January 19, 201610 yr Author وہ منگل رات سہانی تھیوہ پیا سے چدنے والی تھیکوئی بہن کا لوڑا چود گیااور چوت میں مکھن چھوڑ گیاٹوں روں روںجُورُو باجے بین بیناور ایک کے نیچے تین تینپھر سارے بولے مستی میںاب چوت ملی ہے سستی میںٹوں روں روںوہ راجہ بولا دوحے کامیرا لنڈ بنا ہے لوہے کاوہ رانی بولی چین کیمیری چوت بنی ہے ٹین کیٹوں روں روںنہ ہاتھی سے نہ گھوڑے سےتو چدے گی میرے لوڑے سےوہ چود کے بولا بائے بائےوہ چد کے بولی ہائے ہائےٹوں روں روں آڈیو ملاحظہ ہو Edited January 19, 201610 yr by Young Heart
January 20, 201610 yr Author کیا بات ہے جناب۔۔بہت ہی عمدہ ۔۔تمام کی تمام بہترین ہیں۔ بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب اس پسندیدگی اور پذیرائی کا
January 20, 201610 yr Author بوقت ختنہ میں چیخا تو نائی نے کہا ہنس کر مسلمانی میں طاقت خون کے بہنے سے آتی ہے
January 21, 201610 yr Author بس کہ دشمن ہوئی ہے جاں کی چوتدھت تری عاشقی کی ماں کی چوتمیں نے جھانکا جو غسل خانے میںکیا ہتھیلی سے اس نے ڈھانکی چوتاسد خاں کا حصہ جھانٹاور تجمل خاں کی چوتآج کل جمع ہے کراچی میںکیا بتاؤں کہاں کہاں کی چوتمت کرو ذکر فرج بنگالہپہلے دیکھو یہاں وہاں کی چوتبعد میں دیجے راز دل اس کولیجیے پہلے راز داں کی چوتحکمتیں اس کی دیکھ اے غافلہے ہر اک شاخ گل پہ ٹانکی چوت
January 23, 201610 yr Author شوخیاں ان کی کیا کہوں جیسےاب غرارہ اٹھا کے جھانکی چوتغیر آیا ہے لے کے سوکھا منہجیسے بیمار نیم جاں کی چوتکیوں نہ اغیار ہی کو دے ڈالیہائے کیوں نے رائگاں کی چوتمیرے عاشق مزاج لوڑے سےیاد کرتی ہے اک جہاں کی چوتہائے اس خوش ادا کے تیکھے کچہائے اس نازنیں کی بانکی چوتتنگ کرتی ہے مجھ کو خلوت میںاک معشوق بے نشاں کی چوتخود کشی کرکے چین پاتی ہےپردہ داران بے زباں کی چوتجب بھی لوڑا بپھر گیا،اس نےصلح جوئی کو درمیاں کی چوت
January 23, 201610 yr کیا بات ہے جناب۔۔ کیا عمدہ نظم ہے جو لوڑے اور چوت کے باہم معاملات کو بڑی صفائی سے بیان کر رہی ہے۔ زبردست۔
January 23, 201610 yr Author ہم نے فن دشنام کی ماں چود کے رکھ دی اس کام کی اس کام کی ماں چود کے رکھ دی ناکام تمہارے پڑے جس کام کے پیچھے یوں سمجھو کہ اس کام کی ماں چود کے رکھ دی اس گردش ایام کی علت نے تمہاری اس گردش ایام کی ماں چود کے رکھ دی جس کام کو برسوں میں بنایا تھا بمشکل یاروں نے سب اس کام کی ماں چود کے رکھ دی جس قوم کو تھی چار نکاحوں کی اجازت اس قوم نے اغلام کی ماں چود کے رکھ دی کیا حال ہے واں زاہد مرحوم کا رضواں سنتے ہیں مے و جام کی ماں چود کے رکھ دی مت پوچھیے اس فتنۂ یو این کی کرامات جمیعت اقوام کی ماں چود کے رکھ دی کیا ذکر مئے وصل کہ اس تلخ دہاں نے اک بوسے پہ دشنام کی ماں چود کے رکھ دی اک یار ہمارا وہ ہزل گو ہے کہ جس نے اس پیشۂ بدنام کی ماں چود کے رکھ دی
Create an account or sign in to comment