December 25, 20169 yr Author حال میں اپنے مست ہوں غیر کا ہوش ہی نہیں رہتا ہوں اس جہاں میں یوں جیسے یہاں کوئی نہیں
December 25, 20169 yr Author *بہت اکرام ہورہا ہوگا جنید تیرا* آسماں سج رہا ہوگا فرشتے بھی مسرور ہونگے کہ کیا کہنے اس عاشق کے نبی کی خدمت میں سلام کے پیش کرنے میں محبت کی انتہا دیکھو کہ خادم خود چلا آیا جنکی مدحتوں میں تیری جنید ہےزندگی گزری ان سے ملاقات کی گھڑیاں ان کے دیدار کے لمحوں سے جو اضطراب تھا تیرا خوب تسکین پاگیاہوگا قابل رشک ہے تو کیا مقام ہے تیرا خدا کی راہ میں نکلے اسی کے پاس جا پہنچے عجب دل کی کیفیت ہے عجب لمحات ہیں اس وقت رلا گیا ہم سب کو بچھڑنے کا یہ انداز تیرا... جمع وترتیب .. ملک محمد نعیم فاضل جامعہ اکلکوا مہاراشٹر
December 25, 20169 yr Author ﻏﻢ ﮐﮯ ﻣﺎﺭﮮ ﺟﻮ ﺻﺪﺍ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ... ﺗﺨﺖ ﺷﺎﮨﻮﮞ ﮐﮯ ﮨِﻼ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ... ........................................... ﺑﮭﯿﮕﮯ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ ﺳُﻠﮕﺘﮯ ﺁﻧﺴﻮ ... ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﻼ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ... ............................................ ﺍﯾﺴﯽ ﺑﺨﺸﯽ ﮬﮯ ﺍُﺩﺍﺳﯽ زندگی ﻧﮯ ... ﮐﮯ ﺍﺏ ﻟﻄﯿﻔﮯ ﺑﮭﯽ ﺭُﻻ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ... ............................................ ﻣﯿﺮﮮ ﺻﺤﺮﺍ ﮐﮯ ﯾﮧ ﻧﻨﮭﮯ ﺟُﮕﻨﻮ ... ﺍﮨﻞِ ﻇُﻠﻤﺖ ﮐﻮ ﺿﯿﺎﺀ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ... ........................................... ﺍﺏ ﮐﮯ ﻧﮧ ﮬﻢ ﮐﻮ ﺻﺪﺍﺋﯿﮟ ﺩﯾﻨﺎ ... ﮬﻢ ﻧﮧ ﻟﻮﭨﯿﮟ ﮔﮯ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ...!!! ...........................................
December 25, 20169 yr Author راہ آسان ہو گئی ہوگی جان پہچان ہو گئی ہوگی موت سے تیری درد مندوں کی مشکل آسان ہو گئی ہوگی پھر پلٹ کر نگاہ نہیںآئی تجھ پہ قربان ہو گئی ہوگی تیری زلفوں کو چھیڑتی تھی صبا خود پریشان ہو گئی ہوگی ان سے بھی چھین لو گے یاد اپنی جن کا ایمان ہو گئی ہوگی دل کی تسکین پوچھتے ہیں آپ ہاں مری جان ، ہو گئی ہوگی مرنے والوں پہ سیف حیرت کیوں موت آسان ہو گئی ہوگی (سیف الدین سیف)
December 25, 20169 yr Author خوشبو جیسے لوگ ملے افسانے میں ایک پرانا خط کھولا انجانے میں شام کے سائے بالشتوں سے ناپے ہیں چاند نے کتنی دیر لگا دی آنے میں رات گزرتے شاید تھوڑا وقت لگے دُھوپ اُنڈیلو تھوڑی سی پیمانے میں جانے کس کا ذکر ہے اس افسانے میں دَرد مزے لیتا ہے جو دہرانے میں دِل پر دستک دینے کون آ نکلا ہے کس کی آہٹ سنتا ہوں ویرانے میں ہم اس موڑ سے اُٹھ کر اگلے موڑ چلے اُن کو شاید عمر لگے گی آنے میں (گلزار)
December 25, 20169 yr Author حیا جس میں نہیں وہ شباب اچھا نہیں لگتا بکھر جائیں جو کھل کر وہ گلاب اچّھا نہیں لگتا لڑکپن ہو چکا رخصت جوانی جھوم کر آئی تیرا گھر سے نکلنا بے نقاب اچھا نہیں لگتا شہزاداثری
