Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

آپ بیتی

Featured Replies

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 125
  • Views 388.6k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • devilspell
    devilspell

    update 008 اگلے دن اسکول سے واپس آ کر میں سیدھا کنول آنٹی کے گھر کے لیے نکل پڑا۔ دروازے پر دستک دی تو دروازہ آنٹی نے ہی کھولا۔اور مجھے دیکھ کر ایک پیاری سی مسکراہٹ کے ساتھ دروازے سے ہٹ گئیں اور م

  • Update 005   مہوش موبائل دیکھ ہی رہی تھی کے نوشین کچن سے نکل کر آ گئی اور مجھ سے باتیں کرنے لگی نوشین سے باتوں کے دوران مجھے پتہ ہی نہیں چلا کے مہوش کب ہم سے تھوڑا دور جا کے دیوار سے ٹی

  • Update 006 میں نے ٹھوڑی دیر دوستوں میں وقت گزارا اور گھر آ گیا۔ اُس کے بعد کچھ خاص نہیں ہوا اگلے دن اسکول سے آ کر میں سوچ رہا تھا کہ کیا کریں اب کیونکہ آنٹی کے گھر تو انکی بہن نے ڈیرہ ج

Posted Images

Zabardast story. Boht achi wardat kar dali tarsi hui aunty ke sath.

On 11/27/2020 at 11:38 AM, devilspell said:

بالکل آگے بڑھے گی
یہ کہانی ابھی کافی لمبی چلیں گی
لیکن آپ لوگوں کے سپورٹ کی ضرورت ہے .

Bahi bohat acha likh raha ho ma a gay ap ke story pher kar likhty raho 

On 11/13/2020 at 3:11 PM, devilspell said:

دوستوں یہ میری پہلی کوشش ہے . اِس لیے غلطیوں کے لیے معذرت .

اب سمجھ آیا ہے کے کہانی لکھنا کتنا مشکل کام ہے .
مجھے اُرْدُو میں لکھنے میں کافی مشکل ہوتی ہے لیکن آپ لوگوں کی دلچسپی کے لیے کوشش کر رہا ہوں .
اگر آپکو پسند آئے تو ضرور باتیں تا کے میں اگلی اپ ڈیٹ لکھوں .

