October 1, 201114 yr Dear Guru ji its very very intresting and ful of wonders story hai dear aap ki ye kawish boht he khoobsurat hai start bohot acha laga dear...... very very nice story dear isko jald jald update kijiye ga ....... thanks for sharing.........
October 2, 201114 yr Author آخر کب تک بلڈنگ کے تیسرے فلور پر ڈھول ڈھامکے ہوتے رہیں گے۔ کیا شادیاں اتنی لمبی ہوا کرتی ہیں جو کئی ہفتوں تک ناچا گایا جاتاہے۔ وہ بلڈنگ سے آنے والی ڈول کی آواز پر دیھان دینے لگی۔ اماں شادی کیا ہوتی ہے؟ بیٹا جب بیٹی بڑی ہوجاتی ہے تو اسے اپنے ماں باپ کا گھر چھوڑ، اپنے مجازی خدا کے گھر جانے کا نام شادی ہے۔ اماں میں کب اپنے مجازی خدا کے گھر جائوں گی؟ سامنے بلڈنگ میں سے تو کئی لڑکیاں چلی گئی جنکو میں کھیلتے دیکھا کرتی تھی؟ اس کے اس سوال پر اسکی اماں کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ ۔ ۔ رجو بیٹا قریب آ میرے لال۔ ۔ ۔ اماں نے میرے سوال پر مجھے قریب کر کے گلے لگالیا اور رونے لگی۔ ۔ ۔ جب تو بڑی ہوجائے گی نا تو پھر تو اپنے گھر چلی جائے گی۔ ۔ ۔ میں آخر کب بڑی ہونگی۔ یہ اماں بھی ابا کی طرح میری باتوں پر عجیب عجیب جواب دیتی ہیں۔ وہ اماں کے رونے کو نا سمجھ سکی تھی۔ ۔ ۔ آج اسے پرانی باتیں یاد آرہی تھیں۔ اچانک اسے اپنے ہاتھ پر کچھ گیلا محسوس ہوا۔ ۔ ۔ ارے بارش۔ ۔ ۔ رجو۔ ۔ ۔ ۔صحن سے اماں آواز آئی۔ ۔ ۔لگتا ہے آج پھر رات جاگ کر گزارنی پڑے گی۔ ۔ ۔ آئی اماں ۔ ۔ ۔ یہ کہتی ہوئی رجو صحن کی طرف دوڑ پڑی جہاں اماں نے کئی جگہوں پر بارش کا ٹپکا لگنے کے سبب برتن لکھے ہوئے تھے۔ ختم شد
October 2, 201114 yr Rulaa Dene waali Story Hai Guru Jee Aise Hassaas aur Sensetive Subject per Aap hi Kalam kaari kar sakte hain Such a Nice and Sachhai per Haqeeqat se Qareeb tar Story likhne per Meri Taraf se Bohat Bohat Shukria
October 2, 201114 yr گرو جی اس کہانی کی تعریف کے کیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ میں عرصہ دس سال سے کہانیاں اور افسانے پڑھ رہا ہوں بہت سے نامور لکھاریوں کو پڑھا ہے۔۔۔ اور آج میں فخر سے کہتا ہوں کے اردو فن کلب کے لیے یہ اعزاز ہے کہ آپ جیسا لکھاری اس کا ممبر ہے۔
Create an account or sign in to comment