Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

عشق دیندا ہے رولا

Featured Replies

  • Author

قسط نمبر11
ان کے گھر پہنچا جیسے ہی گیٹ پر گاڑی کا ہارن دیا تو چوکیدار نے فوراً گیٹ کھول دیا میں گاڑی سیدھے اندر لے گیا۔ ان کا گھر بھی ایک بڑی حویلی پر مشتمل ہے ایک طرف لان ہے ایک طرف کمرے بنے ہوئے ہیں جن کے سامنے بڑا سا برآمدہ ہے اور باقی اپر منزل پر بھی کافی کمرے ہیں پچھلی طرف نوکروں کے کوارٹر بنے ہوئے ہیں۔ جیسے کہ میں پہلے بتا چکا ہوں ان کی فیملی میں ان کی بیوی مسرت، بیٹیاں نوشین، شہناز، عظمیٰ اور بیٹا علی ہے۔  چچی مسرت ایک ہاؤس وائف ہیں ان کی عمر 42سال ہے وہ پڑھی لکھی نہیں ہیں گاؤں کی ہی ہیں لیکن گاؤں کی ہونے کی وجہ سے بہت ہی سلم سمارٹ ہیں لیکن جو سب سے خاص بات ان میں ہے وہ ہے ان کے ممے۔ ہماری پوری فیملی میں سب سے بڑے ممے ان کے ہیں 42تو ہونگے ہی۔ اور یہی خاص ان کی بیٹیوں میں بھی ہے ہیں وہ بھی سب سلم سمارٹ لیکن ان تینوں کے ممے بھی اپنی ماں کی طرح بڑے بڑے ہیں لیکن وہ بھی چچی کا مقابلہ نہیں کرسکتی ہیں۔ بڑی بیٹی نوشین اس کی عمر 22سال ہے وہ بھی اپنی امی طرح خوبصورت اور سلم سمارٹ ہیں لیکن ماں کے بعد مموں میں اس کا نمبر بھی دوسرا ہی آتا ہے۔ اس نے ابھی حال ہی میں گریجویشن مکمل کیا ہے آج کل وہ گھر میں ہوتی ہیں تھوڑی سیریس ٹائپ کی ہیں۔پھر ان کی بیٹی شہناز اس کی عمر 21سال ہے اس نے بھی گریجویشن مکمل کرلیا ہے اور وہ انوشے کے ساتھ آج ہی ہاسٹل سے واپس آئی ہے وہ بھی سلم ہیں لیکن اس کی گانڈ اور ممے اتنے ہی بڑے ہیں جو کہ اس کی کمر کو ایک کمان کی شکل دیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ چلتی پھرتی آئٹم بم لگتی ہے لیکن اس کی سب سے خاص بات اس کے چہرے کی مصومیت تھی ایسا لگتا تھا کہ چھوٹی سی بچی ہے لیکن ممے اور گانڈ یکھ کر لگتا ہے کہ پوری مکمل عورت ہے۔ یہ بھی تھوڑی سریس ٹائپ ہیں۔ پھر ان کی بیٹی عظمیٰ ہے اس کی عمر 17سال ہے اب سوچ رہے ہوں گے بڑی بہنوں میں ایک سال کا فرق چھوٹی بہن میں اتنا فرق تو ان کے دو بیٹے ہوئے تھے لیکن وہ دونون زندہ نہ رہ پائے پیدا ہوتے ہوئے فوت ہوگئے تھے نوشین ابھی پڑھ رہی ہے سیکنڈ ائیر میں اس کا جسم اور عائشہ کا جسم تقریباً ایک جیسا ہے۔ لیکن اس کے ممے عائشہ کے مموں سے بڑے ہیں یہ تو باتوں کی مشین ہے اور چلبلی ہے۔ پھر بیٹا علی ہے جو کہ 14سال کا ہے۔ اس نے ابھی میٹرک پاس کیا ہے۔اگر وہ میری عمر کا ہوتا تو مقابلہ میں حصہ لیتا لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ میں گاڑی سے اتر کر باہر نکلا تو پوری فیملی میں استقبال میں کھڑی تھی میں سب سے پہلے چچا سے ملا انہوں نے مجھے گلے لگایا پھر چچی سے ملا تو انہوں نے بھی گلے لگایا اور پیا ر کیا ان کے بڑے ممے میرے سینے میں دھنس گئے تھے میں جلدی سے پیچھے ہٹ گیا پھرعظمیٰ سے ملا وہ چچی کے بعد کھڑی تھی تو بولی آخر ہمیں ہی آپ کو اپنے گھر دعوت دے بلوانا پڑا ادھر آنا تو شاہد آپ کی شان کے خلاف ہے۔میں ہنس پڑا بولا نہیں ایسی کوئی بات نہیں آپ کو پتہ ہی ہے کہ میں یہا ں تھا ہی نہیں ٹریننگ پر گیا ہوا تھا پھر آتے ہی مقابلے شروع ہوگئے ابھی ہی فری ہوا ہوں بولی مقابلے تو پچھلے ہفتہ ختم ہو گئے تھے اور آپ سردار بھی بن گئے لیکن آپ نے ایک دفعہ بھی چکر نہیں لگایا میں بولا بس مصروف تھا اب لگاتا رہوں گا اتنے میں نوشین بولی بس بھی کرو باتونی مشین ہم سے بھی ملنےدو وہ بولی میں کوئی اتنا زیادہ بولتی ہوں میں بولا نہیں نہیں بس ایک بار شروع ہوجاؤ تو نان سٹاپ لگی رہتی ہو اس نے منہ پھلالیا سب ہنس پڑے پھر نوشین سے ملا اس نے ہاتھ ہی ملایا پھر شہناز سے ملا اس نے بھی شیک ہی کیا۔ لاسٹ میں علی تھا اس کے گلے ملا اس کا حال چال پوچھا۔ پھر سب اندر چلنے لگے تو میں گاڑی کی طرف آیا چچا بولے یہیں سے واپس جانا ہے کیا میں بولا نہیں ایک منٹ بس آیا پھر میں نے ان کی فیملی کے لیے جو گفٹ لیے تھے وہ اٹھائے اور ان کے پیچھے چل پڑا سب سے پیچھے شہناز تھی اس کی گانڈ سب سے بڑی لگ رہی تھی لیکن وہ بھی چچی کی گانڈ کا مقابلہ نہیں کرپارہی تھی لگتا ہے چچی صرف گانڈ ہی مرواتی ہے صبح شام۔ خیر سب اندر داخل ہوئے ایک ہا ل ٹائپ کمرہ تھا سب وہاں بیٹھ گئے صوفوں پر چچی کچن میں چلی گئی دیکھنے کہ کھانا تیار ہے کہ نہیں میں نے سب کے لیے گفٹ نکالے او ر دے دیے۔ سب نے تھینک کہا سب کے لیے گولڈ کی چین تھی چچی آئی اس کو بھی دے دی۔علی کے لیے نیو پلے سٹیشن لایا تھا۔ انکل کے لیے میں پسٹل لایا تھا تو علی بولا میرے لیے بھی پسٹل لانا تھا میں بولا ٹھیک ہے اگلی بار آپ کو بھی پسٹل دوں گا۔ سب کو سوٹ بھی دیے۔ چچی بولی ان سب کی کیا ضرورت تھی میں بولا تو آپ نے مجھے گفٹ دیے اس کی کیا ضرورت تھی ویسے بھی میرا بھی اتنا ہی حق ہے آپ پر جتنا آپ کا مجھ پر ہے۔ پھر میں نے شہناز کو اس کے پیپر کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا بہت اچھے ہوئے ہیں۔ خیر ویسے ہی باتین چلتی رہی پھر کھانا لگ کیا۔سب نے کھانا کھایا پھر سب بیٹھ کر گپیں مارتے رہے چچی بولی بیٹا اب تو تم سردار بن گئے ہو پڑھائی بھی پوری ہوگئی ہے شادی کب کر رہے ہو میں بولا ابھی تو کوئی ارادہ نہیں ہے۔اور نہ ہی کوئی لڑکی ہے جس سے کروں چچی بولی تم ہاں تو کرو لڑکیاں تو لائن میں لگ کر تم سے شادی کریں گی کو ن ہے جو تم سے شادی نہ کرنا چاہے گامیں بولا ابھی تو کوئی لڑکی بھی نہیں ہے جب ہوئی تو دیکھوں گا بولی کیسی لڑکی چاہیے میں بولا بالکل آپ جیسی جب میں یہ بول رہاتھاتو میری نظریں ا س وقت ان کے مموں پر چلی گئی جس کو انہوں نے دیکھ لیا تھا چچی بولی اچھا میرے جیسی کیوں تم تو سردار ہو پڑھے لکھے ہو۔ اور بہت خوبصورت ہو تم کو تو پڑھی لکھی اور خوبصورت لڑکی سے شادی کرنی چاہیے میں بولا جو زیادہ پڑھ لکھ جاتی ہے وہ خاوند کی خدمت نہیں کرتی آپ جیسی ہوگی میری خدمت تو کرے گی تو چچی بولی کون سی خدمت کروانی ہے تمہارے نوکر نوکرانیاں تھوڑے ہیں کیا میں بولا نہیں جو بھی میرا کام ہوگا اس کو خود کرنا پڑے گا۔ بولی اچھا میں بولا کوئی ہے ایسی آپ کی نظر میں ہو جو آپ کی طرح خوبصورت بھی ہو اور خدمت کرنا بھی جانتی ہو۔ آپ نے تو چچا سے شادی کرلی ورنہ آپ سے کرلیتا میں تھوڑا لیٹ ہوگیا۔ تو سب ہنس پڑے چچا بولے یار کہیں میری بیوی نہ بھگا کر لے جانا میں بولا نہیں ایسا نہیں کرتا یہ تو میری پیاری چچی ہیں بس ان کے جیسی لڑکی ہونی چاہیے۔ عظمی بولی میں انکی کاپی ہوں مجھ سے شادی کرلو تو سب ہنس پڑے میں بھی ہنس پڑا میں بولا اچھا تو تم مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہو بولی ہاں کرلو میں بولا میں نے چچی جیسی بولا ہے  چچی کے الٹ باتونی مشین نہیں تو منہ پھلا لیا بولی نہیں کرنی تو نہ سہی سب ہنس پڑے۔ اسی طرح ہنسی مذاق چلتا رہا  پھر اجازت چاہی اور دوبارہ جلدی آنے کا وعدہ کر کے چل پڑا اور چچی کو بولا میرے لیے پھر کوئی لڑکی ڈھونڈ رکھو جلدی اگلی باری آؤں گا تو لڑکی سے ملوں گانہ ملے تو پھر آپ کو ہی لے جاؤں گا۔ اور وہاں سے بھاگ گیا۔ پھر گاڑی اسٹارٹ کی اور چل پڑا گھر کی طرف لیکن گاڑی میں بیٹھا تو صبح والا واقعہ یاد آگیا کہ عائشہ اور نور کا سامنا کیسے کروں گا۔ پھر سوچا ان کے پاؤں میں بیٹھ جاؤ ں گا پھر وہ جو سزاد یں گیں بھگت لوں گا۔ واپس پہنچا حال میں ہی سب بیٹھے تھے اور میری واپسی کا انتظا کر رہے تھے سب کو سلام کیا اور ایک صوفے پر بیٹھ گیا تو عائشہ اور نور اٹھ کھڑی ہوئیں کہ نیند آرہی ہے روم میں جاتی ہیں امی بولی چلی جاتی ہو بیٹھ جاؤ تھوڑی دیر تو وہ بولی نہیں نیند بہت زور کی آئی ہے پھر اٹھ کر چلی گئیں امی بولی صبح تو بہت خوش تھیں جب سے واپس آئیں ہیں مارکیٹ سے توپریشان ہیں۔چھوٹی ماں بولی جب میں افی کے کمرے میں گئی تھی تو یہ بھی بہت پریشان لگ رہا تھا تو امی بولی کیا بات ہوئی تھی تم لوگوں میں۔ میں بولا کچھ بھی نہیں بس اتنی بات ہوئی کہ وہ بریسلٹ سیم نہیں ملے جو نمرہ کو لے کر دیا تھا۔تومنہ پھلا لیا۔ امی بولی کوئی بات نہیں میں ان کو سمجھا دوں گی میں بو لا کوئی بات نہیں میں ان کو منا لوں گا۔ امی بولی ٹھیک ہے نمو بولی میں اپنا بریسلٹ ان کے جیسا لے لیتی ہوں یہ میں امی کو دے دیتی ہوں اس نے اتار کر امی کو دے دیا۔ میں اٹھ کر اپنے کمرے میں آیا فریش ہوا پھر نور اور عائشہ کے کمرے کی طرف چلاگیا۔ ناک کیا تو اند ر سے آواز آئی آجاؤ دروازہ کھلا ہے۔ میں اندر داخل ہوا تو دونوں بیڈ پر بیٹھی تھیں رات کا سوٹ پہن چکی تھی۔ سفیدکلر کی سلیو لیس شرٹ اور کھلاسفید ہی ٹراؤزر۔ مجھے دیکھتے ہی نور نے غصے سے دیکھا کیوں آئے ہو ہمارے کمرے میں ہمارے ساتھ زبردستی کرنے آئے ہو کیا۔ میں بولا میں تم لوگوں کو مجرم ہوں صرف اتنا کہوں کا کہ میں نے اپنا خنجر نکال لیا اور سر جھکا کر ان کے سامنے بیٹھ کر خنجر ان کی طرف کرتے ہوئے کہا کہ یہ میرا خنجر ہے یہ انصاف کا خنجر ہے۔ میں تم کا مجرم ہوں تم کو حق ہے کہ میری جان لے لو۔ جان لینے سے پہلے اتنا جان لو کے میں نے کچھ بھی جان بوجھ کر نہیں کیا جو بھی ہوا انجانے میں ہوا پر میں اپنی غلطی ہی کہوں گا تو نور نے خنجر پکڑ لیا اور میری طرف آئی اور گردن پر خنجر دیا میرے آنسو زمین پر گر رہے تھے میں رو رہا تھا۔ اتنے میں عائشہ آئی اور اس نے نور سے خنجر پکڑ لیا اور بولی کیا کرنے لگی ہو یہ میرا مجرم ہے تم کا نہیں میں نے اس کو معاف کردیا۔ اور اس نے مجھے اٹھا کر گلے لگا لیا اور خود بھی رو پڑی میں اس کے گلے لگ کر زور زور سے رو پڑا اور معافی مانگنے لگا۔ تھوڑی دیر تک عائشہ نے مجھے چپ کروایا اور مجھے پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئی اور بیڈ پر بیٹھا دیا۔ بولی بھائی میں نے معاف کردیا میں جانتی ہوں کہ آپ کی غلطی نہیں ہے میں پچپن سے آپ کو جانتی ہوں وہ ماحول کا اثر تھا کہ ایسا ہوگیا جو بھی ہونا تھا ہو گیا میں نے آپ کو معاف کردیا۔ میں نے بول شکریہ میری بہن میں نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا تھا۔ نور بھی ہمارے پاس آگئی اور بیٹھ گئی میں نے اس سے پھر معافی مانگی اور عائشہ سے خنجر لے کر نور کے ہاتھ میں دیا کہ آپ کو حق ہے میری جان لے سکتی ہو میں اُف تک نہیں کروں گا۔ لیکن اس نے خنجر پھینک دیا اور میرے گلے لگ گئی کہ یہ میں کیا کرنے لگی تھی اپنے ہی بھائی کو اور سب کے سردار کو مارنے لگی تھی۔ میں بولا میں نے غلطی کی ہے تم سزا ہی دے رہی تھی اور ٹھیک ہی دے رہی تھی۔ پھر اس کو بھی چپ کروایا۔ تھوڑی دیر خاموشی رہی نور بولی کتنے واہ حیات لوگ ہیں اس طرح کھلے عام ایسے کام کرتے ہیں میں بولا ہاں یہ بات تو ہے ان کو زرا شرم نہیں آئی کہ سب کے سامنے وہ کام کررہے تھے۔ خیر میں بولا کہ غلطی میں نے کی ہے تو سزا تو بنتی ہے تم لوگوں نے معاف کردیا ہے لیکن اس کی سزا تو ہے کل تم کو شہر لے جاؤں گا اور گھماؤں گا۔ تو وہ دونوں خوش ہوگئی میں بولا کیا کروں اب کوئی گرل فرینڈ تو ہے نہیں تم لوگوں کو ہی گھماؤں گا تو نور بولی مجھے گرل فرینڈ بنا لو میں بولا نہ بابا نا سنا ہے  گرل فر ینڈبہت خرچہ کرواتی ہیں مجھے ضرورت نہیں تو سب ہنس پڑے۔ بولی نہیں کرواتی خرچہ میں بولا مجھے گرل فرینڈ چاہیے مصوم سے تم تو مجھے ہی مارنے پے تلی تھی اور ہنس دیا بولی ماروں گی میرے بھائی ہو۔غلطی کرو گے تو سزا دوں گی نہ میں بولا دو میں نے کب روکا تھا۔ خود ہی رک گئی۔ بولی اب کوئی ایسی غلطی کرو گے تو پھر سزا دوں گی میں بولا ایسی غلطی کیا مطلب میں ایسی غلطی دوبارہ کروں گا۔ بولی نہیں میرا مطلب ہے غلطی کرو گے تو سزا دو ں گی۔ میں بولا ٹھیک ہے۔ پھر میں نے کہا کل تیار رہنا اور ان کے روم سے چلا گیا۔ اپنے رو م میں آکر فریش ہوا اور اپنے گفٹ کا انتظار کر نے لگا۔