سچی بات ہے کہ کہانی لکھنا واقعی مشکل کام ہے لیکن پڑھنا آسان ہے 

📢 Post Your Ad Here
  • Author


Update 004

جب میں گھر آیا تو دماغ میں زور زور سے گھانتیان بج رہی تھیں
کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا
آج تک جس چدائی کے بارے میں صرف سوچتا تھا ، وہ میں کر کے آ گیا تھا
بار بار آنٹی کی مست گول گول گانڈ اور آنٹی کی بالوں سے پاک چوت نظروں کے سامنے آ رہی تھی
یہی سوچتے ہوئے اک بار پِھر میرا لنڈ کھڑا ہو گیا
آج تو مٹھ مارنے کا بھی دِل نہیں کر رہا تھا
کیوں کے جب اک بار بریانی کا ذائقہ مل جائے تو ڈال روتی کس کو اچھی لگتی ہے
یہی سوچتے ہوئے ذہن میں خیال آیا کے کیوں نا دوبارہ آنٹی کے گھر جا کر اک بار پِھر ان کی چوت ماری جائے
لیکن پِھر ٹائم دیکھا تو خود اپنا اِرادَہ ترک کر دیا کیوں کے اب آنٹی کی بیتیان ان کے گھر پر ہونگی
خیر كھانا وغیرہ کھا کے کسی طرح میں سو گیا
اور صبح اسکول چلا گیا
اسکول سے واپس آ کر جلدی سے كھانا زہر مار کیا اور اور کپڑے بَدَل کر سیدھا آنٹی کے گھر پوچھ گیا
دروازے پر دستک دی تو آنٹی کی بھانجی نے دروازہ کھولا
جس سے مجھے پتہ چلا کے آنٹی کے گھر مہمان آئے ہوئے ہیں
آنٹی کی بہن پاس کے ہی علاقے میں رہتی تھیں اور ماحینیی میں اک بار ان کے گھر ٹپک پڑتی تھیں
اور 2 3 دن رک کر واپس جاتی تھیں
میں دِل ہی دِل میں آنٹی کی بہن کو گالیاں دیتا ہوا گھر کی طرف واپس چل دیا
گھر آ کر اپنے پلنگ پر لیٹ گیا
حالت ایسی تھی کے سامنے اگر بکری بھی آجائے تو اسے بھی چھوڑ دوں
تھوڑی دیر ایسی ہی لیتا رہا پِھر اکتا کر اٹھ گیا اور گھر سے باہر نکل گیا
ابھی گلی میں ہی تھا کے مجھے مہوش باجی مسکراتی ہوئی اپنے دروازے پر کھڑی نظر آئیں
مہوش باجی کا گھر ہمارے برابر سے برابر والا تھا
مہوش باجی کو ملا کر ٹوٹل 3 بیحنین تھیں
سب سے بڑی مہرین
اس سے چھوٹی نوشین
اور سب سے چھوٹی مہوش
مہوش باجی کے ابو کی فیکٹری میں میلازیم تھے وہ صبح کام پر جاتے اور شام کو گھر آتے
مہوش باجی اور انکی دونوں بہنوں کی عمریں کافی زیادہ ہونے کے باوجود ان کی شادی نہیں ہو پا رہی تھی
ابھی حال ہی میں کسی طرح انکی سب سے بڑی بہن مہرین کی شادی ہوئی تھی
مہرین باجی تھوڑی غصے کی تیز ٹائپ کی تھیں
لیکن باقی دونوں بیحنین ان کی اُلٹ
بچہ ہونے کی وجہ سے میرا ان کے گھر بھی انا جانا لگا رہتا تھا
اکثر میری موجودگی میں نوشین اور مہوش دوپٹہ بھی نہیں لیتی تھیں
ان کے گھر بیٹھ کر میرا اچھا ٹائم پاس ہو جاتا تھا
نوشین یا مہوش دونوں میں سے جب بھی کوئی مجھ سے بات کرتی تو انکی بات دھیرے دھیرے اک ہی طرف آ جاتی جو کے یہ ہوتی کے فلاں کا فلاں کے ساتھ چکر چل رہا ہے
وہ دونوں ہی شادی نا ہونے کی وجہ سے اپنے اندر کے طوفان کو دبا کے بیٹھی تھیں
ایسا نہیں تھا کے وہ خوبصورت نہیں تھیں
خوسورتی میں تو ان دونوں بہنوں کا کوئی جواب نہیں تھا
لیکن انکی شادی میں دیر ہونے کی وجہ انکی بڑی بہن مہرین تھی جو شکل صورت بہت معمولی سی تھی رنگ صاف تھا لیکن کشش ذرا بھی نہیں تھی اور عمر کافی زیادہ تھی
جس کی وجہ سے جب بھی ان کے گھر رشتے والے آتے تو مہرین کے بجائے نوشین یا مہوش کو پسند کر کے چلے جاتے
ان کا امی ابو کی ضد تھی کے پہلے بڑی کی شادی ہوگی پِھر چھوٹی کی
جیسے تیسی کر ان کی شادی ہو گئی
جب مہرین باجی شادی ہو رہی تھی تو ان کے گھر کے کافی سارے کام میں کر دیا کرتا تھا
کیوں کے ان کا کوئی بھائی نہیں تھا
اکثر تینوں بہنوں میں سے کسی کو مارکیٹ لے جانا
یا مارکیٹ سے سامان لا کر دینا
انکل کے پاس اک بائیک تھی لیکن وہ اپنی فیکٹری کی بس سے کام پر جاتے تھے اِس لیے بائیک زیادہ تر گھر پر ہی رہتی تھی
اور اسی بائیک پر میں ان کے گھر کے کام کیا کرتا تھا
اکثر نوشین یا مہوش میرے ساتھ بائیک پر مارکیٹ جایا کرتی تھیں
میں اکثر نوٹ کرتا تھا کے نوشین بائیک پر بیٹھ کر مجھ سے دور ہو کر بیٹھی تھی لیکن جب ہم گھر سے دور نکل جاتے تو وہ مجھ سے چپک جاتی
اور اپنے بوبس میری پیٹھ پر دبا دیتی
اسی طرح اکثر جان بوجھ کر میں نوشین کی گند پر ہاتھ پھیر دیتا تھا اور انجان بن جاتا تھا
نوشین بھی اِس بات کا کوئی رد عمل نہیں دیتی تھی
جس دن مہرین باجی کی شادی کی تاریخ فکس ہوئی تھی اس دن نوشین نے مجھ سے کہا کے گلی میں سب کے گھر مٹھائی بانتنی ہے تم میرے ساتھ چلو
اور مجھے لے کر اک اک کر کے سب کے گھر مٹھائی دینے لگی
مجھے اسی طرح اک بات ذہن میں آئی اور جب بھی نوشین کسی کے گھر مٹھائی کے لیے دروازے پر دستک دے کر داوازا کھلنے کا انتظار کر رہی ہوتی تو میں اس کی گانڈ پر ہاتھ پھیر دیتا
ہماری گلی ٹوٹل 13 یا 14 گھر تھے . ہر دروازے کے آگے جب نوشین داسکتاک دیتی تو جب تک دروازہ نہیں کھلتا میں اس کی گند پر ہاتھ پھایرتا رہتا
لیکن ہاتھ اتنا ہلکا رکھتا کے نوشین کو محسوس نا ہو کے میں ایسا جان بوجھ کے کر رہا ہوں بلکہ ایسا لگے کے قریب کھڑا ہونے کی وجہ سے میرے ہاتھ ٹچ ہو رہا ہے
یہ تو تھے مہوش کے گھر کا سابقہ احوال ، اب آج کے دن میں واپس آتے ہیں جب مہوش دروازے پر کھڑی مسکرا رہی ہے
میں اس پاس پوحچا اور سلام کیا تو اس نے جواب دے کر کہا کے کہاں جا رہا ہے ؟
میں : کہیں نہیں بس بور ہو رہا تھا تو سوچا کہیں باہر وقت ضائع کر لوں
مہوش : اچھا تو گھر میں آ ہم لوگ باتیں کرتے ہیں
میں : ٹھیک ہے
اور ان کے گھر میں چلا گیا
گھر میں جا کر پتہ چلا کے آنٹی مارکیٹ گئی ہوئی ہیں اور نوشین اور مہوش گھر میں اکیلی ہیں
میں نے اس وقت نیا چائنا کا موبائل لیا تھا جس پر میسیج کی ٹون باجی تو میں نے موبائل نکالا
میسیج تو سم کی کمپنی کی طرف سے تھا لیکن موبائل دیکھ کر مہوش بولی کے تو نے یہ موبائل کب لیا اور میرے ہاتھ سے موبائل لے کر دیکھنے لگی
اب میرے گانڈ پھٹنے لگی تھی کیوں کے میں نے 3 دن پہلے اپنا 2 گب کا میموری بلو فلموں سے بحاروایا تھا
مجھے دَر تھا کے مہوش نے اگر وہ فلم چلا دی تو پتہ نہیں کیا ہو گا

