Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

(چھوٹو گینگ (ظلم کی سچی داستان

Featured Replies

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 90
  • Views 117.2k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • update 1   چھوٹو گینگ (ظلم کی ایک سچی داستان)       جہازی سائز بیڈ پر20 سالہ خوبصورت لڑکی شلوار قمیض میں ملبوس تھی جس کے دونوں ہاتھ اوپر کی طرف رسی سے بندھے ہوئے تھےبکھرے

  • چھوٹو گینگ  (ظلم کی سچی داستان                           Update 2   انسپیکٹر آصف نے فون اٹھایا اور کال ملا دی    کچھ ہی دیر میں کال رسیو ہوی اور انسپیکٹر آصف بولا  

  • Very very nice start dear bro. Maza agya. Bs ap jaldi jaldi next aik lmbi aur sex aur suspense sy bhatpooor update den. ❣️❣️❣️

  • Author

پیارے ممبرز امید ہے آپ سب خیریت سے ہونگے میں کافی مصروف رہا جس کی وجہ سے آپ کو اپ ڈیٹ نہ دے سکا آپ کی محبتوں کا شکریہ میں جلد ہی آپ ڈیٹ دونگا آپ سب کی محبتوں کا قرض دار شیخ جی فار یو love u all

On 12/27/2021 at 5:47 PM, Sheikhg4u said:

پیارے ممبرز امید ہے آپ سب خیریت سے ہونگے میں کافی مصروف رہا جس کی وجہ سے آپ کو اپ ڈیٹ نہ دے سکا آپ کی محبتوں کا شکریہ میں جلد ہی آپ ڈیٹ دونگا آپ سب کی محبتوں کا قرض دار شیخ جی فار یو love u all

انتظار رہے گا

ہر انسان کہیں نہ کہیں مصروف ہوتا ہے۔ کبھی فیملی میں کبھی جاب میں کبھی دوستوں میں کبھی کہیں مشکلوں میں گھرا ہوتا ہے۔ 

کوشش کرنی چاہیے کہ اپنے وعدہ کو پورا کیا جائے ہیں ۔۔۔ پہلے وعدہ پورا ہونے کا انتظار رہتا ہے۔ وقت پر اپ ڈیٹ نہ ہو یہ انتظار بوریت اور پھر کوفت بن جاتی ہے۔ 

آپ کی مصروفیت اپنی جگہ لیکن آپ نے کہانی شروع کی ہے تو اسے وقت بھی دیں 

 

📢 Post Your Ad Here
  • Author

اپڈیٹ نمبر 4

چھوٹو گینگ کے ظلم کی داستاں

انسپیکٹر آصف گھر پہنچا ملازم جس کا نام بختو اور عمر تقریباً 50 سال کا تھا کو آواز دی بابا کھانا لگاؤ 
 خود واش روم گھس گیا کچھ ہی دیر میں فریش ہو کر نائٹ ڈریس پہن کر واش روم سے باہر نکلا اتنی دیر میں بختو بابا کھانا لے کر آ گیا اور انسپیکٹر آصف نے کھانا کھایا 

کھانا کھانے کے بعد بابا بختو چاۓ کا کپ دیتے ہوے انسپیکٹر آصف سے کہا 

بیٹابڑی  بی بی کا فون آیا تھا آپ کا پوچھ رہی تھی آپ کے بارے میں کافی فکر مند تھی تو میں نے ان کو تسلی دی کہ آپ ٹھیک ہیں پر وہ کافی دل برداشتہ تھی اور بار بار بول رہی تھی کہ تمہیں سمجھاؤں کہ تم اپنی پوسٹنگ یہاں سے کسی دوسری جگہ کروا لو بختو بابا نے کہا 

اماں کو میری فکر ہے مجھے پتہ ہے ان کو جب میری یہاں پوسٹنگ کا پتہ چلا وہ کافی ڈر گئی تھی کیونکہ ان کے خیال میں یہاں ڈاکو راج ہے اور ان ڈکووں کی دہشت کی وجہ سے وہ کافی خوفزدہ تھی پر بابا میری سرکاری نوکری ہے میں یہاں جرائم کی روک تھام کے لیے آیا ہوں افسران کو پورا اعتماد ہے کہ میں ان درندوں کا مقابلہ کر کے کرار واقع سزاہ دیلواؤنگا آپ تو سمجھتے ہیں انسپیکٹر آصف نے کہا 

