Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

میری سلطنت میرا حق ازشیزی

Featured Replies

  • Author

میری سلطنت میرا حق قسط 2

ہو ہو ہو ہا ہا ہا نیام نیام نیام دیکھوں میرے مترو بادشاہ کہاں ہے مجھے تو صرف مجبور نیام دیکھٸی دے رہا ہے بیچارہ مجبور نیام ہو ہو ہا ہا ہا اوٸے خاموش چپ چپ کہی بادشاہ اسے گستاخی نہ سمجھ لے ہا ہا ہا ہا ہا لیکن بادشاہ ہے کہاں یہ تو بڑی گانڈ اور چھوٹی آنکھوں والا نیام اوھھھھ معافی آلیجاہ ہمیں کر دے گستاخی ہو گٸی آہندہ بھی ہم گستاخی ہی کرے گے میرے متر زوار وہ ملکہ کہاں ہے دیکھی نہیں دے رہی زرہ ڈھونڈ کے لاو اسکے پیٹ میں بچا ہونے باوجود اسے چودنے مزہ بڑا آٸے گایہ کہہ کر ویزر بانش نے شمسار کا سر بادشاہ کی طرف اچھال دیا جو بادشاہ کے قدموں جا گرا ۔                               

بادشاہ گٹنوں کے بل انچے بیٹھ کر شمسار کا سر ہاتھ میں لے دھیرے سے بھربھرانے لگ گیا میرے بہادر تمہاری موت رایٸگا نہیں گی تم نے اپنے شہزدے کو بچا لیأ اگر یہ خبیث بانش تمیارے ساتھ عیاری کر کے تمیہں مارنے میں مصروف نہ ہوتا تو اس خبیث نے محل جلدی پہنچ جانا تھا تمہاری ملکہ اور تمہارے شہزدے کو بھی جان سے مار دینا تھا اتنے میں بانش چلایا ہمیں بھی بتا دے کہ مرنے والا حرامی مرے ہوٸے حرامی سے کیا گفتگو کر رہا ہے ہا ہا ہا بتاو کیا رہے تھے تم اپنے اس مردہ سپاہی سے بتاو سپاہیوں پکرو اس حرامی کو تین سپاہی نے آگے بڑھ کر بادشاہ کابو کر لیا بادشاہ کابو نہ آنے کی ناکام کوشش کی بانش پھر چلایا بتاو  اس سے پہلے کہ بادشاہ نیام کچھ کہتا زوار اک لاش کو گھسیٹتا ہوا آیا اور کہنےلگا حضور یہ کہی ملکہ تو نہیں بانش نے جب نظر گھما کے دیکھا تو بولا یہ تم نے کیا کیا زوار میں نے اسے پہلے چودنا تھا پھر مارنا تھا تم نے پہلے ہی مار دیا 

زوار: نہیں حضور میں چند شپاہوں کے ساتھ اسے محل میں ڈھونڈ رہا تھا کہ اک کمرے میں داخل ہوا جس میں اک الماری نما خفیا دروازہ تھا ہم نے جب اندر و جھانکا تو تین چار بندوں کے باگتے ہوٸے قدموں آواز سناٸی دی سرنگ اندر سے کافی تنگ تھی اک اک کر ہی جا سکتے تھے جب ہم اندر داخل ہوٸے تو دھیرے دھیرے قدموں کی آواز قریب سے سناٸی دینے لگ گی ہم انہیں پکرنے کے قریب ہی تھے ہیمں سرنگ کے دوسری طرف روشنی دیکھٸی دینے لگ گٸی میں نے سوچا اگر یہ سرنگ سے نکل گیے تو پکرنا مشکل ہو جاٸے یا پھر یہ ہاتھ سے نکل جاٸے گے اسلے میں نے سپاہیوں سے تیر چلنے کا کہا سرنگ تنگ ہونے کی وجہ سے صرف آگے والا ہی تیر چلا سکتا ورنہ اگر پیچے والے تیر چلاتے تو ہمارے سپاہی ہی زخمی ہونے اسلیے ہمارے اک سپاہی نے کٸی تیر چلاٸے اور ہم آگے بڑھنے لگ گے تھورا آگے گے تھے یہ ہمیں زمین پے پری ملی ہمارا سپاہی اس کے اوپر سے گزر دوسرے بندوں کے پیچے باگنے لگا تو اس نے اس کا پاوں کو پکر کے اپنی گرفت میں لے اس آگے بڑھنے نہں دے رہی تھی  سپاہی نے اسکے پیٹ ٹانگے بھی ماری لیکن اس نے اسکا پاوں نہ چھوڈا حتکہ یہ مر گٸی لیکن سپاہی کو آگے نہیں بڑھنے دیا جب یہ مر گی تو ہم پھر سرنگ کی دوسری جانب لپکے لیکن اب روشنی آنی بند ہو گٸی یم نے قریب جا کہ دیکھا تو باہر سے کسی نے سرنگ کا دروازہ بند کر دیا تھا کھولنے کی بہت کوشش کی لیکن نہیں کھولا تو ہم اسے اوٹھا کے آپکے پاس لے آٸے

