Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

کھپرو کی ملکہ از ڈاکٹر فیصل خان ۔۔۔ تعارفی ایڈیشن

Featured Replies

Uffff doctor sahab jo likhty ho kamal kerty ho kia zaberdast update mari ha y sheri bigray howe nawab zaday y to khud haram k janny pally howe in ko kisi ki kia ezat balky in ki kii ezzat ho to kisi ki ezat kery  alky y to apne mafad k ly apni maoon bhenon bevion ko b dosron k nechy sola dayty hai to phir in ghareeb meraon shakoo mallo ya marvi ki kia ezzat nazar aye gi nazar aye to surf phuddi chahye in ki maaon ki kyun na ho??????

Great work dr. sahab keeeeep it up

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 502
  • Views 794.2k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • نیو اپڈیٹ  

  • نیو اپڈیٹ کچھ مستقل قاری حضرات ہی کمنٹ کرتے ہیں اکثر تو یونہی چلے جاتے ہیں۔ جناب خیر ہے کیا ہم کسی اور طرف دھیان دیں؟

  • نیو اپڈیٹ  

Posted Images

  • Author
10 hours ago, Parvez said:

شہری بابو تو جلدی فارغ ہوگئے.  لگتا ہے سیکس میں بہت جذباتی تھے ہماری طرح ہا ہا ہا.  وہ چھوکری ہی کیا جس میں ہیکڑی نہ ہو.  واہ.  وڈیرہ نواز بہت شاطر تیز بندہ ہے محبت ہی محبت میں لے رہا ہے.  نہ بجے بانس نہ ٹوٹی بانسری.  میرا بڑی میں پھنس گئ خیر ایک بار مروالی ہے تو اگلی بار اتنا مسئلہ نہیں ہوگا..  ڈر ہے کہیں شکو کی بیٹی پر نہ نظر پڑجائے جو امجد نے رکھوائ ہوئ ہے. بٹن کھول کر تنا ہوا پتلا سا لن نکالا , شکر ہے یہ جملہ بھی پڑھنے کو ملا ورنہ ہر جگہ بڑاموٹا لمبا ہی پڑھا.

نواز ابھی تک طیش میں ہے لگتا ہے ماروی کا دردناک ریپ ہوگا.  کھیپرو کی رانی کے سوہاگ رات کے سیکس کا بے صبری سے انتظار ہے.  ویسے میں تو پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ اب تک جتنے سیکس سین قلم بند ہوئے ہیں وہ نئے,  انوکھے مزے دار تھے. آگے بھی اس سے بڑھ کرملیں گے. 

دیکھیں ایک فطری سی بات ہے کہ کہانی کے کرداروں کی عملی شخصیت سے میل کھاتی ان کی جنسی قوت ہو گی۔ جیسے وڈیرہ فرزند بہت ظالم اور جابر ہے تو اس کی جنسی ترجیع بھی تکلیف دہ سیکس ہے۔وہ عورت کو اذیت میں مبتلا کر کے سیکس کرتا ہے۔

نواز کھوڑو شکار کو گھیر کے تسلی سے آرام آرام سے میٹھا بن بن کر زہر کی طرح ہے جس کا اثر دھیرے دھیرے چڑھتا ہے۔اس کی جنسی قوت بھی بہت منفرد ہو گی۔

سانول ایک پہلوان اور کھلاڑی ہے،اس کی جنسی قوت میں حقیقی مردانہ اوصاف ہوں گے، جس طرح ایک بہترین جسم کی مالک عورت سب کو لبھاتی ہے تو ایک بہترین جسم کا مالک مرد بھی عورتوں کو لبھاتا ہے۔

شہری بابو ترسے ہوئے تھے اور ان کا جنسی تجربہ محدود تھا،ان کو ہو گا بھی تو اکا دکا پیشہ ور عورتوں کا، تبھی تو وہ بستر میں خاص کمال نہیں دکھا سکے۔