بیٹا مجھے پورا یقین ہے تم پہ کہ تم ان درندوں کو کیفر کردار تک پہنچاؤں گے میری دعائیں تمہارے ساتھ ہیں چلو بیٹا آرام کرو کافی تھک گئے ہو گے ادھی رات گزر چکی ہے بختو بابا نے پر خلوص لہجہ میں کہا 

انسپیکٹر آصف نے سر ہلا کر اپنے بیڈ پر سونے کیلیے لیٹ گیا 

ابھی کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ اچانک موبائل بج اٹھا 
آصف نے ناگواری سے موبائل اٹھا کر بات کی اور ایک دم سے چونک آٹھا اور جلدی سے کہا میں آتا ہوں تم وہاں باقی کے کام نپٹاؤ انسپیکٹر آصف ٹراوزر اور شرٹ پہنے باہر موجود گاڑی کی طرف گیا  اور گھر سے روانہ ہو گیا کچھ ہی دیر بعد وہ جب متعلقہ جگہ پہنچا تو وہاں پولیس کی نفری اور ایمبولینس کی گاڑیاں موجود تھی انسپیکٹر آصف کو دیکھ کر ایک نوجوان فوری اس جانب آیا اور انسپیکٹر آصف کو سلیوٹ کیا مسافربس اور وین پر چھوٹو گینگ کی ڈکیتی اور قتل کے بارے میں رپورٹ دینے لگا 
انسپیکٹر آصف اس نوجوان کو کچھ کہنے ہی والا تھا کہ  موبائل بجا موبائل نکال کر بات سنی اور جی سر  
میں موقع پر موجود ہوں جلد رپورٹ تیار کر کے آپ کو صبح تک پیش کرونگا جی سر آپ بے فکر رہیں ہم ان کو نہیں چھوڑیں گے  اوکے سر دوسری طرف سے سن کر آصف نے گہراہ سانس لیتے ہوئے موبائل بند کیا اور کہا کہ  

ارسلان یہ کاروئی پولیس کو چیلنج دینے کے مطرادف ہے میں اس گینگ کو نہیں چھوڑوں گا انھوں نے ظلم کی انتہا کر دی ہے ڈی پی او صاحب بہت غصہ میں ہیں اور وہ اس گینگ کے خلاف کاروائی کا حکم دہے ہیں اب جلد ہی ہمیں عملی اقدامات کرنے ہونگے انسپیکٹر آصف نے جوشیلے انداز میں کہا اور جواب میں ارسلان نے  کہا جی سر ان مسافروں خصوصا خواتین اور بچے کافی خوف زدہ ہیں  ان بے رحم لوگوں نے جس طرح گارڈ کا قتل اور لوٹاہے لوگ کو بہت خوفزدہ کر دیا ہے آپ بے فکر رہیں ہم جلد ہی ان ظالموں کو کیفریکردار تک پہنچائیں گے 
خواتین سے تو انہوں نے کوئی بدسلوکی نہیں کی انسپیکٹر صدف نے کہا 
سب انسپیکٹر ارسلان نے نہ میں سر ہلایا 

اوکے ان لوگوں کا بیان ریکارڈ کر لو اور ان سب کے ایڈریس لے کر قانونی کاروائی مکمل کرو اور پولیس پروٹیکشن میں یہاں سے روانہ کرو اور نعش کو پوستمارٹم کے لیے ہسپتال بھیجو اور رات کو پولیس کا گشت اور موثر کرو اور اس جیسا گھنونہ واقع دوبارہ نہ ہونے پائے اس کے بارے میں انتظام کرو اور تم خود اب اس کی نگرانی کرو گے انسپیکٹر آصف نے کہا اور واپس گاڑی کی جانب آ کر گھر کی جانب روانہ ہو گیا 

