Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Zindagi ka Safar زندگی کا سفر

Featured Replies

  • Author

 

دہم جماعت کی کلاسیسز کی ابتدا ہوچکی تھی، ہم سائنس والے سکول آنے لگے تھے۔ کچھ دن بعد خالق بھی آنے لگا لیکن ہمیں اُس طرح کا موقع نہیں مل رہا تھا۔ خیر اسی طرح تین ماہ کا عرصہ گزرتا چلا گیا اور میری بے چینی بڑھنے لگی،

اس دوران میں جب بھی خالق کی طرف دیکھتا تو بس سوچتا رہتا کہ آج خالق سے اس کی چچی کی برا مانگوں گا لیکن نہ تو موقع ملتا اور نہ ہمت کرسکا،

ایک دن باجی غزالہ کام کاج ختم کرکے چھت پراپنے مشغلےکےلیےچلی گئی تب میں نے امی کو چیک کیا جو کہ کسی کام کے لیے گھر سے باہر گئی ہوئی تھی اور طاہرہ باجی معمول کے مطابق سو رہی تھی، میرے دماغ میں شیطان نے ڈھیرا ڈالنا شروع کردیا تھا

میرے دماغ میں ایک آئیڈیا آیا۔ میں تیز قدموں کے ساتھ چلتا ہوا اُس کمرے میں آیا جہاں امی گندےاور صاف ہر طرح کے کپڑے رکھتی تھیں، میں نے احتیاط کے ساتھ ایک ایک کپڑے کو اٹھانا شروع کردیا۔ تاکہ مجھے کسی کی بھی برا مجھے مل جائے کافی ڈھونڈنے کے باوجود مجھے کچھ بھی نہ ملا۔ میں مایوس ہوکر باتھ روم میں جاکر مٹھ مارنے کا سوچنے لگا،

ویسے ہی میری نظر سامنے ٹنگے ہوئے کپڑوں پر گئی، جب برا کی خوشبو کا نشہ لنڈ کو ہو جائے تب انسان کسی  بھی بات کی پرواہ نہیں کرتا۔ میں نے فورا ایک ایک کرکے اپنے کپڑے اتار کر انہیں کپڑوں کے ساتھ ٹانگ دیئے جہاں دوسرے کپڑے ٹنگے ہوئے تھے۔ جیسے ہی کپڑے ٹانگے اسی وقت کچھ کپڑے جگہ کم ہونے کی وجہ سے نیچے گر پڑے۔

میں جھنجھلا کر کپڑوں کو اٹھا کر ون بائی ون ٹانگنے لگا تو میرے ہاتھ میں اچانک سے ایک عدد پینٹی آگئی۔ میری خوشی دیدنی تھی، میں نے باقی کے کپڑے دیکھے بغیر جلدی سے ٹانگے اور نیچے بیٹھ گیا اور پینٹی کو غور سے دیکھنے لگا۔

پہلی مرتبہ میں گھر کی عورتوں کے ریلیٹڈ کام کرنے کی سوچ رہا تھا۔ جیسے جیسے مجھے خالق اور خالق کی چچی کی سیکس سٹوری یاد آتی گئی میں بھی سیکس کے نشے میں چور ہوکر اپنی ہی بہن کی پینٹی کو اپنے لنڈ پر لپیٹ کر مٹھ مارنے لگا۔

میرے لنڈ پر اس پینٹی کی خوشبو نے گہرا اثر کیا، میں نابالغ ہونے کی وجہ سے اپنے لنڈ کے پانی کو باہر نہیں نکال پایا۔ میں نہانے کے بعد باہر آگیا۔

دہم کے امتحانات تک مجھے جب بھی موقع ملتا میں کسی نہ کسی کی برا یا پینٹی کا ناکام استعمال کرتا،

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Author

Comments lazmi karna, nahi to yahan koi b story share nahi karoon ga, jahan comments ya likes na mile wahan sharing nahi karni chahiye

  • Author

ایک دن باجی فرزانہ گھرآئی ہوئی تھیں، انہوں نے مجھے کہا کہ ہم دونوں آج چھت پر سوئیں گئے، جس پر باجی غزالہ،طاہرہ اور امی نے انکارکردیا، ویسے بھی نیچے گرمی ہوتی تھی اس لیے میں مان گیا۔

ہم دونوں کافی فاصلے پر لیٹے ہوئے تھے، کچھ دیر بعد ہمیں نیند آگئی کچھ دیر بعد میری آنکھ ویسے ہی کھل گئی، میں آہستہ آہستہ خالق کی باتیں یاد کرنے لگا، جب شیطان کو یاد کیا جائے تو چھوٹا شیطان جھاگ جاتا ہے، میں نے اپنی شلوار کو آہستہ سے نیچے کیا اور اپنے لنڈ کو ہلانے لگا، میرا جسم چادر کی اوٹ میں تھا۔

میں ایسا کرتے کرتے ناجانے کب نیند کی وادی میں کھو گیا، میری آنکھ جب دوبارہ کھلی تب مجھے احساس ہوا کہ میرا لنڈ تھوڑا تھوڑا گیلا ہے، اور اس میں ابھی بھی تناو موجود ہے۔

میں ابھی یہی سب محسوس کررہا تھا کہ اتنی دیر میں مجھے ساتھ والے بستر سے اٹھنے کی آواز آئی میں نے اپنی آنکھیں بند ہی رکھیں،

آہستہ آہستہ مجھے محسوس ہونے لگا کہ میرے لنڈ سے پانی نما کچھ نکل رہا ہے، میں چونکہ نیچے سے ننگا تھا اس لیے خاموش تھا۔

شاید باجی اس عمل کو دیکھ رہی تھی، کہ یہ عمل میں خود اپنے ہوش و حواس میں کررہا ہوں یا یہ قدرتی طریقے سے ہورہا ہے (اختلام)۔

مجھے تو مزہ بھی آرہا تھا کیونکہ میرے لنڈ سے نکلنے والا پانی (منی) ابھی بھی نکل رہا تھا، میری کمر آہستہ آہستہ اوپر کو اٹھتی چلی گئی میں نہیں جانتا تھا کہ باجی میرے لنڈ پر جھک چکی ہیں میری کمر کو اوپر اٹھتا محسوس کرکے باجی پیچھے ہٹنے کی سوچ رہی

تھی لیکن تب تک دیر ہوچکی تھی، میرا لنڈ باجی فرزانہ کے گالوں کے ساتھ جا ٹکڑایا۔

باجی چونکہ شادی شدہ تھی اس لیے باجی اپنے شوہر کی وفادار بنتے ہوئے پیچھے ہٹی اور بولی:عثمان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں کچھ بھی نہ بولا، کیوں کہ میں سچ میں کافی سکون اور حیرت میں ڈوبا ہوا تھا، مجھے خود کے اوپر سے بوجھ اترتا ہوا محسوس ہورہا تھا۔ باجی نے ایک بار پھر مجھے پکارا۔ میں خاموشی سے لیٹا رہا اور تب تک میرے لنڈ سے آخری چند قطرے بھی نکل گئے، جو میں دیکھ نہ سکا کہ وہ کہاں گئے۔

باجی نے آہستہ آہستہ میرے چہرے سے چادر ہٹائی میں بھی شیطان کے ہتھے چڑھ کر خاموشی سے لیٹا رہا، میں سوچ رہا تھا کہ اگر خالق کی سگی چچی خالق کے لنڈ کی دیوانی ہو کر اس کی سواری کرسکتی ہے، تو میری بڑی بہن کیوں نہیں۔

لیکن ایسا نہ ہوا باجی نے چادر ہٹا کر بڑے ہی احتیاط کے ساتھ میرے لنڈ کو صاف کیا اور ساتھ ہی ساتھ ٹانگوں کو بھی صاف کردیا، باجی نے مجھے دوبارہ سے شلوار پہنائی اور اپنی چادر (جو انہوں نے سوتے وقت اوڑھی تھی) مجھ پر ڈال کر خود بھی سونے چلی گئی۔ میں بھی کچھ دیر تک خود کو ملامت کرتے ہوئے نیند کی گہری وادیوں میں کھو گیا۔

 