 

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Author

قسط نمبر 12
تھوڑی دیر گزری تو دروازے پر ناک ہوئی میں نے بولا آجاؤ تو کمرے میں کومل داخل ہوئی۔ کومل کی عمر تقریبا22/23سال ہے اور ہماری فیکٹری کے منیجر کی بیٹی ہے کومل چھوٹی ماں کی کافی اچھی دوست ہے۔ اور اکثر چھوٹی ماں پاس آتی رہتی ہے۔ کومل واقع ہی کومل تھی تیز دودھیا رنگ جس میں ہلکاسا گلابی پن پتلے ہونٹ لمبی گردن قد اس کا تقریبا5فٹ 4انچ کے پاس ہوگا مموں کا سائز 36تھا اور پتلی کمر کے نیچے ہلکی سی باہر کو نکلی ہو ئی گانڈ۔ تھوڑی ماڈرن تھی اور پڑھی لکھی تھی کل ملا کر دیکھنے کی چیز تھی اس وقت اس نے ایک ڈارک گرین کلر کی شلور قیض پہن رکھی تھی۔ اس بار تو چھوٹی ماں نے سچ میں سراپرائس کردیا۔ اس کو دیکھتے ہی میرے جسم میں ہل چل ہونے لگ پڑی تھی۔ کومل آہستہ سے آگے آئی اور ہلکی سی آواز میں بولی مجھے سدرہ(چھوٹی ماں) نے بھیجا ہے۔ میں بولا بیٹھ جاؤ تو وہ بیڈکے کنارے پر بیٹھ گئی۔ مجھے پتہ تھا کہ کومل لڑکی ہے پہل کبھی نہیں کرے گی یہ بات مجھے ناز نے اچھی طرح سمجھا دی تھی۔میں نے پوچھا کیا حال ہے اور آج کل کیا کررہی ہو بولی کہ آج کل فارغ ہوں اور اب آپ کا آفس جوائن کروں گی۔میں نے بولا اچھی بات ہے۔ میں نے اس سے پوچھا صرف ایک سوال کروں گا بس کہ کیا تم اپنی مرضی سے آئی ہو میرے روم میں یا کوئی زبردستی ہوئی ہے تم کے ساتھ کسی قسم کا لالچ دیا گیا ہے۔سچ بتانا باقی میں سنھبال لوں گا۔ ایک بار تو اس نے نظر اٹھا کر مجھے دیکھا پھر آہستہ سے بولی ایسی کوئی بات نہیں میں کسی لالچ میں نہیں آئی سدرہ نے مجھے بولا تو میں اس کو منع نہیں کرپائی۔اس کی اور میری دوستی ہی ایسی ہے۔میں بولا ٹھیک تم کو کسی قسم کا کوئی اعتراض تو نہیں بولی نہیں میں اپنی مرضی سے آپ کے روم میں آئی ہوں۔ میں کنفرم کرنا چاہتا تھا کیونکہ میں سردار تھا ہر قدم پھونک کر رکھنا تھا ویسے چھوٹی ماں نے سب چھان پھٹک کر ہی بھیجا ہوگالیکن میں پھر بھی کوئی رسک نہ لینا چاہتا تھا۔ میں بولا پھر اتنی دور کیوں بیٹھی ہوپھر وہ اٹھی اور میرے پاس آگئی۔  میں اٹھ کھڑا ہوا اوراس کا ہاتھ پکڑ لیا بیڈ سے اٹھا کر کھینچ کر اپنے گلے لگا لیا وہ میرے گلے لگ گئی میں نے اس کے منہ کو پکڑا اور اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پررکھ دیے جس کے لیے مجھے تھوڑا سر نیچے کرنا پڑا کیونکہ اس کا قد چھوٹا تھا اس کے ہونٹ کمال کے تھے نرم و نازک وہ بھی میرا بھر پور ساتھ دے رہی تھی اور میرے ہونٹو ں کو کسی ایکپرٹ کی طرح زور زور سے چوس رہی تھی میں نے اس کی نرم گانڈ پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیے اور کسنگ جاری رکھی کوئی بھی ہونٹ چھوڑنے کو تیا رنہ تھا۔ آخر جب سانس پھولنے لگی تواس نے ہونٹ الگ کرلیے ایسی کسنگ کا مزا تو ناز نے بھی نہیں دیا تھا۔ میں نے اس کی قمیض پکڑی اور اتاردی ساتھ ہی برا بھی اتار دی اس کے 36سائز کے ممے اچھل کر باہر آگئے جیسے کسی نے زبردستی قید میں رکھا تھا اس کے ممے بڑے نرم تھے جیسے روئی ہو اس پر ہلکے پنکش نپل تھے جو مٹر کے دانے کے جتنے تھے۔ میں نے کومل کو اٹھاکر بیڈپر پھینکا اپنی شرٹ اتار کر اس پر سوار ہوگیا اور اس کے مموں پر ٹوٹ پڑا ایک ہاتھ سے مسلتا اور دوسے کو منہ میں بھرتا جتنا ہوتا اس کے منہ سے سسکاریاں نکل رہی تھیں میں نے 15منٹ اس کے ممے چوس چوس کر اور ہلکے ہلکے کاٹ کر لال کردیے تھے ان پر ہلکے ہلکے نشان تھے کاٹنے کے میرا دل نہیں بھر رہا تھا اس کے ممے تھے ہی ایسے پھر میں نیچے آنا شروع ہوا اس کے پیٹ پر چومنا شروع کردیا اور ناف میں زبان گھسا کر جب چاٹا مارا تو اس کا جسم اکڑا اور اس نے پانی چھوڑ دیا شاہد یہ اس کا ویک پوائنٹ تھا۔ لمبے لمبے سانس لینے لگی۔ بولی مزا آگیا ایسا مزا پہلی بار آیا ہے اس کا مطلب تھاکہ کومل کنواری نہ تھی پہلے بھی چدوا چکی ہے تب ہی شاہد چھوٹی ماں کے بولنے پر مان گئی تھی۔ بولی اب میری باری ہے تم کو مزا دینے کی مجھے دھکا دے دیا میں لیٹ گیا۔ وہ میرے اوپر آگئی اور میرے ہونٹ چوسنے لگ پڑی پھر میرے سینہ کو چوسنا شروع کردیا میں نپلز پر زبان پھیری تو میری تو جیسے مزے سے جان ہی نکلنے والی ہوگئی پھر وہ نیچے آئی ابھی تک اس نے میرے لن کو نہیں پکڑا تھا اب اس نے میرا لن کو ٹراؤزر کے اوپر سے ہی پکڑ لیا لیکن جیسے ہی پکڑا حیرانی سے فوراً چھوڑ دیا اور جلدی سے ٹراؤزر نیچے کیا تو میرا لن پھنکاراتا باہر آیا اس نے پہلے تو ہاتھ میں پکڑا اور زور سے دبایا کہ شاہد اصلی نہیں ہے پھر اس کے منہ سے نکلا اتنا بڑا اس کی آنکھوں کی چمک بتا رہی تھی اس کو میرا لوڑا بہت پسند آیا ہے۔اس نے فوراً میرے لن پر تھوک پھینکا اس پر مل دیا پھر اس کو منہ میں بھر لیا جتنا ہوسکتا تھا اور اس کو چوسنا شروع کردیا موٹائی زیادہ ہونے کی وجہ سے زبان سے رگڑ تو نہ لگاپائی لیکن اس نے ایسا چوسا کہ مزے سے میرے آنکھیں بند ہوگئی اور منہ سے سسکاریا ں اور مزے کے مارے آوازیں نکل رہی تھیں  وہ کبھی میرا لن منہ میں ڈال کر چوستی کبھی ہاتھ چلاتی کبھی میرے ٹٹوں کو چوستی۔ مجھے لگا یہ ناز تو اس کے سامنے کچھ بھی نہیں لگتا ہے اس کا کام ہی چدوانا ہے۔ لن چوس چوس کر جب تھک گئی تومیرالن منہ نکالااور بولی تم فارغ کیوں نہیں ہورہے میرا منہ تھک گیا ہے میں بولا پچپن کی محنت ہے اس کے ساتھ ہی میں نے اس کے پکڑ کر لٹا لیا ا ور اس پر ٹوٹ پڑا ہونٹ چوسے پھر اس کے مموں کو کچھ دیر چوسا پھر اس کی شلوار اتار ی اس نے گانڈ اٹھا کر شلوار کو پاؤں سے نکالا۔ اس کی پھدی بالکل صاف تھی جیسے ابھی صاف کرکے آئی ہواس کی پھدی سے مست قسم کی خوشبو آرہی تھی مجھ سے رہا نہ گیا اور میں بھی پھدی پرٹوٹ پڑا اور ایک انگلی اس کی پھدی میں داخل کر کے آگے پیچھے کرنے لگا اور ساتھ میں اس کا دانہ چوسنے لگا تو اس کی آواز سسکیوں کی جگہ چیخوں میں بدل گئی اس کو بہت مزا آرہا تھا میرا یہ وار وہ سہ نہ پائی اور جلدہی پانی چھوڑ دیا جو میں نے پی لیا پہلی بار جب ناز کا پانی پیا تھا تو عجیب سا لگا تھا اب کومل کا پیا ہے تو بہت مزا آیا  اس کی پھدی کو چاٹ کر صاف کردیا۔کومل بولی میں تو تم کو مزے کروانے آیا تھی تم نے مجھے ہی مست کردیا ہے میں نے بولا اصلی مزا تو ااب آئے گا اور اپنا لن اس کے منہ کی طرف کردیا اس نے منہ میں لیا اور تھوڑا ساچوسا پھر اس پر تھوک پھینک دیا پھر میں اس کی ٹانگوں کی طرف آیا اور اس کی ٹانگیں اٹھا کر لیں بولی آہستہ کرنا اتنا بڑا کبھی نہیں لیا میں نے۔ میں نے لن اس کی پھدی پر رکھا اور پھیرا تو اس کی سسکی نکل گئی بولی اب ڈال دو انتظار نہیں ہورہا۔ میں نے بھی لن اس کی پھدی کے سوراخ پر رکھا اور ایک ہلکا دھکا مارا جس سے میرا لن تین انچ تک اندر چلا گیا ا س کی ہلکی سی چیخ نکل گئی میں رک گیا پھر ایک دھکا مار اتو میرا آدھا لن اس کے اندر چلا گیا اس نے ایک زور دار چیخ ماری میں رک گیا اور اس کے اوپر جھگ گیا اور اس کے مموں کو منہ میں بھر لیا چوسنے لگ پڑا تھوڑی دیر بعد اس نے گانڈ ہلائی تو میں نے بھی آہستہ سے باہر نکال کر ہلکے دھکے لگانے شروع کردیے سپیڈ سلو رکھی۔اس کی سسکیاں بلند ہو رہی تھیں اس کی پھدی ناز کی پھدی سے ٹائٹ تھی لیکن اتنی ٹائٹ نہ تھی اب کومل بھی میراساتھ دے رہی تھی میں نے آدھے لن سے ہی چدائی جاری رکھی 10منٹ کے بعد اس کے جسم نے اکڑنا شروع کیا میں نے اس کے ہونٹو ں کو منہ میں بھر لیا اس کے اوپر لیٹ گیا اب وہ میرے نیچے تھی میں نے لن سارا باہر نکالا صرف ٹوپی اندر رکھی اور ایک زور دار دھکا مارا جس سے میرا سارا لن اس کے اندر جڑ تک گھس گیا اس نے زور سے چیخ ماری جو کہ میرے منہ میں ہی رہ گئی اس نے جھٹکے کھانے شروع کردیے۔ میں اس کے اوپر لیٹا رہا کومل کی آنکھوں میں آنسو تھے میں نے اس کے آنسو کو چاٹ کر صاف کیا اور اس کے مموں کو چوسنا شروع کردیا کچھ دیر بعد کومل نارمل ہوگئی میں نے آہستہ سے لن باہر نکالا اور اندر ڈال دیا جس سے کومل کی سسکاری نکل گئی۔ کومل بولی میری جان نکال دی تم نے کوئی ایسا بھی کوئی کرتا ہے میں بولا کیا کرتا پورا تو ڈالنا ہی تھا۔ بولی تو آرام سے ڈالتے نہ میں نے کہا اب سارا چلا گیا ہے بولی سچ میں بولا ہاں بولی مجھے یقین نہیں ہورہا میں نے کہا چیک کرلو اس نے ہاتھ نیچے لے جا کر دیکھا بولی واہ میں اب آہستہ آہستہ دھکے لگانے شروع کردیے تھے۔ کومل بولی آہستہ اف آرام سے کرو پھر بولنے لگ پڑی مزا آرہا ہے تیز کرو میں نے بھی رفتار بڑھا دی جتنا ہوسکتا تھا اتنی تیزی سے دھکے لگانے لگ پڑا اس کی سسکیاں بلند ہوچکی تھیں پھراس کا جسم اکڑنا شروع ہوگیا میرے لن پر گرم گرم پانی محسوس ہوا لیکن میں نے دھکے جاری رکھے تو کومل نے چیخنا شروع کردیا۔ لیکن میں نہ رکا میری رفتا ر طوفانی ہوچکی تھی کومل نیچے سے نکلنا چاہتی تھی لیکن میں نے اس کوقابو رکھا اور دھکے جاری رکھے پھر آخری جھٹکا مارا اور اس کے اوپر لیٹ گیا۔ میرے لن سے پچکاریاں نکل نکل کر اس کے پھدی کو بھر رہیں تھیں جب آخری قطرہ نکل گیا تو میں اس کے اوپر اٹھ گیا تو پھدی سے اس کااور میرا پانی اور تھوڑی سی لالی نکل نکل کر نیچھے گر رہی تھی۔ اور اس کی پھدی کھل بند ہو رہی تھی۔ میں سائیڈ لیٹ گیا سانس بحال کیا اٹھا اور کومل کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھو ں جاری تھے میں جلدی اٹھا فریج سے جوس نکال اور اس کی طرف بڑھا اور اس کو اٹھا کر پلایا اور اس کو سوری بولا تو بولی تم نے مجھے زندگی کا مزا دے دیا سوری کیوں بول رہے ہو بول مجھے تو بہت مزا آیا ایسی چدائی کبھی زندگی میں نہیں ہوئی میں بولا تو تم رو کیو رہی ہو بولی انسان ہوں درد تو ہوتی ہے تم نے تو میرا اندر ہلا کررکھ دیا ہے بہت درد ہوا لیکن اس درد میں جو مزا ملا اس کو کبھی نہیں بھولوں گی تم کی جو تعریف سنی ہے اس سے بڑھ کر پایا میں بولا ہیں میری تعریف کس نے کر دی بولی سدرہ نے کی ہے میں بولا انہوں نے کب دیکھا بولی ان کو ناز نے بتایا تھا تم کے لن کے بارے تم کے سٹیمنے کے بارے میں تم کی چدائی کے بارے میں جب سدرہ نے مجھے سے بتایا تو مجھ سے رہا نہ گیا میں نے ان کے سامنے خواہش کی تم سے چدنے کی میر ی ان کی دوستی ایسی ہے کہ وہ منع نہ کرسکیں۔ مجھے اب معلوم ہوا اصل بات کیا تھی خیر میں نے بھی جوس پیا۔ میں نے بولا چلو دوسرا روانڈ سٹارٹ کرتے ہیں بولی نہیں ابھی کچھ دیر رک جاؤ تم کو برداشت کرنا اتنا آسان بھی نہیں جتنا تم سمجھ رہے ہو۔ وہ اٹھی اور لنگڑاتی ہوئی باتھ روم گئی فریش ہونے پھر میں گیا واش روم وہ نہا رہی تھی میں بھی اس کے ساتھ کھڑا ہوگیا اور اس کو اپنی طرف پلٹ کر کسنگ کرنا شروع کردی وہ بھی میر ا ساتھ دینے لگ پڑی پھر اس کے مموں سے کھیلنا شروع کردیا اس نے سسکنا شروع کردیا پھر میں نے اس کو پکڑ کر اپنے لن کی طرف سے کیا جو کہ کھڑا ہوچکا تھا اور جھٹکے لگارہا تھا میں کموڈ پر بیٹھ گیا تو کومل نے لن منہ لیا اور چوسنا شروع کردیا اس کا چوپاکمال کا تھا مجھے بہت مزا آرہا تھا میں نے اس کے منہ میں دھکے لگانے شروع کردیے جس سے اس کی رال بہ رہی تھی اور اس کے منہ سے گھو گھو کی آواز نکل رہی تھی۔ میں نے لن اس کی منہ میں دبایا جتنا جاسکتا تھا اور روک لیا دو چار سیکنڈ روکا پھر نکالا تو اس کی کھانسی نکل گئی میں رک گیا پھر اس کو میں نے گھوڑی بنا دیا  کومل کموڈ پکڑ کر جھگ گئی میں نے لن اس کی پھدی کے سوراخ پر رکھی اور ایک جاندار دھکا مارا میرا آدھے سے زیادہ لن اس کی پھدی میں چلا گیا اس منہ سے چیخ نکلی میں نے ساتھ ہی دوسرا دھکا مارا میرا پوا لن اس کے اندر تھا پھر میں نے تیز رفتار دھکے لگانے شروع کردیے اس کی چیخے نکل رہی تھی میں نے کوئی پرواہ نہ کی پھر مجھے لن پر گرم پانی محسوس ہوا لیکن میں نہیں رکا وہ نیچے گرنی لگی میں نے اسے کو پلٹا کر گود میں اٹھا لیا اور لن اس کی پھدی میں ڈال دیا اور اس کو چودتا چودتا کمرے میں لے گیا اس کوبیڈ پر گھوڑی بنایا اور لن اس کی پھدی میں ہی رکھا اور چودنا شروع کردیا تھوڑی دیر بعد پھر اس کا پانی مجھے اپنے لن پر محسوس ہوا میں نے لن نکال لیا لن پہلے ہی اس کے پانی سے چکنا ہوچکا تھا میں نے لن اس کی گانڈ پر رکھا اور ایک زور سے دھکا مار اجتنی میری جان سے لن اس کی گانڈ چیرتا ہوا جڑ تک گھس گیا اس نے ایسی چیخ ماری کے بس میں اور لیٹ گئی  نے اس کو قابو کر لیا اور اس کو چودنا نہ چوڑا وہ نیچے سے نکلنا چاہتی تھی لیکن مجھے پتہ لگ چکا تھا اس کو رف چدائی پسند تھی اس لیے میں رکا نہیں اس کو چودتا رہا وہ چیختی رہی کہ میری پھدی مار لو گانڈسے نکال لو تم کا بہت بڑا ہے لیکن میں نے ایک نہ سنی اور گانڈ مارتا رہا پھر کچھ دیر گزری تو کومل کو بھی گانڈ مروانے میں مزا آنے لگ پڑا اور اس نے بھی گانڈ کو اٹھا نا شروع کردیا لیکن کچھ دیر بعد پھر پانی نکال چکی تھی 45منٹ ہو چکے تھے گانڈ مارتے ہوئے کومل نیچے دم سادھے لیٹی پڑی تھی اور سسک رہی تھی پھر مجھے بھی اپنا وقت قریب محسوس ہوا میں نے بھی رفتا ر طوفانی کرتے ہوئے دھکے لگانا شروع کردیا 5منٹ بعد میرے لن نے اس کی گانڈ بھرنا شروع کردی جب لن خالی ہوا تو اس کے اوپر سے اترا میں اس وقت پسینے سے بھیگ چکا تھا حالانکہ کے ائیر کنڈیشن چل رہا تھا جیسے ہی لن اس کی گانڈ سے نکلا تو پھک کی آواز آئی اور اس کی گانڈ میں بڑا ہول بنا ہوا تھا اور میرا مال اور خون اس کی گانڈ سے باہر نکل نکل کر نیچے بیڈ پر گررہے تھے۔ پھر میں اٹھا اس کو اٹھا کر واش روم لے گیا خود بھی نہایا اس کو بھی صاف کیا کومل ابھی تک کچھ نہ بولی تھی پھر اس کو صوفے پر بیٹھا کیونکہ بیڈ پر اس کا اور میرے مال سے شیٹ بھری ہوئی تھی میں نے فریج کھو لا اور ایک ملک شیک نکال جگ اور دو گلاس لیے اور کومل کے پاس صوفے پر بیٹھ گیا گلاس میں جوس ڈال کر اس کو دیا اس نے خاموشی سے پی لیا میں بولا سوری یار لگتا مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا لیکن تم کی مست گانڈ دیکھی تو نہیں رہا گیا بولی کوئی بات نہیں جب تم سے چدنے کا شوق ہوا ہے تو گانڈ مروانے سے کیا ڈرنا میرا پورا جسم درد کررہا ہے لیکن جو مزا آیا و ہ بیان سے باہر ہے میں سوچ رہا تھا عجب پاگل لڑکی ہے اتنی بری طرح چدی ہے پھر بھی اس کو مزا آیا پھر مجھے ناز کی باز یاد آئی لڑکی جتنا زبردست چدے گی اتنا ہی اس کو مزا آئے گا۔ بولی اب تو تم کی غلا م بن چکی ہوں کبھی کبھی مجھے بھی خیرات دے دیا کرنا میں بولا کیسی بات کرتی ہوجو مزا تم نے مجھے دیا ہے وہ میں بھلا بھول سکتان ہوں اور تم جیسا نشیلا جسم بھلا میں بھول سکتا ہوں بولی اب دوستی پکی میں نے بولا ابھی بھی کوئی گجائش ہے پکی دوستی بولی بس پھر دیکھتے جاؤ یہ دوست تم کے لیے کیا کیا کرتی ہے میں بولا اچھا جی۔ اسی طرح کی باتیں چلتی رہی پھر بولی میں چلتی ہوں صبح ہونے والی ہے میں نے ٹائم دیکھا تو جم جانے کا ٹائم ہوگیا تھا وہ اٹھی اور لڑکھڑا کر گرپڑی بولی بہت ہی ظالم ہو بے حال کردیا لیکن مزا آیامیں نے ایسی چودائی تو خوابوں میں بھی نہیں سوچی تھی۔جیسے تیسے کر کے باہر نکل گئی میں بھی اٹھ کر جم چلا گیا۔     

