Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

گندی مزاحیہ شاعری - چوتوں پہ مر رہا ہے انسان بھوسڑی کا

Featured Replies

  • Author

خدا جانے حسیں سارے یہ چشمہ کیوں لگاتے ہیں


مرائی گانڈ بچپن میں اور اب آنکهیں چراتے ہیں


Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس
  • Replies 144
  • Views 158.4k
  • Created
  • Last Reply

Top Posters In This Topic

Most Popular Posts

  • کون کہتا ہے کہ غالب کا ننھا سا ہے سکڑے تو گنڈیری اکڑے تو گنا سا ہے  

  • زمانے سے بس یہی اک گلہ ہے جو بھی ملا ہے بہن کا چڈھ ہی ملا ہے۔

  • Young Heart
    Young Heart

    رات اک دم کسی نے سسکی لی نہیں معلوم کس نے کس کی لی

  • Author

تعریف کراں کی لنڈ دی جیرا پھدیاں دا سردار اے
پھدی مار کے انج سو جاندا اے جینویں صدیاں دا بیمار اے

 

----------

شعر سناواں شعر سناواں
شعر نوں لگی گُلی
نائی بڑا پین چود
وڈ کے لے گیا لُلی

شعر سناواں شعر سناواں
شعر نوں لگیا پھل
نائی بڑا پین چود
وڈ کے لے گیا لُل

شعر سناواں شعر سناواں
شعر نوں لگا وٹّا
نائی بڑا پین چود
وڈ کے لے گیا ٹٹا

شعر سناواں شعر سناواں
شعر نوں لگی تھالی
بُبے تیرے رنگ برنگے
پھدی تیری کالی

-----------------

کُکڑا کُکڑا بانگ دے
حاجی نوں سلام دے
حاجی بیٹھا پھل تے
مار غلیلا لُل تے

کُکڑا کُکڑا بانگ دے
حاجی نوں سلام دے
حاجی بیٹھا کھوئی تے
مار غلیلا ٹوئی تے

کُکڑا کُکڑا بانگ دے
حاجی نوں سلام دے
حاجی بیٹھا پھٹے تے
مار غلیلا ٹٹے تے

 

آڈیوملاحظہ ہو

  • Author

آب شہوت سے ہوکے گیلی چوت
ہوگئی اور بھی رسیلی چوت
تھی نگاہ کرم رقیبوں پر
ہم سے کرتی رہی بخیلی چوت
جرم لوڑے سے کیا ہوا ایسا
جس پہ ہوتی ہے لال پیلی چوت
اس جوانی میں ہات تیرے کی
ًًبڑلڑا سینہ اور یہ ڈھیلی چوت
مفت نکلا ہے نام لوڑ ے کا
ہے کچھ اس سے سوا رنگیلی چوت
اپنے دونوں جہاں بخیر رہے
لی کبھی گانڈ اور کبھی لی چوت
اس عفیفہ نے میری فرقت میں
یوں سمجھیے کہ جیسے سی لی چوت

  • Author

یوں آپ کے لحاظ میں میں کچھ نہ کہہ سکا


یہ گانڈ تو حضور مرائی ہوئی سی ہے


📢 Post Your Ad Here
  • Author

بند باندھے ہیں کیوں گلے تک کے
کیا یہ میوے ابھی نہیں پکے
وہ لگاتا ہوں متصل دھکے
چھوٹ جاتے ہیں چوت کے چھکے
یہ ادا دیکھو یہ حیا دیکھو
وہ چداتی بھی ہیں تو منہ ڈھک کے
کس کا آنا بھی اک قیامت ہے
بیٹھ جاتا ہے عضو تھک تھک کے
سیل عشرت پیا کیا شب بھر
سیل پہنچی ہے یار توشک کے
بل ہیں زلفوں سے بڑھ کے جھانٹوں میں
تار الجھے ہوں جیسے پیچک کے
شیخ چپکے سے کام کر گزرے
راز پھوٹا تو چل دیے سکے
میں نے فرقت میں تیری اے معشوق
رات کاٹی ہے گالیاں بک کے
دفعتاً ہم نے وہ بزل چھیڑی
رہ گئے اہل بزم بھونچکے