  • Author


اگلے دن باجی نے مجھے چھٹی کروا دی، میں صبح کے وقت تھوڑی دیر سے جاگا پھر سو گیا، (ناشتہ وغیرہ کے بعد) دن کے ایک بجے میری آنکھ کھلی تو ایک بار پھر میرا ہتھیار تنا ہوا تھا، میں نے اپنی گردن اٹھا کر کمرے کا جائزہ لیا اور خاموشی سے باتھ روم میں گھس گیا۔
حسب معمول مجھے ۱ عدد گیلی پینٹی مل گئی، ایسا لگ رہا تھا کہ ابھی کچھ دیر پہلے اسے اتارا گیا ہے۔ میں نے موقعہ غنیمت سمجھتے ہوئے ون بائی ون اپنے کپڑے اتارے اور نہاتے ہوئے گیلی پینٹی کی مدد سے مٹھ لگانے لگا، مجھے اس بات کی خوشی تھی کہ مجھے آج گیلی پینٹی اس وقت ملی جب میں فارغ ہوسکتا تھا۔ میری بہن کی گیلی پینٹی کی خوشبو میرے ہتھیار پر اور اس سوچ نے مجھ پرکہر ڈھانا شروع کردیا تھا۔
میں فرش پر ٹانگیں پھیلا کر بیٹھ گیا اور اپنے ہتھیار کو پینٹی میں آگے پیچھے کرتے ہوئے تصور کی دنیا میں اپنی بہن کی پھدی مار رہا تھا۔ آخری خیال کے تحت ( میں اپنی بہن کی پھدی میں فارغ ہونے والا ہوں اور میری بہن مجھے روکنے کی بجائے مجھے اندر ہی فارغ ہونے کا بار بار بول رہی ہے) میں اس گیلی پینٹی میں ہی فارغ ہوگیا۔
منی کے نکل جانے کے باوجود میرا ہتھیار تنا ہوا باجی کی پینٹی میں اگلی چدائی کیلئے تیار تھا۔ لیکن میرے پاس اتنا وقت نہیں تھا۔(ظاہر سی بات ہے ایک ہی باتھ روم تھا اس وقت، اگر کوئی زیادہ دیر لگاتا تھا تو باہر سے آوازیں کسنا شروع ہوجاتی تھی۔
شام کو میرے طالبعلم آگئے باجی نے مجھے اپنے پاس بلایا اور میری حالت درست کی، جیسا کہ میں بتا چکا ہوں کہ میں اپنی پرسنالٹی کی اتنی زیادہ کئیر نہیں کرتا تھا۔ مجھے باجی کا ایسا کرنا کافی عجیب محسوس ہوا لیکن حالت و واقعات کی نزاکت کی بنیاد پر میں خاموش ہی رہا۔ جتنے دن باجی فرزانہ رہی، میرا ہر طرح کا خیال رکھا ہم روزانہ چھت پر سوتے میں روزانہ کسی نہ کسی طرح موقعہ ڈھونڈ کر کسی کا نہ کسی طریقے سے پینٹی یا برا کو استعمال کرتے ہوئے فارغ ہوتا رہا،
جہاں موقع ملتا میں اپنا پانی (منی) بہنوں کی پینٹیوں میں چھوڑ دیتا اور ایسا محسوس کرتا جیسا کہ میں سچ مچ اپنی تینوں بہنوں کی پھدیوں کے اندر فارغ ہورہا ہوں۔
سچ کہوں تو کبھی ایسا مزہ زندگی میں نہیں آیا جتنا اس کام میں آیا۔ بغیر چودائی کے بے حد مزہ۔۔۔ ہاہاہاہاہاہاہاہاہا
باجی نے جاتے ہوئے میرے ماتھے کو چوما ( یہ کس لاسٹ ٹائم معلوم نہیں کب ملا تھا)
خیر باجی نے جاتے جاتے باجی غزالہ کو کافی نصحیتیں کی اور باجی طاہرہ کو بھی سمجھایا۔ میں اب ٹیوشن حاصل کرنے والی لڑکیوں کی برا چیک کرنے کی کوشش میں لگا رہتا۔ کچھ لڑکیوں کی برا وغیرہ نظر آتی تھیں جب بھی مجھے موقع ملتا میں کبھی ان لڑکیوں کو سوچ کر مٹھ لگاتا کبھی اپنی بہنوں کے بارے میں سوچ کر، جب بھی اکیلا بیٹھا ہوتا تو یہ بات بھی سوچتا کہ میں اس گناہ کی دلدل میں کیوں پھنس رہا ہوں؟
خیر! بریزر کے وقت میں احتیاط لازمی کرتا لیکن پینٹی کے سامنے میں ٹِک نہ پاتا۔ سکول میں ایک دن خالق نے بتایا کہ اُس لڑکے کی گانڈ بھی اس نے خود ماری ہے اور بائیو سر سے بھی دوستی گاڑلی ہے۔
کچھ دن خالق کی باتیں سن کر میں بھی مٹھ لگا لیتا لیکن میں نے اس کو یہ بات نہیں بتائی کہ میری بھی منی نکلتی ہے۔ کچھ دن تک ہم سب پریکٹیکلز میں مصروف ہوگئے۔ پریکٹیکل کا سلسلہ رکا تو چودہ دن کی چھٹیاں ہوگئی جس دن چھٹیوں کا اعلان ہوا اس دن خالق نے مجھے روک لیا۔
خالق: عثمان۔۔۔ تیری بھابھی اور میری ساس وہاں (اشارہ کرتے ہوئے) کھڑی ہیں۔ آ تجھے ان سے ملواتا ہوں۔(راستے میں اس نے مجھے سمجھایا کہ میں اور بھابھی بازار کی طرف نکل جائیں گے اور تم اپنے مطلب کی بات کرلینا)
خالق کی ہونے والی بیوی کالے رنگ کے برقے میں موجود تھی اس کی آنکھوں سے صاف محسوس ہورہا تھا کہ خالق کی ہونے والی بیوی کم خوبصورت نہیں۔ پلان کے مطابق خالق اور اس کی ہونے والی بیوی بازار کی طرف نکل گئے اور ہم سکول کے اندر آگئے گھومتے پھرتے باتیں کرنے لگے۔ آنٹی کی گانڈ تھوڑی سی باہر کو نکلی ہوئی تھی جس کو مزید بہتر بنایا جاسکتا تھا لیکن مجھ میں اتنی ہمت نہ تھی کہ میں ان کو اس متعلق کچھ کہتا یا کرتا۔ اگر کرتا بھی تو یہ میرا پہلا تجربہ ہوتا ۔
خیر میری بزدلی کی وجہ سے یہ موقع بھی ہاتھ سے نکل گیا اور ہمارے پاس خالق اور اس کی منگیتر آگئے، خالق نے سموسے پکوڑے لائے ہوئے تھے ہم ایک سائیڈ پر بیٹھ کر کھانے لگے، آنٹی نے موقعہ دیکھتے ہوئے میری ران کو آہستگی سے دبا دی۔ 
ہم نے ایک دوسرے کو دیکھا اور کچھ لمحوں کے بعد آنٹی نے میری ران کو آہستگی سے سہلانا شروع کردیا۔
آنٹی(خالق سے): کسی دن اپنے دوست کو بھی گھر لانا۔۔۔ (خالق نے اثبات میں جواب دیا)
آنٹی نے اپنا کام بھی جاری رکھا اور بات بھی۔۔۔ آنٹی: اور ہاں کوشش کرو کہ ان دس دن میں سے کسی دن بلا لو کیونکہ کہ آخری دنوں میں تمہارا دوست قابوبھی نہیں آنے والا
خالق اور آنٹی کے چہروں پر مکروہ مسکراہٹ تھی جبکہ میرے چہرے پر عجیب سے تاثرات تھے اور خالق کی منگیتر کے چہرے پر بھی۔ کچھ دیر بعد ہم سب اپنی اپنی منزل کی طرف نکل پڑے۔ ان چھٹیوں میں باجی غزالہ کے رشتے کی بات چلتی رہی،

