January 24, 201610 yr Author خدا جانے حسیں سارے یہ چشمہ کیوں لگاتے ہیں مرائی گانڈ بچپن میں اور اب آنکهیں چراتے ہیں
January 25, 201610 yr Author تعریف کراں کی لنڈ دی جیرا پھدیاں دا سردار اےپھدی مار کے انج سو جاندا اے جینویں صدیاں دا بیمار اے ---------- شعر سناواں شعر سناواںشعر نوں لگی گُلینائی بڑا پین چودوڈ کے لے گیا لُلیشعر سناواں شعر سناواںشعر نوں لگیا پھلنائی بڑا پین چودوڈ کے لے گیا لُلشعر سناواں شعر سناواںشعر نوں لگا وٹّانائی بڑا پین چودوڈ کے لے گیا ٹٹاشعر سناواں شعر سناواںشعر نوں لگی تھالیبُبے تیرے رنگ برنگےپھدی تیری کالی ----------------- کُکڑا کُکڑا بانگ دےحاجی نوں سلام دےحاجی بیٹھا پھل تےمار غلیلا لُل تےکُکڑا کُکڑا بانگ دےحاجی نوں سلام دےحاجی بیٹھا کھوئی تےمار غلیلا ٹوئی تےکُکڑا کُکڑا بانگ دےحاجی نوں سلام دےحاجی بیٹھا پھٹے تےمار غلیلا ٹٹے تے آڈیوملاحظہ ہو
January 27, 201610 yr Author آب شہوت سے ہوکے گیلی چوتہوگئی اور بھی رسیلی چوتتھی نگاہ کرم رقیبوں پرہم سے کرتی رہی بخیلی چوتجرم لوڑے سے کیا ہوا ایساجس پہ ہوتی ہے لال پیلی چوتاس جوانی میں ہات تیرے کیًًبڑلڑا سینہ اور یہ ڈھیلی چوتمفت نکلا ہے نام لوڑ ے کاہے کچھ اس سے سوا رنگیلی چوتاپنے دونوں جہاں بخیر رہےلی کبھی گانڈ اور کبھی لی چوتاس عفیفہ نے میری فرقت میںیوں سمجھیے کہ جیسے سی لی چوت
January 30, 201610 yr Author بند باندھے ہیں کیوں گلے تک کےکیا یہ میوے ابھی نہیں پکےوہ لگاتا ہوں متصل دھکےچھوٹ جاتے ہیں چوت کے چھکےیہ ادا دیکھو یہ حیا دیکھووہ چداتی بھی ہیں تو منہ ڈھک کےکس کا آنا بھی اک قیامت ہےبیٹھ جاتا ہے عضو تھک تھک کےسیل عشرت پیا کیا شب بھرسیل پہنچی ہے یار توشک کےبل ہیں زلفوں سے بڑھ کے جھانٹوں میںتار الجھے ہوں جیسے پیچک کےشیخ چپکے سے کام کر گزرےراز پھوٹا تو چل دیے سکےمیں نے فرقت میں تیری اے معشوقرات کاٹی ہے گالیاں بک کےدفعتاً ہم نے وہ بزل چھیڑیرہ گئے اہل بزم بھونچکے
January 31, 201610 yr Author ڈنگ ڈانگ ببلماں تیری ڈبلپیو تیرا کلّاپین چود دلا ایک کم سن لڑکی بہت مزیدار انداز میں اس ویڈیو میں سنا رہی ہے Edited January 31, 201610 yr by Young Heart
