Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

ایک جھلک

Featured Replies

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Author

اپڈیٹ 4

خیر میں نے کھانا کھا کے برتن باجی کو دیئے اور سونے چلا گیا میری عادت تھی میں سکول سے واپس آنے کے بعد سو جاتا تھا 

خیر شام کو تین بجے میری آنکھ کھل گئ میں اٹھا اور باہر صحن میں آیا تو بھائی بیٹھے تھے 

بھائی۔ہاں جی اٹھ گیا جوان

بھائی شروع سے مجھے جوان کہتے تھے 

میں۔جی بھائی اٹھ گیا 

بھائی۔کدی ڈیرے تے وی چکر لا لیا کر

میں۔آندا تے ہاں بھائی

بھائی۔(ذرا تیز لہجے میں)ہاں پتا مینوں جتنا توں آندا ہر وقت اس لوفر(طارق) نال ای پھردا رہنا ایں

امی۔اچھا ہن جاندے بچے نوں(میری طرف منہ کر کے)جا میرا پتر نہا لے

میں۔جی اچھا امی

خیر میں جا کے نہانے لگا نہا کے واپس آیا تو صوفیہ امی کے پاس سبزی وغیرہ کاٹ رہی تھی

صوفیہ۔نواب صاحب اٹھ گئے(ذرا غصے سے)

میں۔ہاں اٹھ گیا پر تینوں کی ہویا ہر ویلے منہ تے بارا وجے ہوندے ہن

صوفیہ۔زیادہ بک بک نا کر ابا آئے ہوے ہن تے مینوں کے رے سی کے زین نو بلا کے لے آ

میں۔تے تو مینوں پہلے دس

صوفیہ۔آئی سی دسن پر نواب صاحب تے اوندے منہ سوئے ہوے سی 

امی۔پتر تو جا اپنے چاچا دی گل سن آ شاید کوئی کم ہووے

میں۔جی امی

میں نے صوفیہ کو چڑایا اور چاچا کے پاس چلا گیا جیسے چاچا کے کمرے میں پہنچا دروازے کو دھکیلا دروازے کھلتا گیا جیسے ہی دروازے کھلا اندر کا منظر دیکھ کر میرے اوسان خطا ہو گئے ایسا لگنے لگا جیسے میرے جسم میں جان ہی نا ہو سامنے چاچی کھڑی اپنے کپڑے تبدیل کر رہی تھیوہ اوپر سے بالکل ننگی ان کے 40 کے بوبس مجھے دعوت دے رہے تھے چاچی کی عمر کے لحاظ سے ان کے بوبس ابھی تک نا لٹکے تھے بلکہ آج بھی ان کی اٹھان برقرار تھی چاچی کا ہلکا سا باہر نکلا ہوا پیٹ کافی سیکسی لگ رہا تھا

جیسے ہی ان کی نظر مجھ سے ملی وہ ایک دم اچھلی اور اپنے خزانے کو اپنے ہاتھوں سے چھپا لیا لیکن وہ کہاں چھپنے والے تھے میں بھی ایک دم ہوش میں آیا اور جلدی جلدی باہر نکل گیا اور سیدھا طارق کے پاس جا کہ  رکا 

ہمارے ڈیرے کے پاس ہی ایک گراونڈ تھا جہاں میں اور طارق اور ہماری کلاس کے کچھ لڑکے کھیلنے آتے تھے 

جیسے ہی ہم گراونڈ پہنچے میں ایک طرف بیٹھ گیا طارق نے پوچھنے کی کافی کوشش کی لیکن میں نے طبیعت خراب ہونے کا بہانا بنا دیا

اور ابھی تھوڑی دیر پہلے ہونے والے حادثے کے بارے میں سوچنے لگا ایک دم میرے دماغ میں آیا کے اگر چاچی نے چاچا کو بتا دیا تو کیا ہو گا وہ تو مجھے جان سے مار دینگے پھر میں خود کو گالیاں دینے لگا کہ میں وہاں گیا ہی کیوں تھا خیر انہی سوچوں میں گم تھا طارق میرے پاس آیا کہا کہ چل  چلیں 

راستے میں

طارق۔یار اگر کوئی مسئلہ ہے تو بتا تیرا بھائی ہے نا

میں۔نہیں یار کوئی بات نہیں

خیر طارق بھی چپ کر گیا تھوڑی دیر بعد طارق کا گھر آ گیا وہ اپنے گھر چلا گیا لیکن میرا بلکل بھی گھر جانے کو دل نہیں کر رہا تھا لیکن کہاں جاتا جانا تو آخر گھر ہی تھا اوپر سے بھائی کا ڈر کہ وہ تو مجھے کاٹ کہ رکھ دیں گے خیر میں نے بھی سوچ لیا کہ جو ہو گا دیکھا جائے گا کہ دوں گا کہ میں نے جان بوجھ کہ نہیں دیکھا 

