October 4, 201114 yr Guru ji hats off for you... bohot he aala chal rahi hai aap ki tahreer bohot acha laga perh ker or rongty b khary hue ..... very very very nice plot and writing tactics .... dear lajawab ker dia very nice...... jaldi jaldi post kerin na next part....
October 5, 201114 yr Author جب اس کی آنکھ کھلی قریبی مسجد سے فجر کی اذان کی آواز آرہی تھی۔ آنکھوں میں بے پناہ دکھن کی وجہ سے اس نے بمشکل اپنی آنکھیں کھولیں۔ ماحول میں ملگجا اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ "تو کیا یہ سب ایک بھیانک خواب تھا؟" تحریم نے سب کچھ یاد کرنے کی کوشش کی۔ "کاش، کاش یہ سب خواب ہو۔" یہی دعائیں مانگتے ہوئے اس نے اپنے موبائل کے لیے نظریں دوڑائیں جو ہمیشہ اس کی سائڈ ٹیبل پر رکھا ہوتا تھا۔ مگر آج ناموجود پاکر وہ اٹھ کر باہر نکل آئی تھی۔ لاؤنج کی لائٹ جل رہی تھی اور وہاں اس کی ساس، جو کہ اس کی تائی بھی تھیں، یقیناً فجر کی نماز پڑھ رہی تھیں۔ اس نے تیزی سے جاکر گھر کے فون سے اسد کو کال ملائی تھی۔ جس پر مسلسل اسد کا میسج چل رہا تھا۔ "اسد تو فجر سے پہلے اٹھ جاتے ہیں، فون کیوں نہیں اٹھارہے۔" اس نے پانچ چھ دفعہ کوشش کرنے کے بعد پریشانی سے فون رکھا اور اپنی تائی کے قریب ہی انگلیاں مروڑتی ہوئی کارپیٹ پر بیٹھ گئی۔ ان کے سلام پھیرتے ہی اس نے فوراً پوچھا تھا "تائی امی اسد فون نہیں اٹھا رہے۔ میں نے اتنی بار کوشش کی ہے۔ اتنا بھیانک خواب دیکھا۔ تائی امی میں نے دیکھا کہ ۔ ۔ ۔ تائی امی اگر خواب میں کسی کو مرتا دیکھتے ہیں تو اس کی عمر لمبی ہوتی ہے نا؟ آپ نے بتایا تھا نا؟ تائی امی میں نے دیکھا کہ اسد ۔ ۔ ۔" وہ ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں بتانے کی کوشش کررہی تھی مگر آنسوؤں نے مزید کچھ بولنے ہی نہیں دیا تھا۔ تائی نے اسے جواب دینے کے بجائے گلے سے لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کردیا۔ "تائی امی آپ رو کیوں رہی ہیں؟ اس طرح۔ ۔ ۔ اس طرح مت روئیں، میرا دل بہت گھبرا رہا ہے تائی امی۔ دعا کریں کہ اسد بالکل خیریت سے ہوں۔ میں دوبارہ کوشش کرتی ہوں فون ملانے کی۔" تحریم نے پریشانی سے انہیں چپ کراتے ہوئے اٹھنے کی کوشش کی مگر تائی نے اس کا ہاتھ پکڑ کر دوبارہ بٹھا لیا۔ "تحریم اب ہماری کوئی دعا اسد کو واپس نہیں لاسکتی۔ وہ ہم سے بہت دور جاچکا ہے۔ " یہ کہہ کر وہ ایک بار پھر سسک اٹھی تھیں اور تحریم جو اب تک اپنے آپ کو یقین دلاچکی تھی کہ وہ ایک بھیانک خواب تھا ان کی بات سن کر بالکل سن رہ گئی۔ اس کے ذہن میں جھماکا سا ہوا تھا۔ سب کچھ اس کے ذہن میں کسی فلم کی مانند چل پڑا۔ وہ اندوہناک خبر جو اس نے ٹی وی اسکرین پر دیکھی تھی۔ پھر ہر طرف اٹھتا شور اور پھر ہر طرف چھاتا گہرا سناٹا۔ اس نے ذہن پر زور دینے کی کوشش کی۔ پھر اسے سب یاد آنے لگا تھا۔ اس سناٹے کے بعد اسے کسی نے جگانے کی کوشش کی تھی، شاید تائی امی نے یا پتا نہیں چھوٹی تائی تھیں۔ اور۔ ۔ ۔ اور پھر اسے پکڑ کر لاؤنج میں لایا گیا تھا۔ جہاں اسد سامنے ہی سفید کفن، سبز پرچم کے ساتھ آخری بار جانے کو بالکل تیار تھا۔ وہ میکانکی انداز میں چلتی ہوئی اس کے قریب بیٹھ گئی تھی۔ "اسد، اسد آپ واپس آگئے نا؟ اب نہیں جائیے گا۔ میں نے، تائی امی نے بہت دعائیں کیں کہ آپ خیریت سے واپس آجائیں۔ میں بہت پریشان تھی اسد۔ اب نہیں جانے دوں گی میں۔ اور یہ اور یہ اس طرح کیوں لٹایا ہے اسد کو؟ ہٹائیں یہ سب" وہ ارد گرد سے بے نیاز اس کے قریب بیٹھی بولے جارہی تھی پھر ادھر ادھر دیکھ کر ناراضگی سے بولی تھی۔ تب ہی چھوٹی تائی کی آواز اسے ہوش میں لے آئی۔ "تحریم اسد ہمیشہ کے لیے جارہا ہے۔ اسے، اسے آخری بار دیکھ لو۔ دیکھو ہمارے بیٹے نے وعدہ کیا تھا نا کہ ایک دن سبز پرچم میں لوٹے گا۔ وہ لوٹ آیا ہے مگر ہمیشہ کے لیے جانے کے لیے۔" انہوں نے روتے ہوئے کہا تھا۔ تحریم نے لاؤنج میں نظر دوڑائی جو پتا نہیں کتنے لوگوں سے بھرا پڑا تھا۔ سب کی ترحم بھری نظریں اسی پر ٹکی تھیں۔ "نہیں تائی، یہ یہ ہمیشہ کے لیے نہیں جاسکتے۔ ایسے کیسے ہوسکتا ہے؟ اسد اسد اٹھیں۔ اسد پلیز اٹھیں۔ پہلے ممی پاپا اور اب آپ۔ نہیں اسد" وہ ایک بار پھر اسد سے مخاطب تھی اور اب زور زور سے رونا شروع کردیا تھا۔ تایا ابو نے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے تحریم کو اٹھایا تو وہ ان کے گلے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر روپڑی تھی۔ ان کے اپنے بھی آنسو بہہ رہے تھے۔ انہوں نے اسے سنبھالنے کی کوشش کی مگر وہ بھربھری ریت کی مانند ان کے ہاتھوں سے پھسلتی چلی گئی تھی۔ اور اس کے بعد اسے اب ہوش آیا تھا۔ پتا نہیں کتنے دن گزرگئے تھے۔ اس نے تائی امی کی طرف دیکھا، وہ اب بھی رورہی تھیں۔ اس کے اپنے بھی آنسو بہے جارہے تھے۔ پتا نہیں وہ کتنی دیر تک روتی رہتیں کہ آذر، چھوٹے تایا کا بیٹا، شاید مسجد سے نماز پڑھ کر آیا تھا۔ ان دونوں کو لاؤنج میں روتا دیکھ کر وہ بھی خاموشی سے وہیں آکر بیٹھ گیا تھا۔ تائی امی نے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے تحریم کو پیار کیا تھا اور جاءنماز اٹھا کر کھڑی ہوگئی تھیں۔ "چائے پیو گے آذر؟ تمہارے تایا ابو کے لیے بنانے جارہی ہوں۔" انہوں نے آذر کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا جو تحریم کو ترحم بھری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ "نہیں تائی امی ابھی دل نہیں چاہ رہا۔ امی نہیں اٹھیں ابھی تک؟" اس نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے چھوٹی تائی کا پوچھا تھا۔ "اٹھی تھی ابھی تھوڑی دیر پہلے علی اٹھ گیا تھا تو اسے اپنے کمرے میں لے گئی ہے۔" آذر کو جواب دیتے ہوئے وہ کچن میں چلی گئی تھیں۔ لاؤنج میں اب بھی تحریم کی سسکیاں گونج رہی تھیں۔ "تحریم، پلیز اپنے آپ کو سنبھالو۔ اسد کو کتنی تکلیف ہورہی ہوگی۔" آذر نے تحریم کو مسلسل روتے دیکھ کر دکھ بھرے انداز میں کہا تھا۔ ابھی وہ اسے اور سمجھانے کا ارادہ رکھتا تھا مگر اسی وقت چھوٹی تائی علی کو لے کر وہیں آگئی تھیں جو روئے جارہا تھا۔ "تحریم اسے لے لو میں اس کے لیے دودھ لاتی ہوں۔ بہت دیر سے رورہا ہے۔" انہوں نے علی کو اسے پکڑایا جو اس کی گود میں آتے ہی چپ ہوگیا تھا۔ جاری ہے*----------*----------*----------*
October 5, 201114 yr Guru Ji! Aap Ki Stories Pardhnay Ka Main Shauqeen Hoon! Kayee Dafa Aap Ki Yeh Story Pardhnay Ki Koshish Ki Lekin Her Dafa Loadshading Nay Apna Jadu Jagaya. Lekin Is Baar Aisa Nahi Howa Aur Aap Ki Story Abhi Tak Pardh ke Mujeh Laga Ke Aik Achhootay Mozo Per Kahani Likhi Gayee Hay. Main As A Writer Aap Ki Kahani Ko Read Karta Hoon. Kahin Koi Kami Beshi Na Rahay Yeh Baat Meray Dhiyan Mein Rehti Hay. Kyoon Ke Itni Mehnat Kar Ke Koi Insaan Apni Kahani Ka Plot Tayyar Karta Hay Phir Kirdaron Ka chunawo Karta Hay Us Per Mazeed Yeh Ke Aik Kahani Tarteeb Deta Hay Situation Banata Hay Aur Phir Dialoges Ki Tarteeb Kar Ke Kahani Ko Sanwarta Hay Phir Kahin Koi Kami Reh Jaye To Situation Kay Mutabiq Jumlay Istemal Karta Hay. Kafi Mehnat Lagti Hay Ik Achi Kahani Likhnay Main. Aur Main Aap Ki Kahaniyon Ka Stories Ka Isi Liye Qail Hoon Ke Stories Likhany Ke Liye Jin Jin Lawazmaat Ki Zaroort Hoti Hay Woh Sab Badarja Utam Us Main Mojod hota Hayn. Is Kahani Ko Jald Se Jald Update Karain Bardi Be Sabri Say Intezaar Rahay Ga.
October 6, 201114 yr Buhat Buhat Buhat Pyari Kahani Hai Guru G Really Heart Touching Story Ap Ki Story Ki Jitni Tareef Ki Jay Kam Hai Buhat Ache Andaz Main Likh Rahe Ho Ap Welldone Janb Thanks For Really Great Story UpDate Ka Buhat Shidat Se Intazar Rahe Ga
Create an account or sign in to comment