سردار چھوٹو لیٹا ہوا چھمیہ سے بہت پیار سے بولا کہ آج مزاج آ گیا کیا کمال کا چدی ہے تو گانڈ بھی تیری سیل بند تھی

سردار میرا تو تکلیف سے برا حال ہو گیا ہے گانڈ میں ایسا لگ رہا ہے کہ لال مرچ ڈال دی ہو اور تیری ضد کی وجہ سے ادھ منہ کر دیا ہے میری گانڈ کو تھوڑہ بھی رحم نہیں آیا سردار تجھے تو چھمیہ نے تکلیف دہ آواز میں کرہاتے ہوے جواب دیا 
سردار نے قہقہ لگا کر کر کہا چھو ڑ او چھمیہ تو توخوش قسمت ہے کہ تیری پھدی اور گانڈ سردار چھوٹو نے کھولی ہے وہ بھی پیار سے 

ابھی تو تو نے سردار چھوٹو کا غصہ دیکھا نہیں چل اب اٹھ اور جا کل پھر  آ جانا تہمکانا لہجہ میں کہا اور سردار چھوٹو کپڑے پہن کر کمرے سے باہر آگیا اور آواز دی بگو کہا گیا ہے اس کو بلا لا باہر کھڑے مسلح شخص سے کہا تو اس نے جواب دیا سردار وہ بندوں کے ساتھ کہی گیا ہے 
اچھا 

چل میں سونے جارہا ہوں تو اس چھمیہ کو گھر چھوڑ آ اور سن کوئی حرکت نہ کرنا جی سردار جو حکم مسلح شخص نے کہا 

(ریڈرز کی پرزور ریکوسٹ پر سرائیکی کے الفاظ کا استعمال نہیں کیا جائے گا )

کمرے میں پہنچ کر اب سائیں نے نیلی سے کہا 

جانو آؤ نہ میرے پاس کیوں غصہ کرتی رہتی ہو تم جیسی حسینہ تو بس صرف مسکراتی ہوئی ہی پیاری لگتی ہے تمہیں پتہ ہے نہ کہ میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا تم تو میری جان ہو ابا سئیں نے اپنی باہوں میں لے کر نیلی سے کہا اور اپنے ہونٹ نیلی کے ہونٹوں پر رکھ دیے اور آرام آرام سے چوسنا شروع کر دیے پہلے اوپر والا ہونٹ چوسا اور مدہوش ہو کر کہا تمہارے ہونٹوں کا رس جب تک نہ پیؤں مجھے سکون ہی نہیں آتا کیا لزت ہے ان میں اور پھر نیچے والے ہونٹ کو چوسنا شروع کیا 

جی سائیں مجھے پتہ ہے کہ مجھے تڑپانے میں آپ کو مزہ آتا ہے میں بھی اپ کے بغیر نہی رہ سکتی اس بات کا اپ کو تو پتہ ہی ہے  اور آپ اسی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں نا نیلی نے ابا سائیں کا چہرے کو پکڑ کر ایک سائڈ پر کرتے ہوئے کہا 

نیلی میری جان تو میں کوئی ناجائز فائدہ نہیں اٹھاتا بس کام بھی تو کرنا ہوتا ہے تو سمجھا کر آخر تو نہیں سمجھے گی تو اور کون سمجھے گا بس تو منہ نہ بنایا کر میرے دل کو کچھ ہوتا ہے جب میں تمہیں غصہ میں دیکھتا ہوں اب سئیں نے کہا اور پھر ہونٹوں پر حملہ کرنے کی کوشش کی پر نیلی بھی تڑپانا خوب جانتی تھی اس نے منہ پھیر لیا اور کہا میں سب سمجھتی ہوں سائیں اپ کے مسکوں کو میں اگر آپ آیندہ سے وقت پر نہ ایے تو آپ نیلی کو چھو بھی نہ سکو گے یہ آپ کی سزا ہو گی 