یہ سنتے ہی بادشاہ تیش میں آگیا بادشاہ کی آنکھیں غصے سے سرخ ہو گٸی بادشاہ نے پورے زور سے جسم کو جٹکا دیا سپاہیوں کی گرفت سے آزار ہو گیا اگلے ہی لمحے زمین سے اپنی تلوار اوٹھٸی اپنے پیچھے والے سپاہی کے پیٹ کے آر پار ہو گٸی پھر اسی لمحے نیچیے جک کے اپنے دایں والے سپاہی کے سینے سے لے پیٹ وار کیا اور پھر جٹکے سے گوما اپنی بایں والی سپاہی کی اک ہی وار میں گردن اوڈا دی بانش کی آنکھیں کھولی کی کھولی رہ گٸی اس سے پہلے وزیرر بانش کچھ سمجھتا بادشاہ اس کی طرف باگا وار کرنے شروع کر دے بانش پہلا وار روکنے میں تو کامیاب ہو گیا لیکن دوسرا وار روکا نہ گیا پتا تب ہی چلا جب اسکی تلوار والا بازو زمین پے پڑا ہیں بادشاہ نے آگے بڑھ کے اس کی گردن کا نشانا لیا لیکن وار ہوا میں ہی رہ گیا کیونکہ پیچھے سے زوار نے بادشاہ کے سینے سے تلوار آرپار کر دی بادشاہ آنکھں موندے زمین پر گر گیا بانش درد سے چلاتے ہوٸے سیتاناس ہو تمہارا زوار تمہں اتنی جلدی کیوں تھی ابھی اس حرامی سے شاہی خنجر کے بارے اور اس خنجر کے راز کے بارے میں اگلوانا تھا  

زورا:حضور اگر میں اسے نہ مارتا تو اسنے آپکو مار دینا تھا 

ادھر حیظان کو بے ہوش دیکھ دونوں کے ہوش ُاڑ گیے۔عمر:کسمو تم ادھر ٹھرو میں کچھ دیکھ کے لاتا ہوں تھوری دیر بعد واپس آیا ہاتھوں خشک گھاس لیے۔

کسمو:شہزدہ جانور نہیں ہے جو گھاس کھا ہے گا عمر مسکرتے ہوٸے نہیں کسمو میں تو یہ اسلیے لایا تاکہ تم اسیے نیچے بچھا لو تاکہ تم دونوں کو سکون میسر ہو یہ کہہ کہ عمر پھر واپس نکل آیا اور واپس محل کے بجاٸے دوسری جانب چل دیا کافی سفر طے کرنے کے بعد عمر کو اک تنوں تنہا جھوپڑی دیکھٸی دی عمر  جھوپڑی کی طرف چل دیا باہر کھڑے ہو کے آواز دی کوٸی ہے آواز آٸی ہممممم بتاو جوان بڑھیا سے کیا کام آن پڑا اس کالی رات میں عمر :ماٸی پردیسی ہو میرے بچے کو بھوک لگی ہے دوھود گرز سے آیا ہوں ۔

ماٸی: جوان اندر آجاو۔

عمر نے جھوپڑی کے اندر آیا تو سامنے ایک کافی عمر دراز ماٸی بیٹھی تھی ۔

ماٸی: بیٹھ جا جوان عمر نیچے ہی بیٹھ گیا ماٸی عمر کی پیشانی کے طرف دیکھتے ہوے اچھا تو نیلے چراغ کی حفاظت کر رہیے ہو اچھا ہے کرتے رہو ۔

عمر بھکلا کے ماٸی کیا؟

ماٸی : مطلب کے نیلا چراغ جسیے سینے سے لگا کہ نکلے تھے۔

عمر : ماٸی مجھے نہیں پتا آپ کس نیلے پیلے چراغ کی بات کر رہی ہو ۔

ماٸی : وہی نیام کا بیٹا حیظان جو آج ہی پیدا ہوا ہے ۔

عمر : گھبرہ کے ماٸی تمہیں کیسے پتا کہ بادشاہ نیام کا بیٹا شہزدہ حیظان میرے پاس ہے۔

