بچپن میں پڑھا تھاکہ بہت ذیادہ امیر اور بہت ذیادہ غریب دونوں طبقات میں،شرم حیا مفقود ھوجاتی ھے۔
ایک کامطمع نظر صرف سیکس ھوتا ھے۔ اور دوسرے کی طلب روٹی، دونوں
اپنی طلب کو پورا کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ھیں۔
ایک ناول پڑھا تھا جانگلوس ،اس سے بھی خیال کو تقویت ملی اور بھت عرصہ کے بعد
اس سٹوری میں اس سوچ کی بھرپور عکاسی نظر آ رھی ھے۔
ڈاکٹر صاحب کھانے والی دوائی سے ٹائمنگ کچھ ذیادہ نہی ھو گئی۔ میرے خیال میں سپرےکے تجربہ سے اتنا ٹائم لگ سکتا ھے۔ کھانے والی دوا سےذرا مشکل ھے۔ باقی آپ خود ڈاکٹر ھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