 

  • Author
On 12/7/2020 at 4:45 PM, Saba ge said:

سچی بات ہے کہ کہانی لکھنا واقعی مشکل کام ہے لیکن پڑھنا آسان ہے 

میں نے بھی آپ کی کہانی پڑھی ہے کافی اچھی لکھ رہی ہیں آپ 

  • Author

Update 005

 

مہوش موبائل دیکھ ہی رہی تھی کے نوشین کچن سے نکل کر آ گئی اور مجھ سے باتیں کرنے لگی

نوشین سے باتوں کے دوران مجھے پتہ ہی نہیں چلا کے مہوش کب ہم سے تھوڑا دور جا کے دیوار سے ٹیک لگا کے ایسے بیٹھ گئی تھی کے اس کا چہرہ ہماری طرف تھا .

مہوش اب ہم سے دور جا کے میرا موبائل چلا رہی تھی اور نوشین مجھ سے باتیں کر رہی تھی .

نوشین سے باتوں کے دوران میرا ذہن بار بار مہوش کی طرف جا رہا تھا کے کہیں وہ بلو فلم نا دیکھ لے جو میرے موبائل کے میموری کارڈ میں ہیں

مہوش زمین پر بیٹھی ہوئی تھی اور اِس طرح بیٹھنے سے اس کی دونوں ٹانگین اور گانڈ زمین پر تھے لیکن ٹانگوں کے بیچ میں گیپ تھا جس اس کی شلوار کی رومالی والا حصہ صاف دِکھ رہا تھا کیوں کے اس کی قمیض اس کے گھٹنوں پر تھی .

مہوش نے اورنج کلر کی شلوار اور وائٹ کلر کی قمیض پہنی ہوئی تھی جس پر اورنج کلر کے خوبصورت پھول بنے ہوئے تھے .

ابھی میں نوشین سے باتیں ہی کر رہا تھا کے کچھ ایسا ہوا جس سے میرے ہوش ہی اڑ گئے

ہوا یہ کے نوشین سے باتیں کرنے کے دوران ہی جب میری نظر مہوش پر پری تو اسکی شلوار کا رومالی والا حصہ تھوڑا سا گیلا ہو رہا تھا

اب تک تو مجھے بھی سمجھ آ چکی تھی کے لڑکیوں کی چوت سے پانی آنے کا مطلب ہوتا ہے کے وہ کافی گرم ہو گئی ہے

اور یہ منظر دیکھتے ہی مجھے سمجھ آ گیا کے ضرور مہوش میرے موبائل میں بلو فلم دیکھ رہی ہے

یہ منظر دیکھ کر ڈر بھی لگا اور ساتھ ساتھ لنڈ نے بھی شلوار میں حرکت شروع کر دی

مہوش اِس بات سے بے خبر کے اس کی ساری پول کھل چکی ہے مزے سے بلو فلم دیکھنے میں مگن تھی

