Everything posted by (._.)Milestone(._.)
-
الرٹ ! مارچ 2022 کے خاموش ممبرز
Dear brother silent members forum ka hissa to rahe gaye ya nai?
-
Welcome krein sb mjhy
Welcome dear Zara Khan
-
Fun requirements
Welcome dear urwamalik
-
Fatima From Pakistan New Member
Welcome Fati kuri
- Am New here...But Bachi nhi..😀
-
My Name is Khan, Aatish khan
Welcome dear Aatish khan
-
I am New Here
welcome dear Hawas zadi
-
زلزلے کب،کہاں،کیوں؟
ترکی میں ہولناک زلزلے میں درجن سے زائد افراد ہلاک ہوگئے دنیا میں زلزلے کب اور کہاں سے شروع ہوئے اور تاریخ کا قدیم ترین زلزلہ کب اور کہاں آیا، یہ تو وثوق سے کچھ نہیں کہا جاسکتا البتہ قڈیم یونانیوں کا عقیدہ تھا کہ زمین کو بہت بڑے بڑے بیلوں نے اپنے سینگوں پر اٹھایا ہوا ہے وہ تھک جاتے ہیں تو ان کی لرزش سے زلزلہ آ جاتا ہے جبکہ ماہرین نے زمین کی کیمیائی تبدیلیوں کو زلزلے کا نام دیاہے کچھ کا خیال ہے کہ زمین کے اندر حدت بڑھ جاتی ہے تو کہیں نہ کہیں سے آتشی مادہ پھوٹ پڑتاہے زیادہ تر آتشی مادہ بڑے بڑے پہاڑوں سے پھوٹتاہے تو ہر چیزکو تہس نہیں کردیتاہے جہاں آتشی مادہ نہیں پھوٹتا وہاں زلزلہ آنے کی وجہ بھی یہی تبدیلیاں ہوتی ہیں کہ گرمی کی شدت سے زمین کی اندرونی ہیئت متاثرہوتی تواس کا اثر بیرونی زمین پرہوتاہے یہی وجہ ہے کہ زمین پھٹ جانے سے بڑے بڑے گڑھے پژنا یقینی بات ہے کئی سال پہلے جب آزادکشمیرمیں زلزلہ آیا تو اس کی شدت اتنی تھی کہ کئی کئی منزلہ ہوٹل زمین میں دھنس گئے حالیہ زلزلہ میں بھی سڑکوں پر کئی کئی فٹ گڑھے پڑ گئے کچھ لوگوں نے زلزلے کو اﷲ کی ناراضگی سے تعبیرکیاہے ان کا کہناہے زلزلے جیسی قدرتی آفات اﷲ تعا لیٰ کی طرف سے ہمارے لئے وارننگ ہے زلزلے سے ہونے والے جانی ومالی نقصانات سے پوری قوم فسردہ ہے ہم سب کو مل کر اﷲ کے حضور اپنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہیے اور اجتماعی طورپر استغفراﷲ کا وردکرناہوگا زلزلے اور قدرتی آفات سے ہونے والی تباہی ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔ قرآن حکیم میں اﷲ تعالیٰ نے ایک ایسے زلزلے کا تدکرہ کیاہے جس کے نتیجہ میں یہ دنیا تباہ وبرباد ہوجائے گی اس روز پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑتے پھریں گے بہرحال وہ پہلا زلزلہ جو انسان نے اپنی تحریر میں ریکارڈ کیا تقریبا تین ہزار برس 1177 قبل مسیح میں چین میں آیا تھا۔پاکستان بھی دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں اکثر زلزلے آتے رہتے ہیں۔ گزشتہ 100 سال کے دوران پاکستانی علاقوں میں کئی ہولناک زلزلے آئے جن میں بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہوا۔10 ستمبر 1971 کو گلگت کے کچھ علاقوں میں شدید زلزلہ آیا تھا جس کے نتیجے میں سو سے زائد افراد ہلاک جبکہ ایک ہزار سے زائد مکانات تباہ ہو گئے تھے۔