ماٸی : پہلی بات تو یہ بادشاہ تمہرے لیے تھا میرے صرف نیام جو ابھی دیر پہلے دل چیرے جانے دے مارہ گیا اور دوسری یہ کہ شہزدہ تمہارے لیے میرے لیے صرف حیظان جو ابھی زندہ رہیے گا اب دوسرا کوٸی سوال پوچھ لو یا پھر دوھود لو مرضی تمہاری میں جواب دینے کو بھی تیار ہوں اور دوھود بھی ۔

عمراس سے پہلے کوٸی سوال پوچھتا کہ اسکے ذہن میں حیظان کا بے ہوش چہرہ سامنے آنے لگ گیا جھٹ سے بولا ماٸی دوھود ۔

ماٸی :سمجھدار  وہ سامنے صراحی أٹھو اور چلتے بنو اور حیظان کی بھوک مٹاو۔

عمر نے صراحی أٹھیی بنا پیچھے دیکھے مقام کی طرف چل دیا پیڑ کے پاس پہنچھ کے جاٸزہ لینے لگا کہ کوٸی تاکب میں تو نہیں اطمینان کر کے اندر داخل ہوا عمر کے ہاتھ صراحی دیکھ کے کسمو بولی : یہ صراحی کہاں سے لے آٸے عمر نے من گنت کہانی سنا کہ کسمو کو ٹال دیاکسمو نے حیظان کو ہاتھ کے چولوں سے قطرہ قطرہ کر کے دوھود پلایا جیسے حیظان کو ہوش آیا رونا شروع ہو گیا کسمو : عمر کوٸی آگ جلنے کا بندوبست کرو تاکہ شہزدے کی صحت بھال ہو لگتا ٹھنڈ کے مارے رو رہا ہے 

عمر : ٹھیک ہے وہ خنجر دو تاکہ لکڑیوں چھوٹے ٹکرے کر سکو ۔ کسمو نے خنجر پکرا دیا عمر نے میان سے خنجر کو نکالتے ہی بولا : یہ کیا بکواس ہے 

کسمو کیا ہوا ؟

عمر : اس میں تو دھار ہی نہیں بلکل بے کار ہے اسکی خوبصرتی کی وجہ سے کیا ہم اسے ساتھ لیے پھرتے تھے 

کسمو: نہیں یہ بادشاہ اور ملکہ نے سمبھال کے رکھنے کوکہا تھا جب تک شہزدہ اسے سمبھالنے کے قابل نہیں ہو جاتا تم جاو لکڑیاں لاو میں شہزدے کو چپ کرانے کی کوشش کرتی ہوں ۔ عمر باہر آیا کچھ لکڑیاں لے کے واپس گیا تا آگے کا منظر دیکھا منہ کھلا کا کھلا رہھ گیا۔ کیونکہ کسمو نے اپنا اک ممہ شہزدے کے منہ میں دیا شہزدہ اسے چوسے جا رہا ہے۔ کسمو کے درمیانی ساٸز کے گھول تنے ہوے ممے جو چٹے سفید جن کے اوپر گلابی رنگ کے چھوٹے چھوٹے نپلز تھے جو ایک شہزدہ منہ میں لیے آنکھیں موند چوسے جا رہا ہے۔

عمر:اگر تمہیں دوھود آتا تھا مجھے فضول میں خوار کیا ۔

کسمو : گبرہ کے چولی کو آگے کرتے ہوٸے یہ روٸے جا رہا تھا میں نے سوچا شاٸد چپ کر جاٸے دوھود سے پہلے پیٹ بھر گیا اسے چوستے چوستے سو رہا ہیے