📢 Post Your Ad Here
  • Author

چوتھے دن میرے کلاس فیلو کی چھوٹی بہن کتابیں لیے گھر آگئی میں تھوڑا سا حیران تھا لیکن خاموش ہی رہا کیوں کہ میرا کام دوسروں کی مدد کرنا تھا اس لیے خاموشی سے بیٹھک میں جا کر بیٹھ گیا اور اس کے پڑھانے لگا۔

ہم دونوں آج اس کمرے میں اکیلے تھے اس لیے وہ میرے کافی قریب بیٹھی تھی، اس کی ٹانگیں میری ٹانگوں سے ہورہی تھی، جب مجھ سے برداشت نہیں ہوا تب میں نے گود میں رکھی کاپی (نوٹ بک) کو سامنے میز پر رکھ کر اس کو سوالات سمجھانے لگا۔ وہ بھی تھوڑی سی جھک کر سوال سمجھنے لگی میرے دل میں پہلے ہی چور موجود تھا اس لیے میں نے کوشش کرنے کیلئے کنی آنکھ سے پاس بیٹھی لڑکی کی کلیویج کو دیکھنے کی کوشش کرنے لگا۔

میری کوشش تھوڑی سی کامیاب ہوئی مجھے اس کی کلیویج نظر آئی لیکن اس کی برا نظر نہیں آئی شاید اس نے برا پہنی ہی نہ ہو یا پھر نفاست سے کام لیا ہو۔

خیر ایسے ہی وقت گزر گیا اور وہ اپنے گھر چلی گئی۔ میں چھت پر چلا گیا جہاں باجی رسالہ پڑھنے میں مگن تھی۔ کچھ ہی فاصلے پر میں اس لڑکی کو گھر جاتا دیکھتا رہا۔ جب وہ آنکھوں سے اوجھل ہوگئ تب میں نیچے آگیا۔

دہم جماعت کی امتحانات ہوجانے کے بعد باجی غزالہ کی شادی کردی گئی۔ میری زندگی میں سیکنڈ ائیر کے امتحانات تک کوئی لڑکی، عورت یا کوئی زانی مرد نہیں آیا جس سے میں اپنے ہتھیار کو تسکین پہنچا سکتا۔ میرے پاس صرف ایک ہی طریقہ تھا اور وہ تھا سسٹرز کی پینٹی یا برا کااستعمال

لنڈ کی تسکین کم ہونے کی بجھائے بڑھنے لگی، میں گھر والوں کے کسی بھی معاملے میں کبھی بھی نہیں بولتا تھا کیوںکہ میری طبعیت ہی ایسی تھی۔ خیر میرے امتحانات کا احتتام ہوچکا تھا اس لیے فارغ ہی تھا۔ میں اپنے دوست کی بہن (ماریہ) کے متعلق سوچ بھی رہا تھا اور کھانا بھی کھا رہا تھا۔ کچھ دیر بعد میں اپنے کمرے میں جاکر سو گیا۔

ابو نے گھر کی تعمیر و ترقی کے لیے کافی اخراجات کیے تھے، پہلے پہل مکان چند کمروں پر محیط تھا اب ابو نے گھر کو نئے سرے سے تعمیر کروا دیا تھا جس سے سب کو آسانی تھی۔ میں آج (میٹرک سے لے کر سیکنڈ ائیر تک) اکیلا کیوں تھا یا اکیلا کیسے رہ گیا یہ سب میرے خوابیدہ ذہن میں ایک کے بعد کرکے منظر آنے لگے تھے۔

کچھ دیر سونے کے بعد میں جب جاگا تو باجی فرزانہ کو مجھے ہی نہارتے ہوئے پایا۔ میں نے مسکراتے ہوئے باجی سے پوچھا: باجی آپ کب آئی؟(حالانکہ میں گھر آتے ہی جان چکا تھا کہ باجی غزالہ یا باجی فرزانہ میں سے کوئی ایک بہن گھر آئی ہوئی ہیں)

باجی(مسکراتے ہوئے): میں اس وقت آئی تھی جب امی کھانا تجھے بنا کر دے رہی تھی۔ تو یہ بتا کہ تو گھر کا کھانا چھوڑ کر باہر کا کھانا کیوں کھانے جاتا ہےجبکہ گھر میں بھی روزانہ کھانا بنتا ہے۔

میں (اٹھ کر بیٹھتے ہوئے): باجی اب گھر میں دل نہیں لگتا اس لیے باہر کا کھانا کھا لیا کرتا ہوں خیر آپ سناؤ آپ نے کھانا ٹھیک سے کھا لیا ؟

باجی: ہاں میں نے کھانا کھا لیا تھا۔ ویسے تجھے کب سے ہماری فکر ہونے لگی؟

میں باجی کی بات سن کر ایک مرتبہ پھر ماضی قریب میں چلا گیا، مجھے اچھے سے یاد تھا کہ آخری مرتبہ باجی طاہرہ نے کیسے میری بے عزتی امی اور ماریہ کے سامنے کی تھی، پھر یہ بات بڑھتی چلی گئی اور میں اپنے گھر، اور اپنے گھریلو معاملات سے دور ہوتا چلا گیا، اگر اس دن سے لے کر آج دن تک مجھے میرے والدین کی طرف سے یہ کہا جاتا کہ تمہارے لیے ہمارے اس گھر میں کوئی جگہ نہیں تو تب میں کب کا یہاں سے ناجانے کتنی دور چلا گیا ہوتا، لیکن امی اور باجی فرزانہ کی عقل مندی کی وجہ سے میری غلطی کی رپورٹ ابو تک نہیں پہنچی تھی۔ میں اُس واقعے کے بعد پہلے پہل نہ تو اپنے کمرے سے باہر آتا اور نہ ہی کھانا کھاتا۔

پھر آہستہ آہستہ روٹین لائف میں بزی ہوگیا، کیونکہ میں نے جان لیا تھا اب پڑھائی بے حد ضروری ہے۔ جو غلطی مجھ سے ہوچکی تھی اس کا ازالہ کبھی نہ کبھی ہو جاتا۔ لیکن تعلیمی خرج بے مقصد تھا۔

میں نے باجی فرزانہ، غزالہ کے سسرال جانا بھی چھوڑ دیا تھا۔

باجی فرزانہ میری خاموشی کو توڑتے ہوئے بولی: مجھے تم سے کام تھا جس سے تمہاری غلطی کا ازالہ بھی ہوسکتا ہے اور تو خود کو بھی بدل سکتا ہے۔

باجی کچھ وقفے کے بعد: تو فل حال فرش ہوجا، ہم رات کو تسلی سے بات کریں گے۔

رات ہوئی تو میرے اندر کافی اتھل پتھل تھی، باجی نے بل آخر اپنے کام ختم کرکے چھت پر جانے لگی۔ چونکہ اب نہ تو میں باجی طاہرہ کے معاملات پر بولتا تھا اور نہ ہی ان کو میری اتنی پرواہ تھی۔

باجی فرزانہ (بات شروع کرتے ہوئے):۔ جب انسان کافی آگے نکل جاتا ہے تب اسے احساس ہونے لگتا ہے کہ اس نے کافی غلطیاں کی ہیں اس ’’زندگی کے سفر‘‘ میں۔۔۔ میں نے اس دن تمہیں برا بولا کیونکہ اس بات میں تمہاری بہتری تھی۔ تو تم نے میری بات کا برا مان کر آج دن تک نہ تو میرے سسرال آئے اور نہ ہی غزالہ کے گھر گئے۔ اس بے چاری پر رحم کرلیتے اس نے تمہیں ایسا ویسا کچھ بھی کہا نہیں۔

چلو ہم بہنیں صبر شکر کرکے گزارا کرہی لیتی، لیکن ماریہ کی طرف تم توجہ کیوں نہیں دے رہے جبکہ تم خود اس میں انٹرسٹڈ تھے۔ اس لڑکی نے لڑکی ہونے کے باوجود تم سے اظہار محبت کی، لیکن تم ہو کہ اسے اگنور کیے جا رہے ہو۔

ایک طرف ہم بہنیں ہیں جو اپنے بھائی کے پیار کے ترس رہی ہیں اور ایک طرف ماریہ۔ ہم نے اپنا پیٹ اس وقت کاٹ کر تمہیں خوشیاں لا کر دی جب ہمارے بھی کافی آرمان ہوا کرتے تھے۔ تم ہمارے وہی بھائی ہو جس کا ہم ہاتھ پکڑ کر بازار کی طرف جاتی تھیں اور تمہیں من پسند ٹافیاں لے کر دیتی تھی۔