31 مئی، 1995 کو نصیر آباد ڈویڑن کے بگٹی پہاڑوں کے دامنی علاقوں میں آنے والے 5.2 شدت کے زلزلے کے نتیجے میں ایک درجن مکانات تباہ اور تین بچوں سمیت پانچ افراد زخمی ہو گئے تھے۔28 فروری، 1997 کو ریکٹر اسکیل پر 7.2 کی شدت کا زلزلہ پورے پاکستان میں محسوس کیا گیا جبکہ اس کا دورانیہ تیس سے نوے سیکنڈز تک تھا۔ پاکستان کے تقریبا تمام علاقوں میں محسوس کئے جانے والے اس زلزلے کے نتیجے میں سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ 20مارچ، 1997 کو ریکٹر اسکیل پر 4.5 کی شدت سے آنے والے زلزلے کے نتیجے میں باجوڑ کے قبائلی علاقے کے گاں سلارزئی میں دس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ 26 جنوری، 2001 کو آنے والے زلزلے کے نتیجے میں صوبہ سندھ میں 15 افراد ہلاک جبکہ ایک سو آٹھ زخمی ہوئے تھے۔ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 6.5 نوٹ کی گئی تھی۔3 اکتوبر، 2002 کو ریکٹر اسکیل پر 5.1 کی شدت سے آنے والے زلزلے کے نتیجے میں پاکستان کے شمالی علاقوں میں 30 افراد ہلاک جبکہ ڈیڑھ ہزار کے قریب زخمی ہوئے تھے۔ 14 فروری، 2004 کو ریکٹر اسکیل پر 5.7 اور 5.5 کی شدت سے آنے والے دو زلزلوں کے نتیجے میں خیبر پختونخواہ اور شمالی علاقہ جات میں چوبیس افراد ہلاک جبکہ چالیس زخمی ہو گئے تھے۔ 8 اکتوبر، 2005 کو ریکٹر اسکیل پر 7.6 کی شدت سے آنے والے زلزلے نے کشمیر اور شمالی علاقوں میں تباہی پھیلا دی تھی۔زلزلے کے نتیجے میں اسی ہزار سے زیادہ افراد کی ہلاکت، دو لاکھ سے زائد افراد زخمی اور ڈھائی لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو گئے تھے۔ زلزلے کے بعد آنے والے 978 آفٹر شاکس کا سلسلہ 27 اکتوبر تک جاری رہا تھا۔ 28 اکتوبر، 2008 کو ریکٹر اسکیل پر 6.4 کی شدت سے آنے والے زلزلے کے نتیجے میں کوئٹہ اور اس کے ملحقہ علاقوں میں ایک سو ساٹھ افراد ہلاک جبکہ تین سو ستر افراد زخمی ہوئے تھے۔اس کے علاوہ کئی عمارتیں بھی تباہ ہوئی تھیں۔ زلزلے کا مرکز کوئٹہ سے 60 کلومیٹر شمال مشرق میں تھا۔ 18 جنوری، 2011 کے زلزلے کے نتیجے میں پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں کئی افراد ہلاک جبکہ دو سو سے زائد عمارتیں تباہ ہو گئی تھیں۔ اس زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7.2 ریکارڈ کی گئی تھی جبکہ زلزلے کا مرکز دالبندین سے پچاس کلومیٹر مغرب میں تھا۔20 جنوری، 2011 کو 7.4 کی شدت سے آنے والے زلزلے کے جھٹکے کوئٹہ میں محسوس کیے گئے جس کا مرکز بلوچستان کا ضلع خاران میں تھا۔ اس کے نتیجے میں دو سو سے زائد مکانات تباہ ہوئے تھے۔ 22 جنوری، 2011 کو درمیانی شدت کے زلزلے کے جھٹکے اسلام آباد اور پاکستان کے شمالی علاقوں میں محسوس کیے گئے۔ زلزلے کا مرکز اسلام آباد سے ایک سو اٹھاسی کلومیٹر شمال میں ضلع فیض آباد تھا، لیکن اس کے نتیجے میں بھی کسی فوری جانی نقصان کی اطلاعات نہیں تھیں۔