اب سائیں نے ڈرنے کی ایکٹنگ کرتے ہوے کہا نہ میری جان ایسا نہ کہوں میں وعدہ کرتا ہوں کہ آیندہ میں جلد آیا کروں گا اب جلدی سے اپنے ہونٹوں کا جام پینے دو بس کرو نہ تڑپا و ابا سائیں نے التجائیا لہجہ میں کہا 

نیلی ہنس پڑی حاضر میرے راج کمار اور اپنے ہونٹ ابا سائیں کے ہونٹوں پر رکھ دیا 
کافی دیر کسنگ کے بعد ابا سائیں نے اپنی قمیض اتاری اور اور نیلی کی بھی قمیض اتار دی جس سے اس کا دودھیا خوبصورت بدن اور بلیک برا میں قید ممے ابا سئیں کو دعوت پیار دے رہے تھے  واقعی نیلی کا جسم ایک دوشیزہ کے جسم کی طرح خوبصورت اور کمال کا کسہ ہوا تھا پیٹ اندر کو اور مموں کا سائز 38 پتلی کمر اور گانڈ کافی باہر کو نکلی ہوئی تھی جو کسی بھی کو بھی بے قابو کرنے کے لیے کافی تھی 
ابا سائیں نے جب حوس زدہ نگاہوں سے نیلی کے خوبصورت بدن کو دیکھا تو دیکھاتا ہی رہ گیا اور کہا آج بھی تم پہلی رات کی دلہن کی طرح حسین و جمیل اور کچی کلی لگ رہی ہو ایسا لگ رہا ہے کہ میں تمہارے حسن کے سہر میں جکڑ سا گیا ہوں نیلی میری جان واقع ہی تم بہت ہی خوبصورت ہو 
نیلی نے شرما کر کہا سائیں اپ ہر بار یہی کہتے ہیں میں نہیں آپ کی نگاہیں خوبصورت ہیں جن کو ہر چیز خوبصورت لگتی ہے 

 ابا سئیں نے ایک قہقہ لگایا اور اپنے ہونٹوں کو نیلی کی گردن پر رکھا اور پوری گردن پر اپنی زبان پھیرنے لگا نیلی مزے سے سسکیاں لیتے ہوئے بولی سائیں آپ کے پیار کرنے کا انداز مجھے بے قرار کر دیتا ہے اور اپنے حاتھوں کی انگلیوں سے ابا سئیں کے سینے کی نپلز کو مسلنے لگی جس سے ابا سئیں کے منہ سے ایک سسکاری سی نکلی اور اسی دوران نیلی نے اپنی زبان سے سینے پر موجود نپلز پر پھیرنا شروع کیا ابا سئی کپکپا اٹھے 

نیلی ابا سئیں کے نپلز چوستی جا رہی تھی اور ابا سئیں آنکھیں بند کیے مزے سے آوازیں نکال رہے تھے
 ابا سئیں اپنے ہاتھوں 38 سائز کےنیلی کے  گول مٹول مموں کو دبا رہے تھے 
اباسئیں نے اپنے نپلز چوستی نیلی کے چہرے کو اپنی انگلی سے اپ کیا اور ہونٹوں کو چوسنے لگا کمر پر موجود برا کا ہک کھولنے لگا اور مموں کو برا سے آزاد کر دیا ہونٹوں کو چھوڑ کر اباسئیں آزاد مموں پر ایسے ٹوٹا جیسے دیر ہو گئی تو ان کا رس چوسنے سے محروم نہ ہو جائے 

جہاں جہاں مموں پر ابا سائیں  چوستہ وہاں وہاں پیار کے سرخ نشان پڑتے جا رہے تھے جو اس کی پتلی اور نرم و ملائم جلد کی نشان دہی کر رہے تھے

اباسئیں نے مموں کا نپل چوستااور انگلی پھودی کی لکیر پر پھیر رہا تھا جس سے نیلی گانڈ اٹھا آٹھا کر انگلی کو اندر لینے کی کوشش کر رہی تھی پر ابا سئیں تو انگلی  شلوار کے اوپر اوپر سے ہی پھیر کر تڑپا رہا تھا 