میرے پیارے بھائی! تم نے یہ بات کیسے سوچ لی کہ اس زندگی کے سفر میں تم اکیلے رہ گئے ہو اور ہم تمہارا ساتھ نہیں دیں گی؟

زندگی کا سفر کافی مشکل ہوتا ہے جو پیار کی طاقت سے آسان بنایا جاسکتا ہےنہ کہ پیسے کی طاقت سے۔ جب تمہارے آگے پیچھے بس پیسہ ہی پیسہ ہوگا تب تمہارے پاس ہم بہنوں کا پیار، ماں کی شفقت کا سایہ اور ماریہ کی محبت تو کبھی بھی نہیں ملے گی پھر یہ پیسہ کس کام کا؟؟؟

تمہیں یہ سب کب سمجھ میں آئے گا؟ جب ہم بہنیں مایوس و نا مراد ہوجائیں گی، اور ماریہ کسی دوسرے کی بیوی بن جائے گی تب؟

اگر ماریہ سے محبت کرتے ہو تو ابھی میرے سامنے اس کو کال لگاو اور اپنی محبت کا اظہار کرو۔

باجی کی تمام باتیں سن کر میں نے کچھ لمحے خاموشی اختیار کی، پھر ایک فیصلے پر پہنچ کر میں نے ماریہ کو کال لگا دی۔ ماریہ نے تیسری بیل پر میری کال اٹینڈ کی۔ میرے ہیلو بولنے پر ماریہ نے جی میں جواب دیا۔

میں: میرے سامنے میری بہن بیٹھی ہے۔ فون سپیکر پر ہے۔ کیا تم اپنے اپنے گھر والوں کو ہماری شادی کے لیے منا لو گی؟؟؟

 

 

 

  • Author

ماریہ(کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد): ہاں میں پوری کوشش کروں گی۔ کیا آپ باجی فرزانہ سے میری بات کروا سکتے ہیں؟
میں نے اس کی بات مانتے ہوئے موبائل فون باجی کی طرف بڑھا دیا اور خود نیچے آگیا۔ نیچے سب سو چکے تھے امی اور باجی طاہرہ کے کمروں کی لائٹس آف تھی جبکہ باقی کی لائٹس میں نے بند کرکے واش روم کی طرف چل دیا۔ کچھ دیر بعد میں چھت پر چلا گیا جہاں باجی میرے ہی انتظار میں تھی۔
میں مسکراتے ہوئے: باجی۔۔۔ آپ کو ماریہ کی بچی نے شکایت کی تھی؟
باجی: محبت جس سے ہو اس کی شکایت نہیں کی جاتی۔ خیر تم بتاو۔ اس ماریہ کے علاوہ اور کون کون سی لڑکی تم میں انٹرسٹڈ ہے۔
میں نے صاف انکار کردیا کیونکہ میرے دل میں بھی ماریہ ہی تھی اکثر ایسا ہوتا ہے کہ سکول لائف میں ٹائم پاس کے لیے ایک عدد گرل فرینڈ بنا لی جاتی ہے۔ اگر وہ لڑکی کالج لائف میں بھی ساتھ ہو تو اسی سے گزارا کرلیا جاتا ہے۔ کچھ لڑکیاں بولڈ بھی ہوتی ہیں جو ایک دوسرے کو جلانے کے لیے لڑکوں کا استعمال کرتی ہیں۔ میرے انکار سے باجی خوش ہوکر میرے ماتھے کو چوم کر سو جانے کا بولا اور خود کروٹ بدل کر سو گئی۔
میں کافی دیر ماریہ کے بارے میں سوچتا رہا صبح میری آنکھ کھلی تو امی، طاہرہ اور باجی فرزانہ ناشتے بنانے میں لگی ہوئی تھی۔ کچھ دیر بعد ہم سب ایک ہی جگہ بیٹھ کر ناشتہ کرنے میں مصروف ہوگئے۔ باتوں باتوں میں باجی نے باجی غزالہ کے سسرال والوں کی کہانی چھیڑ دی۔ 
ان باتوں میں باجی نے بڑے ہی واضح الفاظ میں مجھے بتایا کہ باجی غزالہ کو اس کی نند نے کافی تنگ کررکھا ہے۔ میں یہاں اب باجی غزالہ کی نند کے بارے میں تھوڑا سا تعارف کروا دوں۔
باجی غزالہ کے سسرال میں ان کی ساس جو ہر وقت چارپائی پر پڑی رہتی تھی اور کافی اونچا سنتی تھی۔ ان میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ خود کروٹ بدل سکیں۔ باجی کی شادی کے بعد میرے بہنوئی اپنی والدہ کی طرف سے بے فکر ہوگئے اور بیرون ملک چلے گئے تھے۔ بیرون ملک گئے ہوئے آٹھ سے نو ماہ ہوچکے تھے جبکہ شادی کو ۲ سال ہونے کو تھے لیکن ان کے گھر کوئی اولاد نہ تھی
باجی کی نند عمرانہ نام تھا لیکن عرف عام ’’مانہ‘‘ تھا۔ جب میں نے ان کو آخری مرتبہ دیکھا تھا تو اس وقت بھی باجی کے لیے ان کی آنکھوں میں نفرت تھی۔ مانہ کی شادی بھی ہوچکی تھی لیکن ان کے گھر بھی اولاد جیسی نعمت نہ تھی۔ جس کی وجہ سے مانہ بہت زیادہ چڑ چڑی ہوچکی تھی۔
پہلے پہل باجی کو مانہ نے کبھی بھی تنگ نہیں کیا تھا۔ لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا مانہ کی طبعیت میں چڑچڑا پن آنے لگا۔ کچھ دن پہلے مانہ نے صاف صاف الفاظ میں باجی کو گھر سے نکل جانے کا بول دیا تھا۔ مانہ کے سسرال والے کافی امیر تھے۔ اسی وجہ سے مانہ غرور میں تھی آج نہیں تو کل اس نے کسی نہ کسی طریقے سے بچے کو اڈاپٹ کرلینا تھا۔
میں: مجھے معلوم ہے لیکن میں اس سارے معاملے میں کیا کرسکتا ہوں جو کسی سے بولتا؟؟؟
باجی: بندا کم از کم اس کے شوہر سے تو پوچھ لیتا ہے کہ کیا مسئلہ ہے؟
ایسے ہی مختلف مسئلوں پر بات چیت ہوتی رہی۔ پھر کچھ دیر بعد میں امی سے اجازت لے کر (تقریبا آٹھویں جماعت سے اب تک کبھی اجازت نہیں لی تھی) میں سکول کی طرف چل دیا۔ سکول میں پرنسپل کی تبدیلی ہوچکی تھی۔ پہلے میل سر تھے اب فیمیل پرنسپل کی تعیناتی ہوچکی تھی۔ بوائز گرلز سیکشن ایک کردیے گئے تھے۔ بس قطاریں الگ الگ تھیں۔ کچھ لڑکے لڑکیوں کو بس گھورتے رہتے تھے۔ میں سکول کے بعد سکول کے ساتھ بنے چھوٹے سے بازار کا معائنہ کرتارہا ۔ ایک دکان پر مجھے انجانی سی کشش محسوس ہوئی۔
میں چلتا ہوا اس دکان کے اندر چلا گیا۔ میرے سامنے خالق موجود تھا۔ میں نے کافی عرصے کے بعد خالق کو دیکھا تھا۔  ہم نے کافی دیر تک بات چیت کی۔ سکول، گھر اور دوسرے معاملات کے بارے میں بات چیت ہوتی رہی۔ پھر میں وہاں سے خالق سے اجازت لے کر گھر آگیا۔ دن کا کھانا کھایا اور  باجی نے رات کو اہم مسئلے پر بات کرنے کا اشارہ دے کر پھر سے بے چین کردیا۔
رات کو باجی اور میں معمول کے مطابق چھت پر چلے گئے اور پھر باجی نے بات شروع کی۔
باجی: دن کیسا گزرا اور مارکیٹ بھی دیکھی؟
میں: دن کافی آسانی سے گزرگیا۔ مارکیٹ بھی دیکھ لی کافی تبدیلی ہوچکی ہے۔ اگر یہاں کام کاروبار ٹھیک طریقے سے کیا جائے تو پیسہ کمانا بہت آسان ہے۔
باجی: ہمممم۔۔۔ میرے ذمے ابو نے کچھ کام لگائے تھے اب امید ہے کہ تم ان کو پورا کردو گے۔ کیونکہ مجھے نہ تو میرے شوہر پر اتنا زیادہ اعتبار ہے اور نہ غزالہ کے۔
میں(حیرت سے): گھر کے داماد کیوں نہیں؟ وہ بھی تو اس گھر کے فرد ہیں۔ اگر آپ کو یا غزالہ باجی کو کوئی مسئلہ ہے تو بتائیں۔
باجی(مجھے سمجھاتے ہوئے):۔ اگر ان کو ان کے سسرال والے ایک بزنس سیٹ کرکے دیں گے تو پھر کچھ دن بعد غزالہ کے سسرال والے اپنی خواہش کا اظہار کریں گے پھر طاہرہ کے۔ ایسے تو ہم کنگال ہوجائیں گے۔ میری تمام باتیں تم کو میرے سمجھانے سے پہلے ہی سمجھ آ جانی چاہیں۔
میں: جہاں تک یہ بات ہے تو ابو اپنے دامادؤں کو کنڑول کرلیں گے اور رہی بات ان مسائل کی وہ ہم سب مل حل کرلیں گے۔
باجی: اچھے سے سوچ لو۔ بعد میں انکار نہ کردینا۔
میں: میں انکار نہیں کروں گا جو بھی کرنا پڑا میں اپنی بہنوں کی خوشی اور پیار کے لیے کروں گا۔ 
باجی مسکراتے ہوئے: اچھا جی۔۔۔ اتنا پیار آرہا ہے تو پہلا کام یہی کرو جو میں نے بولا ہے۔ اپنے بہنوئی پر اعتبار مت کرو اور خود ہی اپنے کام کاروبار کو شروع کرو۔ ویسے یہ ماریہ والا چکر کب سے ہے؟
میں مسکراتے ہوئے: میرا تو کوئی چکر نہیں تھا بس وہی میرے لیے پاگل تھی۔ (باجی نے مجھے گھورتے ہوئے دیکھا تب میں ماریہ کے متعلق بتانے لگا) شروع میں وہ میرے قریب بیٹھنے لگی تھی تو اس وقت کوئی احساسات نہیں تھے پھر آہستہ آہستہ اس متعلق سوچنے لگا پھر۔۔۔ اگے آپ خود سمجھ جاو۔
باجی: اچھا چل اب تو سو جا کل مجھے مارکیٹ کے بارے میں مکمل رپورٹ دینی ہوگی۔ کیونکہ ہم بہنوں کو تمہارے بہنوئیوں پر ایک ذرہ برابر اعتبار نہیں۔
باجی اپنا حق جتاتے ہوئے وہاں سے اٹھ گئی۔

