Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 26/09/25 in all areas

  1. ہیکنگ پر بنی ایک فلم دیکھتے دیکھتے خیال آیا کیوں کہ دنیا کے بہترین ہیکرز کے بارے تھوڑی ریسرچ کی جائے دنیا کے پانچ بہترین ہیکرز کے بارے انفارمیشن پڑھیں۔ جوناتھن جیمز جوناتھن جیمز کو انٹرنیٹ کی دنیا میں "کامریڈ" کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔بہت چھوٹی عمر میں ہی جوناتھن کے امریکہ کے سرکاری اداروں کے سیکورٹی سسٹم کو ہیک کر کے تہلکہ مچا دیا تھا۔۔کیا آپ جانتے ہیں امریکہ جیسی سپر پاور کے سیکورٹی سسٹمز کو ہیک کرتے وقت جوناتھن کی عمر کتنی تھی؟ محض "پندرہ سال۔" جی ہاں پندرہ سال کی عمر میں جوناتھن نے میامی ڈیڈ، ساوتھ بیلز امریکی وزارت دفاع اور حتی کہ ناسا کے سسٹم کو ہیک کر لیا تھا۔جوناتھن نے ناسا کے سسٹم کی سیکیورٹی توڑ کر وہاں سے سارے کوڈز ڈاون لوڈ کر لیے تھے جن سے علم ہو سکے کہ اسپیس اسٹیشن کیسے کام کرتے ہیں۔۔ان سارے کوڈز اور سیکرٹ کی قیمت اس وقت سولہ لاکھ امریکہ ڈالرز لگائی گئی تھی۔صرف جوناتھن کی وجہ سے ناسا کو اپنے سارے پراجیکٹس اور اپنے سارے دفتری کام پندرہ دن کے لیے روکنے پڑ گئے تھے۔اور یہ سارا نقصان اس دور میں ناسا کو اکتالیس ہزار ڈالرز کی صورت سہنا پڑا۔ دو ہزار سات میں امریکہ بڑی بڑی کمپنیوں پر ہیکرز کے حملوں سے ہوئے سب کا الزام بھی جوناتھن جیمز پر لگا۔۔گو کہ جوناتھن نے ان کمپینز پر حملوں سے انکار کیا۔۔۔ اس بہترین اور شاطر ترین دماغ والے انسان کا انجام بہت افسوس ناک تھا۔۔دو ہزار آٹھ میں جوناتھن جیمز نے جیل میں خود کشی کر لی وجہ صرف یہی تھی جوناتھن پر وہ الزام بھی لگائے جا رہے تھے جو جرائم اس نے کیے ہی نہیں وہ ان ناکردہ جرائم کا الزام نہ سہہ سکا اور موت کو گلے لگا لیا۔ کیون مٹنک ایک دور میں امریکہ کے انصاف کے محکمے (ڈیپارٹمنٹ آف جسٹس ) نے کیون کو امریکہ کی تاریخ کا سب سے موسٹ وانٹڈ ہیکر کا خطاب دیا تھا۔کیون کے ہیکنگ کارناموں پر ایک ہالی وڈ فلم بھی بنائی جا چکی ہے۔ ڈیجیٹل آلات بنانے والی ایک کمپنی کے سسٹم کو ہیک کرنے کے جرم میں کیون کو تین سال کی جیل ہوئی اور پھر تین سال بعد اس شرط پر رہا کیا گیا کہ اگلے تین سال حکومت اس پر مسلسل نظر رکھے گی۔۔جب اس پر نظر بند کی پابندی ختم ہو کو تھی اور محض پانچ ماہ باقی تھے ٹھیک اس وقت کیون نے امریکہ کے نیشنل ڈیفینس سسٹم کو ہیک کیا اور تمام کاروباری کمپنیوں کے ریکارڈز حاصل کر لیے۔ کیون پھر پکڑا گیا اور پانچ سال کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔۔پانچ سال بعد کیون نے رہا ہو کر کمپیوٹر سیکیورٹی کنسلٹنٹ کمپنی بنا لی ہے۔۔اس کے علاوہ وہ اب بڑی بڑی کمپنیوں کو اپنی سائبر سیکیورٹی بہتر بنانے کے لیے لیکچر بھی دیتے ہیں۔ البرٹ گونزالز البرٹ کو دنیا بھر کی توجہ اس وقت ملی جب دنیا کو پتا چلا کہ البرٹ گونزالز نامی ایک شخص نے دو سال کے عرصے میں سترہ کروڑ کریڈٹ کارڈ اور اے ٹی ایم کارڈز کے پن نمبر چرائے ہیں۔یعنی آپ کہہ سکتے ہیں امریکہ کی آدھی آبادی کے اے ٹی ایم کارڈز اور کریڈٹ کارڈز کے پن نمبر اور ان کی معلومات البرٹ چرا چکا تھا وہ بھی محض دو سال کے عرصے میں۔البرٹ نے ہیکرز کا ایک گروپ بھی بنایا ہوا تھا جس کا نام "شیڈو کریو " تھا۔یہ لوگ کریڈٹ کارڈ کے نمبر اور ساری معلومات چرا کر آن لائن ان معلومات کو بیچتے تھے۔اس کے علاوہ یہ لوگ جعلی پاسپورٹس، ہیلتھ انشورنس کارڈ، برتھ سرٹیفیکٹس بنانے میں بھی مہارت رکھتے تھے۔۔ان کے بنائے ان جعلی ڈاکومینٹس سے ہونے والے نقصان کا اندزاہ چار ملین ڈالرز سے اوپر کا لگایا گیا ہے۔ ٹی جے ایکس کمپینز کے سسٹم سے کریڈٹ کارڈ کی انفارمیش چراتے ہوئے البرٹ کو شناخت کر لیا گیا اور اب البرٹ جیل میں بیس سال قید کی سزا کاٹ رہا ہے۔ کیون پولسین کیون پولیسن کو پندرہ منٹ کی شہرت نے آسمان کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔۔۔یہ شخص ٹیلی فون سسٹم کو ہیک کرنے میں مہارت رکھتا تھا۔کیون پولسین کو شہرت اس وقت ملی جب اس نے ایک ریڈیو اسٹیشن کی ٹیلی فون لائنز ہیک کر کے پورش گاڑی کے لیے ہوئے مقابلوں کے لیے اپنے آپ کو ونر کالر (فاتح کالر) فکس کر دیا اور بالکل نئی پورش گاڑی حاصل کر لی۔اس کے علاوہ ایف بی آئی کے سسٹم ہیک کر کے ان کی ساری انفارمیشن ڈاون لوڈ کر لی خاص کر وہ انفارمیشن جو ایف بی آئی نے لوگوں کے فون ٹیپ کر کے حاصل کر رکھی تھی۔کیون کو ایک سپر مارکیٹ سے گرفتار کیا گیا۔اسے اکیاون مہینوں کی جیل کے ساتھ ساتھ چھپن ہزار امریکی ڈالرز جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ جیل سے رہا ہونے کے بعد کیون نے اپنا پیشہ بدل لیا اور ایک صحافی کے طور پر اپنا کیریئر شروع کیا اب وہ ایک نیوز ایڈیٹر بن چکا ہے۔ امریکی ادارے آج بھی مختلف جرائم کے کیس حل کرنے میں کیون کی مدد لیتی ہے۔ گیری میکانن گیری نے اپنے انٹرنیٹ نام "سولو" سے شہرت حاصل کی۔۔وہ امریکی کی ملکی تاریخ کا سب سے مہلک ہیکر تھا جس نے امریکی ملٹری کے سائبر سسٹم کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا۔فروری دو ہزار سے مارچ دو ہزار دو تک گیری مکانن نے ملٹری اور ناسا کے ستانوے کمپیوٹرز ہیک کیے۔گیری نے بعد ازاں حکومت کو بتایا کہ ان کمپیوٹرز سے وہ تو انرجی سپرپیشن سے متعلق معلومات تلاش کر رہا تھا لیکن امریکی تحقیقاتی اداروں کے مطابق گیری نے ان ستانوے کمپیوٹرز سے سات لاکھ کے قریب فائلز کو نقصان پہنچایا ہے۔۔۔گیری نے لمبے عرصے تک امریکی تحقیقاتی اداروں کو گھمائے رکھا ان کے ہاتھ نہیں آیا۔ آج کل گیری اپنی سزا مکمل کرنے کے بعد مختلف جرائم کے خلاف امریکی تحقیقاتی اداروں کو اپنی کمپیوٹر سیکیورٹی کی خدمات مہیا کرتا ہے۔ ضرور بتائیے گا کہ آپ کو ان پانچوں میں سے کس کی کارنامے سب سے زیادہ حیران کن اور متاثر کن لگے۔
