Disable Screen Capture Jump to content
Novels Library Plus ×
URDU FUN CLUB

برستے ارمان


Recommended Posts

کسی بے جان شئے کی طرح وہ دھب سے اپنے بستر پر گر گئی۔ بستر بھی کیا تھا ایک ٹاٹ کی بوری میں کپڑوں کی دھجیاں اور کھجور کے سوکھے پتے بھرے تھے۔ آج کتنا کام کیا تھا گھر میں، وہ سوچنے لگی کے اگر آج کی محنت کام آگئی تو آگے کی دن سکون سے گزریں گے۔

سکون۔ ۔ ۔ یہ سکون کے لفظ میں بھی کتنا سکون ہوتا ہے۔ اس نے لمبا سانس بھرا جیسے لفظ سکون کی سکینت اپنے سینے میں بھر رہی ہو۔

آج ابا کمرے کی چھت اور صحن کے لئے ترپال لے کر آئے تھے جسے بچھانے میں سارا دن لگا گیا، گو کہ وہ کپڑے کا نہیں بلکہ پلاسٹک کی شیٹ تھی۔ ۔ ۔ مہنگائی کے دور میں اگر اتنا بھی میسر ہو تو غنیمت ہے۔ اس نے خود کو دلاسا دیا۔ ۔ ۔

مگر اگر پھر بھی چھٹ ٹپکی تو۔ ۔ ۔ وہ ایک دم بے چین سی ہوگئی ۔ ۔ ۔ برسات میں ابتدائی دور میں کوئی دن ایسا نا گزرا تھا جس میں بارش نا ہوئ ہو اور ہم لوگوں نے رات جاگ کر گھر سے پانی سوتنے میں نا کاٹی ہو۔

خوب اچھی طرح تو بچھایا ہے، اور پلاسٹک میں سے کونسا پانی آرپار ہوجاتا ہے۔ ۔ ۔ کچھ نہیں ہوگا دیکھ لینا۔ ۔ ۔ اس نے آپ ہی آپ خود کو تسلی دی۔

ویسے برسات کا موسم بھی کتنا سوہانا ہوتا ہے۔ ہر شئے نکھری نکھری دھل کر شفاف ہوجاتی ہے۔ درختوں، پودوں کے پتوں کی ہریالی آنکھوں کے رستے دل میں اتر کر عجیب سی گدگداہٹ اور طبیعت میں پرلطف انشراح پیدا کر دیتی ہے۔ اس نے اپنی بےترتیب زلفوں کی الجھی لٹوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے سوچا، جیسے اپنے تئیں سامنے موجود کسی ہمراز کو اپنا حال کہہ سنایا ہو۔

آج تو میں کام کی الجھن میں بالوں میں کنگھی بھی نا کرسکی۔ اسے یک دم خیال آیا تو افسردہ ہوگئی جیسے کوئی اہم کام اس سے چھوٹ گیا ہو۔

ابا ہم سامنے والی اونچی بلڈنگ میں گھر کیوں نہیں لیتے؟ آپ کب سے ہمیں کہتے ہیں کے جب تم لوگ بڑے ہوجائو گے تو ہم سامنے والی بلڈنگ میں گھر لے لیں گے۔ آخر ہم کب بڑے ہونگے؟ اسکے چہرے ہم ہنسی آگئی۔ ۔ ۔ یہ ابا بھی خوب ہیں۔ ۔ ۔ میرے بچپن کے سوال پر کسطرح ہمیں تسلی دیا کرتے تھے۔ ایک مل میں سامان کو کاندھے پر اٹھاکر ٹرک میں لوڈ کرنے والے کی کیا آمدنی ہوگی جو وہ کسی اونچی بلڈنگ میں گھر لے۔ یہ ابا بھی ناں خوب ہی ہیں۔ ۔ ۔

آج بھی جب میں نے پوچھا کے کپڑے کا ترپال کیوں نا لائے تو کہنے لگے کے پلاسٹک کا کپڑے والے سے بہتر ہوتا ہے۔ ۔ ۔کپڑے والا جلد پھٹ جاتا ہے۔ ۔ ۔ یہ ابا بھی خوب ہیں۔ ۔ ۔وہ اپنے ابا کی بات پر ہنس پڑی۔

جاری ہے

Link to comment

کچھ ممبرز مسلسل  رومن اردو میں کمنٹس کر رہے ہیں جن کو اپروول کی بجائے مسلسل ڈیلیٹ کیا جا رہا ہے ان تمام ممبرز کو مطلع کیا جاتا ہے کہ یہ کمنٹس رولز کی خلاف ورزی ہے فورم پر صرف اور صرف اردو میں کیئے گئے کمنٹس ہی اپروول کیئے جائیں گے اپنے کمنٹس کو اردو میں لکھیں اور اس کی الائمنٹ اور فونٹ سائز کو 20 سے 24 کے درمیان رکھیں فونٹ جمیل نوری نستعلیق کو استعمال کریں تاکہ آپ کا کمنٹ با آسانی سب ممبرز پڑھ سکیں اور اسے اپروول بھی مل سکے مسلسل رومن کمنٹس کرنے والے ممبرز کی آئی ڈی کو بین کر دیا جائے گا شکریہ۔

  • Replies 24
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Top Posters In This Topic

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
×
×
  • Create New...