  • Author

صبح اٹھ کر میں کل والی تمام باتیں سوچنےلگا، سوچتے سوچتے میں نے ماریہ کو ایس ایم ایس کرنا شروع کردیے جس کے جواب وہ دیتی رہی۔ میں نے اسے بتادیا کہ اس کا بھائی گئے ہے۔ اس نے بھی اس بات کی تصدیق کی کیونکہ اکثر اس کے دوست گھر آتے رہتے تھے۔ خیر شام کو ماریہ ٹیوشن لینے آگئی۔ ٹیوشن کم گھر کے کام کاج زیادہ کرنے لگی۔ میں نے مستقبل قریب کے لیے استاد بننے کا سوچا تھا لیکن اچانک باجی فرزانہ کی باتوں نے مجھے بزنس کے بارے میں سوچنے میں مبتلا کردیا تھا۔
ماریہ کا ٹیکسٹ آیا: جان ! نیٹ ورک کافی مسئلہ کررہا ہے ایک کس ملے گی؟
ماریہ کے اس ٹیکسٹ نے مجھے اپنے علاقے میں فرنچائز شروع کرنے کا آئیڈیا دے دیا تھا۔میں نے ماریہ سے ٹیکسٹ پر بات چیت کی اور سب طالب علموں کو چھٹی دے دی۔رات کو میں نے باجی کا انتظار کیا کچھ دیر بعد باجی چھت پر آگئی۔
باجی: ہاں بھئی ہم کہاں تک پہنچے تھے؟
میں مسکراتے ہوئے: آئی تھنک بہنوئی والی بات شروع تھی۔
باجی:ہاں یاد آیا۔ تو پھر کیا سوچا تو نے؟
میں: فل حال سوچ ہی رہا ہوں۔ باجی آپ سے کچھ پوچھنا ہے۔ اگر آپ بتانا چاہو۔
باجی: تو تو ہم بہنوں کی جان ہے۔ جو پوچھنا ہے پوچھ
میں: باجی۔۔۔ یہ مانہ کو کیا تکلیف کیا ہے؟ مطلب اصل وجہ بتائیں یہ نہ بتائیں جو میں جانتا ہوں اندر کی بات بتادیں۔
باجی مسکراتے ہوئے بستر پر میری طرف منہ کرکے بولی: اگر سیدھے سیدھے لفظوں میں بولوں تو اسے تیری بہن کا بچہ چاہیے وہ چاہے بیٹا ہو یا بیٹی۔ جبکہ ایسا کبھی ہوا کہ کوئی بھی ماں اپنی اولاد کسی کو دے دے؟ میں نے اسے سمجھانے کی کافی کوشش کی تو وہ سمجھنا نہیں چاہتی کیوں کہ وہ  امیر گھرانے کی بہو ہے۔ جب خود کی اولاد کوئی دوسرا لے جائے گا تب اسے ہم سب کی باتیں اور غزالہ کو پہنچائی گئی تکالیف یاد آئیں گی
میں: باجی کو چاہیے کہ وہ اپنے شوہر کو اپنی تکالیف بتائیں اور ان کو اپنے قابومیں رکھیں۔
باجی: شوہر نہ تو میرے کنٹرول میں ہوسکا اور نہ غزالہ کا۔ سب مرد ایک جیسے ہوتے ہیں گھر کی مرغی دال برابر سمجھتے ہیں۔
میں: اچھا مجھے یہ بتائیں کہ میں اس مسئلے کو کیسے حل کرسکتا ہوں؟
باجی: میرے نزدیک مانہ کو اس کا بھائی یا شوہر سمجھاسکتا تھے لیکن ایسا نہیں ہوسکا کیوںکہ وہ ان دونوں کے کنٹرول میں نہیں ہے۔ شاید کسی اور کے (باجی نے آخری الفاظ انتہائی دھیمے اندازمیں کہے جنہیں میں سن نہ سکا یہ صرف میرا مشاہدہ تھا جو بعد میں درست نکلا)
میں: پھر وہ مجھ سے کیسے کنٹرول ہوسکتی ہے جبکہ اس کے اوپر اس کے شوہر اوربھائی کا حکم نہیں چلا۔ (میں نے وہ بات کہہ دی تھی جو باجی ڈائریکٹ سننا نہیں چاہتی تھی لیکن اب میں سوال کرچکا تھا اس لیے باجی کو جواب دینا پڑا)
باجی:تم سب کچھ کرسکتے ہو۔
(میٹرک سے لے کر سیکنڈ ائیر پاس کرنے تک اس دوران جو کچھ ہوا وہ اس بات سے جڑی ہوئی ہے۔ مانہ باجی کی نند اور شادی شدہ ہونے کے باوجود میری طرف اس کی توجہ مبذول ہوچکی تھی لیکن میں اس سب میں انٹرسٹڈ نہیں تھا طاہرہ باجی کو سب معلوم ہوگیا تھا ان کو معاملہ سمبھالنے کی بجھائے معاملہ خراب کرنے میں ماہر نکلی شادی تو ہوگئی تھی لیکن شادی کے بعد باجی طاہرہ نے پہلے اپنے رویہ کی وجہ سے مجھے چوٹ پہنچائی پھر امی، باجی فرزانہ اور باجی غزالہ کے سامنے تزلیل کرنے لگی، پھر آخر کار ایک دن طاہرہ باجی نے حد سے گزرتے ہوئے ماریہ کے سامنے میری تذلیل شروع کردی جس کا مجھ پر بہت برا اثر ہوا جس کے نتائج آپ سب کے سامنے ہیں)
میں: باجی آپ کو معلوم تو ہے نا میں نے آج تک یہ کام نہیں کیے پھر آپ مجھے ایسا کام کرنے کا کیسے بول سکتی ہو؟ آپ یہ کام یا تو اپنے شوہر کو بولو یا پھر کسی باہر والے کو۔
یہ بات میں نے بول تو دی لیکن منہ سے نکلی بات واپس نہیں آسکتی تھی اس لیے معذرت خوا نظروں سے باجی کو دیکھا۔
باجی: تمہیں معلوم ہے کہ یہ مسئلہ کسی غیر کا نہیں، یہ مسئلہ تمہیں دیکھنا چاہیے کیونکہ وہ تم میں دلچسپی رکھتی تھی۔ اگر یہی مسئلہ ہمارے ساتھ ہوتا تو ہم کراچی جا کر بے بی ٹیوب سے اپنے اندر بچے پیدا کروا کر آجاتی لیکن وہ یہ بات نہیں مان رہی۔
باجی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے: اگر اس ’’زندگی کے سفر‘‘ میں کبھی بھی تمہیں لگے کہ تم آگے بڑھ چکے ہو تو ماریہ کو بے شک بھول جانا لیکن ایک مرتبہ لازمی ماریہ کی طرف دھیان دینا۔ یہ نہ ہو کہ وہ تمہارے انتظار میں رہے اور تم غلط فہیمی میں مبتلا ہو کر کسی دوسری سے شادی کرلو۔
اب آرام سے سو جاؤ اچھے سے سوچو، سمجھو پھر اپنی زندگی میں کی گئی غلطیوں کا ازالہ کرنا،
باجی خاموشی سے منہ دوسری طرف پھیر کر سو گئی۔ میں کچھ دیر تک ماضی کی کشتی میں ڈبو رہا۔ کچھ لمحوں کے بعد میں نے باجی کو آواز دی لیکن باجی نے کوئی جواب نہیں دیا۔
میں نے ہمت کرکے باجی کو پیچھے سے ہگ کرلیا اور کچھ دیر تک ہگ کیے ہی میں وہیں سو گیا۔