اگر سب کو ایک جیسا دکھایا جائے تو کہانی کیسے بنے گی؟

جیسی بھولی داستان میں پہلے یہ عنصر غالب تھا کہ چاہے یاسر کی ماں کی عمر کی عورت ہو گی، یاسر کا لن لیتے ہی درد سے بلک اٹھے گی۔ یہ کہاں اور کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟ پھر پورے پنڈ میں صرف اور صرف یاسر ہی وہ سورما ہے جو کسی کی لے سکتا ہے اور باقی سارا پنڈ حاجی اور کھسرا ہے یا کسی کو معلوم ہی نہیں کہ سیکس ہوتا کیا ہے؟

ہر لڑکی کنواری ہے اور سیل پیک ہے۔ یہاں تک کہ ایک لڑکا لڑکی کھیتوں میں سیکس کرنے گئے تو وہاں جا کر بھی لڑکے کا کھڑا نہیں ہو سکا ،یاسر کا   ہو گیا اور اس نے لڑکی کی پیاس بجھائی۔مطلب واقعی؟؟؟؟؟

On 10/8/2019 at 11:53 AM, falam said:

admin sahib ani grift ki kitni payment karni hogi 

 

Aoa jnb, mera bhi yhi swal h, ahni grift pdf m available h and complete h? Es ki ktni payment krna ho g, ap plz mobicash acount number ya easy paisa account number bhj dain, plz and thank you 

یہ میں نے ابھی ابھی کیا پڑھا ہے؟ میرے تو جسم کے بال کھڑے ہو گئے، اس قدر عورت کی ذلت اور اس کے جسم کا ردی کی طرح استعمال کرنا، توبہ ۔اوپر سے اس قدر گھٹیا کاموں پہ سب کی خاموشی۔ لعنت ہے ایسے نظام پہ اور لوگوں پہ جنہوں نے یہ ظلم برداشت کیا اور وڈیوں کی چاکری کی۔ بہت بہت دکھی کھانی ہے، بڑا افسوس ہوا میرا اور ملو کے ساتھ جو ہوا وہ پڑھ کر۔اوپر سے گھٹیا لوگ کس اتھارٹی سے منہ سے ایک بچی کو وقتی کسی کی بیوی بنا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر صاب کہانی جس قدر اچھی ہے مجھے پورا یقین ہے اسی قدر مشکل ہوگی اس کو پڑھنے میں۔آپ نے ظلم کی داستان رقم کردینی ہے۔ بہرحال یہ بہترین کہانی چل رہی ہے۔

📢 Post Your Ad Here
12 hours ago, DR KHAN said:

دیکھیں ایک فطری سی بات ہے کہ کہانی کے کرداروں کی عملی شخصیت سے میل کھاتی ان کی جنسی قوت ہو گی۔ جیسے وڈیرہ فرزند بہت ظالم اور جابر ہے تو اس کی جنسی ترجیع بھی تکلیف دہ سیکس ہے۔وہ عورت کو اذیت میں مبتلا کر کے سیکس کرتا ہے۔

نواز کھوڑو شکار کو گھیر کے تسلی سے آرام آرام سے میٹھا بن بن کر زہر کی طرح ہے جس کا اثر دھیرے دھیرے چڑھتا ہے۔اس کی جنسی قوت بھی بہت منفرد ہو گی۔

سانول ایک پہلوان اور کھلاڑی ہے،اس کی جنسی قوت میں حقیقی مردانہ اوصاف ہوں گے، جس طرح ایک بہترین جسم کی مالک عورت سب کو لبھاتی ہے تو ایک بہترین جسم کا مالک مرد بھی عورتوں کو لبھاتا ہے۔

شہری بابو ترسے ہوئے تھے اور ان کا جنسی تجربہ محدود تھا،ان کو ہو گا بھی تو اکا دکا پیشہ ور عورتوں کا، تبھی تو وہ بستر میں خاص کمال نہیں دکھا سکے۔

اگر سب کو ایک جیسا دکھایا جائے تو کہانی کیسے بنے گی؟

جیسی بھولی داستان میں پہلے یہ عنصر غالب تھا کہ چاہے یاسر کی ماں کی عمر کی عورت ہو گی، یاسر کا لن لیتے ہی درد سے بلک اٹھے گی۔ یہ کہاں اور کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟ پھر پورے پنڈ میں صرف اور صرف یاسر ہی وہ سورما ہے جو کسی کی لے سکتا ہے اور باقی سارا پنڈ حاجی اور کھسرا ہے یا کسی کو معلوم ہی نہیں کہ سیکس ہوتا کیا ہے؟

