Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

خواتین اسٹاف پر مشتمل پہلا ملکی پٹرول پمپ

Featured Replies

  • Administrators

14138029691_event.jpg

خواتین اسٹاف پر مشتمل پہلا ملکی پٹرول پمپ

 

جیسا کہا جاتا ہے کہ یہ مردوں کی دنیا ہے اور پاکستان میں یہ کسی اور ملک کے مقابلے میں زیادہ سچا بیان لگتا ہے، جہاں ہم اس بات پر تو فخر کرتے ہیں کہ مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم ہمارے ملک سے تھی اور متعدد خواتین متعدد شعبوں میں اپنا لوہا منوانے میں کامیاب رہیں مگر کئی بار پرتشدد مخالفت بھی یہاں نظر آتی ہیں اور مجموعی طور پر حقوق نسواں کی صورتحال کچھ زیادہ اچھی نظر نہیں آتی۔اس سب کو ذہن میں رکھے تو لاہور کے ایک پٹرول پمپ اس حوالے سے انتہائی دلچسپ مثال قائم کرتا نظر آتا ہے جہاں ایندھن کو گاڑیوں میں بھرنے کا کام جو روایتی طور پر مردوں کے لیے مخصوص سمجھا جاتا ہے، مکمل طور پر خواتین کرتی ہیں۔

ایم ایم عالم روڈ کے زوم پٹرول اسٹیشن میں یہ بظاہر بے باک مگر دلیرانہ اقدام کیا گیا جہاں خواتین کو اس شعبے میں ملازمتیں دی گئی ہیں جس پر مردوں کی بالادستی سمجھی جاتی ہے، پتلون قمیضوں میں اسمارٹ نظر آنے والی یہ نوجوان لڑکیاں گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کے ٹینکس کو ہوا کے جھونکے کی طرح آسانی اور پیشہ وارانہ مہارت سے بھرتی ہیں جس کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ آخر خواتین کو اس شعبے میں لانے کا فیصلہ اتنی تاخیر سے کیوں ہوا۔

ہم نے حال ہی میں اس پٹرول پمپ میں اس کی منی مارٹ سے ایک پانی کی بوتل خریدی جس کے دوران ہم نے کچھ لڑکیوں کو یونیفارم میں گاڑیوں میں پٹرول بھرتے دیکھا، جس نے ہمیں حیرت زدہ کردیا اور ہم نے اپنی گاڑی میں بیٹھ کر کچھ اس کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا۔کچھ صارفین کو دیکھ کر تو لگتا تھا کہ انہیں اس کی کوئی پروا نہیں مگر دیگر کے لیے یہ حیرت انگیز اور کچھ تکلیف دہ سا تھا۔

پٹرول اسٹیشن کے منیجر کے مطابق" جب سے ہم اس اعلیٰ طبقے کے علاقے میں منتقل ہوئے ہیں اور مستقل صارفین کی بیس بنانے میں کامیاب ہوچکے ہیں، انتظامیہ کو خواتین ملازمین کو بھرتی کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں"۔

ہم نے وہاں کام کرنے والی ایک لڑکی عائشہ سے پوچھا کہ وہ ایک پٹرول اسٹیشن پر کام کرکے کیسا محسوس کرتی ہے، جس پر اس نے بتایا"مزید خواتین کو پٹرول اسٹیشنز پر ملازمتیں دی جانی چاہئے، کیونکہ مردوں سے کسی بھی طرح کم نہیں، جب کار ڈرائیورز یہاں آتے ہیں تو ہم صارفین کا خیرمقدم کرتے ہوئے ان سے پوچھتے ہیں کہ ہائی اوکٹین یا پریمئیم میں سے کونسا ایندھن بھروانا پسند کریں گے اور بس، ہم اس سے زیادہ بات چیت نہیں کرتے"۔

خواتین اس پٹرول اسٹیشن میں دو شفٹوں میں کام کرتی ہیں، پہلی شفٹ صبح آٹھ سے شام پانچ بجے تک جبکہ دوسری صبح دس سے شام سات بجے تک ہوتی ہے، انہیں مرد عملے کے مقابلے میں زیادہ معاوضہ دیا جاتا ہے اور انہیں روزانہ اجرت، کنٹریکٹ یا مستقل ملازم کے طور پر بھرتی کیا جاتا ہے، اسی طرح یونیفارم اور دوپہر کا کھانا بھی کمپنی کی جانب سے جہیا کیا جاتا ہے۔

عائشہ نے بتایا کہ کسی بھی مشکل میں مرد عملہ کافی مددگار ثابت ہوتا ہے اور ہم سب ایک ٹیم کی طرح مل کر کام کرتے ہیں۔ (بشکریہ ڈان نیوز)

Breaking News Ad
فورم اپڈیٹس

Create an account or sign in to comment

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.