Jump to content
View in the app

A better way to browse. Learn more.

URDU FUN CLUB

A full-screen app on your home screen with push notifications, badges and more.

To install this app on iOS and iPadOS
  1. Tap the Share icon in Safari
  2. Scroll the menu and tap Add to Home Screen.
  3. Tap Add in the top-right corner.
To install this app on Android
  1. Tap the 3-dot menu (⋮) in the top-right corner of the browser.
  2. Tap Add to Home screen or Install app.
  3. Confirm by tapping Install.

Leaderboard

Popular Content

Showing most liked content on 03/08/25 in all areas

  1. زرا موسم تو بدلا ہے مگر تم بالکل نہیں بدلے
  2. یہ تو بڑے لوگوں کی داستانیں ہیں لیکن ہمارے ملک میں ایسے بے شمار لوگ موجود ہیں جنہوں نے فٹ پاتھ سے کاروبار شروع کیا اور اب اربوں روپے کے اثاثوں کے مالک ہیں یہ لوگ وہ مقام تو حاصل نہ کر سکے جس کا ذکر اس تھریڈ میں ہے لیکن دوسروں کے لیے بہترین مثال ضرور ہیں۔
  3. اگر آپ نے فرانس، دبئی، سعودیہ، یورپی ممالک اور امریکی ریاستوں کی سیر کی ہے تو ضرورت آپ کی نظروں سے Hilton Hotels & Restaurant نامی بلند و بالا اور پرشکوہ عمارتیں گزری ہوں گی۔ آئیے! ان کے موجد سے آپ کا تعارف کرواتے ہیں۔ کونرڈہلٹن کو ان عمارتوں کا موجد اول کہا جاتا ہے۔ اس نے ایک کھاتے پیتے گھرانے میں آنکھ کھولی تھی۔ اعلی تعلیم کے حصول کے بعد ملک میں مختلف ملازمتوں پر فائز رہا۔ وہ فطری طور پر تاجر پیدا ہوا تھا۔ اس لیے ان ملازمتوں میں اسے سکون نہ آتا تھا۔ کیلی فورنیا میں اتھارٹی برائے قانون سازی کا ممبر تھا لیکن بینک میں کام کرنے اور زیادہ پیسے کمانے اور اپنی تجارتی کمپنی چلانے کے خواب دیکھتا تھا۔ انہی خوابوں کی تکمیل کے لیے ہلٹن نے ٹیکساس کا رخ کیا۔ وہ رات کے کسی پہر ٹیکساس پہنچا۔ سفر کی وجہ سے کافی تھک چکا تھا۔ اس نے ایک ہوٹل میں رات گزارنے کا فیصلہ کیا، جب ہوٹل پہنچا تو ہوٹل استقبالیہ نے سے کمرہ دینے سے معذرت کر لی کیونکہ تمام کمرے پہلے سے بک تھے۔ مزید کسی مسافر کی رہائش کے لیے گنجائش نہ تھی۔ ہلٹن کافی پریشان ہوا۔ اس کے دل پہ چوٹ سی لگی۔ اس نے اس محرومی کا مقابلہ انوکھے انداز سے کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہلٹن نے عزم کیا وہ ٹیکساس میں اپنا ہوٹل کھولے گا۔ اپنے ارادے کی تکمیل کے لیے وہ کمر بستہ ہو گیا۔ بینک میں ملازمت یا تجارتی کمپنی شروع کرنے کے بجائے اس نے ہوٹل بنانے اور خریدنے کا سوچ لیا۔ ہلٹن کی جیب میں صرف 5000 ہزار ڈالر تھے۔ اس نے بیس ہزار ڈالر بینک سے قرض لیا اور پندرہ ہزار ڈالر اپنے دوستوں سے جمع کر لیے۔ چند ہی دنوں میں ہلٹن نے ٹیکساس کے شہر سیسکومیں ایک ہوٹل خرید لیا۔ اس کا کاروبار آہستہ آہستہ پھلنے پھولنے لگا۔ اس نے ابتدا سے ہی گاہکوں کا اعتماد حاصل کرنے کی طرف خاص توجہ دی۔ صارفین کی خدمت کے لیے مستعد عملہ اور باقی سہولیات کا بھرپور خیال رکھا۔ اس سے لوگوں کا اعتماد ہلٹن انتظامیہ پر بڑھ گیا۔ دس سال کا عرصہ ہی گزرا تھا کہ ہلٹن ٹیکساس میں سات بڑے بڑے ہوٹلوں کا مالک بن چکا تھا۔ یہ وہی شہر تھا جہاں ایک دہائی قبل ہلٹن کو رات ٹھہرنے کے لیے ہوٹل میں ایک کمرہ میسر نہ آیا تھا۔ یہ پہلا امریکی ہوٹل ہے جس نے یورپ، اسپین، استنبول، سعودیہ اور دبئی میں اپنی شاخیں کھولیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہلٹن کے ہوٹلوں میں موجود کمروں کی تعداد 10,2000 ہے۔ جو جدید تقاضوں اور سہولیات سے لیس ہیں۔ ہلٹن ہوٹلز کا مرکزی دفتر کیلی فورنیا کے شہر بیفرلی میں واقع ہے۔ جو ریاست ہائے متحدہ امریکا میں 34 سے زائد ہوٹل براہ راست کنٹرول کرتا ہے۔ جبکہ آسٹریلیا سمیت دنیا کے دیگر ملکوں میں 18 سے زائد ہوٹلوں کے سلسلے بھی یہیں سے کنٹرول ہوتے ہیں۔ پوری دنیا میں ان کی مختلف شاخوں کا سلسلہ 180 کے عدد کو چھوتا ہے۔ اس کامیابی کے بعد ہلٹن نے اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ کنسٹرکشن کا پورا شعبہ ترتیب دیا۔ انجینئروں کی ایک ٹیم، نقشہ نگار اور دیگر عملہ بھرتی کیا تاکہ تعمیرات میں کسی دوسرے کا محتاج نہ رہا جائے۔ نیو یارک سٹی میں لوگوں کا عام خیال تھا کہ ایک شہر میں ایک کمپنی کی دو برانچیں یا ایک کمپنی کے دو ہوٹل کھل جائیں تو ان کی آمدن میں کمی آ جاتی ہے، لوگوں کا اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ ہلٹن نے نیو یارک سٹی میں دو ہوٹل کھول کر اس خیال کا شیرازہ بکھیر دیا۔ ہلٹن ہوٹل وہ پہلا امریکی ہوٹل ہے جس نے نیو یارک میں اپنے شیئرز بیچے۔ ترقی یافتہ ممالک میں سب سے زیادہ برانچیں رکھنے کا اعزاز بھی اسی کو حاصل ہے۔ دنیا میں سب سے پہلے ہوٹلوں میں گفٹ سنٹر کھولنا بھی اسی کا کارنامہ ہے۔ گفٹ سینٹر جیسی دیگر کئی سہولیات اور گاہکوں کی خدمت میں انتظامیہ نے کوئی کسر نہ چھوڑی۔ 1959 ء میں ہوٹل انتظامیہ نے ایئر پورٹس اور ہوائی اڈوں میں اپنے ہوٹل کھولنے کا اعلان کیا۔ اس سے پہلے ایئر پورٹوں میں یہ سہولت دسیتاب نہ ہوتی تھی۔ اس وقت دنیا کے پچاس سے زائد ایئر پورٹوں میں ہلٹن ہوٹلز اپنی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ کونر ڈہلٹن کی کامیابی کے تین راز ہیں: تعمیری سوچ ، خیال کو حقیقت بنانے میں سنجیدگی اور چیلنجز کا کھلے دل سے مقابلہ۔ کہا جاتا ہے اگر ہلٹن کو اس رات ہوٹل میں آرام کے لیے کمرہ مل جاتا تو آج دنیا ہلٹن ہوٹلز کے پورے سلسلے کے وجود سے محروم ہوتی۔ ہلٹن کو جب کمرہ دینے معذرت کی گئی تو اس نے مثبت اور تعمیری سوچ سوچی۔ اس نے کہا: میں اپنا ہوٹل کھولوں گا۔ اس نے اپنے خیال کو پھر محض خیال نہ رکھا بلکہ عملی جامہ پہنا کر دنیا کو حیران کر دیا۔ اس کے پاس ہوٹل بنانے کے لیے سرمایہ نہ تھا لیکن وہ گھبرایا نہیں بلکہ بینک اور اپنے دوستوں کی مدد حاصل کی۔ یوں وہ اپنے عزم میں کامیاب ہو گیا۔ آج کیلی فورنیا، نیویارک، شکاگو اور واشنگٹن کے بڑے ہوٹلوں میں کامیاب ہلٹن ہوٹلز سر فہرست نظر آتے ہیں۔ کامیابی اسی شخص کے قدم چومتی ہے جو سوچتا ہے، پھر خیال کو حقیقت کا جامہ پہنانے میں سنجیدہ ہو جاتا ہے۔ ایک وقت آتا ہے اس کی سوچ خود بخود حقیقت بننا شروع ہو جاتی ہے۔ ۔1979 ء میں کونرڈ ہلٹن انتقال کر گیا لیکن اپنے پیچھے کامیابی کے سنہرے اصول چھوڑ گیا۔ اسے ایک کمرے میں آرام کرنے سے محروم کیا گیا تھا، ہلٹن نے کئی لوگوں کے لیے کمرے بنا کر ثابت کر دیا کہ تعمیری سوچ کے حامل شخص کا دنیا میں کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اس نے ثابت کر دیا کہ ہر چیز کی ابتدا سوچ سے ہوتی ہے۔ پھر انتھک محنت، روز شب کی تگ و دو اور عزم مصمم اس خیال کو حقیقت میں بدل دیتے ہیں۔