February 2, 201610 yr Author بیچ کی انگلیکیا چیز ہے اے نام خدا بیچ کی انگلیکرتی ہے ہر اک عقدے کو وا بیچ کی انگلیرکھتی ہے تماشوں کی ہوا بیچ کی انگلیپاتی ہے تلاشوں کا مزا بیچ کی انگلیخویوں کو بھی خوش رکھتی ہے، خایوں کو بھی خور سندکرتی ہے بروں کا بھی بھلا بیچ کی انگلیمت پوچھیے اس فتنۂ دوراں کی حقیقتلوڑے سے بھی گز بھر ہے سوا بیچ کی انگلیکرتی ہے سر آغاز ہتھیلی کو دبا کراور کھولتی ہے بند قبا بیچ کی انگلیآہٹ نہ ہواور دم میں درعیش پہ پہنچےرفتار میں ہے مثل صبا بیچ کی انگلیکردیتی ہے جا کر کس خوابیدہ کو بیدارآنکھوں کو پلاتی ہے نشا بیچ کی انگلیازبر ہیں اسے جملہ مقامات حریریچھو آئی ہے سب زیر قبا بیچ کی انگلیگو ہوتی ہے ہت پھیر میں پانچوں مری گھی میںلیتی ہے مگر خاص مزا بیچ کی انگلیجس طرح سے ماتھے پہ لگاتی ہے وہ بندیاہاتھ آئیں تو دوں یونہی چڑھا بیچ کی انگلیبھرتی ہے کبھی جا کے غرارے میں غرارہانگیا میں کبھی کرتی ہے ’’تا‘‘ بیچ کی انگلیہے بیچ کی انگلی بھی مرے لوڑے سے بڑھ کراور غیر کا لوڑا بھی نرا بیچ کی انگلیسن سن کے میری بیچ کی انگلی کے کرشمےکیوں لیتے ہو ہونٹوں میں دبا بیچ کی انگلیگر تم مجھے انگشت شہادت سے نہ ٹوکودے غنچۂ امید کھلا بیچ کی انگلیتا رکھ نہ سکے کوئی مرے حرف پہ انگشتلوڑے کو بھی نامے میں لکھا بیچ کی انگلیکرتا ہوں میں اس شوخ سے اس طرح شروعاتدیکھوں مری پکڑو تو بھلا بیچ کی انگلیملتا ہے کبھی غیر تو کر کے ’ٹلی لی جھر‘مفعول کو دیتا ہوں دکھا بیچ کی انگلیوہ آئیں گے، وہ آئیں، وہ آئیں پر آئیںلی بیچ کی انگلی سے ملا بیچ کی انگلی
February 5, 201610 yr Author یہ نظم میں نے آج سے کچھ پندرہ سولہ سال پہلے سنی تھیآپ سے کیا پردہ باجی میں سب بتا دیتی ہوںشب عروسی کی کہانی میں سب سنا دیتی ہوںرات کیا رات تھی جنت کا گماں تھا جیسےدو جواں دل تھے دونوں ہی تھے پیاسےکس پیار سے وہ میرے پاس آیا باجیدونوں ہاتھوں سے میرا گونگھٹ اُٹھایا باجیمیرے ہونٹوں کو ہونٹوں سے دبایا باجیباغ نشیمن پہ بھی ہاتھ لگایا باجیلرزتے جسم میں ایک بجلی سی کود گئیاُس نے بوسہ جو سینے پہ لگایا باجیناف تک رینگ گئ ہائے اک کھڑی سی چیزظالم نے دھکا جو زور سے لگایا باجیدرد لطف سے اک ہائے تو نکلی لیکندھیرے دھیرے مجھے بھی چین آیا باجیپھر تو رگ رگ میں آنے لگی سرور و مستیاس نے چپو جو روانی سے چلایا باجیاک چشمہ سا ابلتا ہوا محسوس ہواآخری جھٹکا جو ظالم نے لگایا باجی آڈیو ملاحظہ ہو
February 7, 201610 yr Author اک پیر نے تہذیب سے لڑکے کو سنوارااک پیر نے تہذیب سے لڑکی کو ابھاراوہ تن گیا پتلون میں ، یہ سائے میں پھیلیپاجامہ، غرض یہ ہے کہ دونوں نے اتارا
Create an account or sign in to comment