جی! کہ آپ کی کہانی کا تسلسل ایسا قائم ہے کہ بے چینی سے اگلے حصہ کا انتظار رہتا ہے۔ گو کہ کہانی بڑی آہستگی سے آگے بڑھ رہی ہے مگر لگتا یہ ہے کہ یہ اس کہانی کی ڈیمانڈ ہے بہت اچھے طریقہ سے لکھی گئی ایک عمدہ تحریر ہے۔
October 8, 201114 yr Author آہستہ آہستہ سب اپنی روٹین میں واپس آگئے تھے۔ گھر میں جو بالکل سناٹا چھایا رہتا تھا اب تایا ابو اور چھوٹے تایا کی وجہ سے اس میں کچھ کمی آگئی تھی۔ وہ دونوں روز شام میں ٹی وی کھول کر بیٹھ جاتے تھے اور یہی کوشش کرتے تھے کہ تحریم اور باقی سب بھی وہیں بیٹھے رہیں۔ تحریم سمجھ رہی تھی کہ یہ سب ان کا دھیان بٹانے کو کیا جارہا ہے۔ ورنہ تایا ابو خود بھی اپنے کمرے کے ہوکر رہ گئے تھے۔ تحریم نے بھی کوشش کرکے زیادہ وقت سب کے ساتھ گزارنا شروع کردیا تھا۔ وہ بولتی تو پہلے بھی کم تھی مگر پھر بھی چھوٹی چھوٹی باتوں سے تائی امی اور تایا ابو کا دھیان بٹانے کی کوشش کرتی تھی۔ آذر بھی آج واپس آرہا تھا جس کی وجہ سے تائی امی اور چھوٹی تائی دونوں کچن میں پتا نہیں کیا کیا پکانے میں مصروف تھیں۔ وہ دونوں ہمشیہ ہی اسد یا آذر کے آنے پر بہت احتمام کرتی تھیں۔ آج بہت دن بعد گھر میں زندگی کا احساس جاگا تھا۔ *----------*----------*----------* آذر کسی سے فون پر بات کرتے ہوئے باہر آگیا تھا۔ بات کرتے کرتے اس کی نطر لان کی طرف پڑی تو تحریم لان چیئر ہر بیٹھی پتا نہیں ڈوبتے سورج میں کیا تلاش کررہی تھی۔ قریب ہی علی اس کا ہاتھ ہلا ہلا کر دور چلی جانے والی بال مانگ رہا تھا۔ مگر وہ اپنے ہی خیالوں میں گم تھی۔ آذر بھی فون بند کرکے وہیں آگیا۔ "کیا ہورہا ہے؟" ہلکے پھلکے انداز میں کہتے ہوئے اس نے علی کو گود میں اٹھا کر اچھالا تھا۔ اس کی آواز پر تحریم بھی چونک کر ان دونوں کی طرف دیکھنے لگی تھی۔ "کچھ نہیں، یہ اندر تنگ کررہا تھا تو باہر لے آئی۔" تحریم نے جواب دیا اور پھر اپنے کسی خیال میں گم ہوجاتی کہ آذر بولا تھا۔ "باہر تو لے آئیں مگر بچے کو ٹائم دینے کے بجائے اپنے خیالوں میں گم ہیں محترمہ۔" وہ بھی وہیں سامنے والی چیئر پر بیٹھ گیا اور علی کو اپنی گود میں بٹھالیا تھا۔ جو اب اس کے پاکٹ کی تلاشیاں لینے میں مصروف ہوچکا تھا۔ "تحریم تائی کہہ رہی تھیں کچھ شاپنگ کرنی ہے تمہیں علی کے لیے۔ آج چلو پھر میں کچھ دن تک مصروف ہوں۔ تایا ابو اور بابا کا تمہیں پتا ہے بازار کے نام سے ہی کتنا چڑتے ہیں۔" "جی لینی تو ہیں، مگر آپ کل ہی تو آئے ہیں۔ چھوڑیں میں ڈرائیور کے ساتھ چلی جاؤں گی کسی دن۔" یہ بات کرتے وقت بھی اس کی آنکھوں میں آنسو چمکنے لگے تھے۔ آذر کو اندازہ تھا کہ اسد ہمیشہ ان لوگوں کو شاپنگ کروا کر جایا کرتا تھا تاکہ بعد میں کسی قسم کی پریشانی نہ ہو اور اس وقت تحریم کو وہی بات افسردہ کر گئی تھی۔ چھوٹی تائی بھی وہیں آگئی تھیں اور تحریم کی بات بھی سن چکی تھیں۔ "چلی جاؤ تحریم، علی بھی باہر نکلے گا تو خوش ہوجائے گا۔" انہوں نے علی کو پیار کرتے ہوئے کہا۔ اس نے علی کی طرف دیکھا۔ واقعی وہ کتنے دن سے اس کے ساتھ باہر نہیں نکلی تھی۔ آذر ہی لے جاتا تھا اور اس کی غیر موجودگی میں تحریم کا بھی دھیان نہیں گیا۔ اسی لیے علی بھی چڑچڑا ہورہا تھا۔ یہی سوچ کر وہ جانے کے لیے تیار ہوگئی تھی۔ *----------*----------*----------* تحریم کو زیادہ چیزیں نہیں چاہیے تھیں۔ وہ لوگ جلد ہی فارغ ہوگئے تھے۔ "اچھا تم علی کو لے کر گاڑی میں بیٹھو میں پانچ منٹ میں آیا۔" آذر نے کہتے ہوئے اسے گاڑی کی چابیاں پکڑائیں اور خود سامنے والی بیکری میں گھس گیا۔ تحریم علی کو لیے گاڑی کی طرف آگئی تھی۔ اسی وقت اس کا موبائل بجنے لگا۔ تائی امی ان کی واپسی کا پوچھ رہی تھیں۔ وہ ان سے بات کرتے ہوئے علی کو گاڑی میں بٹھانے لگی تھی کہ اسی وقت کسی نے اس کی کنپٹی پر پستول رکھ کر فون چھینا تھا۔ اور ہاتھوں میں پہنی گولڈ کی دو چوڑیاں اتارنے کا کہا۔ تحریم نے علی کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑلیا تھا۔ اور گاڑی سے لگ کر کھڑی تھی۔ "دیکھو موبائل لے لیا نا تم نے اور یہ پیسے بھی لے لو" اس نے اپنا پرس بھی اسے دیتے ہوئے کہا۔ "مگر میں چوڑیاں نہیں دوں گی۔ یہ اسد نے دی تھیں مجھے۔ میں۔ ۔ ۔میں یہ نہیں دوں گی۔" اس نے اپنا ہاتھ پیچھے کرتے ہوئے کہا۔ "جلدی کرو۔۔۔زیادہ بکواس نہیں۔ اتار کر دو چوڑیاں ورنہ میں گولی ماردوں گا اسے۔" اس نے علی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے چیختے ہوئے کہا۔ "تم۔ ۔ ۔تم گولی مارو گے میرے بیٹے کو۔" وہ یہ کہتے ہوئے چیخ پڑی تھی۔ "تم سب نے۔ ۔ ۔تم سب نے کیا سمجھ لیا ہے؟ میں بس دیکھتی رہوں گی۔ اور تم سب مارتے رہو گے میرے اپنوں کو۔ ۔ ۔ اسد نے۔۔۔ اسد نے تم جیسوں کے لیے جان نہیں دی! میں۔ ۔ ۔میرا اسد اس لیے شہید نہیں ہوا کہ وہ ملک کی سلامتی کے لیے جان دے اور تم جیسے بے ضمیر لوگ اسے لوٹتے کھسوٹتے رہیں۔ میں تمہیں ماردوں گی۔ میں تم جیسوں کو ماردوں گی۔" تحریم اس وقت بالکل ہوش و حواس میں نہیں تھی۔ ورنہ اتنا بڑا خطرہ مول نہ لیتی۔ اس نے اپنے سامنے کھڑے لڑکے کو جھنجوڑا تھا پھر تھپڑ پر تھپڑ مارنے شروع کردیے تھے۔ اور وہ شاید اس حملے کے لیے بالکل تیار نہیں تھا۔ پہلے تو گھبرایا پھر اسے وارننگ دیتے ہوئے اس نے گولی چلادی تھی۔ اور اپنے ساتھی کے ساتھ موٹر سائیکل پر بیٹھ کر چند ہی سیکنڈز میں وہاں سے جاچکا تھا۔ گولی کی آواز اور شور سن کر آذر نے باہر جھانکا اور سب کچھ وہیں چھوڑ کر باہر کی طرف بھاگا تھا۔ جہاں علی اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھے رورہا تھا اور تحریم گاڑی کے پاس بیٹھی اپنے ہاتھ سے بہتے خون کو بند ہوتی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔ "اوہ مائی گاڈ۔ تحریم یہ سب کیا ہوا؟" آذر بھی گھبراگیا تھا۔ اس نے گاڑی کا دروازہ کھول کر علی کو بٹھایا اور تحریم کو دیکھا جو تکلیف کی شدت سے بار بار اپنی آنکھیں میچ رہی تھی۔ آس پاس بہت سے لوگ جمع ہوگئے تھے مگر کسی نے کسی بھی قسم کی مدد کرنے کی پیشکش نہیں کی۔ بلکہ اپنی چہ مگوئیوں میں مگن رہے کہ لڑکی کی بے وقوفی تھی، دے دیتی جو مانگ رہے تھے، زندگی سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا۔ ۔ ۔ اور بھی پتا نہیں کون کون سے جملے آذر کے کانوں میں پڑے تھے۔ اس نے تحریم اور علی کو بٹھا کر گاڑی فل اسپیڈ سے ہاسپٹل کی طرف دوڑا دی تھی۔ اس وقت وہ صرف تحریم کی سلامتی کے لیے دعائیں مانگ رہا تھا۔ *جاری ہے----------*----------*----------*
Create an account or sign in to comment