نیلی اچانک سے ابا سائیں کو دھکیلا اور اب سائیں کی شلوار اتار کر لن کو دونوں ھاتھوں سے مٹھ مارنے کے انداز میں ہلانے لگی اس وقت اباسئیں کا لن پورے جوبن پر تھا لمبا اور موٹا لن نیلی کے دونوں ہاتھوں میں پورہ نہیں آ رہا تھا پھر نیلی نے لن پر اپنے گرم ہونٹ رکھے تو ابا سائیں کے منہ آہ آہ آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ کی مداحوش آواز آنے لگی نیلی لن کو ایسے چوس رہی تھی جیسے بچے لولی پاپ مزے سے چوستے ہیں 

 چوپہ لگاتے لگاتے ابا سئیں نے اچانک ہی نیلی کو روکا اور نیلی کی شلوار اتار کر اس کی پھودی میں اپنی انگلی ڈال کر دانے کو چھیڑتا رہا اور اپنی زبان کو نیلی کے مموں اور پھر پیٹ پر پھیرنا شروع کر دیتا جس سے نیلی کی سرور سے بھری آوازیں کمرے میں گونج رہی تھی جب بھی انگلی پھدی کے دانہ سے رگڑ کھاتی جس سے نیلی کے جسم میں سرور کی سی کیفیت ہوتی اور سیکسی آوازنکلتی 

اباسئیں نے نیلی کو نیچے لٹا کر اپنا لن اس کی پھدی پر ایڈجسٹ کیا اور آہستہ آہستہ لن کو اندر ڈالنا شروع کیا لن نیلی کی ٹائٹ پھودی میں مشکل سے جا رہا تھا نیلی کمال کی سیکسی جسم  کی مالک تھی لگ رہا تھا کہ وہ اپنے جسم کا خاص خیال رکھتی ہے ابا سائیں نے ایک ہلکا سا جھٹکا لگایا جس سے لن پدھی کی دیوروں کو مسلتا ہو آدھا اندر چلا گیا جس سے نیلی کے گلے سے ایک مسحورکن آہ ہ ہ ہ ہ کی آواز نکلی 
جان من تمہیں پتا نہیں میں کتنا بےتاب ہوتا ہوں تمہاری پھدی میں لن ڈالنے کیلیے سئیں نے  ایک زور دار جھٹکا لگایا جس سے پورہ لن جڑہ تک پھدی کے اندر چلا گیا اور مزے سے نیلی کی چیخ نکل گئی اور کہا سئیں آرام سے ڈالو اس کی آوازمیں سرور تھا لگ رہا تھا کہ وہ سیکس کو انجوائے کر کے کرنا چاہتی ہے 

ابا سئیں نے کہا حا ضر سائیں جو میری رانی کا حکم میں آرام سے ہی ڈالوں گا اگلی بار اور ہنسنا شروع کر دیا

 اس وقت ابا سئیں لن کو اندر باہر کرنے میں مشغول اور ساتھ ساتھ ہی وہ دونوں مزے سے بھرپور سیکسی آوازیں نکال رہے تھے اور گھپ گھپ کو آوازوں اس بات کی گوئی دے رہی تھی کہ پھودی مزے سے پوری طرح گیلی ہو چکی ہے دونوں کے مسرور کن اوازیں نکل رہی تھی اندر باہر کرتے ابا سئیں ایک دم رک گیا لن کو باہر نکال کر نیلی کو کہا کہا جانو! ڈاگی سٹائل میں کرتے ہیں 

نیلی مسکرائی اور ابا سئیں کے ہونٹوں کو چوسنا شروع کیا اور لن پر انگلیاں پھیرتے ہوئے  کہا 

