کنٹین والی لڑکی
دوستو یہ اس فورم پر میری پہلی کہانی ہے بلکہ زندگی کی پہلی کہانی ہے ۔ میں اس کہانی کا راوی اس کہانی کے مرکزی کردار سے میری ملاقات کچھ عرصہ قبل ہوی مجھے اس کی زندگی کے واقعات اتنے دلچپسپ لگے کے میں نے انہیں آپ لوگوں کے لیے تحریری شکل دینے کا فیصلہ کیا ۔ اس لیے اگر اس کہانی میں کوی تکنیکی خامی اور کوتاہی ہو تو اس کے لیے معذرت خواہ ہوں ۔ اب کہانی کو اس کے مرکزی کردار کی زبانی شروع کرتے ہیں ۔
میرا نام صندل ہے اور میری عمر اس وقت چون برس ہے ۔میری کہانی کا آغاز آج سے تقریبا چالیس برس پہلے ہوا۔ میرے والد اسلام آباد کے ایک سرکاری گرلز اسکول میں مالی تھے ہم پانچ بہن بھاءی تھے تین بہنیں اور دو بھاءی۔ اسلام آباد کے ہر اسکول میں پہلے وسیع قطعہ اراضی بھی ہوتا تھا اور کھلی جگہ ہوتی تھی ۔ اسکول میں پہلے سے دو کوارٹر تھے جن میں ایک چوکیدار چاچا کے پاس تھا اور دوسرا ڈرایور کے پاس تھا۔ ابو نے پرنسپل میڈم سے بات کی تو انہوں نے ترس کھا کر ابو کو کہا کہ تم اسکول کی دیوار کے ساتھ جنگل کی طرف دو کمرے بنالو،ابو نے وہاں جگہ بنالی اور اپنی فیملی یعنی امی اور ہم سب کو بنوں کے ایک گاوں سے اسلام آباد لے آے ۔ پرنسپل بھی پٹھان تھیں اور ابو بھی پٹھان اس لیے وہ ہمارا بہت خیال کرتی تھیں ۔ جب امی یہاں آییں تو میں اس وقت دس سال کی تھی اور بہن بھاءیوں میں سب سے بڑی تھی ۔ ابو نے مجھے اسی اسکول میں داخل کرادیا ۔ جب میں نے آٹھویں جماعت پاس کی تو میری عمر چودہ برس تھی اسی سال میرے والد کا انتقال ہوگیا ۔ اور ہماری زندگی میں ایک بھونچال آگیا ۔ میری امی بالکل ان پڑھ تھیں انکا کوی بھاءی بہن نہیں تھا ابو کے بھاءی بھی انکے خلاف تھے تو ہمارے گاوں جانے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہو تا تھا ۔ اس موقع پر پرنسپل میڈم سعدیہ خٹک نے میری امی کو کہا کہ تم لوگ اس کمرے میں رہو اور تم میرے گھر میں کام کرلیا کرو تمہیں مہینے کے پیسے اور راشن دے دیا کروں گی ۔ امی تیار ہو گیءی ۔ابو کی وفتا چونکہ سروس کے دوران ہوی تھی اس لیے ہمیں پچیس ہزار روپے ملے جو اس وقت بہت مناسب رقم تھی امی نے میڈم سعدیہ کے کہنے وہ رقم بنک میں جمع کرادی۔ میرا اب پڑھای میں بالکل دل نہیں لگتا تھا ۔ پرنسپل میڈم نے مجھے اسکول کی کنٹین میں کام دلوادیا۔ امی کو بھی تسلی تھی کہ اسکول کے اندر ہر کام ہے اور اسکول بھی لڑکیوں کا ہے ، میری تنخواہ اس وقت تین سو روپے تھی ۔حیران نہ ہوں انیس سو اسی میں تین سو ایک بڑی رقم تھی جب آٹا ۲روپے کلو تھا ۔ کنٹین کو ایک پینتیس سالہ بیوہ رقیہ باجی چلاتی تھیں ،میں صبح چھ بجے کنٹین پہنچتی ، کنٹین کی صفاءی کرتی تمام برتن ترتیب سے لگاتی اور تلنے والے تمام آیٹم جیسے سموسے اور پکوڑے وغیرہ بھی رقیہ باجی کو دیتی اور ٹیچرز کو اسٹاف روم میں چاے بھی دے کر آتی ۔ مجھے تین ماہ گزر گیے تھے اور رقیہ باجی میرے کام سے بہت خوش تھیں امی بھی خوش تھیں کا میرے لاے ہوے اور میڈم سعدیہ کی طرف سے امی کو ملنے والی تنخواہ سے ہمارا گزارا ہو رہا تھا اور کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کو نوبت نہیں آتی تھی ۔ رقیہ باجی کا تعلق جھنگ سے تھا اور وہ بہت اچھی عادت کی تھیں انکے میاں کا پانچ سال پہلے انتقال ہوچکا تھا ، اگر آپ نے بھارتی اداکارہ نندتا داس دیکیھی ہوءی ہے تو بس سمجھ لیں کہ رقیہ باجی بالکل اس کی کاپی تھیں سانولی اور بہت نمکین ۔ جبکہ میڈم سعدیہ ایک مکمل پٹھانی تھیں سبز آنکھیں گورا رنگ اور بھرا ہوا جسم ۔ میری امی امینہ کا رنگ بھی گورا تھا اور آنکھیں بھوری اور جسم پانچ بچوں کے بعد بھی بے ڈول نہیں ہو ا تھا تاہم بھرا بھرا تھا ۔ میری عمر اس وقت پندرہ برس تھی جب یہ سب کچھ شروع ہوا میرا جسم دبلا تھا، آنکھیں براون تھیں اور بال بھی براون ۔ میرے ممے اسکوایش کی گیند سے ذرا بڑے تھے، میری رنگت بہت گوری تھی جیسی پٹھان لڑکیو ں کی ہوتی ہے ۔ ایک دن مجھے پرنسپل میڈم نے کہا کہ میرے کمرے میں آکر مجھ سے ملو ۔ جمب میں انکے کمرے میں گءی تو انہوں نے کہا کہ صندل تمہاری امی کی خواہش ہے کہ تم پڑھ لکھ کر استانی بنو یہی تمہارے باپ کی بھی خواہش تھی اس لیے میں نے فیصلہ کیا کہ ہے تم کنٹین سے فارغ ہو کر چھٹی کے بعد نویں کلاس کی لڑکیوں کے ساتھ لایبریری میں ہونے والی دو گھنٹے کی ایکسٹرا کلاس میں جایا کرو گی میں تمہارا میٹرک کا پرایوٹ داخلہ بھیج دونگی ۔ پھر بڑی رازداری سے کہنے لگی تم اور تمہاری ماں میرے گھر کے فرد میں تم لوگوں پر مکمل اعتماد کرتی ہوں اس لیے اگر تم اسکول میں کوءی بھی غلط حرکت یا کام دیکھو یا کسی کو میرے خلاف سازش کرتے دیکھو تو مجھے آکر بتاو اسی طرح کی کافی دیر باتیں کرتی رہیں اور پھر مجھے زبردستی ۱۰روپے بھی دیے۔ میں واپس کنٹین آی تاکہ رقیہ باجی کو بتادوں کہ میں چھٹی کے فوری بعد چلی جایا کرونگی تو میں نے دیکھا کہ کنٹین کا دروازہ بند تھا جو ایک خلاف معمول بات تھی چھٹی کے بعد بھی رقیہ باجی کو درواہ بند کرنے اور تمام کام سمیٹنے میں آدھا گھنٹا لگتا تھا ، میں دروازے کے قریب گءی تو مجھے رقیہ باجی کے باتیں کرنے کی آواز آءی ، میں تجسس میں مبتلا ہوگءی کہ یہ رقیہ باجی اس وقت کس سے بات کر رہی ہیں ، میں دروازے کے بالکل ساتھ لگ کر کھڑی ہوگی لیکن کچھ سناءی نہیں دیا ۔ پھر میں کنٹین کی بیک ساییڈ پر گءی اور وہاں ایک بڑی کھڑکی اس اندر جھانکا اور اندر کا منظر دیکھنے کے بعد میری جان نکل گءی ۔ اندر رقیہ باجی دسویں جماعت کی طالبہ عایزہ کے ساتھ کسنگ کرہی تھی ، عایزہ کا تعلق کشمیر سے تھا اور بڑی گوری چٹی لڑکی تھی عایزہ ایک بہت خوبصورت لڑکی تھی مگر اس کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا ابھی کچھ دن پہلے رقیہ باجی نے اس تاکید تھی کہ اگر اس نے پانے ادھار پیسے نہ ادا کیے تو وہ پرنسپل میڈم کو اس کی شکایت لگادیں گی اب وہ ہی عایزہ رقیہ باجی کے ساتھ کنٹین میں اکیلی موجود تھی ۔ رقیہ باجی عایزہ کو چوم رہی تھیں اور انکا ایک ہاتھ عایزہ کی کمر کو سہلا رہا تھا ۔عایزہ نے اس وقت اسکول یونیفارم پہنا ہوا تھا ۔ مجھے یہ سب بہت عجیب لگ رہا تھا ۔ رقیہ باجی نے اب عایزہ کی آنکھوں کو چومنا شروع کردیا اور ہاتھ اس کی قمیض کے اندر ڈال دیا ، رقیہ باجی نے پھر عایزہ کو کہا کہ بے بی قمیض اتار دو عایزہ یہ سن کر ایک دم چونک گءی اور ہلکلاتے ہوے کہنے لگی ، باجی آپ نے تو کہا کہ صرف کسنگ کریں گے اور آپ میرا ادھار معاف کردیں گی ۔ رقیہ باجی مسکراتے ہوے کہنے لگی ہاں صرف کسنگ مگر تمہارے بوبز پر یہ سنتے ہی میری نطر عایزہ کے مموں پر گءی اسکے بوبز بڑے تو نہیں تھے مگر بہت متناسب تھے ۔ عایزہ نے انکار میں سر ہلادیا تو رقیہ باجی نے کہا کہ پریشان نہ ہو صرف پانچ منٹ لگیں گے پھر تم لایبرری والی ایکسٹرا کلاس میں چلی جانا۔ عایزہ نے کہا نہیں مجھے جانے دیں میں آپکے پیسے اتار دوں گی ۔ رقیہ باجی کے چہرے پر غصے کے تاثرات ابھرے مگر ایک چہرے پر مسکراہٹ لاتے ہوے کہنے لگیں اچھا بابا جیسی تمہاری مرضی ، پھر وہ اٹھ کر پیسوں کے بکس کی طرف گییں اور وہاں سے دس روپے کا نوٹ نکالا اور پھر عایزہ کے پاس آکر کہنے لگیں چلو تمہارا سب ادھار معاف اور یہ دس روپے بھی تمہارے میں صرف تمہارے مموں پر ۲ منٹ کسنگ کروں گی پھر تم چلی جانا ۔ عایزہ دس روپے کے نوٹ کو دیکھ کر کچھ سوچ رہی تھی تھی کہ رقیہ باجی نے دس کا نوٹ اس کے بیگ میں ڈالا اور عایزہ کو کنٹین میں پرانے صوفے پر بٹھادیا۔ جونہی عایزہ صوفے پر بیٹھی رقیہ باجی نے کوی لمحہ ضایع کیے بغیر اسکی قیمض اتار دی جونہی قمیص اتری توعایزہ کے گورے گورے بازو عریاں ہوگءے ۔ اور اندر سے ایک میلی سفید بنیان نکل آی۔ رقیہ باجی نے بنیان کو ہاتھ لگایا ہی تھا کہ عایزہ پھر بدک گءی اور کہا کہ بیان نہ اتاریں ، رقیہ باجی کے چپرے کو دیکھ کر میں اندازہ کرسکتی تھی کہ انہیں شدید غصہ آرہا ہے مگر وہ ایک پرانی کھلاڑی لگتی تھیں انہوں نے کہ بنیان اتار نہیں رہی پگلی اوپر کر رہی ہوں دیکھو ابھی تک کسنگ ہو بھی جاتی تمہی دیر کر رہی ہو ۔ یہ سن کر عایزہ چپ ہوگءی۔ رقیہ باجی باجی کے بنیان کو اوپر کیا تو عایزہ کے گلابی ممے انکے سامنے آگیے ۔ رقیہ باجی کے ہونٹوں سے ایک بااختیار سیٹی نکل گءی اور انہوں نے عایزہ کے داییں ممے کو منہ میں لیکر چوسنا شروع کردیا ۔ ادھر مجھے بھی اپنی ٹانگوں کے درمیان نمی محسوس ہونی شروع ہوگءی۔ رقیہ باجی کو ممے چوستے ہوءے ابھی کچھ ہی سیکنڈ گزرے تھے کہ عایزہ کی آنکھیں بند ہوگییں ۔ پھر اس کے منہ سے ہلکی ہلکی سسکیاں نکلنی شرو ع ہوگییں ، صاف دکھای دے رہا تھا کہ عایزہ کو بھی مزہ آنا شروع ہوگیا ہے ۔صوفے پر ترتیب کچھ اس طرح تھی کہ صوفے کی ہتھی پر جہاں بیٹھتے ہوءے بازو ٹکایا جاتا ہے وہاں عاٰیزہ نے سر رکھا ہوا تھا اسکی ایک ٹانگ رقیہ باجی کی گود میں تھی اور دوسری صوفے کی پشت کے ساتھ تھی ۔ ابھی رقیہ باجی کو ممی چوستے ہوءے مشکل سے دو منٹ ہی گذررے ہونگے کہ انہوں نے اپنی قمیض اتار دی اور اتنی ہی جلدہ سے اپنے برا کا ہک کھول دیا ۔ جتنی دیر انہوں نے یہ کارواءی کرنے کے لیے عایزہ کے مموں سے اپنا منہ ہٹایا تو عایزہ نے آنکھیں کھول دیں ۔ وہ بھی رقیہ باجی کو نیم برہنہ دیکھ کر دنگ رہ گءی ۔ میں نے بھی پہلی بار رقیہ باجی کو اس حالت میں دیکھا تھا۔ رقیہ باجی کے مموں کا سایز بیالس ہوگا اور وہ بالکل چاکلیٹی رنگ کے تھے انکا اور عایزہ کا بالکل بلیک اینڈ وایٹ کا امتزاج لگ رہا تھا ۔ اس سے پہلے کہ عایزہ کوءی سوال کرتی رقیہ باجی نے پھر اسکے مموں پر کسنگ شروع کردی ، عایزہ کو یقینا مزہ آرہا تھا کیونکہ اب اس نے مزاحمت بالکل ترک کردی تھی اور اب اسکے منہ سے صرف لذت بھری سسکاریاں نکل رہی تھیں ، رقیہ باجی نے اب عایزہ کر پیٹ پر کسنگ شروع کر دی تھی اور صاف لگ رہا تھا کہ عایزہ لذت کی وادیوں میں اتر چکی تھی ۔ رقیہ باجی نے عایزہ کیے پیٹ کو چومتے ہوءے اپنی زبان اسکی ناف میں گاڑ دی تو عایزہ کی ہلکی سی چیخ نکل گءی ۔ اب رقیہ باجی نے ایک خطرناک کھیل شروع کیا انہوں نے عایزہ کے مموں کو دوبارہ چوسنا شروع کیا اور اپنے ہاتھ سے عایزہ کی چوت کو شلوار کے اوپر سے مسلنا شروع کردیا ، عایزہ کے جسم نے لذت سے جھٹکے لینا شروع کیے تو رقیہ باجی نے اسکا ازار بند ڈھیلا کرنا شروع کردیا اور اتنی جگہ بنالی کے انکا ہاتھ اندر چلاگیا اب انہوں نے شلوار کو تھوڑا سا نیچے کردیا تو انہیں عایزہ کی پھدی نظر آی جومیں نہیں دیکھ سکتی تھی لیکن میں رقیہ باجی کے ہاتھ کی حرکتیں دیکھ سکتی تھی اب رقیہ باجی نے اپنا ایک مما عایزہ کے منہ کے بالکل قریب کردیا ۔پہلے تو عایزہ اپنا منہ دور لے جاتی لیکن جب رقیہ باجی نے اسکی چوت پر اپنی انگلی نچای تو اس نے بے خود ہو کر رقیہ باجی کا مما اپنے منہ میں لے کر اسے چوسنا شروع کردیا ۔ شاہد عایزہ کے جوان ہونٹوں کی طاقت تھی یا مزے کا عالم کہ رقیہ باجی کے منہ سے بھی ہلکی ہلکی سسکیاں نکلنے لگی تھیں ۔ پھردو منٹ بعد رقیہ باجی نے اپنے ممے عایزہ کے منی سے نکالے اور اپنے ہونٹ اسکی پھدہی پر رکھ کر وہاں کسن شروع کر دی اب تو عایزہ کو اپنا ہوش ہی نہ رہا ور اس منہ سے نکنلے والی آوازیں خاصی بلند ہوگییں اور اس نے رقیہ باجی کا سر زور سے پکڑ کر اپنی ٹانگوں میں بھینچ لیا کچھ ہی منٹ میں عایزہ نے ایک ہلکی سی چیخ ماری اور ڈسچارج ہوگءی۔ مگر صرف عایزہ ہی فارغ نہیں ہوی تھی میں بھی فارغ ہوگی تھی۔ ابھی عایزہ اور رقیہ باجی دونوں ننگی صوفے پر پڑی ہانپ رہی تھیں کہ مجھے اسکول اور کنٹین کے درمیان خالی پلاٹ پر آوزیں سناءی دیں میں نے مڑ کر دیکھا تو پرنسپل میڈم اسلامیات کی ٹیچر کے ساتھ کنٹین کی طرف آرہی تھیں اور تیزی سے کنٹین کے قریب آرہی تھیں مجھے جلدی کوءی فیصلہ کرنا تھا میں نے جلدی سے کنٹین کی کھڑکی سے رقیہ باجی کو آواز دی اور کہا باجی دروازہ جلدی کھولو خطرہ ۔،۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
Canteen wali larki 2.inp