 

  • 3 months later...

بہت اعلیٰ کہانی ہے میں نے پہلی دفع کوئی انسیسٹ کہانی پڑھنے کی کوشش کی پہلے جو بھی شروع کی اس میں بکواس زیادہ ملتی تھی یہ کہانی ڈھونڈتے ہوے اس فورم پر آیا لیکن یہاں بھی ادھوری لگ رہی ہے بھائی اس کی اگلی اپڈیٹ کب تک ممکن ہے۔ 

  • 1 year later...

ایڈمن صاحب یہ کہانی آگے بڑھے گی یا یہی پر ختم ہوگئی ہیں۔ 

  • 2 weeks later...
📢 Post Your Ad Here
  • 2 months later...

واہ کمال سٹوری ہے مزہ آگیا اتنی ایکسپرٹ کو بھی بیہوش کر دیا مزہ ہی آ گیا 

شکر ہے اس سٹوری میں بھی صرف سیکس نہیں ہے اور یہ بات سٹوری کو الگ بناتی ہے

  • 1 month later...
On 9/26/2020 at 10:06 PM, Yasirxxx said:

لاجواااب شاندار لکھا ہے جناب بہت خوب 

تازہ اور نئے پھل کی اگر عادت لگ جائے

تو بے موسمی اور پرانے پھل اپنی کشش کھو دیتے ہیں

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.