جو حکم میری سرکار لن کو دیکھتے اور ہلاتے ہوئے کہا اور اگے کو جھک گی ابا سئیں نے جب باہر کو ابھری ہوئی گانڈ کو دیکھا اور اس پر انگلیاں پھیرنے لگا تو نیلی نے فورا کہا سئیں پھدی نہیں ہے یہ جلدی ڈالو پدھی میں گانڈ کو کچھ مت کرو 
حاضر سئیں جو میری رانی کہے میں تابع دار 
اور اپنا لن حاتھوں سے پکڑ کر ڈوگی سٹائل بنی نیلی کی پھودی کے سراخ پر رکھا اور آہستہ آہستہ اندر کی طرف دباؤں دینے لگا اور اپنے ہاتھوں سے مموں کو پکڑ لیا اور جھٹکے مارنے لگا جھٹکوں سے نیلی کے ممے اگے پیچھے ہورہے تھے نیلی نے مزے سے کہا سئیں اور زور سے  زور سے زور سے 
جھٹکوں کی رفتار میں تیزی آ رہی تھی ہر جھٹکے پر دونوں کی ایک الگ سی مدہوش آواز نکلتی آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ 

نیلی کا جسم اکڑا اور ساتھ ہی پدھی کے اندر سیلاب سا آ گیا ابا سئیں نے بھی جھٹکوں  کی رفتار کو بڑھایا اور تھوڑی ہی دیر بعد وہ بھی پھدی کے اندر ہی ریلیز ہو گیا اور اس کی سانس پھولی ہوئی تھی پدھی سے لن نکال کر ایک سائیڈ پر لیٹ گیا جبکہ نیلی الٹی ہی لیٹ گی اب سائیں نے کہا 
میری جان آج تو تو نے مجھے تھکا دیا ہے تیری پدھی کمال کی ہے میرے جسم کا سارہ پانی نچوڑ لیتی ہے

سائیں اپ کا ہتھیار بھی کمال کا ہے میری جان نکال لیتا ہے پر مزہ بہت آتا ہے نیلی نے بند آنکھوں سے ہی پر سرور لہجہ میں جواب دیا 

یونیورسٹی کے احاطہ میں ایک نوجوان پینٹ شرٹ میں ملبوس تیزی سے سیڑھیاں اتر رہا تھا کہ اچانک سے وہ لڑکھڑیا اور اور زمین پر گرا وہاں ایک سائڈ پر موجود لڑکی جو کہ موبائل پر چیٹ کر رہی تھی اچانک سے اس لڑکے کو گرتے دیکھ کر گھبرا گئی 

بھائی چوٹ تو نہیں لگی اس لڑکی نے کہا 

چوٹ تو نہیں لگی بچ گیا ہوں ویسے میں گرتا تو نہیں ہوں آج پتہ نہیں کیسے لوڑک گیا ڈاکٹر ٹھیک کہتا تھا آج مجھے اس کی بات کی سمجھ آئی ہے اس نوجوان للڑکے نے کہا 

ڈاکٹر کیا کہتا تھا بھائی اس لڑکی نے تجسس بھرے انداز میں پوچھا 

جی ڈاکٹر کہتا تھا کہ تم کافی کمزور ہو گئے ہو اپنی جان بناؤ ٹھیک ہو جاؤ گے پہلے تو مجھے اس کی بات پر یقین نہیں آیا پر آج مجھے پتہ چلا ہے کہ وہ ٹھیک بول رہا تھا لڑکے نے کہا 

لڑکی نے کہا بھائی ڈاکٹر کی ہدایت پر عمل کریں تاکہ اس طرح دوبارہ نہ گر پڑیں اور چوٹ لگ جائے 

جی وہ نا دراصل مجھے شرم آتی ہے لڑکے نے کہا 

لڑکی حیران ہو کر بولی کہ بھائی اس میں شرم کی کیا بات ہے 

تو لڑکے نے جھٹ سے کہا کہ جی وہ نہ آپ میری جان بنیں گی 

لڑکی یہ بات سن کر ایک دم شاک ہوئی بھائی کیا مطلب اس کا 

جی وہ میں ڈاکٹر کی ہدایت پر ہی تو عمل کر رہا ہوں تاکہ میں دوبارہ نہ گر سکوں لڑکے نے کہا 

بھائی ڈاکٹر نے آپ کو اپنی جان مطلب کھانے پینے کا بولا ہے اور اپ یہ کیا بات کر رہے ہیں لڑکی نے غصیلے لہجہ میں کہا 

