September 27, 201114 yr Author :pعامر اسکو بات بات پر طعنے دیتا ،کوستا، گالیاں دیتا ۔ عامر کی ایمن سے نفرت اور دوری جیسے جیسے بڑھتی جا رہی تھی ویسے ویسے جم کی مہربانیاں اور بونسیز ایمن کے لئے بڑھتے جا رہے تھے۔ کھبی کھبی تو وہ بھی عامر کے رویے سے اتنا اکتا جاتی اور مایوس ہو کر سوچتی کہ عامر کو چھوڑ کر واقعی جم سے شادی کر لے جو اسکی خاطر اپنا مذہب تک چھوڑنے کو تیار تھا ۔ اتنی بری زندگی سے وہ بھی اب اکتا رہی تھی اور اسکے دل میں جم کے لئے جیسے روزانہ کچھ نا کچھ جگہ بننے لگی تھی۔٭٭٭٭٭٭٭٭آہستہ آہستہ اسکا دل جم کے لئے جیسے ہموار ہونے لگا تھا ۔ کافی حد تک وہ اپنے آپ کو منانے میں کامیاب ہو تی جا رہی تھی حالانکہ وہ عامر سے بہت محبت کرتی تھی مگر اسکو علم ہو چکا تھا بد نصیبی نے انکے گھر کا رستہ دیکھ لیا تھا اور انکی زندگی میں وقت کا پہیہ الٹا گھوم چکا تھا۔ عامر کے اب زندگی کو دوبارہ سے شروع نہیں کیا جا سکتا تھا تاوقتیکہ کوئی معجزہ نا ہو جاتا اور خود عامر اسکے ساتھ ملکر دوبارہ ایسی کوئی کوشش کرتا مگر وہ تو خود اب راتوں کو بھی گھر سے باہر رہنے لگا تھا۔ پتہ نہیں کہاں جاتا تھا۔ کچھ بتاتا بھی تو نہیں تھا۔ اگر وہ پوچھنے کی کوشش کرتی تو مغلظات کا طوفان ابل پڑتا ۔اس لئے وہ ڈر کے مارے خاموش ہی رہتی۔٭٭٭٭٭٭٭ان دونوں کے درمیان اسی کشمکش میں دو سال بیت گئے تھے۔ پورے دن میں چند ضروری جملوں کا تبادلہ بھی ہوتے ہوتے اب نا ہونے کے برابر رہ گیا تھا اسی دوران میں ملک میں بری طرح ریسیشن کا دور پیدا ہونے لگا تھا۔ انکے آفس سے بھی دو سو لوگ نکالے جا چکے تھے مگر اتفاق سے ان تینوں کا نمبر ابھی تک نہیں آیا تھا ۔ ملکی معشیت تیزی سے گرتی جارہی تھی۔ ہزاروں لوگ بے گھر ہوتے جا رہے تھے۔ حکومت لوگوں کے گھر چھین چھین کر انکو سڑکوں پر لا رہی تھی۔ غربت کی وجہ سے خودکشی کرنے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا تھا۔ پورا ملک ناامیدی کے سمندر میں ڈوبا ہوا تھا۔ ایسے میں کوئی بھی اپنی جاب کھونا منظور نہیں کر سکتا تھا۔کسی نا کسی طرح یہ تینوں اپنی جگہ پر جاب کر رہے تھے۔ ایک دن اچانک معلوم ہوا کہ اب انکے ڈیپارٹمنٹ کی باری بھی آ گء ہے اور ایمن یا جم میں سے کسی ایک کو جاب سے جانا پڑے گا۔ ان دونوں میں سے کسی ایک کو "لے آف" کیا جانے والا تھا آنے والے مہینے کے آخری فرائڈے کو اور ان میں سے ایک کو ہمیشہ کے لئے اپنے گھر چلے جانا تھا۔ابھی یہ فیصلہ ہونا باقی تھا کہ جم اور ایمن میں سے کون جائے گا۔ دونوں کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع تھا۔ تمام بڑے آفیسیرز کی اہم میٹینگ ہونے والی تھی جس میں وہ دونوں کی خدمات کا جائزہ لے کر کسی ایک کو گھر بھیجنے والے تھے۔ اس فیصلے میں ابھی ایک مہینہ باقی تھا اور یہ وقت دونوں کے لئے بہت بھاری تھا۔ ان دنوں جم کا موڈ بھی کچھ بگڑا بگڑا تھا اور وہ ایمن کے آفس کے چکر بھی نہیں لگا رہا تھا۔ جب بھی دیکھو کسی نا کسی باس کے ساتھ آفس میں بند مذاکرات کر رہا ہوتا۔ دو تین بار ایمن نے خود اس سے بات کرنے کی کوشش کی تو جم نے رکھائی سے جواب دیا۔ ایمن کو تو یقین نہیں آتا تھا کہاں وہ اسکی ایک نظر کا طالب اور کہاں یہ انتہائی روکھا پھیکا سا بندہ ؟خوف کے مارے ایمن کی حالت تو ایسی ہو چکی تھی کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ عامر سے تو ویسے بھی چند لفظوں کا ناطہ رہ گیا تھا پہلے بھی اور اب تو وہ بھی نہیں رہا تھا مگر جم؟ وہ تو کسی حد تک اسکے ساتھ اپنی نئی زندگی شروع کرنے کے بارے میں واقعی سنجیدگی سے غور کرنے لگی تھی۔ لیکن اب اس وقت عامر اور جم میں سے کوئی بھی اسکا سہارا بنتا نظر نہیں آ رہا تھا۔ وہ جائے تو جائے کہاں؟ پاکستان میں تو ویسے بھی اس کا کوئی خاندان نہیں تھا۔ امی ابا کے بچپن میں مر جانے کے بعد غریب ماموں ممانی نے پالا تھا اور جیسے تیسے رخصت کر کے اپنا فرض ادا کر دیا تھا۔ وہ وآپس انکے پاس جانے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔٭٭٭٭٭٭٭٭
September 27, 201114 yr Author ممبرز جتنا ٹائم ملتا ہے اس حساب سے ستوری کو آگے بڑھا رھا ہوںابھی کے لیئے اتنا ہی کل امیڈ ہے کہانی کو مکمل کر دیا جائے گا اسی ایک مہینے کے وقفے میں جب ایمن کی زندگی کا فیصلہ کیا جانے والا تھا اچانک جاب پر ایسا کچھ غلط کام ہوا جو اس نے ہرگز نہیں کیا تھا نا اسکا کوئی قصور تھا مگر کاغذات کے حساب سے سب قصور اسی کا بن رہا تھا اور ایمن کی وجہ سے ریسیشن کے دور میں کمپنی کو ایک لاکھ ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑ رہا تھا۔ یہ سب اسکی ذرا سی غلطی اور لاپرواہی سے ہوا تھا۔سب بڑے لوگ میٹینگ میں تھے اور وہ کسی مجرم کی طرح سر جھکائے بیٹھی تھی۔ اس پر طرح طرح کے الزام لگ رہے تھے۔ ہر وقت اسکی تعریفیں کرنے والے لوگ آج جیسے وعدہ معاف گواہ بن کے اسکے خلاف ہو گئے تھے۔ اسکی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا۔ وہ ان کاغذات کو جھٹلا نہیں سکتی تھی اسکے اپنے اصلی سیگنیچر بھی موجود تھے حلانکہ حقیقت میں وہ اس پورے معاملے میں سرے سے انوالو ہی نا تھی ۔ اس نے کسی اور بات کے لئے سائن کیا تھا مگر وہ پیپر اب کہیں اور استعمال ہو چکا تھا بلکہ کچھ لوگ تو اسکو نوکری سے نکالنے کی بجائے سیدھا جعل سازی کے الزام میں جیل بھجوانے کی باتیں کر رہے تھے اور دکھ کی بات تو یہ تھی کہ جم اس وقت ان سب کا سرغنہ بنا ہوا تھا۔ وہ حیران ہو رہی تھی یہ کیسی محبت ہے جو انسان کو ایک نوکری کے کھو جانے کے خوف سے اپنا راستہ بدلنے پر مجبور کر گء ہے
