May 2, 201511 yr Administrators دس سالہ حاملہ لڑکی، مشکلات کا شکار سونسیون(تازہ ترین۔1اپریل2015ء) 10 سال کی لڑکی کو اس کے سوتیلے باپ نے ہی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ اس زیادتی کے نتیجے کے حاملہ ہونے والی لڑکی کی ماں کی درخواست کے باوجود اب تک اس کا ابارشن نہیں کیا گیا۔ بچی کی ماں نے درخواست کی تھی کہ بچی کی صحت اس قابل نہیں کہ وہ ماں بن سکے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور دوسرے اداروں نے بھی کہا ہے کہ کسی بھی لڑکی کے لیے ، جب اس کے اپنے اعضا ہی نشوونما کے مراحل میں ہوں ماں بننا جان لیوا ہو سکتا ہے۔ پیراگوئے کے دارالحکومت اسونسیون میں ہسپتال کے ڈ ائریکٹر نے کہا کہ اس بچی کا ماں بننا اس کی صحت کے لیے خطرناک ہے۔ مذکورہ بچی کو پیٹ درد کی شکایت کے بعد ہسپتال لایا گیا جہاں معلوم ہوا کہ وہ 21 ہفتے کے حمل سے ہے۔ مختلف ہسپتالوں میں بچی کی صحت کو مانیٹر کیا جا رہا ہے۔ لاطینی امریکا میں ابارشن کےحوالے سے قوانین بہت سخت ہیں۔ دنیا میں 7 ایسے ممالک ہیں جہاں کسی بھی صورت ابارشن کی اجازت نہیں۔ ان سات میں سے پانچ ممالک لاطینی امریکا ہے ہیں۔پیراگوئے میں ابارشن صرف اس صورت میں کیا جاتا ہے جب ماں کی صحت اور زندگی کو خطرات ہوں ۔
May 5, 201511 yr dunia mein pata ni kia kia ho raha hai . wo wakt door ni jab insano aur havano mein farq khatam ho jaye ga lakin insan insan he rahein ge .
Create an account or sign in to comment