Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

khoobsooratdil

Cloud Basic
  • Joined

  • Last visited

Everything posted by khoobsooratdil

  1. photo sharing websites photo sharing
  2. picture hosting upload picture
  3. Welcome Dear Umeed ha ap Forum enjoy karo gy
  4. nice Sharing dear,,,,,,,,,,,,,
  5. Welcome Back dear Zinda Dilon ka Forum U F C
  6. Dosto is tehreer per aap sab k Comments perh k ye Ehsas to zaroor howa k hum log sex ki bhook k bawajood ek Zinda Qoum hain
  7. Wo aay gher me hamaray kabhi hum gher ko daikhtay hain or phir gher ko hi daikhtay hain hahahah Kia haal ha Bhayya
  8. Mujh Nacheez ki sharing pasand kernay k lie sab ka shukriya
  9. ;;;;;;;;; ملالہ عرف گل مکئی عرف وسعت اللہ خان ؛؛؛؛؛ ملالہ کی ڈائر ی بی بی سی کا مقامی رپورٹر لکھا کرتا تھا۔حملے کے بعد سے روپوش ہے سوات میں طالبان کا نشانہ بننے والی لڑکی ملالہ کی مشہور ڈائری کا معمہ حل ہو گیا ہے اور پاکستان کے سرکاری ذرائع نے انکشاف کیاہے کہ بی بی سی کا ایک مقامی رپورٹر ہی ملالہ کی ڈائری لکھا کرتا تھا اور پھر اسے گل مکئی کے نام سے شائع کردیا جاتا تھا۔ پاکستانی سیکورٹی ذرائع کا دعوی ہے کہ 2009 میں جب سوات میں پاکستانی حکومت اور فوج نے طالبان سے ایک امن معاہدہ کیا تھا تو اس کی مخالفت امریکہ اور یورپ نے کی تھی عین اسی دوران امریکہ نے پاکستان کے شورش زدہ علاقے خیبر پختون خواہ اور قبائلی علاقوں میں ذرائع ابلاغ کے ایک بڑے پروگرام کا آغاز کیا تھا جس کے تحت کئی مقامی ریڈیو اسٹیشن قائم کئے گئے تھے اور مقامی اخبارات اور میڈیا اداروں کے پروگرام بھی اسپانسر کئے گئےتھے۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق 2009 میں اسی دوران بی بی سی کی جانب سے ایک پروگرام کا آغاز کیا گیا تھا جس کے تحت سوات کی کسی مقامی لڑکی سے ایک ڈائری لکھوانی تھی جس میں وہ طالبان کے خلاف اور لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں کچھ باتیں نارمل انداز میں کرتی اس پروگرام کا جواز یہ بتایا گیا تھا کہ طالبان لڑکیوں کے اسکول تباہ کررہے ہیں اس لئےان پر پریشر ڈالنے کے لئے ایک طالبہ سے ڈائری لکھوائی جائے گی۔ اس پروگرام کے پروڈیو سر اور ایڈیٹر پاکستان کے شہر رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والے ایک مشہور صحافی تھے جنہوں نے کراچی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور پھر لندن جا کر بی بی سی سے منسلک ہوگئے۔ تقریبا بیس برس لسندن میں گزارنے کے بعد وہ اب کراچی سے بی بی سی اردو کے سنیئر ترین عہدے دار کے طور پر کام کررہے ہیں اور خواتین کے حقوق کے لئے نمایاں طور پر آواز اٹھاتے رہتے ہین۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ انہوں نے ادھیڑ عمری میں حال ہی میں اپنے آبائی علاقے سے ایک نو عمر لڑکی سے شادی کی ہے۔۔پشاور پریس کلب کے کئی صحافی اس بات کے عینی شاہد ہیں کہ ان دنوں بی بی سی کے ایک مقامی رپورٹر، جن کا تعلق پشتونوں کے اسی قبیلے سے ہے جس سے ملالہ کا تعلق ہے، کافی سرگرمی سے کسی ایسی طالبہ کو ڈھونڈ رہے تھے جو ایک بی بی سی کے لئے ایک ڈائری لکھ سکے۔ اسی دوران بی بی سی اس رپورٹر کی ملاقات سوات میں لڑکیوں کا ایک اسکول چلانے والے ضیا اللہ سے ہوئی۔ جب بی بی سی کے مقامی رپورٹر نے ان کے سامنے یہ مسئلہ رکھا تو انہوں نے فورا اپنی بیٹی کا نام لیا جو اسی اسکول میں زیر تعلیم تھی اور خاصی ایکٹو بھی تھی۔ واضح رہے کہ ضیا اللہ طالبان کے سخت مخالف اور اے این پی سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ طالبان کے خلاف ایک لشکر بھی بنا چکے ہیں۔ اس طرح رفعت اللہ اور ضیا اللہ کے درمیان یہ طے پایا کہ بی بی سی کے رپورٹر ملالہ سے ملاقات کریں گے اور اس سے باتیں کریں گے اور پھر جو کچھ وہ بتائے گی، وہ اسے ڈائری کے طور پر لکھ کر بی بی سی کو بھیج دیں گے۔ اس وقت ملالہ کی عمر بہت ہی کم تھی اور وہ چوتھی جماعت میں زیر تعلیم تھی، اس وقت اسے اردو کے مشکل الفاظ اور جملے لکھنے نہیں آتے تھے۔ اس وقت ملالہ کی عمر صرف 9 سال تھی۔ رپورٹر کی رہائش پشاور میں تھی اس لئے وہ روز سوات نہیں آ سکتے تھے۔ اور سوات کے خراب کی حالات کی وجہ سے بھی ان کا سوات بار بار آنا خطرناک تھا۔ واضح رہے کہ مذکورہ رپورٹر سیکولر خیالات کی وجہ سے پشاور کے صحافتی حلقوں میں ٕمشہور ہیں اور انہیں نشانہ بنانے کے لئے طالبان نے 2010 مین پشاور پریس کلب پر ایک خود کش حملہ بھی کیا تھا جس میں وہ بچ گئے تھے مگر پریس کلب کا چوکیدار اور ایک پولیس اہلکار مارا گیا تھا۔ اس کے بعد پشاور کے صحافیوں اور طالبان کے درمیان رابطوں اور مذاکرات کے دوران یہ بات طے پائی تھی کہ بی بی سی کا مذکورہ رپورٹر پریس کلب کو اپنے دفتر کے طور پر استعمال نہیں کرے گا۔ پشاور پریس کلب کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ رپورٹر اس کے بعد کافی عرصہ خاموش رہے۔ جن دنوں بی بی سی کا مذکورہ رپورٹر ملالہ کی ڈائری لکھنے مینگورہ جایا کرتے تھے وہ اس دوران اپنے ساتھ گاڑی مین اپنی آٹھ سالہ بیٹی کو لازمی لے جایا کرتے تھے ان کا کہنا تھا کہ اس طرح ان پر کوئی شک نہیں کرے گا اور طالبان بھی اسے نقصان نہیں پہنچائین گے۔ یہ بات بی بی سی کے مذکورہ رپورٹر نے بی بی سی ورلڈ سے ایک حالیہ انٹرویو میں بھی بتائی کہ کس طرح وہ ملالہ سے ملنے سوات جایا کرتے تھے اور اس دوران ان کی بیٹی بھی ان کے ہمراہ ہوتی تھی اور کئی مسلسل ملاقاتوں کے باعث ملالہ اور ان کی بیٹی کی گہری دوستی ہوگئی تھی۔ بی بی سی ورلڈ کے پروگرام میں ان کا کہنا تھا کہ وہ صرف ملالہ سے اس کی ڈائری وصول کرنے جایا کرتے تھے۔ اس کے ساتھ ہی ان کا دعوی تھا کہ ملالہ بہت فعال تھی اور کمپیوٹر اور انٹر نیٹ بھی استعمال کرتی تھی مگر وہ بتانا بھول گئے کہ آخر ملالہ ان کو اپنی تحریر ای میل کیوں نہیں کرتی تھی اور وہ جان خطرے مین ڈال کر خود ہی کیوں جایا کرتے تھے۔ پشاور پریس کلب کے صحافیوں میں یہ ایک کھلا راز ہے کہ بی بی سی کے مذکورہ رپورٹر ملالہ سے اپنی گفتگو کو ریکارڈ کر کے لایا کرتے تھے اور پھر اسے اپنے الفاظ میں تحریر کر کے بی بی سی کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیا کرتے تھے اور اسےگل مکئی کی ڈائری کا نام دیا جاتا تھا۔ بی بی سی کے مذکورہ پشتون رپورٹر ہی ملالہ کے والد ضیا اللہ اورملالہ کو امریکی صحافیوں سے بھی رابطہ کار کے فرائض انجام دیتے تھے۔ملالہ کے والد اس طرح اپنے اسکول کو ایک بڑے ادارے میں تبدیل کرنے کے خواہش مند تھے اور اس کے لئے فنڈنگ چاہتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اس طرح بین الااقوامی طورپر پروجیکشن سے ان کے لئے اپنا کالج اور یونیورسٹی قائم کرنے کے لئے فنڈنگ لینا آسان ہوگا۔ مگر انہیں بی بی سی اور امریکی میڈیا نے اپنے مقاصد کے لئے استعمال تو کیا مگر بھاری فنڈنگ دینے کےبجائے چند لاکھ روپے دینے پر ہی اکتفا کیا۔ امریکی صدر کے نمائندہ خاص رچرڈ ہالبروک سے ملاقات میں بھی ملالہ اور اس کے والد فنڈز مانگتے دیکھے جاسکتے ہیں مگر حقیقت میں انہیں کبھی وہ مطلوبہ فنڈ نہیں مل سکے۔ سوات کے مقامی صحافتی حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملالہ پر حملے کے بعد اس کے خاندان میں بھی اختلافات نمایاں ہوگئے ہیں اور اس کی والدہ جو کہ پہلے ہی بیٹی کو اس طرح باہر نکال کر نمائش کرنے کے حق میں نہیں تھیں، وہ اب کچھ حقائق سب کے سامنے لانے کے لئے بے تاب ہیں جب کہ اس کے والد بھی فنڈنگ نہ ملنے کی وجہ سے دل شکستہ ہیں اور اب بیٹی بھی ان کے ہاتھ سے جاتی دکھائی دےرہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکورٹی سے متعلق حکام نے بھی ملالہ کے والد پر نرمی سے واضح کردیا ہے کہ انہیں اور ان کی بیٹی کو مغربی ذرائع ابلاغ نے استعمال کیا اور پھر ٹشو کی طرح پھینک دیا تاکہ طالبان انہیں قتل کردیں اور پھر مغربی میڈیا ان کی لاشوں پر نئی دکان سجا سکے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ملالہ کے جب پہلی بار انٹرویو لئے گئے تو وہ بار بار کہہ رہی تھی کہ وہ ڈاکٹر بننا چاہتی ہے اور اس کی جدوجہد کا مرکز صرف ڈاکٹر بننا ہے۔ پہلے چند انٹرویو کے بعد اچانک اس نے یو ٹرن لیا اور کہنا شروع کردیا کہ وہ اب ڈاکٹر بننا نہیں چاہتی بلکہ سیاستدان بننا چاہتی ہے تاکہ سوسائیٹی کو تبدیل کرسکے۔ اور طالبائنزیشن کو روک سکے۔ اہم قومی ادارے اس بات پر تحقیق کررہے ہین کہ آخر وہ کون تھا جو ملالہ کے منہ میں الفاظ ڈال رہا تھا۔ اس بات کی بھی تفتیش کی جا رہی ہے کہ وہ کون تھا جس نے ملالہ سے اوباما کو آئیڈل قرار دینے کے الفاظ کہلوائے کیونکہ چوتھی جماعت کی بچی کو اوباما کے بارے میں علم ہونا ممکن نہیں ہے۔ تازہ ترین رپورٹس یہ ہیں کہ بی بی سی کے مذکورہ رپورٹر ملالہ پر حملے کے بعد سے روپوش ہین اور ان کے تمام فون نمبر مسلسل بند جا رہے ہیں۔ دوسری جانب طالبان کا دعوی ہے کہ انہوں نے ملالہ کے والد کو متنبہ کرنے کے لئے کئی بار اخبار میں بھی اشتہار شائع کرایا تھا مگر وہ کوئی بات سننے پر تیار نہ تھے اور لڑکی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کررہے تھے جس کےبعد انہیں یہ فیصلہ کرنا پڑا۔
  10. Lo g ab to Media ne bhi ye Pic dikha di ha ab aap kia kehtay hain