September 28, 201114 yr Author ایمن ان دنوں بری طرح ٹوٹ رہی تھی ۔ جم جیسی محبت کا یہ روپ کس نے دیکھا ھو گا آج تک? کیا مغرب میں محبت ایسے کی جاتی ھے? وہ کء بار اپنے آپ سے یہ سوال پوچھ چکی تھی?۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ عامر اس سے کوئی بات نا کرتا تھا اور پورے آفس کو علم ہونے کے باوجود وہ اس پورے معاملے سے قطعی لا تعلق نظر آتا تھا۔ ایک لفظ بھی ہمدردی کا نہیں بولا اورنا اس نے ایک بار بھی ایمن سے اس پورے معاملے کے بارے میں ایک لفظ بھی پوچھا تھا۔ الٹا وہ ان دنوں ہر وقت کسی نہ کسی کام میں بہت مصروف نظر آتا تھا ۔ عامر شاید اس لئے خود کو ہر وقت بہت مصروف ظاہر کرتا کہ اسکو بھی بےکار جان کر جاب سے فارغ نا کر دیا جائے۔ آجکل وہ "ڈو نتھینگ لک بزی" کی عملی تصویر بنا ہوا تھا۔ وہ سارا سارا دن فائل روم میں گھسا ہزاروں فائلیں الٹتا پلٹتا رہتا۔ اسکو تو جیسے ایمن کے ہونے نا ہونے کا احساس تک مٹ چکا تھا۔ کبھی کبھار فائلوں کے پلندے اٹھا کر گھر لے آتا اور ساری ساری رات ان میں پتہ نہیں کیا چھانا کرتا۔آخر وہ فرائڈے آ ہی گیا جس کے آنے کے خوف سے ایمن کا وجود کانپ رہا تھا۔ اسکو آفس میں بلوا لیا گیا اور ساتھ ہی اس کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے صرف "لےآف" کیا گیا اور جیل بھیجنے کا ارداہ ترک کر دیا گیا تھا۔ وہ کانپتے ہاتھوں سے ان کاغذات پر سائن کر رہی تھی جب عامر ہاتھ میں ہزاروں فائلوں کے پلنڈے پکڑے بلا اجازت زبردستی آفس میں گھس آیا اور بولا"میں بلا اجازت اندر آنے کی معافی بعد میں مانگ لوں گا مگر پلیز آپ لوگوں کے لئے جو اہم معلومات لایا ہوں انکو پہلے غور سے دیکھ لیں۔ وہ سب لوگوں کو کچھ ہینڈ آؤٹس پکڑانے لگا۔ یہ سب قصور دراصل جم کا ہے اور اس نے اپنی جاب بچانے کی خاطر کاغذات میں رد وبدل کر کے اسے ایمن کی غلطی بنا دیا ہے"یہ سن کر جم نے آفس سے بھاگنے کی کوشش کی مگر عامر نے پہلے ہی ڈور لاک کر دیا تھا۔-------------------------------------------------ایمن نے تشکر سے بھیگی آنکھوں سے عامر کو دیکھا۔ اب اسکی سمجھ میں یہ راز بھی آ گیا کہ عامر صبح شام ان فائلوں میں سر کھپا کر ایمن کی بے گناہی کے ثبوت ڈھونڈ رہا تھا۔ اسکا دل عامر کے لئے پیار سے لبالب بھر گیا اور بے اختیار اسکی طرف لپکی تو راستے میں ٹھوکر کھا کر گر پڑی۔ عامر نے آگے بڑھکر اسکو زمین سے اٹھایا اور بولا"ایک دن ایک سبق تم نے مجھے دیا تھا،" کوا چلا ہنس کی چال والا " جب میری سمجھ میں اسکا مطلب آنے لگا تو تم خود اسکا مقصد بھولنے لگی تھیں۔ میرا خیال ہے اب وہ تو ہم دونوں کی سمجھ میں اچھی طرح آ گیا ہے۔ ھیپی اینڈ
Create an account or sign in to comment