  2. محترم ممبرز آپ نے ہمیشہ اس فورم کو اپنی دلچسپی، تعاون اور قیمتی وقت کے ذریعے زندہ اور فعال رکھا۔ یہی آپ سب کی فورم سے محبت ہے جس کی بدولت ہم ہمیشہ بہتری کی طرف قدم بڑھاتے ہیں۔جیسا کہ آپ جانتے ہیں، کچھ ماہ پہلے ہم نے فورم پر ایک لی آؤٹ متعارف کروایا تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ آپ سب کو ایک جدید، تیز رفتار اور بہتر یوزر ایکسپیریئنس فراہم کیا جائے۔ نیا ڈیزائن موبائل اور ڈیسک ٹاپ دونوں کے لیے بہتر بنایا گیا ہے تاکہ ہر ممبر کو سہولت میسر ہو۔ ہماری سب سے بڑی طاقت آپ سب ممبرز ہیں۔ اسی لیے جیسے ہی نیا اسٹائل لانچ کیا گیا تو ہمیں مختلف آراء موصول ہوئیں۔ کچھ ممبرز نے کہا کہ انہیں پرانا لی آؤٹ زیادہ آسان اور پسندیدہ لگتا ہے۔چند ممبرز کو نئے ڈیزائن کے فیچرز سمجھنے میں وقت لگ رہا تھا اور وہ کنفیوژن کا شکار ہو رہے تھے۔ کچھ دوستوں نے صاف کہا کہ وہ فورم کو پرانے انداز میں زیادہ انجوائے کرتے تھے۔ہم نے یہ سب رائے نہایت سنجیدگی سے سنی، کیونکہ یہ فورم صرف ہمارا نہیں بلکہ سب کا ہے۔ آپ سب کی آسانی کے لیے ہم نے فورم پر دوبارہ پرانا لی آؤٹ بھی شامل کر دیا ہے۔فورم کا ڈیفالٹ منتخب لی آؤٹ نیا ہو گا ۔ اب ہر ممبر اپنی سہولت کے مطابق فیصلہ کر سکتا ہےاگر آپ کو نیا لی آؤٹ پسند ہے تو آپ اسے استعمال کرتے رہیں۔اور اگر آپ کو پرانا لی آؤٹ زیادہ بہتر لگتا ہے تو آپ اسے واپس منتخب کر سکتے ہیں۔اس طرح فورم پر اب دونوں آپشنز موجود ہیں تاکہ کوئی بھی ممبر خود کو محدود نہ سمجھے۔ 🛠️نئے سے پرانا لی آؤٹ کیسے بدلیں؟آپ کے ذہن میں یہ سوال ضرور آئے گا کہ نئے لی آؤٹ سے پرانے لی آؤٹ پر کیسے تبدیل کیا جائے؟ طریقہ بہت آسان ہے:فورم کے کسی بھی پیج کے بالکل نیچے جائیں۔وہاں آپ کو ایک آپشن نظر آئے گا جس پر لکھا ہو گا براؤزر پیکج ۔اس ڈراپ ڈاؤن لسٹ میں سے اپنی پسند کا اسٹائل (پرانا یا نیا) منتخب کریں۔آپ کا فورم فوری طور پر منتخب شدہ اسٹائل میں بدل جائے گا۔ ہمارا ہمیشہ سے یہی مقصد رہا ہے کہ ممبرز کو ایک ایسا پلیٹ فارم ملے جہاں وہ نہ صرف ایک دوسرے کے ساتھ جڑ سکیں بلکہ آسانی اور سکون کے ساتھ اپنی رائے کا اظہار بھی کر سکیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہر ممبر کا ذوق اور ترجیح مختلف ہوتی ہے۔ کوئی نیا انداز پسند کرتا ہے تو کوئی پرانے میں زیادہ آرام محسوس کرتا ہے۔ اسی لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ دونوں آپشنز کو ساتھ ساتھ رکھا جائے تاکہ سب ممبرز اپنی پسند کے مطابق فورم کا استعمال کریں۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ سب اس تھریڈ میں اپنی رائے ضرور شیئر کریں آپ کو کون سا اسٹائل زیادہ پسند آیا؟ نئے ڈیزائن کے کون سے فیچرز آپ کے لیے مددگار ہیں؟ کیا پرانے اسٹائل میں کوئی ایسی چیز ہے جسے ہم نئے میں بھی شامل کریں؟ آپ کی تجاویز نہ صرف ہمارے لیے رہنمائی فراہم کریں گی بلکہ اس فورم کو مزید بہتر بنانے میں بھی اہم کردار ادا کریں گی۔ ہماری ٹیم کی پوری کوشش ہے کہ فورم آپ سب کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم ثابت ہو جہاں آپ بغیر کسی رکاوٹ کے سیکھ سکیں، بات کر سکیں اور لطف اندوز ہو سکیں۔ پرانے اور نئے اسٹائل کے امتزاج سے اب ہر کوئی اپنی مرضی کے مطابق فورم کو استعمال کر سکتا ہے۔ ہم آپ سب کے تعاون کے شکر گزار ہیں اور امید کرتے ہیں کہ یہ نیا قدم آپ سب کو خوش کرے گا۔ ایڈمنسٹریٹر
  3. خطروں سے کھیلنے والا شیلڈن جو مسلسل ناکامیوں کے بعد 51ویں بزنس میں کامیاب ہوگیا جمعرات کا دن تھا۔ یونیورسٹی میں صبح سے ہی چہل پہل شروع ہو چکی تھی۔ ایک لان میں اسٹیج سجا ہوا تھا۔ خوبصورت شامیانے لگے ہوئے تھے۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ طلبہ کی ٹولیاں جگہ جگہ نظر آ رہی تھیں۔ وہ گپ شپ میں مصروف تھے اور بات بات پر قہقہے لگا رہے تھے۔ ان کے چہروں سے خوشی کے آثار صاف دکھائی دے رہے تھے۔وہ خوش اس لیے تھے کہ آج ان سے دنیا کے دسویں امیر ترین شخص نے خطاب کرنا تھا۔ اپنی کامیابی کے راز سے پردہ اٹھانا تھا کہ بارہ سالہ اخبار فروش بچہ کیسے دنیا کا امیر ترین آدمی بن گیا۔ وہ آدمی شیلڈن تھا اور شیلڈن کی کہانی کچھ اس طرح ہے۔ شیلڈن ایڈلسن ایک امریکی بزنس مین ہے۔ جولائی 2014ء فوربس میگزین کے مطابق اس کے اثاثہ جات 36.4 ارب ڈالرز پر مشتمل ہے۔ اس مالیت کے ساتھ یہ دنیا کا دسواں امیر ترین شخص ہے۔ یہ ایک اسرائیلی اخبار کا مالک بھی ہے بہرحال! صبح 10 بجے وہ لمحہ آن پہنچا، جس کے لیے یہ سارے انتظامات کیے گئے تھے۔ شیلڈن مائیک پر آئے اور یونیورسٹی کے طلبہ اور پروفیسر سے خطاب کرنے لگے۔ 90 منٹ کی تقریر تھی۔ آخر پر سوالات کی نشست ہوئی۔ ایک طالب نے سوال کیا: ’’آپ کی کامیابی کا راز کیا ہے؟‘‘ ’’میں اس کے بارے میں کبھی جان نہ سکا‘‘ شیلڈن نے کہا۔ اس کا یہ جواب طلبہ کے لیے انوکھا اور حیران کن تھا۔ ایک اور طالب علم نے ہمت کرتے ہوئے کہا: ’’یہ تو ہو نہیں سکتا کہ آپ ترقی کی منزلیں طے کرتے چلے جائیں، اور آپ کو کامیابی کے اسباب کا علم تک نہ ہو۔‘‘ اس تبصرے پر شیلڈن ہنس پڑا اور کہنے لگا کہ میری کامیابی کے راز اور اسباب بہت ہو سکتے ہیں لیکن جس کو میں اپنی ترقی کا راز سمجھتا ہوں وہ چار حرف پر مشتمل ایک لفظ ہے۔ رسک یعنی خطرات میں کود جانا۔ شیلڈن 14 اگست 1933 ء کو ایک غریب خاندان میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ ایک ٹیکسی ڈرائیور تھا۔ شیلڈن کا بچپن ہی والدین کے لیے حیران کن تھا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک ایسا بچہ عطا کیا تھا جو بہت ساری خصوصیات کا مالک تھا۔ حوصلہ مندی، بہادری اور خطرات میں کود جانا اس میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ اس سے بڑھ کر یہ خوبی تھی کہ ناکامی سے گھبرانے کے بجائے اس سے مزید سیکھتا اور آگے بڑھتا چلا جاتا۔ 12 سال کی عمر میں شیلڈن نے اپنا بزنس کیرئیر شروع کیا۔ اس کے پاس اتنے پیسے نہ تھے کہ وہ کوئی کاروبار کر سکتا۔ اس مشکل سے نکلنے کے لیے اس نے اپنے چچا سے دو سو ڈالر قرض لیے اور اس سے اخبار فروشی کا لائسنس خریدا۔ یہ صبح سویرے اٹھتا اور سائیکل پر اخبار لاد کر مختلف گھروں تک پہنچاتا اور پھر اسکول جاتا۔ یہ کام چار سال باقاعدگی سے چلتا رہا،لیکن اس کام میں ترقی کے آثار نظر نہیں آ رہے تھے۔ اس وجہ سے ٹافیاں بنانے والی مشین کی خرید و فروخت کا بزنس شروع کر لیا۔ اس دوران شیلڈن کو احساس ہوا کہ بزنس سے متعلق تعلیم حاصل کرنی چاہیے، کیونکہ رسمی تعلیم عملی زندگی میں زیادہ ساتھ نہیں دے پاتی۔ شیلڈن ایک ٹریڈ اسکول میں بڑھنے لگا۔ ابھی تعلیم مکمل نہیں ہو پائی تھی کہ فوج میں بھرتی ہو گیا۔ کسی وجہ سے یہ فوج سے ڈسچارج کر دیا گیا۔ اس کے بعد سٹی کالج آف نیو یارک میں پڑھنے لگا۔ بزنس ’’شیلڈن‘‘ کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا تھا۔ اس لیے یہ تعلیم کے ساتھ پرس اور بیگ وغیرہ فروخت کرنے لگا۔ شیلڈن کے ساتھ ایک مسئلہ تھا جسے آپ اس کی خوبی یا عیب کہہ سکتے ہیں۔ یہ جس چیز میں نفع دیکھتا تو پہلے کام کو چھوڑ کر اس کی طرف لپک پڑتا۔ اس کے بعد یہ کیمیکل اسپرے فروخت کرنے لگا۔ ۔1960 ء میں اس نے ایک چارٹر ٹورز بزنس شروع کیا۔ بہت سارے خیر خواہوں اور دوستوں نے اسے اس بزنس میں کودنے سے منع کیا لیکن یہ ہمیشہ رسک لیتا اور روکنے کے باوجود رکا نہیں کرتا تھا۔ ٹورزم (سیاحت) کے بزنس سے پہلے ہر کام میں اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا، لیکن شیلڈن اس کو ناکامی نہیں کہتا تھا۔ اس کے مطابق یہ ایک رکاوٹ تھی جو اس کے راستے میں آئی اور ہٹ گئی۔ یہ بزنس اس کے لیے ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔ اب اس کی کاروباری زندگی ایک نئے ڈگر پر چل پڑی۔ یہ جلد ہی لاکھوں مالیت کا مالک بن گیا۔ اگر شیلڈن کی 30 سالہ زندگی کا جائزہ لیا جائے تو اس میں بے شمار اتار چڑھاؤ دکھائی دیتے ہیں۔ قدم قدم پر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا، لیکن اس نے ہمت نہ ہاری۔ شیلڈن نے اپنی کاروباری زندگی میں خود سے 50 بزنس کیے۔ اگر آپ بھی بزنس کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو رسک لینا پڑے گا۔ کاروباری سفر خطرات سے پُر ہوتا ہے۔اس میں کامیابی صرف ان کے قدم چومتی ہے جو رسک لیتے ہیں۔ جتنا آپ گُڑ ڈالیں، اتنا میٹھا ہوگا۔