ہر لڑکی کنواری ہے اور سیل پیک ہے۔ یہاں تک کہ ایک لڑکا لڑکی کھیتوں میں سیکس کرنے گئے تو وہاں جا کر بھی لڑکے کا کھڑا نہیں ہو سکا ،یاسر کا   ہو گیا اور اس نے لڑکی کی پیاس بجھائی۔مطلب واقعی؟؟؟؟؟

ہممم ڈاکٹر صاحب بالکل ٹھیک کہا, آپ کا ہر کردار کو مختلف انداز میں پیش کرنا آپ کی باریک بینی کا پتا دیتی ہے.     ہر شخص الگ ہے مزاج میں جسامت میں طاقت میں تو اسی طرح سیکس میں بھی الگ ہوگا .

ہا ہا آپ نے یاسر کا حوالہ بالکل ٹھیک دیا شروع میں تو جس کی چوت میں بھی لنڈ گیا وہ درد سے بلک اٹھی چاہے وہ بڑی عمر کی عورت ہی کیوں نہ ہو.  آپ نے جب سے لکھنا شروع کیا تو آپ نے ایک الگ انداز میں کہانی پر گرفت رکھی.  

ڈاکٹر صاحب آپ نے اس ناول میں ایک جگہ لکھا کہ لمبا موٹا لنڈ.  اسی طرح اور ناولوں میں بھی کہیں لکھا ہوگا.  ہوس میں نے ابھی پڑھنا شروع نہیں کی ہوسکتا ہے اس میں جا بجا ہو.  تو کیا وجہ ہے ہم عضو تناسل کے سائز کو اتنا فینٹسی کے طور پر بیان کیوں کرتے ہیں.  کیا اس کا اصل میں حقیقی زندگی میں عمل دخل ہے.  بہت پڑھا سنا دیکھا بھی ہے.  ایک عام تصور ہے کہ زیادہ بڑا ہو تو اندر بچہ دانی پر لگتا ہے.میں نے ایک کال گرل کو کیا تھا تو وہ بھی بتارہی تھی کہ ایک نے کیا تو بہت درد ہوا یہ وہ وغیرہ   کچھ کہتے ہیں کہ موٹا ہو سختی ہو تو مزہ ہے . عام محاورتًا مرد جب جوانی پر ہوتے ہیں تو فخریہ کہتے ہیں کہ ابے جا تیرہ تو چھوٹی سی ہے میرا دیکھ , تو تومرد ہی نہیں ہے تیری تو للی ہے.  جب کہ اس میں انسان کا کوئ عمل دخل نہیں قدرت نے جیسا بنادیا .

آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں مموں کا شاید تقابل کرنا صحیح نہیں ہوگا ایک حد سے بڑھ جائیں جو لٹکنے پر آجائیں تو مزہ خراب.  یا پھر ایسا ہی ہے کہ جس طرح ہر مرد کی خواہش الگ ہے اسی طرح ہر عورت لڑکی کی خواہش الگ ہے.  

کیا کہتے ہیں آپ ؟

Edited by Parvez

4 hours ago, TEHREEM said:

یہ میں نے ابھی ابھی کیا پڑھا ہے؟ میرے تو جسم کے بال کھڑے ہو گئے، اس قدر عورت کی ذلت اور اس کے جسم کا ردی کی طرح استعمال کرنا، توبہ ۔اوپر سے اس قدر گھٹیا کاموں پہ سب کی خاموشی۔ لعنت ہے ایسے نظام پہ اور لوگوں پہ جنہوں نے یہ ظلم برداشت کیا اور وڈیوں کی چاکری کی۔ بہت بہت دکھی کھانی ہے، بڑا افسوس ہوا میرا اور ملو کے ساتھ جو ہوا وہ پڑھ کر۔اوپر سے گھٹیا لوگ کس اتھارٹی سے منہ سے ایک بچی کو وقتی کسی کی بیوی بنا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر صاب کہانی جس قدر اچھی ہے مجھے پورا یقین ہے اسی قدر مشکل ہوگی اس کو پڑھنے میں۔آپ نے ظلم کی داستان رقم کردینی ہے۔ بہرحال یہ بہترین کہانی چل رہی ہے۔