  • Author

بیچ کی انگلی

کیا چیز ہے اے نام خدا بیچ کی انگلی
کرتی ہے ہر اک عقدے کو وا بیچ کی انگلی
رکھتی ہے تماشوں کی ہوا بیچ کی انگلی
پاتی ہے تلاشوں کا مزا بیچ کی انگلی
خویوں کو بھی خوش رکھتی ہے، خایوں کو بھی خور سند
کرتی ہے بروں کا بھی بھلا بیچ کی انگلی
مت پوچھیے اس فتنۂ دوراں کی حقیقت
لوڑے سے بھی گز بھر ہے سوا بیچ کی انگلی
کرتی ہے سر آغاز ہتھیلی کو دبا کر
اور کھولتی ہے بند قبا بیچ کی انگلی
آہٹ نہ ہواور دم میں درعیش پہ پہنچے
رفتار میں ہے مثل صبا بیچ کی انگلی
کردیتی ہے جا کر کس خوابیدہ کو بیدار
آنکھوں کو پلاتی ہے نشا بیچ کی انگلی
ازبر ہیں اسے جملہ مقامات حریری
چھو آئی ہے سب زیر قبا بیچ کی انگلی
گو ہوتی ہے ہت پھیر میں پانچوں مری گھی میں
لیتی ہے مگر خاص مزا بیچ کی انگلی
جس طرح سے ماتھے پہ لگاتی ہے وہ بندیا
ہاتھ آئیں تو دوں یونہی چڑھا بیچ کی انگلی
بھرتی ہے کبھی جا کے غرارے میں غرارہ
انگیا میں کبھی کرتی ہے ’’تا‘‘ بیچ کی انگلی
ہے بیچ کی انگلی بھی مرے لوڑے سے بڑھ کر
اور غیر کا لوڑا بھی نرا بیچ کی انگلی
سن سن کے میری بیچ کی انگلی کے کرشمے
کیوں لیتے ہو ہونٹوں میں دبا بیچ کی انگلی
گر تم مجھے انگشت شہادت سے نہ ٹوکو
دے غنچۂ امید کھلا بیچ کی انگلی
تا رکھ نہ سکے کوئی مرے حرف پہ انگشت
لوڑے کو بھی نامے میں لکھا بیچ کی انگلی
کرتا ہوں میں اس شوخ سے اس طرح شروعات
دیکھوں مری پکڑو تو بھلا بیچ کی انگلی
ملتا ہے کبھی غیر تو کر کے ’ٹلی لی جھر‘
مفعول کو دیتا ہوں دکھا بیچ کی انگلی
وہ آئیں گے، وہ آئیں، وہ آئیں پر آئیں
لی بیچ کی انگلی سے ملا بیچ کی انگلی

  • Author

یہ نظم میں نے آج سے کچھ پندرہ سولہ سال پہلے سنی تھی

آپ سے کیا پردہ باجی میں سب بتا دیتی ہوں
شب عروسی کی کہانی میں سب سنا دیتی ہوں

رات کیا رات تھی جنت کا گماں تھا جیسے
دو جواں دل تھے دونوں ہی تھے پیاسے

کس پیار سے وہ میرے پاس آیا باجی
دونوں ہاتھوں سے میرا گونگھٹ اُٹھایا باجی

میرے ہونٹوں کو ہونٹوں سے دبایا باجی
باغ نشیمن پہ بھی ہاتھ لگایا باجی

لرزتے جسم میں ایک بجلی سی کود گئی
اُس نے بوسہ جو سینے پہ لگایا باجی

ناف تک رینگ گئ ہائے اک کھڑی سی چیز
ظالم نے دھکا جو زور سے لگایا باجی

درد لطف سے اک ہائے تو نکلی لیکن
دھیرے دھیرے مجھے بھی چین آیا باجی

پھر تو رگ رگ میں آنے لگی سرور و مستی
اس نے چپو جو روانی سے چلایا باجی

اک چشمہ سا ابلتا ہوا محسوس ہوا
آخری جھٹکا جو ظالم نے لگایا باجی

 

آڈیو ملاحظہ ہو

  • Author

اک پیر نے تہذیب سے لڑکے کو سنوارا
اک پیر نے تہذیب سے لڑکی کو ابھارا
وہ تن گیا پتلون میں ، یہ سائے میں پھیلی
پاجامہ، غرض یہ ہے کہ دونوں نے اتارا

📢 Post Your Ad Here

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.