  4. موچی سے کمپنی مالک تک ٹامس باٹا کی کامیابی کا سفر باٹا کمپنی اس وقت دنیا کا سب سے بڑا جفت ساز ادارہ ہے۔ اس کے براہ راست ملازمین کی تعداد تقریبا 90 ہزار اور بالواسطہ اس کے علاوہ ہے۔ ٹامس باٹا کی کامیابی کا سفر ایک مزدور کے ایک فقرے سے شروع ہوا اور اس کے بعد وہ کسی جگہ رکا نہیں۔ وہ مزدور اب بوڑھا ہو چکا تھا۔ واجبی سی تعلیم تھی، لیکن تجربات سے مالامال تھا۔ وہ زندگی کے پُرپیچ راستوں سے خوب واقف تھا۔ یہ اسی بوڑھے مزدور کے تجربات سے بھرپور فقرہ تھا جس نے اسے عام موچی سے ملٹی نیشنل کمپنی کا مالک بنا دیا، جس کا آج بھی شہرہ ہے۔ ٹامس نے موچی کا کام شروع کیا۔ اس کے لیے ایک دکان کھول لی اور ساتھ مزدور بھی رکھ لیے۔ یہ چند مہینے دکان چلا پایا تھا، لیکن اسے ہر قدم پر ناکامی ہو رہی تھی۔ لوگ اس کے بنائے ہوئے جوتے نہیں خریدتے تھے اور ملازمین بھی اس سے خوش نہ تھے۔ ٹامس ہمت ہار کے گھر بیٹھ گیا۔ دکان پر جانا چھوڑ دیا اور پریشان سا رہنے لگا۔ انہی دنوں ایک شناسا بوڑھے مزدور سے ملاقات ہوئی۔ اس نے اس کے چہرے سے پریشانی بھانپ لی اور وجہ پوچھی تو ٹامس نے ساری صورت حال بتا دی۔ بوڑھے مزدور نے کہا: ’’بیٹا! ہمیشہ تم یہ خیال کیا کرو کہ میری پروڈکٹ مہنگی ہے اور مزدوروں کو ان کی محنت سے کم تنخواہ دے رہا ہوں، اس طرح آپ یہ کوشش کرتے رہیں گے کہ کس طرح میری پروڈکٹ سستی ہو اور میرے مزدوروں کو زیادہ تنخواہ ملے۔‘‘ یہ بات تیر کی طرح ٹامس کے دل کو لگی اور اس نے ہمیشہ کے لیے اس پر عمل کرنے کی ٹھان لی۔ ٹامس باٹا ’’باٹا شوز کمپنی‘‘ کا بانی ہے۔ اس نے کمپنی اپنے خاندان کے نام پر بنائی۔ اس کا خاندان ابتداء میں چیکوسلواکیا میں رہتا تھا۔ جفت سازی ان کا آبائی پیشہ ہے جو 1620ء سے ان کے ہاں چلا آ رہا ہے۔ ٹامس نے 24 اگست 1894ء میں پہلی بار جوتے کا کارخانہ لگایا۔ یہی کارخانہ بڑھتے بڑھتے ایک ملٹی نیشنل کمپنی کی صورت اختیار کر گیا۔ جس کا کاروبار 114 ممالک میں پھیلا ہوا ہے۔ باٹا کمپنی اس وقت دنیا کا سب سے بڑا جفت ساز ادارہ ہے۔ اس کے براہ راست ملازمین کی تعداد تقریبا 90 ہزار اور بالواسطہ اس کے علاوہ ہے۔ جفت سازی آبائی پیشہ ہونے کی وجہ سے ٹامس کے لیے آسان تھا۔ جس کی وجہ سے اس نے اسی کو اپنایا۔ تقریباً 3 سو سال سے یہ کام ان کے خاندان میں چلا آ رہا تھا لیکن کسی نے اس میں ترقی کی طرف توجہ نہ دی اور اس کاروبار کو پھیلانے کی کوشش بھی نہ کی جیسا کہ ہمارے ہاں ہوتا ہے۔ باپ دادا سے ایک دکان چلی آ رہی ہے۔ اولاد میں وراثت کے طور پر تقسیم ہو جاتی ہے۔ وہ دکان بڑی ہونے کے بجائے مزید ٹکڑوں میں بٹ جاتی ہے، لیکن کسی کو یہ خیال نہیں آتا کہ اس کاروبار کو پھیلایا اور بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔ ٹامس نے خاندانی روایت کو توڑنے کے لیے کارخانے کی بنیاد رکھی اور اپنے ساتھ 10ملازمین بھی رکھ لیے۔ ایک سال یہ کام چلا ہو گا کہ ٹامس قرض کے بوجھ تلے دبنے لگا اور مالی پریشانیوں نے اسے آگھیرا۔ اس دوران ایک شناسا بوڑھے مزدور سے ملاقات ہوئی، جس نے اس کی مشکل ہمیشہ کے لیے حل کر دی۔ ٹامس نے چمڑے کے جوتے بنانے کے ساتھ موٹے کپڑے سے جوتے تیار کرنے لگا جو سستے پڑتے تھے اور لوگوں نے بھی انہیں بہت پسند کیا۔ ان جوتوں کی مقبولیت اور مانگ بڑھنے سے ملازمین کی تعداد 10 سے 50 ہو گئی۔ ٹامس نے اپنی پروڈکٹ کے سستے ہونے کی طرف توجہ دی۔ اس طرح ملازمین کی بھی اجرت کا خیال رکھا۔ٹامس نے باٹا پرائس بھی متعارف کروائی۔ ان کی پروڈکٹ کی قیمت 9 کے ہندسے پر ختم ہوتی ہے۔ کسی چیز کی قیمت 99 یا 19.99 روپے ہو گی، جو دیکھنے میں 100 اور 20 سے اچھی لگتی ہے حالانکہ ایک عدد کا فرق پڑتا ہے۔ چار سال میں باٹا شوز کمپنی کا کام اس حد تک بڑھ گیا کہ اب مشینوں کی ضرورت پڑ گئی کیونکہ اس کے علاوہ ڈیمانڈ پوری نہیں کی جا سکتی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ اب آٹومیشن کا دور آگیا ہے۔ مشینوں اور ٹیکنالوجی سے آپ کم وقت اور قلیل خرچ سے زیادہ پروڈکٹ بنا سکتے اور منافع کما سکتے ہیں۔ ٹامس باٹا ہمیشہ ایک تاجر کی طرح سوچتا رہتا تھا کہ اپنے کاروبار کو بڑھانے کے لیے وہ کیا کر سکتا ہے۔ وہ کاروباری حضرات سے مشاورت بھی کرتا۔ 1904ء میں اس نے اپنی کمپنی میں مکینکل پروڈکٹ تکنیک متعارف کروائی۔ اس طرح جلد ہی باٹا شوز کمپنی یورپ کی پہلی بڑی جفت ساز کمپنی بن گئی۔ 1912ء میں اس کی کمپنی کے ملازمین 600 ہو چکے تھے جو اس کی ترقی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ 1914ء میں پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی۔یہ ٹامس کے لیے قرعہ فال ثابت ہوئی۔ اس کے پاس جرمن فوج کے جوتے بنانے کے آرڈر آنے لگے۔ 1914ء سے لے کر 1918ء تک اسے پہلے سے دس گنا زیادہ ملازمین رکھنے پڑگئے۔ کاروباری دنیا میں کامیابی کے ساتھ پریشانی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ جنگ کے بعد اس کا کاروبار بہت مندا ہو گیا، لیکن اس نے ہمت نہ ہاری۔ 1925ء میں پھر سے بزنس عروج کی طرف بڑھنے لگا۔ ٹامس کی باٹا کمپنی زلین میں تھی۔ اب یہ ایک شہر کی صورت اختیار کر گیا ۔ کمپنی بھی کئی ایکڑ زمین پر پھیل چکی تھی۔ ٹامس باٹا 1932 ء میں 56 سال کی عمر میں جہاز کے ایک حادثے میں فوت ہو گیا۔ وہ خود تو اس دنیا سے چلا گیا، لیکن آج بھی اس کے لگائے ہوئے درخت سے دنیا بھر کے لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.