آپ نے بجا فرمایا ڈاکٹر صاحب نے اس کہانی کو حقیقی زندگی سے بالکل قریب رکھا ہے بلکہ ویسا ہی دکھایاہے. ظلم تو ہوتا ہی دردناک ہے اور ایک لڑکی کے ساتھ اس سے بڑا ظلم کیا ہوگا کہ اس کا کنوارہ پن ٹوٹ جائے اور وہ  احتجاج تک نہ کرسکے.  احتجاج تو کیا اس کے اندر تو احتجاج کی تحریک ہی نہ ہو . یہی دیکھ لیں کہ ماروی نے بیٹھنے سے انکار تو کردیا لیکن اس کا انجام بہت بھیانک ہوگا

 

 

Yee srf sindh ki nhi puray Pakistan ki zulaam ki daastan h jaahn jahan bh choudhry wadery sardar hty hn wahan p ye zulam,hty rehty hn aur hoo rhy hn logn ki gairaat maar jti h apny bachon ko bhooka nangaa dekhh k 

 

Srf deehyaat mn nhi cities k halat to eess se bh buray hn chlo hum kehty hn k dehyaat mn ye sb wadery aur chodhary k hukam se htaa h gurbaaat ki wjaa s

 

lkin cities mn to larki aunty log k husband yaa fr father brother kaamaa k laaty hn to cities ki larki aur aunty ku sex k lye iddr udrr muuunn marti hn 

 

Srf aik,wjaa h 

 

Baaap ki mohabat aur care agr larki ko naa mily to woo gairr larkon mn wo mohabat taalash krti h aur nateejy ap k saamny h k falan larki n khud khushi krr li 

Aurtoon k husband wgraa paisa kamany mn kdd ko,itnaa masroof krr lety hn k becharoon ka lundd eee khara hnaa bhool jata h 

 

Wo kehty hn naa k orat na takkhhhht mangy na bakhttt mangy 

 

Mangyyy to loraaa sakhaaat mangy

 

 

15 hours ago, Parvez said:

آپ نے بجا فرمایا ڈاکٹر صاحب نے اس کہانی کو حقیقی زندگی سے بالکل قریب رکھا ہے بلکہ ویسا ہی دکھایاہے. ظلم تو ہوتا ہی دردناک ہے اور ایک لڑکی کے ساتھ اس سے بڑا ظلم کیا ہوگا کہ اس کا کنوارہ پن ٹوٹ جائے اور وہ  احتجاج تک نہ کرسکے.  احتجاج تو کیا اس کے اندر تو احتجاج کی تحریک ہی نہ ہو . یہی دیکھ لیں کہ ماروی نے بیٹھنے سے انکار تو کردیا لیکن اس کا انجام بہت بھیانک ہوگا

 

 

صحیح کہا آپ نے میں اندرون سندھ میں کا فی عرصہ رہا ہوں اور یہ جو ڈاکٹر صاحب لکھ رہے ہیں بلکل حقیقت ہے سندھی قوم ایسی ہی ہے وڈیروں نے ہاریوں کا خوب استحصال کیا ہے اور وہاں جو بھٹو ابھی تک زندہ ہے اسکی یہی وجہ ہے 

2 hours ago, Shahyar said:

صحیح کہا آپ نے میں اندرون سندھ میں کا فی عرصہ رہا ہوں اور یہ جو ڈاکٹر صاحب لکھ رہے ہیں بلکل حقیقت ہے سندھی قوم ایسی ہی ہے وڈیروں نے ہاریوں کا خوب استحصال کیا ہے اور وہاں جو بھٹو ابھی تک زندہ ہے اسکی یہی وجہ ہے 

Hahaha y bhooto jb mary ga to he y awam shayad suder jaye 

📢 Post Your Ad Here

Join the conversation

You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Unfortunately, your post contains words that we do not allow to be posted on the forum. Please edit your post to remove the highlighted words below۔

بدقسمتی سے، آپ کی پوسٹ میں ایسے الفاظ موجود ہیں جن کو ہم فورم پر پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ ذیل میں نمایاں کردہ الفاظ کو ہٹانے کے لیے براہ کرم اپنی پوسٹ میں ترمیم کر کے پوسٹ کریں ۔

Reply to this topic...

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.