  11. ♣ طبی طور پر مضر صحت گوشت ۔ ♣ سؤر یا خنزیر کے گوشت میں سائنسی و طبی اعتبار سے بےشمار خرابیاں ہیں ۔ جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں۔ 1۔سؤر دنیا کے چند غلیظ ترین جانوروں میں سے ایک جانور ہے جو کہ پیشاب و پاخانہ سمیت ہر گندی چیز کھاتا ہے۔ سائنسی تحقیق ثابت کرتی ہے کہ خوراک کا براہ راست اثر جسم پر ہوتا ہے ۔ 2۔ خنزیر کے گوشت اور چکنائی میں زہریلے مادے جذب کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے اسکے گوشت و چکنائی میں زہریلے مادے عام جانوروں کے گوشت کے مقابلے میں 30 گنا زیادہ ہوتے ہیں۔ گویا یہ گوشت بقیہ عام گوشت سے 30 گنا زیادہ زہریلا Toxinہوتا ہے۔ 3۔ سور اس قدر زہریلا ہوتا ہے کہ اژ دہے کے ڈسنے سے بھی نہیں مرتا۔ چنانچہ بعض اوقات سؤر فارم کے رکھوالے سؤروں کو اژدھوں کے بلوں کے پاس بھی چھوڑدیتے ہیں تاکہ اژدھے اس علاقے سے نکل جائیں۔ 4۔ عام گوشت کے مقابلے میں خنزیر کے گوشت کے گلنے سڑنے کی رفتار 30 گنا زیادہ ہوتی ہے ۔ یعنی عام گوشت سے بہت جلدی خنزیر سے گوشت میں کیڑے پڑتے ہیں۔ تجربہ کے طور پرچکن یا گائے کے گوشت کا ٹکڑا اور خنزیر کا ٹکڑا کھلی جگہ پر رکھ کر دیکھ لیں کونسے گوشت میں جلد بدبواور کیڑے پڑتے ہیں۔ 5۔ سؤر گندگی و غلاظت میں ساری زندگی گذارتا ہے یعنی اسے غلاظت سے کراہت نہیں ہوتی۔ اسکا گوشت کھانے والے کے اندر بھی یہی خرابی پیدا ہوجاتی ہے ۔۔۔سؤر جنسی شہوت کا رسیا ہوتا ہے ۔ اسکا گوشت کھانے سے جنسی اشتہا تیزی سے بڑھتی ہے۔ انسان حرام حلال کی تمیز کیے بغیر اس جذبے کی تسکین چاہتا ہے 6۔ سؤر انتہا درجے کا بے غیرت جانور ہے۔ جنسی تسکین کے لیے نر و مادہ کوئی تمیز نہیں*رکھتے۔ اسے کھانے والے معاشرے میں یہ خصوصیت باآسانی دیکھی جاسکتی ہے۔ امید ہے اگر ہم جدید سائنسی سوچ و فکر کے حامل ذہنوں کو مندرجہ بالا حقائق بتا کر پھر قرآن مجید میں خنزیر کی حرمت کے احکامات بتائیں گے تو یقینا اطمینان قلب و ذہن اور شرح صدر سے ان احکامات کی تعمیل پر آمادگی ہوجائے گی
  12. عرصہ ہوا ایک ترک افسانہ پڑھا تھا یہ دراصل میاں بیوی اور تین بچوں پر مشتل گھرانے کی کہانی تھی جو جیسے تیسے زندگی گھسیٹ رہا تھا۔ جو جمع پونجی تھی وہ گھر کے سربراہ کے علاج معالجے پر لگ چکی تھی، مگر وہ اب بھی چارپائی سے لگا ہوا تھا۔ آخر اسی حالت میں ایک دن بچوں کو یتیم کر گیا۔ رواج کے مطابق تین روز تک پڑوس سے کھانا آتا رہا، چوتھے روز بھی وہ مصیبت کا مارا گھرانہ خانے کا منتظر رہا مگر لوگ اپنے اپنے کام دھندوں میں لگ چکے تھے، کسی نے بھی اس گھر کی طرف توجہ نہیں دی۔ بچے بار بار باہر نکل کر سامنے والے سفید مکان کی چمنی سے نکلنے والے دھویں کو دیکھتے۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ ان کے لیے کھانا تیار ہو رہا ہے۔ جب بھی قدموں کی چاپ آتی انھیں لگتا کوئی کھانے کی تھالی اٹھائے آ رہا ہے مگر کسی نے بھی ان کے دروازے پر دستک نہ دی۔ ماں تو پھر ماں ہوتی ہے، اس نے گھر سے کچھ روٹی کے سوکھے ٹکڑے ڈھونڈھ نکالے، ان ٹکڑوں سے بچوں کو بہلا پھسلا کر سلا دیا۔ اگلے روز پھر بھوک سامنے کھڑی تھی، گھر میں تھا ہی کیا جسے بیچا جاتا، پھر بھی کافی دیر کی "تلاش" کے بعد دو چار چیزیں نکل آئیں جنھیں کباڑیے کو فروخت کر کے دو چار وقت کے کھانے کا انتظام ہو گیا۔ جب یہ پیسے بھی ختم ہو گئے تو پھر جان کے لالے پڑ گئے۔ بھوک سے نڈھال بچوں کا چہرہ ماں سے دیکھا نہ گیا۔ ساتویں روز بیوہ ماں خود کو بڑی سی چادر میں لپیٹ کر محلے کی پرچوں کی دکان پڑ جا کھڑی ہوئی، دکان دار دوسرے گاہکوں سے فارغ ہو کر اس کی طرف متوجہ ہوا، خاتون نے ادھار پر کچھ راشن مانگا تو دکان دار نے نا صرف صاف انکار کر دیا بلکہ دو چار باتیں بھی سنا دیں۔ اسے خالی ہاتھ ہی گھر لوٹنا پڑا۔ ایک تو باپ کی جدائی کا صدمہ اور اوپر سے مسلسل فاقہ، آٹھ سالہ بیٹے کی ہمت جواب دے گئی اور وہ بکھر میں مبتلا ہو کر چارپائی پر پڑ گیا۔ دوا دارو کہاں سے ہو، کھانے کو لقمہ نہی تھا، چاروں گھر کے ایک کونے میں دبکے پڑے تھے، ماں بخار سے آگ بنے بیٹے کے سر پر پانی کی پٹیاں رکھ رہی تھی، جب کہ پانچ سالہ بہن اپنے ننھے منے ہاتھوں سے بھائی کے پاؤں دبا رہی تھی۔ اچانک وہ اٹھی، ماں کے پاس آئی اور کان سے منہ لگا کر بولی "اماں بھائی کب مرے گا؟" ماں کے دل پر تو گویا خنجر چل گیا، تڑپ کر اسے سینے سے لپٹا لیا اور پوچھا "میری بچی، تم یہ کیا کہہ رہی ہو؟" بچی معصومیت سے بولی "ہاں اماں! بھائی مرے گا تو کھانا آئے گا ناں!" اگر ہم اپنے پاس پڑوس میں نظر دوڑائیں تو اس طرح کی ایک چھوڑ کئی کہانیاں بکھری نظر آئیں گی۔ بہت معذرت کے ساتھ کہہ رہا ہوں ہمارا معاشرہ مردہ پرست ہو چکا ہے۔ زندگی میں کوئی نہی پوچھتا مگر دم نکلتے وقت ہونٹوں پر دیسی گھی لگا دیا جاتا ہے تا کہ لوگ سمجھیں بڑے میاں دیسی گھی کھاتے کھاتے مرے ہیں۔ غالبا منٹو نے لکھا ہے کہ ایک بستی میں کوئی بھوکا شخص آ گیا، لوگوں سے کچھ کھانے کو مانگتا رہا مگر کسی نے کچھ نہی دیا۔ بیچارہ رات کو ایک دکان کے باہر فٹ پتہ پر پڑ گیا۔ صبح آ کر لوگوں نے دیکھا تو وہ مر چکا تھا۔ اب "اہل ایمان" کا "جذبہ ایمانی" بیدار ہوا، بازار میں چندہ کیا گیا اور مرحوم کے ایصال ثواب کے لیے دیگیں چڑھا دی گئیں، یہ منظر دیکھ کر ایک صاحب نے کہا "ظالمو! اب دیگیں چڑھا رہے ہو، اسے چند لقمے دے دیتے تھ یہ یوں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر نا مرتا"۔ پچھلے دنوں ایک تاجر نے ایک مزار پر دس لاکھ روپے مالیت کی چادر چڑھائی، جب کہ مزار کے سامنے کے محلے میں درجنوں ایسے بچے گھوم رہے ہوتے ہیں جنہوں نے قمیض پہنی ہوتی ہے تو شلوار ندارد اور شلوار ہے تو قمیض نہی۔ حضرت مجدد الف ثانی فرمایا کرتے تھے کہ تم جو چادریں قبر پر چڑھاتے ہو اس کے زندہ لوگ زیادہ حقدار ہیں۔ ایک شخص رکے ہوئے بقایاجات کے لیے بیوی بچوں کے ساتھ مظاہرے کرتا رہا، حکومت ٹس سے مس نا ہوئی، تنگ آ کر اس نے خود سوزی کر لی تو دوسرے ہی روز ساری رقم ادا کر دی گئی۔ اسی طرح ایک صاحب کے مکان پڑ قبضہ ہو گیا، بڑی بھاگ دوڑ کی مگر کوئی سننے کو تیار نہی ہوا، اسی دوران دفتر کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اسے دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا، پولیس نے پھرتی دکھائی اور دوسرے ہی دن مکان سے قبضہ ختم کروا دیا۔ فائدہ؟ کیا اب اس مکان میں اس کا ہمزاد آ کر رہے گا؟
  13. yaar abhi to ye sab buhat acha or modren lag raha ha mager asal me is k peechay ek buhat bari game ho rahi ha

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.