عمرنے ٹھیک ہے کہہ کے پتھروں آگ جلانی شروع کر دی محنت رنگ لاٸی آگ جل پری تب تک شہزدہ بھی سو گیا تھا عمر : ادھر آگ کے پاس آجاو آگ سیک لو۔ کسمو نے شہزدے کو خشک گھاس پے لٹایا اور چولی ٹھیک کرتے ہوے عمر کے پاس بیٹھ گٸی ۔
عمرمسراتےہوٸے : اب تو میں نے سب کچھ دیکھ لیا ہے کیوں چھپا رہی ہو۔
کسمو : دہھمں لہجے میں ابھی سب نے دیکھا 
عمر :تو دیکھا دو سب 
کسمو :زیادہ مت بنو ۔ عمر ہسنے لگ گیا دونوں بیٹھ کے باتیں کرنے لگ گے باتوں باتوں عمر نے کسمو کی ران پے ہاتھ رکھ کہ سہلانے لگ گیا کسمو نے آگے سے کوٸی سخت رویہ ظاہر نہ کیا عمر نے سہلاتے سہلاتے ہاتھ رانوں سے پھدی کی طرف شروع کر دیا جیسے ہی کسمو کی پھدی سے ہاتھ ٹکریا کسمو کو جٹکا لگا وہ اچھل کے کھڑی ہوٸی۔
کسمو : یہ آپ کیا کر رہیے ہے 
عمر : کچھ نہیں سب دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا ۔
کسمو : شہزدہ جاگ جاے گا عمر : میں کون سا شور مچا رہا ہوں بیٹھ جاو کمسو جیجکتے ہوٸے بیٹھ گٸی عمر نے پھر سے ہاتھ سے کسمو کی پتلی کمر کو سہلانے لگ گیا کسمو مدہوش ہونے لگ گٸی عمر نے ہمت کرتے ہوۓ ہاتھ سے کسمو چہرہ پکڑا اور گلابی پتیوں کے مایند ہونٹ پے ہونٹ رکھ دیے کبھی اوپر والا ہونٹ چوستا کبھی نیچے والا ہونٹ چوستا کسمو مزے کی وادیوں میں اڑنے لگ گٸی عمر نے ہونٹ جدا کیے  کسمو خشک گھاس پے لیٹا دیا اور بیٹھ کے کسمو کی مصومیت کو دیکھنے لگ گیا کسمو نے لیٹے ہوۓ اپنی باہیں عمر کی طرف  کھول کے مدہوش نگا سے عمر کو دیکھنے لگ گٸی عمر پرجوش اس پے ٹوٹ پڑا کبھی ہونٹ کبھی گردن پے بوسے لینے لگ گیا اسی دروان اپنا آزاربند کھول کے نیچے والا در نگا کر لیا اور اپنے چولے کی اک طرف ڈوری کھینچ کے مکمکل نگا ہو گیا اسی عالم میں کسمو نے اپنی پیٹھ عمر کی طرف کی عمر نے اسکی چولی کی ڈوریاں کھولنی شروع کر دی چولی اوتار کے گاگرا کا آزاد بند کھول کے کسمو کو بھی پورا نگا کر دیا کسمو جھٹ سے عمر کے گلے سے لپٹ کر عمر چھاتی منہ اور گردن پے چومنے شروع ہو گٸی جیسے کوٸی جن اس میں  آگیا ہو عمر کی کیافیت بھی اس کم نہ تھی جب دونوں کچھ سمبھلے تو کسمو نے کہا مجھے کبھی کسی مرد نے چھوا تک نہیں زرہ دھیان سے )کونکہ کسمو داٸی اسلیے اس سب پتہ تھا پہلی بار کیا ہوتا ہے) عمر نے کسمو پھر لیٹایا اس کی ٹانگوں کو اٹھا دورمیان میں بیٹھ گیا کسمو نظر جب عمر کے 7انچ لمبے لن پے پری بےاختار چونک کے اتنا بڑا نہ بابا نہ یہ مجھ سے برداشت نہیں ہو گا عمر نے اسے تسلی دیتے ہوے کہا آرام سے کریں گے اتنا کہہ کہ چکنی پھدی پے لن سیٹ کر کے تھوک لگا دھکا دیا کسمو کی اک درد ناک چینخ نکلی عمر نے تھوری دیر ٹھر کہ جب کسمو سکون میں ہو گی پھر اک زور دار جٹکا لگایا پورا لن پھدی میں گھسا دیا اب کی بار کسمو کے ہونٹوں اپنے ہونٹ ہونے وجہ سے چینخ منہ میں دب گی لیکن کسمو کی آنھوں سے آنسو بہنے لگ گے عمر نے اب آہسہ آہستہ لن آگے پیچھے کرنا شروع کردیا کسمو درد سے تلملا رہی تھی  تھوری دیر بعد میں لن باآسانی رواں ہوگیا اور عمر کے جھٹکوں میں تیزی آگٸی اب درد کے ساتھ مزہ بھی آرہا تھا جو اسکی ُامممممممم ُامممممممم سیسکاں بتا رہی تھی کسمو مزے سے نڈھال ہونے لگ گٸی اچانک عمر کی کمر کے گرد ٹانگیں بیھر کے پھدی کو اوپر اٹھایا اور جڑ گٸی عمر کو بھی اب کسمو کی پھدی گرمی برداشت سے باہر نظر آنے لگ گی وہ بھی کسمو کی پھدی کی گہرایوں میں چھوٹ گیا  عمر تھوری اسی طرح اسکے اپر لیٹا رہا اٹھا اور اپنے کپڑے پہننے شروع کردیے کسمو بھی اٹھی اور کپرے پہننے لگ گیی نظر سیدھی گھاس پر جو نیچے تھا اسکے  خون سے لال ہوا پڑا تھا 
کسمو: عمر تم نے میری پھار دی 
عمر: افتاح ہوا ہے ابھی تو اور ہسنے لگ گیا۔
دونوں سو گے صبح ہوٸی تو؟؟
جاری ۔۔۔۔۔۔ ہے۔۔۔۔۔۔۔
 
Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس

Start Acha ha story ka suspence b ha story me Acha izafah ha forum me. Agar ap aisy hi likhty ya update karty rahy... Umeed ha story bohat aggy jaye gi aur ek bat qasmo ko agar dayyie ki jagah khadma bana lyty tau behtar ni tha 23 Sall umer aur dayyie.... Baki ap story writer behtar apko pta.... Achi story ہے.... Salamti ki dhero duayein 

سب سے پہلے تو میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے ہمارے لئے کہانی شروع کی ہے لکھنا بہت محنت طلب کام ہے 

دوسرا آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ لکھتے وقت شائد دھیان نہیں دیتے ہیں آپ کی املا کی بہت غلطیاں ہیں پلیز ان پر دھیان دیں 

اور ایک مشورہ ہے جب اپ ڈیٹ کو لکھ لیں تو ایک بار اس کو مکمل پڑھیں اور کوئی گنجائش رہ جائے تو اسے پورا کریں ساتھ ہی ساتھ املا کی غلطیاں بھی آپ کو نظر آ جائیں گی 

 

  • Author
1 hour ago, Saqlan said:

Start Acha ha story ka suspence b ha story me Acha izafah ha forum me. Agar ap aisy hi likhty ya update karty rahy... Umeed ha story bohat aggy jaye gi aur ek bat qasmo ko agar dayyie ki jagah khadma bana lyty tau behtar ni tha 23 Sall umer aur dayyie.... Baki ap story writer behtar apko pta.... Achi story ہے.... Salamti ki dhero duayein 

سر پہلے تو بہت مشکور ہوں آپ نے مجھے اس  لاٸک سمجھا جسے ریاٸے دی جاٸےلیکن سر اگر 25 26 سال  عمر کی لڑکی ڈاکڑ بن سکتی ہیے تو کسمو 23 سال میں داٸی کیوں نہیں بن سکتی کسمو نے تو ڈاکڑی کا کورس بھی نہیں کرنا تھا اس لیے ُاسے 23 سال کی عمر میں داٸی بنا دیا باقی غلطی تو ہے تسلیم بھی کرتا ہوں اگر کسمو کو آپکے بقول خادمہ یا پھر بیٸت کا رول دیا جاتا تو اور مزہ آنا تھا اور امید کرتا ہوں آپ میری اس بڑی غلطی کو چھوٹی سمجھ کے قبول کرے گے

  • Author
2 hours ago, Yasirxxx said:

سب سے پہلے تو میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے ہمارے لئے کہانی شروع کی ہے لکھنا بہت محنت طلب کام ہے 

دوسرا آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ لکھتے وقت شائد دھیان نہیں دیتے ہیں آپ کی املا کی بہت غلطیاں ہیں پلیز ان پر دھیان دیں 

اور ایک مشورہ ہے جب اپ ڈیٹ کو لکھ لیں تو ایک بار اس کو مکمل پڑھیں اور کوئی گنجائش رہ جائے تو اسے پورا کریں ساتھ ہی ساتھ املا کی غلطیاں بھی آپ کو نظر آ جائیں گی 

 

سر پہلے تومعزرت کا طالب ہو جو اپنے کام کو ٹیھک طرح سر انجام نہ دے سکا باقی سر مین وجہ کچھ کوتہی ہیے کچھ ابھی اتنا لکھنے میں مہارت نہیں رکھتا کیونکہ عمر کے میں ابھی 19سال کا ہوں اسلے لکھنے کا تجربہ کم البتہ سیکھنے کا طلبگار زیادہ ہوں پرامید ہو آپ سبھی کے زیرے سایے قلم میں نکھار لا پاوں گا 

