Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

آپ بیتی

Featured Replies

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 125
  • Views 388.5k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • devilspell
    devilspell

    update 008 اگلے دن اسکول سے واپس آ کر میں سیدھا کنول آنٹی کے گھر کے لیے نکل پڑا۔ دروازے پر دستک دی تو دروازہ آنٹی نے ہی کھولا۔اور مجھے دیکھ کر ایک پیاری سی مسکراہٹ کے ساتھ دروازے سے ہٹ گئیں اور م

  • Update 005   مہوش موبائل دیکھ ہی رہی تھی کے نوشین کچن سے نکل کر آ گئی اور مجھ سے باتیں کرنے لگی نوشین سے باتوں کے دوران مجھے پتہ ہی نہیں چلا کے مہوش کب ہم سے تھوڑا دور جا کے دیوار سے ٹی

  • Update 006 میں نے ٹھوڑی دیر دوستوں میں وقت گزارا اور گھر آ گیا۔ اُس کے بعد کچھ خاص نہیں ہوا اگلے دن اسکول سے آ کر میں سوچ رہا تھا کہ کیا کریں اب کیونکہ آنٹی کے گھر تو انکی بہن نے ڈیرہ ج

Posted Images

اچھی جا رہی ہے کہانی لگے رہو بھائی

📢 Post Your Ad Here
  • Author
On 1/5/2021 at 10:57 AM, Mian munee said:

Apne mega update ka kaha tha ye to bacha update hai

Hahaha, Muazrat bhai kuch masroofiyat ki waja se time nikalna muskil ho raha hey.

  • Author

Update 009

ہوم ورک کرنے کے بعد میں تھوڑی دیر سو گیا۔ شاید دو یا تین گھنٹے ہی سویا ہونگا کہ مجھے کچھ شور کی وجہ سے میری آنکھ کھل گئی۔ میں نے بستر سے اٹھ کر آواز پر غور کیا تا کہ سمجھ سکوں کے اس شور کی وجہ کیا ہے۔لیکن مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ صرف اتنا پتہ چل رہا تھا کہ جس کی بھی ی آواز ہے وہ رو رہی ہے۔ میں نے آٹھ کے منہ دھویا اور اور اپنے کمرے سے باہر آگیا۔

 میرا گھر دو منزلہ عمارت پر مشتمل ہے جس میں نیچے میرے والدین اور بہن بھائیوں کا کمرہ ہے اور اوپر صرف دو کمرے ہیں جس میں سے ایک میں اس گناہ گار شخص نے ڈیرہ ڈالا ہوا ہے اور ایک کمرہ خالی ہے جسے ہم عموماً سٹور روم کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

خیر میں منہ دھو کر نیچے پہنچا تو ہماری گلی کی ہی ایک خاتون ہمارے گھر میں رو رہی تھیں اور ان کے ساتھ بیٹھی میری امی کے بھی آنسو رواں تھے۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ھوا کیا ہے۔

امی کی نظر مجھ پر پڑی تو وہ بھاگتی ہوئی میرے پاس آئیں اور میرے گلے لگ کے اور زور سے رونے لگیں۔اب تک مجھے سمجھ آ گیا تھا کہ بات کوئی معمولی نہیں ہے۔ میں نے فوراً امی کو اپنے آپ سے الگ کیا اور ان سے پوچھا کہ کیا ہوا آپ لوگ رو کیوں رہی ہیں؟

امی: بیٹا جب تو سو رہا تھا تو کنول تُجھے بلانے ائی تھی۔

میں کنول آنٹی کا نام سن کر اور زیادہ تشویش میں پڑ گیا۔

میں: کیوں بلانے آئیں تھیں کنول آنٹی؟

امی: اسے اپنے گھر کے لیے آٹا منگوانا تھا۔

میں: پھر؟

امی: میں تیرے کمرے میں آئی تو تو سو رہا تھا۔ میں نے اس سے کہہ دیا کے تو سو رہا ہے ابھی۔

میں: یار امی اٹھا دیتیں نہ مجھ کو۔ خیر پھر کیا ہوا؟

امی: بیٹا مجھے تھوڑی پتہ تھا کہ ایسا ہو جائیگا۔

میں: کیسا ہو جائیگا؟ کیا ہو گیا امی بتائیں۔

امی میری یہ بات سن کر اور زور سے رونے لگیں۔

میں: اف امی کچھ تو بتائیں کہ آخر ہوا کیا ہے۔

امی: بیٹا وہ شاید خود ہی آٹا لینے چلی گئی تھی اور راستے میں روڈ کراس کرتے وقت ایک ٹرک اسکو۔۔۔۔