 

  • 4 weeks later...
  • Author

 

میں نے باجی فرزانہ کو پیچھے سے ہگ کیے سو گیا۔ صبح میری آنکھ اپنے معمول کے مطابق کھلی، باجی فرزانہ اپنے گھر کے لیے نکل پڑی اور میں باجی غزالہ کے گھر کی طرف۔ میرے اندر آج نیا جوش اور ایک نیا عزم تھا۔ باجی غزالہ کو شاید باجی نے پہلے ہی اطلاع دے دی تھی اس لیے میرے گھر پہنچتے ہیں باجی غزالہ نے ایک سے بڑھ کر ایک ڈش تیار کر رکھی تھی۔ باجی کی ساس صاحبہ سے سلام و دعا کے بعد میں ڈائنگ ٹیبل پر آگیا۔

باجی کی ساس صاحبہ کو لقبہ مار چکا تھا جس کی وجہ سے باجی کی ساس صاحبہ ایک ہی چارپائی پر ایک ہی جانب منہ کیے لیٹی رہتی تھی اور جب باجی کھانا کھلاتی تو وہ کھا لیتی، باجی اپنی ساس صاحبہ کی ہر طرح کی خدمت کرتی تھی، اب بھی کرتی ہیں۔

میں نے فرش ہو کر مانہ کے متعلق پوچھنا شروع کردیا، باجی نے پہلے خاموشی نہ توڑی پھر میرے بار بار اصرار پر وہ مان گئی۔ وہ مانہ کی اچھائی و برائیاں بتانے لگی، پھر اس کو کیا پسند ہے اور کیا ناپسند سب بتایا۔

باجی کے ساتھ ہنسی مذاق کرنے کے بعد میں واش روم چلا گیا۔ کچھ دیر ایسے ہی گھومتے پھرتے میں باجی کے پاس کیچن میں چلا گیا اور باجی سے بولا

میں: باجی آپ کی نند صاحبہ کب آتی ہیں؟

باجی چڑتے ہوئے: سارا سارا دن یہی رہتی ہے مجھے تنگ کرنے کے لیے۔ اس کی ایک عدد نند ہے جو طاہرہ کی طرح سوئی رہتی ہے ان دونوں کی خوب بنتی ہے، دنیا جہان کی تمام سہولیات ان دونوں کو میسر ہیں خیر تُو بتا کہ ماریہ کیسی ہے؟

میں: اچھا، ماریہ تو ٹھیک ہے، باجی کی اور اس کی کافی بنتی ہے دونوں کی عجیب منطق ہے۔

باجی مسکراتے ہوئے: منطق کوئی بھی ہو بس تم نے ہماری پریشانیوں میں اس کو مت بھول جانا۔

میں ماحول کو سازگار بنانے کی کوشش کرتے ہوئے بولا: اچھا آپ کے ہسبنڈ جی کا کوئی فون شون آتا ہے یا بس ایسے ہی ؟

باجی: بس آنے والا ہے اگر اٹینڈ کرنے میں دیر ہوجائے تو فورا مانہ حاضر ہوجاتی ہے

ہم دونوں کھلکھلا کر ہنس پڑے۔ کافی دیر تک ہم دونوں اپنی فیملی کے متعلق بات چیت کرتے رہے، باجی کی ہر بات گھوم کر ماریہ پر آکر ختم ہو جاتی تھی۔ باجی کے پاس صرف ماریہ ٹاپک تھی اور میں۔۔۔ اندر ہی اندر مانہ کے متعلق سوچے جا رہا تھا۔

مانہ ایک تفسیاتی مریضہ جیسی تھی جسے جو چیز پسند آجائے اسے حاصل کرکے ہی وہ رہتی ہے۔ شادی والے دن بھی وہ مجھے ایک کھلونا سمجھ بیٹھی تھی بس وہ دن اور آج کا دن، اس نے اپنی ضد منوا کر ہی دم لیا۔

خیر ایسے ہی باتیں کرتے کرتے ہم الگ الگ کمرے میں سونے کے لیے چل دیے۔ باجی نے اس وقت خود کو چین لینے نہیں دیا جب تک میں سو نہیں جاتا، میں صبح جلدی جاگ گیا۔ جاگنے کے بعد ایک باتھ لیا جس کے دوران میں بس مانہ کے متعلق سوچتا رہا۔

میرے دماغ میں ایک ہی سوال بار بار آرہا تھا۔

ڈاکٹر علی: ذہنی مریضہ کی مثال ایک خسرے جیسی ہے۔ وہ بہت حساس ہوتے ہیں اگر کسی سے دل لگا بیٹھیں تو وہ بس اسی کے ہو کر رہ جاتے ہیں، وہ نہ تو کسی دوسرے کو اپنے محبوب کے ساتھ برداشت کرسکتے ہیں اور نہ ہی وہ اپنے من پسند کھلونے کو خود سے الگ ہونے دیتے ہیں۔

’’تو کیا مانہ نے ایک بار مجھے حاصل کرلیا تو، نہیں نہیں، ایسا سوچتے ہی میں نے شاور کو بند کردیا اور فورا کپڑے پہن کر کمرے میں آگیا۔ میں نے اپنی پرسنالٹی بناتے ہوئے کمرے سے باہر نکل آیا۔ باجی نے فورا میرے سر سے سو کا نوٹ وار کر باہر بنے ایک بکس میں ڈال دیئے۔