December 25, 20169 yr Author یاروں کی خامشی کا بھرم کھولنا پڑا اتنا سکوت تھا کہ مجھے بولنا پڑا صِرف ایک تلخ بات سُنانے سے پیشتر کانوں میں پُھول پُھول کا رس گھولنا پڑا اپنے خطوں کے لفظ جلانے پڑے مجھے شفاف موتیوں کو کہاں رولنا پڑا خوشبو کی سرد لہر سے جلنے لگے جو زخم پُھولوں کو اپنا بندِ قبا کھولنا پڑا کتنی عزیز تھی تری آنکھوں کی آبرو محفل میں بے پیے بھی ہمیں ڈولنا پڑا سُنتے تھے اُ س کی بزمِ سُخن نا شناس ہے محسنؔ ہمیں وہاں بھی سُخن تولنا پڑا (محسن نقوی)
December 25, 20169 yr Author ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺷﮩﺮ ﮐﺎ ﻣﻮﺳﻢ ﺑﮍﺍ ﺳﮩﺎﻧﺎ ﻟﮕﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺷﺎﻡ ﭼﺮﺍﻟﻮﮞ ﺍﮔﺮ ﺑﺮﺍ ﻧﮧ ﻟﮕﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺑﺲ ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺅ ﮨﻤﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺑﮭﻼﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﯾﺪ ﮨﻤﯿﮟ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﻟﮕﮯ ﺟﻮ ﮈﻭﺑﻨﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺗﻨﮯ ﺳﮑﻮﻥ ﺳﮯ ﮈﻭﺑﻮ ﮐﮧ ﺍٓﺱ ﭘﺎﺱ ﮐﯽ ﻟﮩﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﭘﺘﮧ ﻧﮧ ﻟﮕﮯ ﺍﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﺗﻮ ﮐﮭﻼﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﭘﮭﻮﻝ ﺻﻔﺤﻮﮞ ﭘﺮ ﮨﻤﯿﮟ ﺟﻮ ﺯﺧﻢ ﻟﮕﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺩﻭﺳﺘﺎﻧﮧ ﻟﮕﮯ ﻭﮦ ﺍﮎ ﺳﺘﺎﺭﮦ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺩﮐﮭﺎﺋﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﮎ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺣﺮﻑ ﻣﺤﺮﻣﺎﻧﮧ ﻟﮕﮯ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺐ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﮯ ﻗﯿﺼﺮ ﺟﻮ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﻧﮧ ﻟﮕﮯ ﺍﻭﺭ ﺍٓﺷﻨﺎ ﻧﮧ ﻟﮕﮯ . (ﻧﺬﯾﺮ ﻗﯿﺼﺮ)
December 25, 20169 yr Author ﺷﺎﻡ ﺳﮯ ﺁﻧﮑﮫ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﯽ ﺳﯽ ﮨﮯ ﺁﺝ ﭘﮭﺮ ﺁﭖ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﺳﯽ ﮨﮯ ﺩﻓﻦ ﮐﺮﺩﻭ ﮨﻤﯿﮟ ﮐﮧ ﺳﺎﻧﺲ ﻣﻠﮯ ﻧﺒﺾ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﺳﮯ ﺗﮭﻤﯽ ﺳﯽ ﮨﮯ ﮐﻮﻥ ﭘﺘﮭّﺮﺍ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﺮﻑ ﭘﻠﮑﻮﮞ ﭘﮧ ﮐﯿﻮﮞ ﺟﻤﯽ ﺳﯽ ﮨﮯ ﻭﻗﺖ ﺭﮨﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﯿﮟ ﭨﮏ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺕ ﺑﮭﯽ ﺁﺩﻣﯽ ﺳﯽ ﮨﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺭﺷﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺎ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﻻﺯﻣﯽ ﺳﯽ ﮨﮯ ﺁﺋﯿﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﺍﻟﮓ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ ﯾﮧ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺑﮭﯽ ﺑﺎﮨﻤﯽ ﺳﯽ ﮨﮯ (ﮔﻠﺰﺍﺭ)
Create an account or sign in to comment