اتنا کہہ کر امی پھر سے رونے لگیں اور یہ سننے کے بعد میرے بھی اعصاب جواب دے گئی اور دماغ بلکل سن سا ہو گیا۔

میں اسے ہی جلدی نے گھر سے باہر نکلا تو گلی میں کافی رش تھا تقریباً ہر کوئی ہی اپنے گھر سے باہر نکلا ہوا کنول آنٹی کے گھر کے باہر بھی بھیڑ جمع تھی۔میں بھی تیز قدموں سے چلتے ہوئے اسی بھیڑ کا حصہ بن گیا۔

ایسے میں مجھے میری گلی کا دوست ارسلان نظر آیا تو میںنے اُسے آواز دی اس نے میری طرف دیکھا اور آہستہ قدموں سے چلتا ہوا میری طرف آیا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ آنٹی کہاں ہیں ابھی؟

ارسلان نے حیرانگی سے میری طرف دیکھا اور کہا تُجھے نہیں پتہ اُنکا انتقال ہو گیا ہے۔

مجھے ایسا لگا کہ جیسے کسی نے ہتھوڑا کھینچ کر میرے سر پر مار دیا ہو۔

تھوڑی دیر میں خاموشی سے ارسلان کی شکل دیکھتا رہا۔ شاید میں بولنے کے لیے الفاظ ڈھونڈ رہا تھا۔لیکن الفاظ کا چناؤ تو دماغ کرتا ہے اور میرا دماغ تو جیسے سکتے کی حالت میں تھا۔

کچھ دیر خاموشی کے بعد میں ارسلان سے پوچھا کہ کب ہوا انتقال۔

ارسلان: ابھی پندرہ منٹ پہلے ہی گلی کے آدمی کے پاس کنول آنٹی کے شوہر کا فون آیا تھا۔ تب ہی پتہ چلا سبکو۔

میں: ایکسڈنٹ کہاں ہوا؟

ارسلان: مین روڈ پر

میں: مجھے لے کر چل وہاں۔

ارسلان: ہاں چل

میں اور ارسلان حادثے کی جگہ پر پہنچے۔ ہمارے سامنے ایک ٹرک کھڑا تھا جس میں آگ لگی ہوئی تھی۔ غالباً وہاں موجود عوام نے ٹرک کو جلا دیا تھا۔ ارسلان نے مجھے بتایا کہ ڈرائیور ٹرک سے کود کر فوراً بھاگ گیا تھا۔اور کچھ لوگوں نے یہ بھی بتایا دو ٹرکوں کی آپس میں ریس لگی ہوئی تھی جس کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا۔

خیر میں اُداس دیو اور نم آنکھوں کے ساتھ ٹرک کو دیکھنے لگا۔ٹرک کے نیچے بیچ و بیچ بہت سارا خون پڑا تھا۔ یہ خون بھی آنٹی ہی کا تھا۔ مجھے یہ دیکھ کر اور بھی رونا آنے لگا۔

ارسلان نے بتایا کہ حادثے کے فوراً بعد ایک امبولنس بلوائی گئی جس میں ڈال کر آنٹی کی قریبی ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹر نے انکی موت کی تصدیق کر دی۔ ابھی آنٹی کو ایدھی سینٹر لے جایا گیا ہے۔ اس کے بعد عشا کے بعد انکی تدفین ہے۔

میں یہ ساری باتیں سن کر اپنا سر پکڑ کر فوٹ پاتھ پر ہی بیٹھ گیا۔ یقین ہے نہیں ہو رہا تھا کے تین گھنٹے کی نیند میں اتنا سب کچھ ہو گیا۔

کسی طرح سے وقت گزرا اور آنٹی کی تدفین کر دی گئی۔ سب اپنے گھر واپس آ گئے اور سب کے لیے کنول آنٹی ماضی کا حصّہ ہو گئیں سوائے میرے۔ میرے دل میں وہ ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ میں رات کو اپنے بستر پر لیٹا نم آنکھوں سے بس یہی سوچ رہا تھا کہ شاید اب آنکھ کھل جائے اور یہ سب ایک خواب ہو۔ لیکن ایسا نہیں ہوا میں اسے ہی آنسو بہاتے بہاتے سو گیا۔ دل میں ایک غم تھا تو صرف ایک بات کا کہ آنٹی کو اپنے گناہوں کی توبہ کرنے کا بھی موقع نہیں ملا۔

📢 Post Your Ad Here

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.