ہم نے مل کر ناشتہ کیا اور باتیں بھی چلتی رہی، میں نے باجی کے کہنے سے پہلے ہی گھر میں موجود ناکارہ چیزوں کو ٹھیک کرنا شروع کردیا۔ اسی اثنا میں مانہ کی ساس تیار ہوئی باجی کی ساس کے پاس آکر بیٹھ چکی تھی۔ باجی نے پانی وغیرہ کا پوچھا۔ کچھ دیر بعد مانہ کی ساس نے اجازت لی۔

کچھ دیر گزری ہوگی کہ مانہ دندناتی ہوئی باجی کے گھر میں داخل ہوئی۔ جیسے ہی اس کی نظر مجھ پر پڑی تو وہ آہستہ سے چلتے ہوئے اپنی والدہ کے پاس بیٹھ گئی۔ اس کی نظریں بار بار گھوم کر مجھ پر آٹک جاتی تھی۔ کچھ دن ایسے ہی چلتا رہا مانہ اور اس کی نند آتی اور مجھے دیکھ کر چلی جاتی تھی۔

ساتویں دن مانہ کی ساس باجی کے گھر آئیں اور باجی سے بولی: غزالہ تم سے کام تھا اگر تم انکار نہ کرو تو میں بولوں، ویسے مجھے یقین ہے تم انکار نہیں کرو گی۔

باجی مسکراتے ہوئے: آپ بولیں تو صحیح۔

شاید باجی کو اندازہ ہورہا تھا کہ ہمارا پلان کامیاب ہونے والاہے بدلے میں چاہے ایک بھائی اپنی عزت کسی دوسرے کو دینے والا ہو۔

مانہ کی ساس: میرے ننھیال میں فتتگی ہوگئی ہے مجھے اور اسے جانا پڑے گا تم مانہ کو اوپر (یہاں) بلا لو یا پھر تم دونوں وہاں چلے جانا۔

باجی: اچھا میں اسے بولتی ہوں وہ اوپر آجائے گی آپ بےفکر ہو کر جائیں۔

کچھ دیر گزری ہوگی کہ ہمارا ایک ہمسایہ اور بولا کہ فلاں فلاں بندے کی ڈیٹھ ہوگئی ہے خالہ (امی) نے آپ دونوں کو بلایا ہے۔ اس بندے کے جانے کے بعد باجی نے میری طرف دیکھا جیسے پوچھ رہی ہو کہ اب وہ کیا کرے؟

مجھے باجی فرزانہ کے آخری الفاظ یاد آئے تب میں نے ان کوجانے کا بول دیا اب جو ہونا ہوگا وہ اس اوپر والی کے ہاتھ میں تھا۔کچھ دیر بعد باجی مجھے کھانے کا بتا کر خود ہمارے گاؤں چلی گئی جو کافی دور ہے۔ شام کے وقت مانہ باجی کے گھر آئی اور مجھے اکیلا دیکھ پہلی مرتبہ بولی: غزالہ نظر نہیں آرہی

میں: وہ ہمارے گاوں گئی ہے فلاں بندے کی ڈیتٹھ ہوگئی ہے اس لیے جانا پڑا۔

مانہ نے اپنے چہرے پر خوشی کے آثارنہ لاتے ہوئے بولی: امی کو میں نیچے لے جاتی ہوں تاکہ یہ میری آنکھوں کے سامنے ہی رہیں گی۔ اور تم بھی میرے ساتھ چلو۔

پہلے ہم نے مانہ کی والدہ کو شفٹ کیا پھر دوبارہ گھر کو لاک کرنے کے لیے آئے لاک کرنے کے بعد واپسی پر مانہ بولی: عثمان تمہارے منہ میں زبان ہے یا نہیں؟

میں: زبان تو ہے لیکن اس کے لیے جو بات کو سمجھ سکے۔

مانہ نے گیٹ کھولا تو سامنے ایک بڑا سا کتا بیٹھا ہوا تھا مانہ نے اسے وہاں سے بھاگا دیا اور گیٹ کے ساتھ لٹک رہی وائر کو گیٹ کے ساتھ ٹچ کرکے اندر آگئی۔ مجھے بار بار کتے کی طرف دیکھتا دیکھ مانہ بولی: یہ ہمارے گھر کے رکھ والے ہیں

میں: کل کتنے کتے ہیں؟

مانہ مجھے کتے دیکھاتے ہوئے بولی: چھ

میں: میں آپ کو تم کہہ کر بلا سکتا ہوں نا۔۔۔ یہ نہ ہوکہ میڈم جی کو غصہ آئےتو وہ میرا غصہ کسی دوسرے پر نکال نہ دیں۔

مانہ مسکراتے ہوئے بولی: تم مجھے میرے نام سے بھی بلا سکتے ہیں۔ فلحال بیٹھو میں کھانے کا انتظام کرتی ہوں۔

میں ایک صوفے پر بیٹھ چکا تھا تب مانہ تھوڑا سا جھک کر بولی: فلحال کے لیے تم کیا لو گے ٹھنڈا یا گرم

میں مسکراتے ہوئے: ظاہر سی بات ہے باہر سے آئے ہیں تو ٹھنڈا چلے گا۔ ہاں اگر آپ کا دل گرم پلانے پر ہے تو خاموشی سے پی لوں گا اگر آپ ناراض ہوگئی تو کسی دوسرے کو آپ کا غصہ جھیلنا پڑے گا۔

رات کے سونے تک ہم ایک دوسرے سے بات چیت کرتے رہے میں ساتھ ساتھ مانہ کی بات چیت باجی فرزانہ کو بتاتا رہا، باجی کا سوچنا تھا کہ آج رات مانہ میرے پاس لازمی آئے گی۔

اسی وجہ سے میں نے معمول کے مطابق ٹراوز پہن کر لیٹ گیا۔ لائٹس آف کرکے میں سونے کی کوشش کرنے لگا۔ کچھ دیر بعد مجھے ایسا محسوس ہوا کہ مانہ اندر داخل ہوچکی ہے۔ کیونکہ مانہ کے علاوہ اس گھر میں کوئی دوسرا نہیں تھا کیونکہ مانہ کی والدہ تو اٹھ کیا، اپنی کروٹ بھی بدل نہیں سکتی تھی۔ مانہ کچھ دیر تک مجھے چیک کرتی رہی کہ میں جاگ رہا ہوں یا نہیں۔ پھر آہستہ سے مانہ میری چادر میں گھس گئی۔ یہ جہازی سائز کا بڑا بیڈ تھا اس لیے مجھے تنگ ہونے کا احساس بلکل بھی نہیں تھا۔ مانہ نے آہستہ آہستہ اپنے ہاتھ کو میری چھاتی سے گھماتے ہوئے نیچے پیٹ تک لاتی گئی، میرا لنڈ کھڑا ہوچکا تھا۔

مانہ کو احساس ہوچکا تھا کہ میرا لنڈ کھڑا ہوچکا ہے جس کی وجہ سے مانہ کے اندر ہوس بھر چکی تھی۔ مانہ نے میرے ٹراوز کے ناڑے کو کھول کر میری ٹانگوں کو آزاد کردیا۔ میں نے کیا سوچا تھا اب کیا ہورہا تھا۔ مانہ نے اپنی دونوں ٹانگیں میرے رائٹ لفٹ رکھ کر میرے لنڈ کو اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا پہلی مرتبہ کا یہ احساس مجھے غلطی کرنے میں مجبور کرگیا میں نے اسی وقت مانہ کی تصویریں بنانی تھی لیکن ایک تو مانہ بہت چالاک تھی اس نے لانگ نائیٹی پہن رکھی تھی اور دوسرا اسے میرے متعلق معلوم تھا کہ میں ورجن ہوں جیسے ہی اس کا ہاتھ میرے لنڈ سے ٹکڑا میں مانہ کے ہاتھ کی نرمی کو محسوس کر کے جہاں تھا وہی رک گیا۔

مانہ نے اگلا قدم اٹھاتے ہوئے میرے لنڈ کو اپنی پھدی پر رگڑنے لگی جو کسی گرم ہٹی کے مانند تھی۔