نوشین اِس وقت ایسی کھڑی تھی کے اس کا چہرہ میری طرف تھا اور پیٹھ مہوش کی طرف

اِس لیے اسے مہوش کی حرکت کا پتہ نہیں تھا

میری نظر بار بار مہوش کی طرف جا رہی تھی کبھی میں اس کے چہرے کو دیکھتا

اور کبھی اسکی رومالی کو جس کا گیلاپن اب دھیرے دھیرے بڑھ رہا تھا

اور میرا لنڈ اب شلوار کے اندر ہی جھٹکے مار رہا تھا

اورنج کلر کی باریک شلوار جیسے جیسے گیلی ہو رہی تھی ویسی ویسی مہوش کی چوت واضح ہو رہی تھی

ایسی میں میری نظر اسکی چوت پر ٹک گئی اور لاکھ کوشش کے بعد بھی میں اپنی نظر وہاں سے ہٹا نہیں سکا اور شاید یہی میری غلطی تھی نوشین نے باتیں کرنے کے دوران مجھے دیکھا تو میری نظروں کو اک ہی جگہ دیکھا تو اس نے بھی میری نظر کی سمت میں دیکھا اور اک ہی سیکنڈ میں اسے سمجھ آ گیا کے میں کیوں اتنی دلچسپی سے مہوش کی طرف دیکھ رہا ہوں

نوشین نے فوراً مہوش کو آواز لگائی

مہوش نے اس کی طرف دیکھا تو نوشین نے آنکھوں کا اشارہ اسکی شلوار کی رومالی کی طرف کیا

مہوش کے کچھ سمجھ نہیں آیا اور اس نے نوشین کی بات کو سمجھنے کے لیے اپنا سیدھا ہاتھ اپنی چوت والی جگہ پر رکھا تو وہاں کا گیلاپن محسوس ہوتے ہی مہوش کو ساری بات سمجھ آ گئی

اور وہ ویسی ہی موبائل زمین پر رکھ کر کمرے میں بھاگی اور دروازہ بند کر لیا

میں اور نوشین دونوں چھپ کھڑے تھے شاید ہم دونوں ہی یہی سوچ رہے تھے کے کیا بولیں

ایسی میں نوشین کو میرے موبائل کا خیال آیا اور اس نے جا کر میرا موبائل اٹھا لیا

یہاں بھی میرے نصیب میں برائی تھی کے مہوش کو موبائل پر ویڈیو بند کرنے کا موقع ہی نہیں ملا تھا جلدی میں

اور وہ ویڈیو ابھی تک فون میں چل رہی تھی

نوشین نے فون اٹھا کر دیکھا اور دیکھتے ہی پہلے تو اسے حیرت کا جھٹکا لگا اور پِھر اسکی آنکھیں وہی جم گئیں اور 2 3 سیکنڈ کے بعد شاید اسے میری موجودگی کا احساس ہوا تو اس نے فوراً موبائل مجھے پکڑا دیا میں نے ویڈیو بند کی اور موبائل جیب میں ڈال لیا

ہم دونوں پِھر سے چُپ چاپ کھڑے ہو گئے

میری گانڈ کسی ڈھول کی طرح پھٹی ہوئی تھی

نوشین سے تو میں کافی بار الٹی سیدھی حرکتیں کر چکا تھا جیسے گانڈ پر ہاتھ پھیرنا اور اس کے بوبس کو بائیک چلاتے وقت اپنی پیٹھ پر محسوس کرنا جس میں نوشین بھی میرا برابر کا ساتھ دیتی تھی

لیکن یہاں ڈر اِس بات کا تھا مہوش نے آج تک مجھ سے کوئی غلط بات نہیں کی تھی

لیکن اِس ڈر کے ساتھ ہی اک بات کی تسلّی بھی تھی کے مہوش خود بھی اِس جرم میں میرے ساتھ برابر کی شریک تھی

اگر میرے موبائل میں بلو فلم تھی تو مزے لے کر تو وہ بھی دیکھ رہی تھی

اور اسکو کتنا مزہ آ رہا تھا اِس بات کا ثبوت اسکی گیلی شلوار کی رومالی تھی

اب کافی دیر ہو چکی تھی اور مہوش کمرے کا دروازہ نہیں کھول رہی تھی

شاید اب اسے ہمارا سامنا کرنے میں شرم آ رہی تھی

نوشین نے جب دیکھا کے کافی دیر ہو گئی ہے تو اس نے جا کر کمرے کے دروازے پر دستک دی

دستک کے کچھ دیر کے بعد مہوش نے دروازہ کھول دیا

نوشین اندر جانے کے بجائے میرے پاس آئی اور مجھے کہا کے وقاص ابھی تم جاؤ بعد میں آ جانا

میں نے بھی سر ہلایا اور ان کے گھر سے باہر نکل گیا

📢 Post Your Ad Here

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.