جی جی میں تو سمجھا تھا کہ وہ مجھے کسی کو اپنی جان بنانے کو بول رہے تھے جو باوجود کوشش کے مجھ سے نہیں بن سکی ویسے اپ سے ایک سوال پوچھوں اگر اپ ناراض نہ ہوں لڑکے نے ہکلاتے ہوے کہا


جی بھائی پوچھیں لڑکی نے بے چارگی کے انداز میں کہا 

کیا میں خوبصورت نہیں ہو کیا مجھے اپنی جان بنانے کا کوئی حق نہیں ہے کیا میں اس طرح اکیلا ہی رہوں گا لڑکے نے افسردہ سے لہجہ میں کہا 


کیوں نہیں ہے حق اپ خوبصورت اور اچھی پرسنیلٹی کے حامل لڑکے ہوں ایسی تو بظاہر آپ میں کوئی برائی نظر نہیں آتی لڑکی نے جواب دیا 

تو پھر آپ کیوں نہیں میری جان بن رہی ہیں اگر اپ کو مجھ میں یہ سب کچھ اچھا نظر آ رہا ہے تو لڑکے نے معصومانہ لحجہ میں کہا 

بھائی میں آپ کو جانتی تک نہیں اور آج پہلی بار اپ کو دیکھا ہے یہ کچھ زیادہ نہیں ہو رہا اتنا سٹیٹ فارورڈ آپ نے کہ دیا ایسا کیسے ممکن ہے بھائی لڑکی نے گھبرائے ہوے جواب دیا اور جانے کیلے اٹھ کھڑی ہوئی 

لڑکے نے ایک دم لڑکی کو اٹھتے دیکھا تو فورا ہی کہا جی میں آپ کو ٹائم دیتا ہوں آپ سے اس بارے میں کل بات کرونگا ٹھیک ہے آپ باقی دن اور پوری رات اس بارے میں زرور سوچیں لڑکے نے معصومانہ انداز میں کہا اور جواب سنے بغیر ایک جانب چل پڑا

اپڈیٹ اچھی دی 

جب سین دوسرا شروع کریں تو پیراگراف چینج کرتے ہوئے کوئ ہیڈنگ ڈال دیا کریں یا پھر تین یا چار لائن کا گیپ دے دیا کریں۔ 

املا کی تھوڑی بہت غلطیاں نظر آرہی ہیں اگر ممکن ہو تو املا پر توجہ فرمایا کریں ( بہت معزرت کے ساتھ عرض کیا ہے)، وہ کیا ہے نا املا صحیح نہیں ہوتا تو مزا کم ہو جاتا ہے 

 

 

  • Author
8 hours ago, Aikalone78 said:

اپڈیٹ اچھی دی 

جب سین دوسرا شروع کریں تو پیراگراف چینج کرتے ہوئے کوئ ہیڈنگ ڈال دیا کریں یا پھر تین یا چار لائن کا گیپ دے دیا کریں۔ 

املا کی تھوڑی بہت غلطیاں نظر آرہی ہیں اگر ممکن ہو تو املا پر توجہ فرمایا کریں ( بہت معزرت کے ساتھ عرض کیا ہے)، وہ کیا ہے نا املا صحیح نہیں ہوتا تو مزا کم ہو جاتا ہے 

 

 

پیارے بھائی سب سے پہلے پسندیدگی کا شکریہ پہلی بات کہ ہر سین کے درمیان دو لائنز کا گیپ تھا پر الفاظ الگ الگ ہو رہے تھے تو میں نے ایڈمن صاحب کو سٹوری بھیجی انہوں نے سیٹ کر کے اپ لوڈ کی دوسری املا کے بارے میں اپ نے کہا تو بھائی کوشش ضرور ہوتی ہے املا کی غلطی نہ ہو پر پھر بھی اگر کوئی کمی رہ جائے تو بڑا دل کر کے انگور کیجیے گا اگے بھی آپ کی رہنمائی کی ضرورت ہو گی شکریہ

Edited by Sheikhg4u

📢 Post Your Ad Here

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.