  4. موچی سے کمپنی مالک تک ٹامس باٹا کی کامیابی کا سفر باٹا کمپنی اس وقت دنیا کا سب سے بڑا جفت ساز ادارہ ہے۔ اس کے براہ راست ملازمین کی تعداد تقریبا 90 ہزار اور بالواسطہ اس کے علاوہ ہے۔ ٹامس باٹا کی کامیابی کا سفر ایک مزدور کے ایک فقرے سے شروع ہوا اور اس کے بعد وہ کسی جگہ رکا نہیں۔ وہ مزدور اب بوڑھا ہو چکا تھا۔ واجبی سی تعلیم تھی، لیکن تجربات سے مالامال تھا۔ وہ زندگی کے پُرپیچ راستوں سے خوب واقف تھا۔ یہ اسی بوڑھے مزدور کے تجربات سے بھرپور فقرہ تھا جس نے اسے عام موچی سے ملٹی نیشنل کمپنی کا مالک بنا دیا، جس کا آج بھی شہرہ ہے۔ ٹامس نے موچی کا کام شروع کیا۔ اس کے لیے ایک دکان کھول لی اور ساتھ مزدور بھی رکھ لیے۔ یہ چند مہینے دکان چلا پایا تھا، لیکن اسے ہر قدم پر ناکامی ہو رہی تھی۔ لوگ اس کے بنائے ہوئے جوتے نہیں خریدتے تھے اور ملازمین بھی اس سے خوش نہ تھے۔ ٹامس ہمت ہار کے گھر بیٹھ گیا۔ دکان پر جانا چھوڑ دیا اور پریشان سا رہنے لگا۔ انہی دنوں ایک شناسا بوڑھے مزدور سے ملاقات ہوئی۔ اس نے اس کے چہرے سے پریشانی بھانپ لی اور وجہ پوچھی تو ٹامس نے ساری صورت حال بتا دی۔ بوڑھے مزدور نے کہا: ’’بیٹا! ہمیشہ تم یہ خیال کیا کرو کہ میری پروڈکٹ مہنگی ہے اور مزدوروں کو ان کی محنت سے کم تنخواہ دے رہا ہوں، اس طرح آپ یہ کوشش کرتے رہیں گے کہ کس طرح میری پروڈکٹ سستی ہو اور میرے مزدوروں کو زیادہ تنخواہ ملے۔‘‘ یہ بات تیر کی طرح ٹامس کے دل کو لگی اور اس نے ہمیشہ کے لیے اس پر عمل کرنے کی ٹھان لی۔ ٹامس باٹا ’’باٹا شوز کمپنی‘‘ کا بانی ہے۔ اس نے کمپنی اپنے خاندان کے نام پر بنائی۔ اس کا خاندان ابتداء میں چیکوسلواکیا میں رہتا تھا۔ جفت سازی ان کا آبائی پیشہ ہے جو 1620ء سے ان کے ہاں چلا آ رہا ہے۔ ٹامس نے 24 اگست 1894ء میں پہلی بار جوتے کا کارخانہ لگایا۔ یہی کارخانہ بڑھتے بڑھتے ایک ملٹی نیشنل کمپنی کی صورت اختیار کر گیا۔ جس کا کاروبار 114 ممالک میں پھیلا ہوا ہے۔ باٹا کمپنی اس وقت دنیا کا سب سے بڑا جفت ساز ادارہ ہے۔ اس کے براہ راست ملازمین کی تعداد تقریبا 90 ہزار اور بالواسطہ اس کے علاوہ ہے۔ جفت سازی آبائی پیشہ ہونے کی وجہ سے ٹامس کے لیے آسان تھا۔ جس کی وجہ سے اس نے اسی کو اپنایا۔ تقریباً 3 سو سال سے یہ کام ان کے خاندان میں چلا آ رہا تھا لیکن کسی نے اس میں ترقی کی طرف توجہ نہ دی اور اس کاروبار کو پھیلانے کی کوشش بھی نہ کی جیسا کہ ہمارے ہاں ہوتا ہے۔ باپ دادا سے ایک دکان چلی آ رہی ہے۔ اولاد میں وراثت کے طور پر تقسیم ہو جاتی ہے۔ وہ دکان بڑی ہونے کے بجائے مزید ٹکڑوں میں بٹ جاتی ہے، لیکن کسی کو یہ خیال نہیں آتا کہ اس کاروبار کو پھیلایا اور بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔ ٹامس نے خاندانی روایت کو توڑنے کے لیے کارخانے کی بنیاد رکھی اور اپنے ساتھ 10ملازمین بھی رکھ لیے۔ ایک سال یہ کام چلا ہو گا کہ ٹامس قرض کے بوجھ تلے دبنے لگا اور مالی پریشانیوں نے اسے آگھیرا۔ اس دوران ایک شناسا بوڑھے مزدور سے ملاقات ہوئی، جس نے اس کی مشکل ہمیشہ کے لیے حل کر دی۔ ٹامس نے چمڑے کے جوتے بنانے کے ساتھ موٹے کپڑے سے جوتے تیار کرنے لگا جو سستے پڑتے تھے اور لوگوں نے بھی انہیں بہت پسند کیا۔ ان جوتوں کی مقبولیت اور مانگ بڑھنے سے ملازمین کی تعداد 10 سے 50 ہو گئی۔ ٹامس نے اپنی پروڈکٹ کے سستے ہونے کی طرف توجہ دی۔ اس طرح ملازمین کی بھی اجرت کا خیال رکھا۔ٹامس نے باٹا پرائس بھی متعارف کروائی۔ ان کی پروڈکٹ کی قیمت 9 کے ہندسے پر ختم ہوتی ہے۔ کسی چیز کی قیمت 99 یا 19.99 روپے ہو گی، جو دیکھنے میں 100 اور 20 سے اچھی لگتی ہے حالانکہ ایک عدد کا فرق پڑتا ہے۔ چار سال میں باٹا شوز کمپنی کا کام اس حد تک بڑھ گیا کہ اب مشینوں کی ضرورت پڑ گئی کیونکہ اس کے علاوہ ڈیمانڈ پوری نہیں کی جا سکتی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ اب آٹومیشن کا دور آگیا ہے۔ مشینوں اور ٹیکنالوجی سے آپ کم وقت اور قلیل خرچ سے زیادہ پروڈکٹ بنا سکتے اور منافع کما سکتے ہیں۔ ٹامس باٹا ہمیشہ ایک تاجر کی طرح سوچتا رہتا تھا کہ اپنے کاروبار کو بڑھانے کے لیے وہ کیا کر سکتا ہے۔ وہ کاروباری حضرات سے مشاورت بھی کرتا۔ 1904ء میں اس نے اپنی کمپنی میں مکینکل پروڈکٹ تکنیک متعارف کروائی۔ اس طرح جلد ہی باٹا شوز کمپنی یورپ کی پہلی بڑی جفت ساز کمپنی بن گئی۔ 1912ء میں اس کی کمپنی کے ملازمین 600 ہو چکے تھے جو اس کی ترقی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ 1914ء میں پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی۔یہ ٹامس کے لیے قرعہ فال ثابت ہوئی۔ اس کے پاس جرمن فوج کے جوتے بنانے کے آرڈر آنے لگے۔ 1914ء سے لے کر 1918ء تک اسے پہلے سے دس گنا زیادہ ملازمین رکھنے پڑگئے۔ کاروباری دنیا میں کامیابی کے ساتھ پریشانی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ جنگ کے بعد اس کا کاروبار بہت مندا ہو گیا، لیکن اس نے ہمت نہ ہاری۔ 1925ء میں پھر سے بزنس عروج کی طرف بڑھنے لگا۔ ٹامس کی باٹا کمپنی زلین میں تھی۔ اب یہ ایک شہر کی صورت اختیار کر گیا ۔ کمپنی بھی کئی ایکڑ زمین پر پھیل چکی تھی۔ ٹامس باٹا 1932 ء میں 56 سال کی عمر میں جہاز کے ایک حادثے میں فوت ہو گیا۔ وہ خود تو اس دنیا سے چلا گیا، لیکن آج بھی اس کے لگائے ہوئے درخت سے دنیا بھر کے لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔

Account

Navigation

Search

Configure browser push notifications

Chrome (Android)
  1. Tap the lock icon next to the address bar.
  2. Tap Permissions → Notifications.
  3. Adjust your preference.
Chrome (Desktop)
  1. Click the padlock icon in the address bar.
  2. Select Site settings.
  3. Find Notifications and adjust your preference.