کوئٹہ میں 16 اپریل 2013 کو ریکٹر اسکیل پر 7.9 کی شدت سے آنے والے زلزلے کے جھٹکے پاکستان، ایران، ہندوستان اور چند خلیجی ملکوں میں بھی محسوس کیے گئے تھے۔ اس زلزلے کا مرکز پاک ایران سرحد کے قریب واقع ایران میں سروان کا علاقہ تھا۔ اس زلزلے کے نتیجے میں 34 افراد کی ہلاکت جبکہ اسی کے زخمی ہونے کی اطلاعات تھیں۔دوسری جانب ایک لاکھ کے قریب مکانات زلزلے کے نتیجے میں تباہ ہوئے تھے۔چوبیس ستمبر، 2013 کو بلوچستان میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں 328 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں جبکہ سینکڑوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ زلزلے سے جنوب مغربی صوبے میں ہزروں گھر بھی تباہ ہوئے جبکہ بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد بھی ہزاروں میں تھی۔قدرتی آفات کب کہاں اور کیسے آتے ہیں کسی کو معلوم نہیں اب تک سائنس بھی اس کی درست پیشگی اطلاع دینے میں ناکام رہی یہ آفات تباہی و بربادی لے کر آتی ہیں لیکن احتیاتی تدابیر سے اس کے نقصانات کو کم ضرور کیا جاسکتا ہے۔،بھمبر،جہلم اور آزادکشمیر میں حالیہ زلزلے سے ہونے والے نقصانات کے پیش ِ نظر حکومت اور اس کے ہنگامی امداد کے ادارے لوگوں کی فوری امداد کے لئے اقدامات کو یقینی بنائیں ریسکیو اور ریلیف کی جامع حکمت عملی مرتب کی جائے ہماری قومی زندگی میں یہ ایک مشکل مرحلہ ہے ہمیں پھر ایثار، اخوت و بھائی چارے کا مظاہرہ کرنا ہے جس کا بے مثال مظاہرہ پوری قوم اس سے قبل کر چکی ہے۔
-
مشہور کمپنیوں کی مکمل انفارمیشن
Achi Information hai, mazeed bhi update kar dain
-
کرونا وائرس
Informative post. Thanks brother
- Zaibi khan
-
تعارف
Welcome dear. Bhai yeh forum sale purchase ke liye nai hai
-
سونگر کپل
Welcome Ammar And Mehreen.
-
Farman Ali AS
Its True!!!! Thanks for sharing
- Jokes
-
جادوئی درخت
Nice Informative post
- Mehreen Aunty
-
Dubai In Pictures By Milestone
Hellooo Friends Kasie ho Ap sub? Kuch Pictures Share kar raha hon, Random pics taken by Me Mazeed Pics Pasand Any par
-
وکی لوز مونومنٹس 2017: پاکستان کی دس بہترین تصاویر
وکی لوز مونومنٹس 2017: پاکستان کی دس بہترین تصاویر دنیا میں فوٹوگرافی کا سب سے بڑا مقابلہ سمجھے جانے والے وکی میڈیا کے تصویری مقابلے میں رواں سال کسی بھی پاکستانی فوٹوگرافر کی تصویر 15 بہترین تصاویر میں جگہ نہیں بنا سکی۔ سال 2016 میں اس مقابلے میں تین پاکستانی فوٹوگرافروں کی تصاویر بہترین دس تصاویر میں شامل تھیں۔ ’وکی لوز مونومنٹس‘ کے نام سے اس مقابلے کا آغاز سنہ 2010 میں ہوا تھا جس میں وکی میڈیا کومنز کے ذریعے تصاویر بھیجی گئی تھیں۔ رواں سال منعقدہ مقابلے میں وکی میڈیا فاونڈیشن، یونیسکو اور فلِکر کے اشتراک سے منعقد کیا گیا جس کا مقصد ثقافتی ورثے کی دیکھ بھال کے لیے عالمی تحریک پیدا کرنا تھا۔ وکی میڈیا کا کہنا ہے یہ تصاویر ان ممالک کی قومی یادگاروں سے متعلق مضامین کے ساتھ تصویری جھلک پیش کرنے میں مدد کر سکتی ہیں اور بلا کسی لائسنس کے دستیاب ہیں۔ وکی میڈیا کے مطابق اس تصویری مقابلے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ تصاویر بنانے والوں کو کریئٹو کومنز لائسنس کے تحت تصاویر مہیا کرنے کےلیے رضامند کیا جائے جس کے تحت کوئی بھی دنیا میں انھیں تصویر بنانے والے کا نام دے کر استعمال کر سکتا ہے۔ رواں سال منعقدہ مقابلے میں 52 ممالک سے دس ہزار افراد نے تقریباً ڈھائی لاکھ تصاویر اپ لوڈ کیں۔ وکی میڈیا کے مطابق پاکستان سے 270 فوٹوگرافرز نے 1900 سے زیادہ تصویروں کے ساتھ اس مقابلے میں شرکت کی۔ خیال رہے کہ پاکستان سنہ 2014 میں وکی لوز مونومنٹس کا حصہ بنا تھا اور اب تک پاکستان سے 1500 افراد 27000 سے زائد تصاویر اپ لوڈ کر چکے ہیں۔ وکی میڈیا کی پاکستان جیوری کی جانب سے پاکستان سے منتخب کی گئی 2017 کی دس بہترین تصاویر پیش ہیں۔ لاہور میں واقع بادشاہی مسجد کا غروب آفتاب کے وقت کا منظر، پس منظر میں دریائے راوی بھی دیکھا جا سکتا ہے وادئ ہنزہ میں واقع تاریخی قلعہ بلتت صحرائے چولستان میں قلعہ دراوڑ اسلام آباد کی فیصل مسجد فریئر ہال کراچی کی تصاویر بھی دس بہترین تصاویر میں شامل ہے کراچی میونسپل کارپوریشن بلڈنگ صوبہ خیبرپختوخوا میں واقع بودھ دور کے تخت بھائی کھنڈرات ملتان میں واقع مزار شاہ رکن عالم لاہور کا عجائب گھر لاہور کے اندرون شہر میں واقع مغل دور کی مسجد وزیر خان
-
قائداعظم کی زندگی کے چند انوکھے واقعات
قائداعظم کی زندگی کے چند انوکھے واقعات دنیا میں بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیتے ہیں اور بانیِ پاکستان محترم قائداعظم محمد جناح رحمتہ اﷲ علیہ کا شمار ایسی ہی گوہر نایاب شخصیات میں ہوتا ہے- ہر سال 25 دسمبر کو قائداعظم کا یومِ پیدائش پاکستان میں قومی سطح پر منایا جاتا ہے اور اس حوالے سے ملک بھر میں تقریبات اور سیمینارز منعقد کیے جاتے ہیں جن میں ان کی شاندار خدمات پر روشنی ڈالی جاتی ہے- اسی مناسبت سے آج قائد اعظم محمد علی جناح کے یومِ پیدائش کے موقع پر ہم ان کی زندگی کے وہ چند واقعات آپ کے سامنے پیش کر رہے ہیں جو ہم سب کے لیے مشعلِ راہ ہیں- وقت کی پابندی کتنی ضروری وفات سے کچھ عرصے قبل بابائے قوم نے اسٹیٹ بنک آف پاکستان کا افتتاح کیا یہ وہ آخری سرکاری تقریب تھی جس میں قائداعظم اپنی علالت کے باوجود شریک ہوئے وہ ٹھیک وقت پر تقریب میں تشریف لائے انہوں نے دیکھا کہ شرکاء کی اگلی نشست ابھی تک خالی ہیں انہوں نے تقریب کے منتظمین کو پروگرام شروع کرنے کا کہا اور یہ حکم بھی دیا کہ خالی نشستیں ہٹا دی جائیں حکم کی تعمیل ہوئی اور بعد کے آنے والے شرکاء کو کھڑے ہو کر تقریب کا حال دیکھنا پڑا ان میں کئی دوسرے وزراء سرکاری افسر کے ساتھ اس وقت کے وزیرا عظم خان لیاقت علی خان بھی شامل تھے وہ بے حد شرمندہ تھے کہ ان کی ذراسی غلطی قائد اعظم نے برداشت نہیں کی اور ایسی سزا دی جو کبھی نہ بھولی گئی ۔ اعلیٰ ظرفی 1943ء میں الہ آباد یونیورسٹی میں ہندو اور مسلمان طلباء کے درمیان اس بات پر تنازعہ ہو گیا کہ یونیورسٹی میں کانگریس کا پرچم لہرا یا جائے۔ مسلمان طلباء کا ماننا تھا کہ کا نگریس کا پرچم مسلمانوں کے جذبات کا عکاس نہیں اور چونکہ الہ آباد یورنیورسٹی میں مسلمان طلبہ کی اکثریت زیر تعلیم تھی اس لیے یہ پر چم اصولاً وہاں نہیں لہرایا جا سکتا ابھی یہ تنازعہ جاری تھا کہ اسی سال پنجاب یونیورسٹی کے مسلم طلباء کی یونین سالانہ انتخاب میں اکثریت حاصل کر گئی یو نین کے طلباء کا ایک وفد قائداعظم کے پاس گیا اور درخواست کی کہ وہ پنجاب یورنیوسٹی ہال پر مسلم لیگ کے پر چم لہرانے کی رسم ادا کریں قائداعظم نے طلباء کو مبارک باد دی اور کہا اگر تمھیں اکثریت مل گئی ہے تو یہ خوشی کی بات ہے لیکن طاقت حاصل کرنے کے بعد اپنے غلبے کی نمائش کرنا نا زیبا حرکت ہے کوئی ایسی با ت نہ کرو جس سے کسی کی دل آزاری ہو ہمارا ظرف بڑا ہونا چاہیے کیا یہ منا سب بات نہیں کہ ہم خود وہی کام کریں جس پر دوسروں کو مطعون کرتے ہیں۔۔ رشوت ایک ناسور ایک بار قائد اعظم سفر کر رہے تھے سفر کے دوران انہیں یاد آیا کہ غلطی سے ان کا ریل ٹکٹ ملازم کے پاس رہ گیا ہے اور وہ بلا ٹکٹ سفر کر رہے ہیں جب وہ اسٹیشن پر اترے تو ٹکٹ ایگزامنر سے ملے اور اس سے کہا کہ چونکہ میرا ٹکٹ ملازم کے پاس رہ گیا ہے اس لیے دوسرا ٹکٹ دے دیں ٹکٹ ایگزامنر نے کہا آپ دو روپے مجھے دے دیں اور پلیٹ فارم سے باہر چلے جائیں قا ئداعظم یہ سن کر طیش میں آگئے انہوں نے کہا تم نے مجھ سے رشوت مانگ کر قانون کی خلاف ورزی اور میری توہین کی ہے بات اتنی بڑھی کہ لوگ اکھٹے ہو گئے ٹکٹ ایگزامنر نے لاکھ جان چھڑانا چاہی لیکن قائداعظم اسے پکڑ کر اسٹیشن ماسٹر کے پاس لے گئے بالاخر ان سے رشوت طلب کرنے والا قانون کے شکنجے میں آگیا۔۔ کفایت شعاری اختیار کرو محمد حنیف آزاد کو قائداعظم کی موٹر ڈرائیوری کا فخر حاصل رہا ہے ایک بار قائداعظم نے اپنے مہمانوں کی تسلی بخش خدمت کرنے کی صلے میں انہیں دو سو روپے انعام دئے- چند روز بعد حنیف آزاد کو ماں کی جانب سے خط ملا جس میں انھوں نے اپنے بیٹے سے کچھ روپے کا تقاضا کیا تھا- حنیف آزاد نے ساحل سمندر پر سیر کرتے ہوئے قائد سے ماں کے خط کا حوالہ دے کر والدہ کو کچھ پیسے بھیجنے کی خاطر رقم مانگی- قائداعظم نے فوراً پوچھا ” ابھی تمھیں دو سو روپے دئے گئے تھے وہ کیا ہوئے “حنیف آزاد بولے ”صاحب خرچ ہوگئے قائد اعظم یہ سن کر بولے ” ویل مسٹر آزاد، تھوڑا ہندو بنو “- وکالت کے اصول وکالت میں بھی قائدِاعظم کے کچھ اُصول تھے جن سے وہ تجاوز نہیں کرتے تھے۔ وہ جائز معاوضہ لیتے تھے۔ مثلاً ایک تاجرایک مقدمہ لے کر آیا۔ مؤکل:مَیں چاہتا ہوں کہ آپ اس مقدمہ میں میری وکالت کریں۔آپ کی فیس کیا ہوگی۔ قائدِاعظم: مَیں مقدمے کے حساب سے نہیں، دن کے حساب سے فیس لیتا ہوں۔ مؤکل: کتنی؟ قائدِاعظم: پانچ سوروپے فی پیشی۔ مؤکل: میرے پاس اس وقت پانچ ہزار روپے ہیں۔ آپ پانچ ہزار میں ہی میرا مقدمہ لڑیں۔ قائدِاعظم: مجھے افسوس ہے کہ مَیں یہ مقدمہ نہیں لے سکتا۔ہوسکتا ہے کہ یہ مقدمہ طول پکڑے اور یہ رقم ناکافی ہو۔ بہتر ہے کہ آپ کوئی اور وکیل کرلیں کیوںکہ میرا اصول ہے کہ مَیں فی پیشی فیس لیتا ہوں۔ چنانچہ قائدِاعظم ؒنے اپنی شرط پر مقدمہ لڑا اور اپنی فراست سے مقدمہ تین پیشیوں ہی میں جیت لیا اور فیس کے صِرف پندرہ سو روپے وصول کیے۔ تاجر نے اس کامیابی کی خوشی میں پورے پانچ ہزار پیش کرنا چاہے تو قائدِاعظم نے جواب دیا، ’’میں نے اپنا حق لے لیا ہے۔‘‘ عید کی نماز یہ 25 اکتوبر 1947 کی بات ہے۔ قیام پاکستان کے بعد پہلی بار عید الاضحیٰ کا تہوار منایا جانا تھا۔ عید الاضحیٰ کی نماز کے لیے مولوی مسافر خانہ کے نزدیک مسجد قصاباں کو منتخب کیا گیا اور اس نماز کی امامت فریضہ مشہورعالم دین مولانا ظہور الحسن درس نے انجام دینی تھی- قائد اعظم کو نماز کے وقت سے مطلع کردیا گیا۔ مگر قائد اعظم عید گاہ نہیں پہنچ پائے۔ اعلیٰ حکام نے مولانا ظہور الحسن درس کو مطلع کیا کہ قائد اعظم راستے میں ہیں اور چند ہی لمحات میں عید گاہ پہنچنے والے ہیں۔ انہوں نے مولانا سے درخواست کی کہ وہ نماز کی ادائیگی کچھ وقت کے لیے مؤخر کردیں۔ مولانا ظہور الحسن درس نے فرمایا ’’میں قائد اعظم کے لیے نماز پڑھانے نہیں آیا ہوں بلکہ خدائے عزوجل کی نماز پڑھانے آیا ہوں‘‘ چناں چہ انہوں نے صفوں کو درست کرکے تکبیر فرما دی۔ ابھی نماز عید کی پہلی رکعت شروع ہوئی ہی تھی کہ اتنے میں قائد اعظم بھی عید گاہ پہنچ گئے۔ نماز شروع ہوچکی تھی۔ قائد اعظم کے منتظر اعلیٰ حکام نے قائد سے درخواست کی وہ اگلی صف میں تشریف لے چلیں مگر قائد اعظم نے ان کی درخواست مسترد کردی اور کہا کہ میں پچھلی صف میں ہی نماز ادا کروں گا۔ چناں چہ ایسا ہی ہوا اور قائد اعظم نے پچھلی صفوں میں نماز ادا کی۔ قائد اعظم کے برابر کھڑے نمازیوں کو بھی نماز کے بعد علم ہُوا کہ ان کے برابر میں نماز ادا کرنے والا ریاست کا کوئی عام شہری نہیں بلکہ ریاست کا سربراہ تھا۔ قائد اعظم نمازیوں سے گلے ملنے کے بعد آگے تشریف لائے۔ انھوں نے مولانا ظہور الحسن درس کی جرأت ایمانی کی تعریف کی اور کہا کہ ہمارے علما کو ایسے ہی کردار کا حامل ہونا چاہیے۔
-
Hearttheaf80
Welcome Dear
-
green gold saying hello
Welcome Dear Green Gold
-
I Am New Here
Welcome Dear Seema
-
S M Here!
Welcome Dear
-
بہترین اور حیران کن ڈرائینگ
Amazing.. Achi sharing hai