میں گھر آیا تو سب کے موڈ تقریباً ٹھیک ہی تھے لیکن مجھے پھر بھی بہت ڈر لگ رہا تھا پر یہ ڈر اس وقت بڑھ گیا جب صوفیہ میرے کمرے میں آئی اور غصے سے کہا

صوفیہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں۔(ایک دم گھبرا گیا )ک ک ک کیا

صوفیہ نے ایسا کیا کہا ہو گا جانیے اگلی اپڈیٹ میں

bro u have started a nice story.plz make a review on font.

u have started a nice story  with a nice way. aur bilkul haqeqat se qareeb lag rahi hai.lakin yar update bohat he choti de rahy ho app.jaisy k shahri likh rahy ho.update size bara karo  plz.yeh kahani agay chalti rahi to yakenan is fourum ki achi kahanion main shumaar ho ge.

📢 Post Your Ad Here
  • Author

اپڈیٹ 5

میں گھر آیا تو سب کے موڈ تقریبا ٹھیک ہی تھے لیکن مجھے پھر بھی ڈر لگ رہا تھا تھا پر یہ ڈر اس وقت بڑھ گیا جب صوفیہ میرے کمرے میں آئی اور غصے سے کہا

صوفیہ۔میں تینوں دوپہر نوں وی آکھیا سی کے بابا تینوں بلانے پے سی پر نواب صاحب نوں تے کھیڈن جانا سی ہن جا بابا اتنے غصے وچ ہن تیرا کئی واری پوچھیا ہے آ جا ہن بابا نے کیا سی اونوں نال لے کے آئیں

میں۔(ایک دم گھبرا گیا)کککککککک کیا

صوفیہ۔اچھا چل گھبرا نئی کچھ نئی ہوندا

اب اس بیچاری کو کیا پتا میں کیوں گھبرا رہا ہوں خیر میں اس کے ساتھ چل پڑا اور سوچ لیا تھا کہ جو ہو گا دیکھا جائے گا لیکن ٹانگیں میری پھر بھی کانپ رہی تھی صوفیہ مجھے باتھ روم کا کہ کے چلی گئی جیسے ہی میں چاچا کے کمرے جانے لگا اور چاچا کے کچن کہ سامنے سے گزرنے لگا تو میری نظر چاچی پر پڑی وہ مجھے ہی دیکھ رہیں تھی پتا نہیں مجھ میں اتنی ہمت کہاں سے آئی اور میں دوڑ کر چاچی کے پاس چلا گیا چاچی نے مجھے ایک شیطانی مسکراہٹ سے دیکھا اور کہا

چاچی۔ پریشان نا ہو میں نے تمہارے چاچا کو کچھ نہیں بتایا وہ تم سے کوئی اور بات کرنا چاہتے ہیں

 چاچی نے یہ بات کہہ کے جیسے میرے جسم سے جان ہی نکال دی ہو میں خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگا میرے سر سے ایک ڈر خوف بوجھ اتر گیا اور پتہ نہیں مجھے کیا سوجھی میں ایک دم سے چاچی کے گلے لگ گیا اور ان کے گال پہ کس کر کے کہا

میں۔چاچی قسم سے مجھے نئی پتا تھا کہ تسی اندر ہو تے

میں اتنا کہہ کر چپ کر گیا

چاچی۔مینوں پتا ہے زین پتر پر تو ایس وقت اپنے چاچے کول جا کوئی ضروری گل کرنی ہے اناں تیرے نال 

میں۔جی اچھا چاچی

کہا اور کچن سے باہر نکل گیا میرا جسم جیسے بلکل ہلکا ہو گیا ہو میں بلکل ٹینشن فری پر پھر خیال آیا چاچا کو کیا ضروری بات کرنی ہے مجھ سے پھر خیال آیا شاید چاچی نے مجھ سے جھوٹ بولا ہو اور انہوں نے چاچا کو بتا دیا ہو لیکن میں چاچی کو جانتا تھا وہ جھوٹ نہیں بولتی تھی خیر میں چاچا کے پاس چلا گیا

  • Author
10 hours ago, Shanee said:

u have started a nice story  with a nice way. aur bilkul haqeqat se qareeb lag rahi hai.lakin yar update bohat he choti de rahy ho app.jaisy k shahri likh rahy ho.update size bara karo  plz.yeh kahani agay chalti rahi to yakenan is fourum ki achi kahanion main shumaar ho ge.

Bohot bohot shukria bhai ap ki hosla afzai ka 

G bhai I know update bohot hi choti hn bas bhai ak do din sbr kren phr lambi updates ayen gi actually thori masroofiyat ki waja sy updates choti hn 

بہت چہوٹی اپڈيٹ صرف ايک نظرڈالنے کی ضرورت ہوتی ہے اپڈیٹ اتنی تو ہو کہ کوئی کمنٹ دے سکے

📢 Post Your Ad Here

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.