کچھ دیر تک میرا لنڈ مانہ کی گیلی پھدی سے نکلنے والے پانی سے گیلا ہوچکا تھا۔ اب میں نے جیسے ہی اپنا ہاتھ باہر نکالنے والا تھا اسی وقت مانہ نے اگلا قدم بڑھاتے ہوئے میرے چہرے پر جھک گئی۔ ساتھ ہی ساتھ اگلا قدم اٹھاتے ہوئے میرے لنڈ کو اپنی پانی بہاتی چوت کے اندر لے لیا۔ یہ سارا عمل اتنی جلدی اور نرمی سے ہوا کہ میں لذت کی دنیا میں گم ہوگیا جو مجھے کرنا چاہیے تھا وہ میں نہ کرسکا۔جیسے ہی میرے لنڈ نے مانہ کی پھدی کے اندر رگڑ کھائی مجھے اندازہ ہونے لگا کہ اب آگے کیا ہونے والا تبھی میں باہر والے ہاتھ کو اندر کھیچنے والا تھا جس سے ہلکی سے حرکت مانہ کو محسوس ہوئی جس پر مانہ نے فورا اپنا کام کیا۔

مانہ نے میرے دونوں ہاتھوں کو مضبوطی سے تھام کر اپنے جسم کو تھوڑا زور سے رگڑنے لگی۔ میرے دماغ نے آہستہ آہستہ کام کرنا چھوڑ دیا۔ میں اب مکمل طور پر مانہ کے مطلب ایک عورت کے سپرد ہوچکا تھا۔ اس نے اپنے اندر کی گرمی مجھ میں منتقل کرنا شروع کردی تھی۔

میں مسلسل مانہ کو روکنے کی کوشش صرف زبان سے کررہا تھا۔ میں نے ہردم کوشش کرتےہوئے مانہ کو روکا لیکن میری کوئی بات سن نہیں رہی تھی اس کے منہ سے سسکاریاں نکل رہی تھی جب بار بار میرے روکنے پر مانہ رکی، پھر ایک کے بعد ایک تھپڑ میرے چہرے پر پڑنے لگے۔ تھپڑوں کے ساتھ ہی ساتھ مانہ نے رونا شروع کردیا اور ساتھ ہی ایک جنونی قسم کا سیکس مانہ نے شروع کردیا۔

مانہ: تم مردوں کو اسی وائلڈ(جنونی) سیکس سے سیدھا کیا جاسکتا ہے۔ جیسا تم مردوں کو ہم عورتوں کے پچھواڑے کو پھاڑنے کا شوق ہوتا ہے ویسے آج تمہیں دیکھا دوں گی مجھے اگنور کرنے کی سزا۔

جب یہ وقت تھما تب مانہ نے میرے جسم سے خود کو الگ کیا۔ میں اس وقت رو رہا تھا اگر یہ سیکس میں مانہ کے ساتھ کرتا تو آج مانہ مرچکی ہوتی یا مرنے کے قریب ہوتی اور آئندہ سیکس ، یا مرد نام سے بھی ڈرتی لیکن یہاں معاملہ الگ تھا۔ مانہ کی نظر میرے جسم پر گئی تب میں بولا: میں نے  تمہارا کیا بگاڑا تھا؟

میری بات سن کر مانہ نے میرے جسم پر نظر ڈالنا شروع کردی۔ میرے جسم پر اس وقت ایک بھی کپڑا نہیں تھا میرے جسم پر مانہ کے خوبصورت ناخنوں کے بے شمار نشانات تھے۔مانہ میری حالت دیکھ کر کھیسانی بلی بن کر نظریں چرانے لگی۔ کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئی کھیت کے مصداق۔

میں روتے ہوئے: میں نے اپنی زندگی کا پہلا سیکس صرف اور صرف ماریہ کے محضوص کررکھا تھا لیکن تمہاری وجہ سے یہ سب مجھے دیکھنا پڑا۔ میں چاہتا تو نویں جماعت میں ہی یہ تمام کام کرنا شروع کردیتا لیکن صرف ماریہ کی خاطر ایسا کچھ بھی نہیں کیا۔

مانہ نے سائیڈ والے دراز سے دو بیلٹ نکالے اور میرے حوالے کرتے ہوئے بولی

مانہ: تم ابھی سے اس وقت تک مجھے مارو جب تک تمہاری بہن نہیں آجاتی اس کام سے تمہارے زخموں کا مداوا ہوسکتا ہے۔ لیکن میری بھی بات سن لو۔

مانہ: جب میری منگنی ہوئی تب میں نے سنا کہ میرا ہونے والا شوہر یہ ہے، وہ ہے ایسا ہے ویسا ہے، اتنے پیسے کماتا ہے، وغیرہ وغیرہ میں عام لڑکیوں کی طرح خواب سجھائے سہاگ رات کو سیج پر بیٹھی اپنے شوہر کا انتظار کرنے لگی۔ کچھ دیر بعد میرے شوہر کمرے میں اور بغیر کوئی بات کیے میرے ساتھ زبردستی (وائلڈ) سیکس کرنے لگا۔ جس طرح آج تم میرے رحم وکرم پرتھے ویسے ہی اس دن میں اس کے رحم و کرم پر تھی۔ میں نے تمہاری طرح بھیک نہیں مانگی لیکن بس اتنا کہا کہ آرام سے کرو میں صرف آپ کی ہوں لیکن وہ وحشی نہ رکا۔ اس نے جو کچھ کیا اس کا اثر میرے ذہن پر ہوا۔

پھر میں ان تمام چیزوں کی عادی ہوگئی اور میں نے ضد کرکے یہاں گھر بنوالیا سوچا تھا کہ بھائی بھابھی اور امی کے ساتھ رہ کر اپنے غم کو بھول جاوں گی تب اچانک سے میری ساس صاحبہ نے نئی فرمائش کردی۔ میری ہر سوچ غلط ثابت ہوتی چلی گئی۔

مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ میں کیا کررہی ہوں اور کیا صحیح ہے۔

میں نے اپنی نند کے ساتھ مل کر ایک دوسرے تسکین پہنچانا شروع کردیا ہم نے اس کام میں بھابھی کا ساتھ مانگا لیکن انکار ہی ملا، ہمیں ایک مرد کی ضرورت تھی لیکن ایسا کوئی مرد نہ ملا شادی والے دن مجھے تم سب سے الگ نظر آئے لیکن میں تمہیں ایسے بلا نہیں سکتی تھی۔

میں: مجھے تمہارے ساتھ ایسا ہونے پر بہت غصہ ہے۔ لیکن تمہاری تمام حرکتیں غلط تھیں۔ اگر تم چاہو تو تم ایک اچھی بیوی، ایک اچھی بہو، ایک اچھی بھابھی اور ایک اچھی ماں بن سکتی ہو۔

مانہ مسکراتے ہوئے: یہ سب تبھی ہوسکتا ہے جب میرے شوہر کو مجھ میں دلچسپی ہوگی۔ اس سے پہلے ایسا ممکن نہیں

میں: کوشش کرنے میں کیا خرج ہے؟

مانہ: اگر یہی کوشش ہم دونوں کریں تو ایسا ممکن ہے۔

میرے پھر سے انکار کے باوجود مانہ نے ایک مرتبہ پھر سیکس کا نشہ میرے جسم میں انڈھیلتے ہوئے مجھے بھی سیکس کرنے پر مجبور کردیا۔ جہاں جہاں مانہ نے چوٹیں پہنچائی تھی وہاں وہاں مانہ نے اپنی محبت کی مہر ثبت کرنا شروع کردی۔

ہم پوری رات، اور اگلی شام تک بالکل ننگے رہے جب بھی ہم دونوں کا دل کرتا ہم سیکس شروع کردیتے مانہ کے سیکس کرنے کے بعد اب میرا بھی دل کرنے لگا تھا۔ دوسری رات ہم نے گھر کا ایک بھی کونہ پاک نہ چھوڑا، پورے گھر میں مانہ کی پھدی سے نکلنے والے پانی کے قطرے پڑے ہوئے تھے جیسے ہی میں فارغ ہونے لگتا مانہ پیٹھ کے بل لیٹ کر میری منی اپنی پھدی کے اندر ڈلوا لیتی تھی۔

اس سیکس کے دوران مجھے کافی باتیں معلوم ہوئی جیسا کہ سیکس کی ٹائمنگ کیسے بڑھائی جاتی ہے۔

📢 Post Your Ad Here

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.