سلامتی ہو ہمیشہ

📢 Post Your Ad Here
1 hour ago, shazie said:

سر پہلے تو بہت مشکور ہوں آپ نے مجھے اس  لاٸک سمجھا جسے ریاٸے دی جاٸےلیکن سر اگر 25 26 سال  عمر کی لڑکی ڈاکڑ بن سکتی ہیے تو کسمو 23 سال میں داٸی کیوں نہیں بن سکتی کسمو نے تو ڈاکڑی کا کورس بھی نہیں کرنا تھا اس لیے ُاسے 23 سال کی عمر میں داٸی بنا دیا باقی غلطی تو ہے تسلیم بھی کرتا ہوں اگر کسمو کو آپکے بقول خادمہ یا پھر بیٸت کا رول دیا جاتا تو اور مزہ آنا تھا اور امید کرتا ہوں آپ میری اس بڑی غلطی کو چھوٹی سمجھ کے قبول کرے گے

جزاک اللہ بھائی غلطی قبول کرنا اور اسکا اعتراف کرنا آپکا بڑا پن ہے اور بھائی استغفراللہ ہم کون ہوتے ہیں ناراض ہونے والے آپ ہمارے لیے اپنا اتنا ٹائم سٹوری لکھنے میں لگا رہے ہیں تو میں تو مشکور ہوں آپکا. اور جناب سیکھنے کا عمل صحت افزاء عمل ہوتا ہے اس سے لکھاری میں اور اسکی تحریر میں پختگی آتی ہے. ایسے ہی لکھتے رہیں. سلامتی کی ڈھیروں دعائیں 

1 hour ago, Saqlan said:

جزاک اللہ بھائی غلطی قبول کرنا اور اسکا اعتراف کرنا آپکا بڑا پن ہے اور بھائی استغفراللہ ہم کون ہوتے ہیں ناراض ہونے والے آپ ہمارے لیے اپنا اتنا ٹائم سٹوری لکھنے میں لگا رہے ہیں تو میں تو مشکور ہوں آپکا. اور جناب سیکھنے کا عمل صحت افزاء عمل ہوتا ہے اس سے لکھاری میں اور اسکی تحریر میں پختگی آتی ہے. ایسے ہی لکھتے رہیں. سلامتی کی ڈھیروں دعائیں 

👎

22 hours ago, shazie said:

سر پہلے تومعزرت کا طالب ہو جو اپنے کام کو ٹیھک طرح سر انجام نہ دے سکا باقی سر مین وجہ کچھ کوتہی ہیے کچھ ابھی اتنا لکھنے میں مہارت نہیں رکھتا کیونکہ عمر کے میں ابھی 19سال کا ہوں اسلے لکھنے کا تجربہ کم البتہ سیکھنے کا طلبگار زیادہ ہوں پرامید ہو آپ سبھی کے زیرے سایے قلم میں نکھار لا پاوں گا 

سلامتی ہو ہمیشہ

ارے میرے بھائی میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ تم کو لکھنا نہیں آتا ہے تمہاری عمر چھوٹی ہے یا تم برا لکھ رہے ہو اور رہی بات مہارت کی تو جب اوکھلی میں سر دے دیا ہے تو موسلوں سے کیا ڈرنا لگے رہو ہم تھوڑی بہت تربیت کرتے رہیں گے باقی یہاں پر بڑے بڑے لوگ ہیں جو استادوں کا درجہ رکھتے ہیں وہ تم کو سکھا دیں گے 

Best of luck 

On 8/4/2020 at 11:35 PM, shazie said:

سر پہلے تومعزرت کا طالب ہو جو اپنے کام کو ٹیھک طرح سر انجام نہ دے سکا باقی سر مین وجہ کچھ کوتہی ہیے کچھ ابھی اتنا لکھنے میں مہارت نہیں رکھتا کیونکہ عمر کے میں ابھی 19سال کا ہوں اسلے لکھنے کا تجربہ کم البتہ سیکھنے کا طلبگار زیادہ ہوں پرامید ہو آپ سبھی کے زیرے سایے قلم میں نکھار لا پاوں گا 

سلامتی ہو ہمیشہ

آپ کی خدمت میں ایک مشورہ ہے، کسی بھی اردو اخبار کے ادارتی صفحے کا مطالعہ کریں، املا بہترین ہو جائے گا۔

 

📢 Post Your Ad Here

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.